Connect with us
Wednesday,06-May-2026

جرم

کرلا میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف زبردست احتجاج

Published

on

ممبئی: کرلا میں واقع گاندھی میدان میں آج بعد نماز ظہر شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔ جبکہ سیکیورٹی کے مد نظر خاتون ڈی سی پی نیتی ٹھکر دوے،اے سی پی اتم کولیکر سمیت سیکڑوں پولس اہلکار موجود تھے۔ عوام نے پرجوش انداز میں ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر حکومت ہند کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ بینر پر تحریر تھا۔ این آر سی اور سی اے اے واپس لو۔ اس احتجاج میں بچے، نوجوان اور سن رسیدہ بزرگوں و خواتین نے بھی حصہ لے کر مودی تیری داد گیری، امیت شاہ تیری تانا شاہی نہیں چلے گی کے نعرے بلند کئے۔ اہلیان کرلا کا یہ احتجاج اس قدر کامیاب تھا کہ گاندھی میدان مکمل طور پر بھرا تھا۔ پولس نے ایک دیگر گراؤنڈ کا بھی انتظام کر رکھا تھا۔ جس کے بعد بھیڑ کو وہاں بھی منتقل کیا جانا تھا۔ نیتی ٹھکر دوے نے بتایا کہ اہلیان کرلا نے پرامن طریقے سے اس احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا ۔اس احتجاجی مظاہرہ میں شریک مظاہرین نے ایک زبان ہوکر یہ کہا کہ ملک میں اس قسم کا کالا قانون ناقابل برداشت ہے۔ کیونکہ یہ معاملہ صرف ہندو مسلمان کا ہی نہیں بلکہ دیش کا ہے۔ اس سے قومی یکجہتی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ یہ ملک کو تقسیم کرنے کی ایک منظم سازش ہے۔ ہمیں آزادی پیاری ہے اس لئے ہم اس احتجاج کو جاری رکھیں گے۔ یہ کالا قانون انسانیت کے خلاف ہے ۔ مودی اور امیت شاہ نے اس ملک کے ٹکڑے کرنے کی سازش کے تحت یہ قانون لایا ہے۔ یہ قانون پورے ملک کے خلاف ہے اس لئے ہم سب برادران وطن کے ساتھ میدان عمل میں ہیں۔ اس قسم کا اظہار خیالات آج یہاں ممبئی کے کرلا کے گاندھی میدان میں منعقدہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ میں جماعت اسلامی کے حسیب بھاٹکر نے کیا ہے انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ ہم اس وقت تک اپنی لڑائی جاری رکھیں گے جب تک یہ کالا قانون واپس نہیں لیا جاتا ہے ۔ یہ ملک ہندو مسلم اتحاد کا مظہر ہے۔ اس احتجاج میں ہر سماج کے لوگ اور برادران وطن شامل ہوئے۔ یہ احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا کیونکہ اب تک اس قانون کو واپس نہیں لیا گیا ہے ۔ جامعہ ملیہ اسلامی میں طلباء نے اپنا احتجاج جاری رکھا ہے۔ اس کے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے بھی احتجاج دراز رکھا ہے ۔ حسیب بھاٹکر نے ریاست کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں پرامن احتجاج جاری ہے۔ لیکن یوپی میں تشدد برپا ہے۔ طلباء تنظیم کی لیڈر سورنا نے اپنے پر جوش خطاب میں کہا کہ پہلے ہم نے انگریزوں کے خلاف اس ملک کی آزادی کی لڑائی لڑی تھی اور اب اس ملک کو فسطائی طاقت اور ہندووتوا سے آزادی دلانے کی لڑائی لڑنی ہے۔ یہ دوسری آزای کی لڑائی ہے جب تک یہ کالا قانون واپس نہیں لیا جاتا اس وقت تک ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ اس ملک میں امیت شاہ اور مودی نے زہرگھول دیا اور ملک میں فرقہ پرستی پھیلائی ہے۔ یہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے اس لئے ہمیں یہ قابل قبول نہیں ہے۔ مودی اور امیت شاہ اس ملک کو تقسیم کرنے کی سازش میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔ ارشاد خان نے کہا کہ این آر سی اور سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے کا مقصد سرکار کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ہے۔ یہ احتجاج وقت کا تقاضہ ہے۔ اس احتجاج میں جئے ہو فاؤنڈیشن کے افروز ملک نے اس قانون کوواپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اورکہا کہ یہ قانون کو نافذ کر کے عوام کو لائن میں کھڑا کردیا ہے۔ کرلا کےاین جی او کے ارشاد خان نے بھی اس قانون کی مخالفت کی۔ مظاہرہ کے دوران آزادی آزادی سے پورا میدان گونج اٹھا۔ سی اے اے اور این آر سی سے آزادی کے احتجاجی مظاہرہ میں برقع نشین خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ڈاکٹر سلیم خان بھی اس احتجاج میں موجود تھے۔ انہوں نے اس قانون کو ملک مخالف قرار دیتے ہوئے اس کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس مظاہرہ کامقصد ہی ملک کے عوام کو اس جھنجھٹ سے نجات دلانا ہے ڈاکٹر سلیم خان نے اس مظاہرہ میں شریک تمام خواتین کابھی شکریہ ادا کیا جو اپنی گھریلو ذمہ داریوں اور مشغولیت کے باوجود اس احتجاجی مظاہرہ میں مردوں کے شانہ بشانہ شریک ہوئی تھیں۔ جبکہ ایڈوکیٹ عشرت خان نے اس متنازعہ قانون کو دستور ہند کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ یہ احتجاج وقت کی ضرورت ہے۔ عیاں رہے احتجاج کے دوران علیم بھائی، اشفاق خان، محمد علی بھائی، فیضان خان آزاد، شفیق بٹ، حسرت سر سمیت سیکڑوں کارکنان نے پولس کے ساتھ ملکر پروگرام کو کامیاب بنایا۔ اس مظاہرے میں اشہد اعظمی عرف منا بھائی بھی اپنے کارکنان کے ہمراہ موجود تھے۔

جرم

سائبر مجرموں نے ایک ریٹائرڈ مینیجر کو دہلی دھماکہ کیس میں پھنسانے کی دھمکی دے کر 40.90 لاکھ روپے کا دھوکہ دیا۔

Published

on

ممبئی کے بھنڈوپ علاقے میں سائبر فراڈ کا ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دہلی بم دھماکوں اور منی لانڈرنگ کیس میں ایک ریٹائرڈ بینک مینیجر کو پھنسانے کی دھمکی دیتے ہوئے، دھوکہ بازوں نے اسے 54 دنوں تک “ڈیجیٹل گرفتاری” کے تحت رکھا اور 40.90 لاکھ روپے کا فراڈ کیا۔ شکایت کے بعد، ممبئی سائبر سیل نے تحقیقات شروع کی. 10 مارچ کو، متاثرہ، راجیندر (مہاراشٹر اسٹیٹ کوآپریٹو بینک کے ریٹائرڈ مینیجر) کو سگنل ایپ پر ایک اکاؤنٹ سے ویڈیو کال موصول ہوئی جس کا لیبل “اے ٹی ایس ڈیپارٹمنٹ” تھا۔ کال کرنے والے نے اپنی شناخت “پی ایس آئی سنگھ” کے طور پر کروائی، جو دہلی اے ٹی ایس کے ایک افسر تھے، اور دعویٰ کیا کہ اس کا نام جنوری کے دہلی بم دھماکوں اور منی لانڈرنگ کیس میں سامنے آیا تھا۔ دھوکہ بازوں نے متاثرہ کو مطلع کیا کہ اس کے آدھار اور موبائل نمبر کا استعمال کرتے ہوئے کرناٹک میں ایک بینک اکاؤنٹ کھولا گیا ہے، جس میں کل 2.65 کروڑ روپے کے مشتبہ لین دین ہوئے۔ سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے گرفتاری اور جائیداد ضبط کرنے کی دھمکی دی۔ خوف کا ماحول بنا کر دھوکہ بازوں نے متاثرہ کو گھر کے الگ کمرے میں رہنے، کسی سے بات کرنے سے گریز کرنے اور مسلسل ویڈیو کال کرنے پر مجبور کیا۔ ذہنی دباؤ کے تحت متاثرہ نے ابتدائی طور پر 2.90 لاکھ روپے منتقل کر دیے۔ اس کے بعد دھوکہ بازوں نے اسے اسٹاک مارکیٹ میں اپنی 29 لاکھ کی سرمایہ کاری کو بیچنے پر مجبور کیا، جس سے 28 لاکھ مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے۔ مزید برآں، انہوں نے “بیل سیکیورٹی” کے نام پر 10 لاکھ بھتہ وصول کیا، جو متاثرہ کی بیوی نے قرض کے ذریعے فراہم کیا تھا۔ جعلسازوں نے انہیں یقین دلایا کہ دو دن میں پوری رقم واپس کر دی جائے گی اور معاملہ ختم ہو جائے گا لیکن انہوں نے رقم ملتے ہی رابطہ منقطع کر دیا۔ کئی دنوں تک انتظار کرنے اور کوئی جواب نہ ملنے کے بعد متاثرہ کو احساس ہوا کہ اسے دھوکہ دیا گیا ہے۔ اس نے 3 مئی کو سائبر ہیلپ لائن 1930 پر شکایت درج کروائی اور 4 مئی کو سائبر سیل میں باقاعدہ شکایت درج کرائی۔ ممبئی پولیس کے مطابق، یہ کیس سائبر کرائم کے ایک خطرناک نئے رجحان کو اجاگر کرتا ہے جسے “ڈیجیٹل گرفتاری” کہا جاتا ہے، جہاں جعلساز سرکاری اداروں کے خوف کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ذہنی طور پر دباؤ ڈالتے ہیں اور بڑی رقم بٹورتے ہیں۔ سائبر سیل اس وقت متعلقہ بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کر رہا ہے اور ملزم کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

Continue Reading

جرم

پونے میں ایک اور شرمناک واقعہ: نابالغ لڑکی کو اس کے نانا نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

Published

on

پونے: مہاراشٹر کے پونے ضلع سے ایک بار پھر شرمناک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ 9 سالہ بچی کو اس کے نانا نے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہو گئی۔ پولیس نے حالات کو قابو میں کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ پونے کے پاروتی کچی آبادی میں پیش آیا جہاں منگل کو نانا نے اپنی ہی بیٹی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پاروتی پولیس اسٹیشن کی ایک ٹیم فوراً جائے وقوعہ پر پہنچی۔ پولیس کے جوائنٹ کمشنر رنجن کمار شرما نے بتایا کہ ملزم کے نانا کو حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن لایا گیا ہے، جہاں اس سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ متاثرہ کو فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس کا طبی معائنہ کیا گیا اور ڈاکٹروں کی نگرانی میں اس کا علاج جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور مجرم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ غور طلب ہے کہ پونے ضلع میں ابھی کچھ دن پہلے ایک اور ہولناک واقعہ پیش آیا تھا۔ یکم مئی کو تحصیل بھور کے علاقے نصرپور میں 65 سالہ شخص نے کم سن لڑکی کو کسی بہانے اپنے ساتھ لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر قتل کر دیا۔ ملزمان نے لاش کو گوبر کے ڈھیر کے نیچے چھپانے کی بھی کوشش کی۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اسے 7 مئی تک پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔ نصرا پور علاقے میں اس واقعہ کے بعد سے عوامی غم و غصہ جاری ہے۔ دریں اثنا، پونے کے پاروتی سلم علاقے میں اس نئے واقعے نے لوگوں کو چونکا دیا ہے۔ تاہم پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ معاملے میں سخت کارروائی کی جائے گی۔

Continue Reading

جرم

پونے ضلع کے داؤنڈ میں ایک باپ نے اپنی 9 سالہ بیٹی کو قتل کر کے اس کی لاش کو جلا دیا۔

Published

on

crimeee

پونے، پونے کے نصرا پور میں ایک لڑکی کی عصمت دری اور قتل کا معاملہ بمشکل نمٹا ہے جب ضلع کے داؤنڈ تعلقہ کے دیولگاؤں راجے گاؤں میں اب ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ باپ نے اپنی ہی 9 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا۔ ملزمان نے لڑکی پر لکڑی کاٹنے والی مشین سے حملہ کر دیا۔ قتل کے بعد لاش کو کپڑے میں لپیٹ کر شواہد مٹانے کے لیے گھر کو آگ لگا دی۔ یہ واقعہ ہنومان بستی، کالے وستی علاقہ میں پیش آیا۔ ملزم شانتارام دوریودھن چوان (33) کو شک تھا کہ اس کی بیٹی نے اپنے بھائی کے اسکول کی مارک شیٹ میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ اس شک نے اسے مشتعل کر کے لڑکی کو قتل کر دیا۔ پولیس تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان نے لڑکی کو قتل کرنے کے بعد گھر کو آگ لگا دی، لاش چھپانے اور تلف کرنے کا ارادہ کیا۔ چنگو شندباد بھوسلے نامی ایک خاتون پر اس واقعے میں مدد اور حوصلہ افزائی کا الزام ہے۔ داؤد پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس نے ملزم شانتارام چوان کو حراست میں لے لیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ معاملے کی جانچ سب انسپکٹر سنیل اوگلے کر رہے ہیں۔ واقعہ کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح کے واقعے کی خبر سن کر خوفزدہ ہو گئے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک نوجوان لڑکی کو اس کے اپنے باپ کے ہاتھوں اس طرح قتل کیا جائے گا۔ عوام انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں اور فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف تعزیرات ہند (بی این ایس 2023) کی دفعہ 103(1)، 238، اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ سیکشن قتل، شواہد کو تباہ کرنے اور دیگر جرائم کا احاطہ کرتا ہے۔ پولیس کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔ آگ لگنے سے مکان کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ پڑوسیوں نے دھواں اور آگ کے شعلے دیکھ کر اطلاع دی اور مدد کے لیے پہنچ گئے لیکن تب تک کافی نقصان ہو چکا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان