Connect with us
Wednesday,23-September-2026

(جنرل (عام

اپنے جہد مسلسل سے زندگی کے نامساعد حالات کو شکست دینے والا سورت کا سب سے کم عمر آئی پی ایس صافین حسن

Published

on

(وفا ناہید)
لگن سچی ہو تو آنکھوں میں خواب ہو تو کٹھن سے کٹھن حالات سے جاسکتا ہے. تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے عہدوں پر زندگی کی سنگلاخ راہوں سے گزرنے والے ہی فائز تھے . دل میں ایک چھوٹی سی امید کی چنگاری بھی منزل مقصود پر پہنچانے میں بہت بڑا رول ادا کرتی ہے. ایسے ہی ناسازگار حالات سے لڑکر 2017 میں سول سروسیز کا امتحان پاس کرنے والے صافین حسن نے محض 22 سال کی عمر میں آئی پی ایس بننے کے لئے 570 واں رینک حاصل کیا۔ اپنے اس دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر کرکے حقیقت کا روپ دینے کے لئے انہوں نے کتنی مشکلات اٹھائیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔ صارفین کی والدہ گھر گھر جاکر روٹیاں بنانے کا کام کرتی تھیں۔ کبھی کبھی تو حالات اس قدر سنگین ہوجاتے کہ نہ جانے کتنی راتیں انہوں نے بغیر کچھ کھائے گزار دی.
لیکن اس کے باوجود اس ننھے سپاہی نے اپنی حکمت عملی اور قلم کی مدد سے جنگ کی اور اس طرح کے مشکلات کو شکست دے کر آج عروج ثریا پر اپنا اور اپنے والدین کا نام روشن کیا. ۔ ہم آپ کو بتادیں کہ ملک کے سب سے کم عمر آئی پی ایس افسر بننے والے صافین حسن کو جام نگر میں تعینات کیا گیا ہے ۔ جہاں وہ 23 دسمبر سے پولس سپرنٹنڈنٹ کا عہدہ سنبھالیں گے ۔
صافین کا تعلق گجرات کے ضلع سورت سے ہے ۔ ان کے والدین ہیرے کی ایک یونٹ میں نوکری کرتے تھے ۔ ایک بار پرائمری اسکول میں جب
کلکٹر تشریف لائے تھے تو ، سب نے ان کا استقبال کیا تھا . کلکٹر کا اتنا احترام دیکھ کر صافین کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا ۔ صافین نے جب اپنی خالہ سے اس موضوع پر بات کی تو خالہ نے بتایا کہ کلکٹر کسی ضلع کا بادشاہ ہوتا ہے ۔ اچھی تعلیم حاصل کر کے کلکٹر بنا جاسکتا ہے ۔ تب صافین حسن نے کلکٹر بننے کا عزم مصصم کیا. صارفین
حسن کے مطابق سن 2000 میں ان کا مکان تعمیر ہورہا تھا ۔ ان کے والدین دن میں مزدوری کرتے اور رات کے وقت گھر کے لئے اینٹیں ڈھوتے تھے ۔ اسی دوران مندی کی وجہ سے والدین اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے . اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لئے ان کے والد دن میں الیکٹریشین کا کام کرتے تھے اور
رات کے وقت ٹھیلہ لگاکر ابلے ہوئے انڈے اور کالی چائے بیچتے تھے. دوسری طرف صافین حسن کی والدہ دوسرے گھروں کی روٹیاں بناکر اپنے ان نامساعد حالات میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹاتی تھیں پتہ نہیں کتنے گھنٹے وہ صرف روٹیاں ہی بنایا اپنے تھیں ۔ اپنے والدین کے اس جدوجہد کو دیکھ کر صافین حسن کو بہت دکھ ہوت تھا وہ ہمیشہ سوچتے تھے کہ والدین کے لئے کچھ کرنا ہے ۔ صارفین حسن کو بچپن سے ہی پڑھائی کا شوق تھا لیکن اس کے ساتھ ہی وہ دوسری سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے تھے ۔ صافین حسن نے اپنی پرائمری تعلیم گجراتی میڈیم کے گورنمنٹ اسکول میں حاصل کی۔ صافین حسن نے دسویں بورڈ کا امتحان %92 کے ساتھ پاس کرکے اپنے آہنی حوصلوں کو ظاہر کردیا تھا. صافین حسن کہتے ہیں کہ اس سال ان کے ضلع میں ایک پرائمری اسکول کھل رہا تھا . بقول حسن اس اسکول کی فیس بہت زیادہ تھی لیکن ان کی نصف سے زیادہ فیسں معاف کردی گئی ۔ انہوں نے 11 ویں جماعت میں انگریزی سیکھنا شروع کیا ۔ حسن اپنے ہاسٹل کے اخراجات کے لئے بچوں کو ٹیوشن تھے ۔ UPSC کی پہلی پیشی کے وقت ان کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا . اس کے باوجود صارفین نے ہمت نہیں ہاری اور وہ امتحان دینے گیا ۔ بعد میں اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا ۔ سچ ہے اگر دل میں امنگوں کا جہاں آباد ہے تو کامیابی افق ایسے افراد پہنچ سے دور نہیں رہتا-

(جنرل (عام

ہسپتالوں کے معمول کے دورے کے بعد درجنوں پاکستانی بچے ایچ آئی وی کا شکار : رپورٹ

Published

on

Childs

نئی دہلی : پاکستان میں صحت کا ایک بڑھتا ہوا بحران ابھرا ہے، جہاں درجنوں والدین کا دعویٰ ہے کہ ان کے بچوں کو ہسپتالوں میں معمول کے مطابق علاج کروانے کے بعد ایچ آئی وی کا مرض لاحق ہوا، ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا الزام ہے کہ غیر محفوظ طبی طریقوں، بشمول انجیکشن اور انٹراوینس (چہارم) ڈرپس کے لیے سرنجوں اور سوئیوں کا بار بار استعمال، والدین کے مطابق این پی آر کی رپورٹ کے ذریعے ان کے بچوں کو وائرس سے متاثر کیا۔ ویب سائٹ کے مطابق، ان کے بچوں کو عام بیماریوں اور معمول کے طریقہ کار کے لیے صحت کی سہولیات میں لے جایا گیا تھا، صرف بعد میں ایچ آئی وی کے لیے مثبت ٹیسٹ کرنے کے لیے۔ چونکا دینے والی تشخیص نے خاندانوں کو تباہ کر دیا ہے، بہت سے لوگوں کو یہ سمجھنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے کہ خطرے کے کوئی عوامل نہ ہونے کے باوجود ان کے بچے کیسے متاثر ہوئے۔ اس وباء کے المناک نتائج برآمد ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر کم از کم چھ بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ بہت سے دوسرے اب زندگی بھر کی حالت کے ساتھ جی رہے ہیں جس کے لیے مسلسل طبی علاج اور نگرانی کی ضرورت ہے۔

ایچ آئی وی جسم کے مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے اور، اگرچہ جدید ادویات کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ایک دائمی بیماری ہے جو صحت، مالی اور سماجی بوجھ کو لے سکتی ہے۔ متاثرہ بچوں کے اہل خانہ جوابدہی اور سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جسے وہ روکے جانے والے سانحے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ بہت سے والدین نے ہسپتال کے عملے پر لاپرواہی کا الزام لگایا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ انفیکشن پر قابو پانے کے بنیادی طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں نوجوان مریضوں میں وائرس پھیل گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ علاج کی لاگت، باقاعدگی سے میڈیکل چیک اپ اور بدنامی کے خدشات نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ والدین نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ ایسی تشخیص کے ساتھ آتے ہیں جس سے بچا جا سکتا تھا۔ اس واقعے نے پاکستان کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے کچھ حصوں میں مریضوں کی حفاظت اور انفیکشن پر قابو پانے کے معیارات کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ حقوق کے علمبردار اور متاثرہ خاندان مکمل تحقیقات، طبی سہولیات کی مضبوط نگرانی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس طرح کی وبا دوبارہ نہ ہو۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ایم پی : بھوپال میں وکلاء کے احتجاج کے بعد تین پولیس اہلکار معطل

Published

on

بھوپال : جہانگیر آباد تھانے کے ایس ایچ او سمیت تین پولیس اہلکاروں کو بدھ کے روز پولیس اسٹیشن میں ایک وکیل کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کے خلاف وکلاء کے رات بھر کے احتجاج کے بعد معطل کر دیا گیا۔ یہ کارروائی منگل کی رات 50 کے قریب وکلاء کے جہانگیر آباد تھانے میں جمع ہونے کے بعد ہوئی اور صبح تقریباً 3 بجے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے راوال کے ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کی شناخت ایس ایچ او راجن سنگھ اہیروار اور کانسٹیبل یش لکیرا اور رام سوروپ کے طور پر ہوئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ انہیں معطلی کی مدت کے لیے ریزرو سینٹر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ ڈی سی پی (زون-1) نے بھی واقعے کی ابتدائی تحقیقات کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ اس کی رپورٹ سات دنوں کے اندر پیش کی جائے۔ بدھ کو یہ معاملہ اس وقت مزید بڑھ گیا، جب وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے بھوپال ڈسٹرکٹ کورٹ میں احتجاج کیا۔ وکلا نے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا اور راول سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بھی لگائے اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

راول (45) کے مطابق، منگل کی رات اسے پولیس اہلکاروں نے کنٹرول روم چوراہے کے قریب بیرا گڑھ کے لیے متبادل راستہ تلاش کرتے ہوئے روکا، اس نے الزام لگایا کہ پولیس والوں نے اسے اپنے ساتھ تھانے جانے کو کہا۔ راول نے کہا کہ اس نے انہیں بتایا کہ ان کی گاڑی کا ایندھن ختم ہو گیا ہے، جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔ جب اس نے اعتراض کیا تو انہوں نے مبینہ طور پر اسے کیچڑ میں پھینک دیا اور لاٹھیوں سے اس پر حملہ کیا۔ بعد میں وکلاء نے ایک ویڈیو گردش کی جس میں مبینہ طور پر راول کی ٹانگوں پر چوٹ کے نشانات اور ان کے کپڑوں پر کیچڑ کے نشانات دکھائے گئے تھے۔ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس شیلیندر سنگھ چوہان نے کہا کہ پولیس تمام واقعات کی ترتیب سے جانچ کر رہی ہے اور تمام معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔ اس معاملے سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں، اور حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔” چوہان نے کہا۔ اپنی معطلی سے پہلے ایس ایچ او اہیروار نے الزام لگایا کہ راول نے تنازعہ کے دوران ٹریفک اے سی پی اجے باجپائی کے ساتھ بدتمیزی کی اور رکنے کا مشورہ دینے کے باوجود عوامی طور پر افسر کے ساتھ بدسلوکی کی۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس کے پاس واقعے کی ویڈیو فوٹیج موجود ہے۔ ابتدائی انکوائری میں راول کو کن حالات میں روکا گیا، پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کی بات چیت اور پولیس اسٹیشن میں ہونے والے واقعات کا جائزہ لیا جائے گا۔ چوہان نے کہا کہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان