جرم
کرلا میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف زبردست احتجاج
ممبئی: کرلا میں واقع گاندھی میدان میں آج بعد نماز ظہر شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔ جبکہ سیکیورٹی کے مد نظر خاتون ڈی سی پی نیتی ٹھکر دوے،اے سی پی اتم کولیکر سمیت سیکڑوں پولس اہلکار موجود تھے۔ عوام نے پرجوش انداز میں ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر حکومت ہند کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ بینر پر تحریر تھا۔ این آر سی اور سی اے اے واپس لو۔ اس احتجاج میں بچے، نوجوان اور سن رسیدہ بزرگوں و خواتین نے بھی حصہ لے کر مودی تیری داد گیری، امیت شاہ تیری تانا شاہی نہیں چلے گی کے نعرے بلند کئے۔ اہلیان کرلا کا یہ احتجاج اس قدر کامیاب تھا کہ گاندھی میدان مکمل طور پر بھرا تھا۔ پولس نے ایک دیگر گراؤنڈ کا بھی انتظام کر رکھا تھا۔ جس کے بعد بھیڑ کو وہاں بھی منتقل کیا جانا تھا۔ نیتی ٹھکر دوے نے بتایا کہ اہلیان کرلا نے پرامن طریقے سے اس احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا ۔اس احتجاجی مظاہرہ میں شریک مظاہرین نے ایک زبان ہوکر یہ کہا کہ ملک میں اس قسم کا کالا قانون ناقابل برداشت ہے۔ کیونکہ یہ معاملہ صرف ہندو مسلمان کا ہی نہیں بلکہ دیش کا ہے۔ اس سے قومی یکجہتی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ یہ ملک کو تقسیم کرنے کی ایک منظم سازش ہے۔ ہمیں آزادی پیاری ہے اس لئے ہم اس احتجاج کو جاری رکھیں گے۔ یہ کالا قانون انسانیت کے خلاف ہے ۔ مودی اور امیت شاہ نے اس ملک کے ٹکڑے کرنے کی سازش کے تحت یہ قانون لایا ہے۔ یہ قانون پورے ملک کے خلاف ہے اس لئے ہم سب برادران وطن کے ساتھ میدان عمل میں ہیں۔ اس قسم کا اظہار خیالات آج یہاں ممبئی کے کرلا کے گاندھی میدان میں منعقدہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ میں جماعت اسلامی کے حسیب بھاٹکر نے کیا ہے انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ ہم اس وقت تک اپنی لڑائی جاری رکھیں گے جب تک یہ کالا قانون واپس نہیں لیا جاتا ہے ۔ یہ ملک ہندو مسلم اتحاد کا مظہر ہے۔ اس احتجاج میں ہر سماج کے لوگ اور برادران وطن شامل ہوئے۔ یہ احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا کیونکہ اب تک اس قانون کو واپس نہیں لیا گیا ہے ۔ جامعہ ملیہ اسلامی میں طلباء نے اپنا احتجاج جاری رکھا ہے۔ اس کے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے بھی احتجاج دراز رکھا ہے ۔ حسیب بھاٹکر نے ریاست کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں پرامن احتجاج جاری ہے۔ لیکن یوپی میں تشدد برپا ہے۔ طلباء تنظیم کی لیڈر سورنا نے اپنے پر جوش خطاب میں کہا کہ پہلے ہم نے انگریزوں کے خلاف اس ملک کی آزادی کی لڑائی لڑی تھی اور اب اس ملک کو فسطائی طاقت اور ہندووتوا سے آزادی دلانے کی لڑائی لڑنی ہے۔ یہ دوسری آزای کی لڑائی ہے جب تک یہ کالا قانون واپس نہیں لیا جاتا اس وقت تک ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ اس ملک میں امیت شاہ اور مودی نے زہرگھول دیا اور ملک میں فرقہ پرستی پھیلائی ہے۔ یہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے اس لئے ہمیں یہ قابل قبول نہیں ہے۔ مودی اور امیت شاہ اس ملک کو تقسیم کرنے کی سازش میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔ ارشاد خان نے کہا کہ این آر سی اور سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے کا مقصد سرکار کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ہے۔ یہ احتجاج وقت کا تقاضہ ہے۔ اس احتجاج میں جئے ہو فاؤنڈیشن کے افروز ملک نے اس قانون کوواپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اورکہا کہ یہ قانون کو نافذ کر کے عوام کو لائن میں کھڑا کردیا ہے۔ کرلا کےاین جی او کے ارشاد خان نے بھی اس قانون کی مخالفت کی۔ مظاہرہ کے دوران آزادی آزادی سے پورا میدان گونج اٹھا۔ سی اے اے اور این آر سی سے آزادی کے احتجاجی مظاہرہ میں برقع نشین خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ڈاکٹر سلیم خان بھی اس احتجاج میں موجود تھے۔ انہوں نے اس قانون کو ملک مخالف قرار دیتے ہوئے اس کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس مظاہرہ کامقصد ہی ملک کے عوام کو اس جھنجھٹ سے نجات دلانا ہے ڈاکٹر سلیم خان نے اس مظاہرہ میں شریک تمام خواتین کابھی شکریہ ادا کیا جو اپنی گھریلو ذمہ داریوں اور مشغولیت کے باوجود اس احتجاجی مظاہرہ میں مردوں کے شانہ بشانہ شریک ہوئی تھیں۔ جبکہ ایڈوکیٹ عشرت خان نے اس متنازعہ قانون کو دستور ہند کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ یہ احتجاج وقت کی ضرورت ہے۔ عیاں رہے احتجاج کے دوران علیم بھائی، اشفاق خان، محمد علی بھائی، فیضان خان آزاد، شفیق بٹ، حسرت سر سمیت سیکڑوں کارکنان نے پولس کے ساتھ ملکر پروگرام کو کامیاب بنایا۔ اس مظاہرے میں اشہد اعظمی عرف منا بھائی بھی اپنے کارکنان کے ہمراہ موجود تھے۔
بین الاقوامی خبریں
فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔
حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔
واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔
جرم
ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔
جرم
جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
