Connect with us
Friday,19-June-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

’اندازِبیاں‘حقانی القاسمی کے ادبی وتحقیقی امتیازات کا خوب صورت نمونہ:مولانا اعجاز عرفی قاسمی

Published

on

حقانی القاسمی کی ندرت، طرز تحریر،ادبی بصیرت اور ادب پروری کی ستائش کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علمائے حق کے صدر مولانا اعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ وہ ایک باکمال اور مایہ نازادیب و تنقید نگار ہیں اور انھوں نے نہایت اخلاص اور بے نیازی کے ساتھ اردو کی خدمت کی ہے۔انہوں نے یہ بات حقانی القاسمی کے زیر ادارت یک موضوعی مجلہ’اندازِ بیاں‘کے تازہ شمارے کے اجرا کی تقریب کیصدارت کرتے ہوئے کہی۔
انھوں نے کہا کہ ان کی تحریروں میں غیر معمولی جاذبیت اور شیرینی پائی جاتی ہے اور انھیں پڑھنے والایہ محسوس کرتا ہے کہ وہ آسمان کی سربلندیوں سے لے کر زمین کی شادابیوں تک کا نظارہ کرکر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حقانی القاسمی بے پناہ خوبیوں اور امتیازات کے مالک ہیں اور ان کا یہ رسالہ’اندازِ بیاں‘ان کے انہی امتیازات کا نمونہ ہے جس کے پہلے شمارے میں خواتین کی خود نوشتوں کا جائزہ لیاگیا تھا اور دوسرے شمارے میں پولیس کے تخلیقی چہرے کو اجاگر کرنے کے بعد اِس شمارے میں میڈیکل ڈاکٹرز کی ادبی خدمات کا تجزیہ پیش کیاگیا ہے۔
انداز بیان کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے’حقانی القاسمی نے کہا کہ اندازِبیاں‘مجلہ نہیں،میرا جنون ہے جسے میری بے روزگاری نے مہمیز کیا۔اخبارِ نو سے علیحدگی نے مجھے عینی آپا تک پہنچایا تو راشٹریہ سہارا سے استعفا نے ’اندازِ بیاں‘کی تشکیل کا جذبہ پیدا کیا۔ اس کا پہلا شمارہ خواتین کی خودنوشتوں پر مشتمل تھا،دوسرا شمارہ پولیس کے تخلیق چہرے پر اور تازہ شمارے میں میڈیکل ڈاکٹروں کی ادبی خدمات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں ان لوگوں کی ادبی خدمات پر گفتگو کی گئی ہے جو پیشے سے ڈاکٹر ہونے کے باوجود اردو زبان کے شاعر،ادیب،مصنف اورناول نگار ہیں اور تنقید و تحقیق کے میدانوں میں بھی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ ایسے موضوعات ہیں جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور پولیس، ڈاکٹر اور اس طرح کے پروفیشنل شعبے سے وابستہ ادیب،شاعر، ناول نگار اور کہانی کار کی خدمات کا اعتراف کرنا ادیبوں کی ذمہ داری ہے۔
اس موقع پر یواین آئی سے وابستہ معروف صحافی عابد انور نے اپنے تاثرات میں کہا کہ حقانی القاسمی کے بارے میں کچھ بولنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے،وہ اس وقت اردو دنیا کے معروف ترین ادیب و تنقید نگار ہیں۔ انھوں نے حقانی صاحب سے اپنے دیرینہ روابط کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حقانی القاسمی شروع سے ہی غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کے حامل رہے ہیں اور دارالعلوم دیوبند کی طالب علمی کے دور میں ہی ان کی تحریری قابلیتوں کا شہرہ ہونے لگا تھا۔ وہاں کے طلبہ ان کی ادارت میں شائع ہونے والے جداری میگزین کو پڑھنے کے لیے بے قرار رہتے تھے۔
ڈاکٹرخان محمد آصف نے کہا کہ حقانی القاسمی کی تحریروں میں مخصوص قسم کی موسیقیت اور نغمگی پائی جاتی ہے جو قاری کو مسحور کردیتی ہے اور وہ سر دھننے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر نعمان قیصرنے حقانی القاسمی کی مختلف ادبی و تحقیقی تصانیف کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے ان کی تحریروں کی علمیت،ان کے اسلوب کے حسن و جمال اور طرزِ نگارش کی خوب صورتی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ ہمیشہ ادب میں نیا تجربہ کرنے کے قائل رہے ہیں،’اندازِ بیاں‘ بھی ان کا اسی قسم کا ایک نہایت کامیاب تجربہ ہے۔
اس پروگرام کی نظامت ٹی ایم ضیاء الحق نے بحسن و خوبی انجام دیتے ہوئے کہا کہ حقانی صاحب کو بچپن سے پڑھتا آرہا ہوں اور ان کی تحریروں میں غیر معمولی کشش، دلچسپ اور روانی ہے۔ اخیر میں عبارت پبلی کیشن کے سربراہ سلام خان نے تمام مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔ اس موقعے پر اردو ادب و صحافت سے وابستہ اہم شخصیات شریک تھیں جن میں مولانا فیروز اختر قاسمی، شاہدالاسلام،ماجد خان،اشرف بستوی،زبیر خان سعیدی،اشرف بستوی،اے این شبلی،منظر امام،نایاب حسن،عبدالباری قاسمی، محمد علم اللہ،شمس تبریز قاسمی،شاداب شمیم، امیر حمزہ،عمران عاکف خان،رضوان احمد اوراحسن مہتاب خان وغیرہ خاص طورپر قابلِ ذکر ہیں۔ اس پروگرام کا انعقاد عبارت پبلی کیشن کے زیر اہتمام ہوا تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

شندے کے کام پر عوامی نمائندوں کا اعتماد بلند، ادھو ٹھاکرے کے اراکین پارلیمان کو ان کی قیادت پر اعتماد نہیں تھا : ملند دیورا

Published

on

شیو سینا کے رہنما اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ملند دیورا نے ادھو ٹھاکرے کے دھڑے کی میٹنگ میں کئی ممبران پارلیمنٹ کی غیر موجودگی پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ یو بی ٹی کی قیادت ہی اس کا جواب دے سکتی ہے کہ یو بی ٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے ان کی پارٹی کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جو اراکین اجلاس غیر حاضر تھے ان میں اپنی پارٹی کی قیادت پر اعتماد کا فقدان ہے۔

دیورا نے کہا کہ آج عوام اور عوامی نمائندوں کو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے کام اور قیادت پر بھروسہ ہے۔ ایکناتھ شندے صاحب ان لوگوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے کام کرتے ہیں جو شندے صاحب کی قیادت پر بھروسہ کرتے ہیں۔سنجے راؤت کو نشانہ بناتے ہوئے ملند دیورا نے کہا کہ انہیں پارلیمانی روایات اور قواعد کا علم نہیں ہے۔ یو بی ٹی کے دیگر ارکان پارلیمنٹ کو سمجھنا چاہیے کہ کس قسم کی میٹنگز منعقد کی جاتی ہیں اور وہپ کے قواعد کیا ہے ۔ وہپ کے معاملے پر دیورا نے کہا کہ وہپ صرف ایوان میں ووٹنگ کے لیے جاری کیا جاتا ہے، کسی سیاسی میٹنگ میں شرکت کے لیے نہیں۔ یہ پارلیمانی قاعدہ ہے اور جو لوگ برسوں سے رکن ہیں انہیں اس کا علم ہونا چاہیے۔ملند دیورا نے مزید کہا کہ سنجے راوت کبھی اپنے ہی ممبران پارلیمنٹ کو گالی دیتے ہیں، کبھی دعویٰ کرتے ہیں کہ تمام ممبران پارلیمنٹ ان کے ساتھ ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ان کے ممبران پارلیمنٹ کو پیسے دیے گئے، اور کبھی ممبران پارلیمنٹ پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ اس کے متضاد رویے کی عکاسی کرتا ہے۔سنجے راوت نے اپنے ہی ایم پیز کی توہین کی۔ اس طرح کے رویے کے ساتھ، کون اس کے ساتھ کام کرنا چاہے گا؟انہوں نے کہا کہ کسی بھی رہنما کا یو بی ٹی کی قیادت پر اعتماد باقی نہیں رہا۔ عوامی نمائندے چاہتے ہیں کہ ان کا لیڈر انہیں دستیاب ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لیڈر اب بھی ایکناتھ شندے کی قیادت میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ شیوسینا ہر اس شخص کا خیر مقدم کرتی ہے جو اپنے علاقے کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ ہمارا مقصد کسی کو کمزور کرنا نہیں بلکہ عوام کو مضبوط کرنا ہے۔آخر میں، دیورا نے کہا کہ یو بی ٹی کی قیادت کو دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے خود کو جانچنے کی ضرورت ہے۔ میں ان کی خیر خواہی ہی کرسکتا ہوں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ کسٹمز کے درمیان ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کے سلسلے میں معاہدہ و مفاہمت پر دستخط

Published

on

ممبئی ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کاتصور اس کی تاریخی خوبصورتی کو زندہ کرنا ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ یہ فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ میونسپل کارپوریشن اس قلعے کا تحفظ کر رہی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن اور محکمہ کسٹمز کے درمیان آج (18 جون 2026)ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ماہم قلعہ کے تحفظ اور بحالی کے کام کے سلسلے میں ایک مفاہمت معاہدہ پر دستخط کیے گئے ہیں، جسے ریاستی محفوظ یادگار قرار دیا گیا ہے۔ لاس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی، محکمہ کسٹم کے پرنسپل کمشنر جناب اجے کمار پانڈے، محکمہ کسٹم کے ایڈیشنل کمشنر نتن تاگڑے، وکرم پھڑکے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی کمشنر (کمشنر آفس) پرشانت گائکواڑ، ڈپٹی کمشنر (جنوبی زون)پرشانت گائیکواڑ، اسسٹنٹ کمشنر (جنوبی زون) پرشانت گائیکواڑ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر یوگیش دیسائی، قدیم ورثہ کے تحفظ کے مشیر وکاس دلاوری، ویرماتا جیجا بائی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سٹرکچرل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر کے کے سانگلے وغیرہ موجود تھے

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈےکی ہدایت کے مطابق ممبئی میں قدیم ڈھانچوں کا تحفظ اور تحفظ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹراشونی جوشی کی رہنمائی میں کیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر میونسپل کارپوریشن نے ماہم قلعہ کے تحفظ اور احیاء کی پہل کی ہے۔ اس معاہدہ نامے کے تحت قلعہ ماہم کے خستہ حال ڈھانچے کو مضبوط اور دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ قلعہ کے علاقے میں موجود تاریخی کنویں کی تلاش اور کھدائی کی جائے گی۔ قلعہ کے اندرونی چاروں طرف پیدل چلنے کا راستہ بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ قلعہ کی بنیاد کی حفاظت کے لیے حفاظتی دیوار بھی تعمیر کی جائے گی۔ اس کے لیے 20 کروڑ روپے بھی مختص کئے گئے ۔میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے جی (نارتھ) ڈپارٹمنٹ نے ماہم قلعہ پر سے تجاوزات کو ہٹا کر مقیم مقامی باشندوں کی بازآبادکاری کی ہے۔ لہٰذا اب اس قلعے کی شان و شوکت دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کی جائے گی ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹراشونی جوشی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن نے ماہم قلعہ پر جو ایک تاریخی اور قدیم ورثہ ہے، پر تجاوزات کو ہٹانے اور اسے محفوظ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔ اب انتظامیہ اس قلعے کو سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

کسٹم ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل کمشنراجے کمار پانڈے نے کہا کہ ایک تاریخی ورثہ ہونے کے علاوہ ماہم قلعہ کو محکمہ کسٹم کے کسٹم اسٹیشن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے شروع کیا گیا تحفظ اور بحالی کا کام اس قلعے کو مشہور کرے گا۔ نیز، یہ قلعہ ممبئی والوں کے لیے ایک سیاحتی مقام کے طور پر ترقی کرے گا۔ماہم ایک قدیم قلعہ ہے اور راجہ بیمب دیو کی اولاد نے 12ویں اور 13ویں صدی کے آس پاس یہ قلعہ تعمیر کیا تھا۔ ممبئی کے سات جزیروں میں سے ماہم طاقت کا مرکزی مرکز تھا اور یہ قلعہ اسی شاندار تاریخ کی علامت ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے 1975 میں قلعہ ماہم کو ریاستی محفوظ یادگار قرار دیا تھا۔ قلعہ کا کل رقبہ تقریباً 3 ہزار 796.02 مربع میٹر ہے۔ فی الحال یہ قلعہ کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ قلعہ ماہم کے موجودہ ڈھانچے پر کچی آبادیوں کی شکل میں تجاوزات تھیں۔ پورے علاقے کا سروے کرنے کے بعد، درست دستاویزات کی تصدیق کی گئی اور 275 کچی آبادیوں کو کرلا اور ملاڈ میں پروجیکٹ متاثرین کے لیے دستیاب فلیٹوں میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔ تاہم یہاں ایک مذہبی ڈھانچے کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ قلعہ کی بحالی اور تحفظ کا کام ممبئی میونسپل کارپوریشن کے جی (نارتھ) ڈویژن آفس، کسٹم ڈپارٹمنٹ، قدیم ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے مشیر وکاس دلاوری اور ویرماتا کے سٹرکچرل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر سانگل کے جیجا بائی کی رہنمائی میں کرنے کی تجویز ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں آپریشن ٹائیگر باغی اراکین پارلیمان کو نااہل قرار دیا جائے : ابوعاصم اعظمی

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر میں شیوسینا کے جاری آپریشن ٹائیگر پر بات کرتے ہوئے، سماج وادی پارٹی ممبئی/مہاراشٹر کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے کہا، “آج کے عوامی نمائندے، لیڈر، اور کارکن اب نظریے پر نہیں چلتے، وہ لالچی ہو گئے ہیں۔ جو لوگ عوام کا ووٹ لیتے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے پارٹیاں بدلتے ہی ان کےعہدہ کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ ابوعاصم اعظمی نے مزید کہا کہ اگر کوئی پارٹی کی جانب سے الیکشن لڑتا ہے تو اسے پارٹی کا جھنڈا، بینر، نشان اور رقم فراہم کی جاتی ہے۔ کارکنان اپنے امیدوار کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ وہ نمائندے پارٹی کے نظریے کی بنیاد پر منتخب ہوتے ہیں، اور لوگ اس نظریے سے اتفاق کرتے ہیں ، اس لیے وہ انہیں ووٹ دیتے ہیں۔ تاہم فتح کے بعد وہ پارٹی سے بغاوت کرتے ہیں ۔ ایسا قانون بنایا جائے کہ اگر کوئی امیدوار فتحیابی کے بعد دوسری پارٹی میں شامل ہو جائے تو اس کا عہدہ کالعدم قراردیا جائے ۔ بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی لوگوں کو لالچ دینے، ڈرانے دھمکانےاور اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے لیے طاقت کا غلط استعمال کرتی ہے۔ اگر وہ شامل نہیں ہوتے ہیں تو انہیں کیجریوال اور سنجے سنگھ کی طرح جیل بھیج دیا جاتا ہے، لیکن وہ بے قصور ثابت ہوئے تھے۔بی جے پی دیگرپارٹی میں شگاف پیداکرنے کےلئے کوشاں ہوگئی ہے اس لئے مسلسل کئی پارٹیوں کے دو حصے ہوگئے ہیں ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان