Connect with us
Thursday,30-July-2026
تازہ خبریں

سیاست

بجلی سبسڈی کیلئے آن لائن رجسٹریشن کی سخت شرائط سے بنکروں کو پریشانی

Published

on

مالیگاؤں(خیال اثر) مہاراشٹر حکومت کی وزارت ٹیکسٹائل نے ریاست کے سبھی پاور لوم مراکز کے بنکروں کی سبسڈی جاری رکھنے کیلئے آن لائن رجسٹریشن طلب کیا ہے جس کیلئے ویب سائٹ بھی متعارف کروائی گئی ہے جوکہ فی الحال سرور جام کی زد میں ہے۔ دوسری طرف بجلی سبسڈی حاصل کرنے کیلئے آن لائن طریقہ کار اور طلب کردہ معلومات فراہم کرنا انتہائی دشوار ثابت ہو رہا ہے جس کی روشنی میں رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی نے وزیر ٹیکسٹائل اسلم شیخ سے ملاقات کی اور اس رجسٹریشن کے پریشان کن طریقہ کار کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاور لوم بنکر ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ بجلی بل سبسڈی کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ سبسڈی حاصل کرنے کیلئے بجلی بلوں کی ادائیگی اور بجلی بل میں سبسڈی سے متعلق اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے ؟ آن لائن رجسٹریشن سے متعلق حکومت کی کیا نیت ہے ہمیں نہیں پتہ لیکن رجسٹریشن میں جس طرح کی معلومات طلب کی جا رہی ہے اس سے مالیگاؤں اور بھیونڈی کے بنکروں کو پریشانی ہو رہی ہے کیونکہ آن لائن رجسٹریشن میں بجلی سبسڈی حاصل کرنے کیلئے پاور لوم کارخانے کا پلاٹ مالک ، پاور لوم پرمٹ اور بجلی کنکشن ایک ہی آدمی کے نام پر ہونے کی شرط لگائی گئی ہے جبکہ مالیگاؤں اور بھیونڈی میں پاور لوم بنکروں کی اکثریت اس طرح کی صورت حال سے نبرد آزما ہے کہ یہاں کئی کئی پاور لوم پرمٹ بہنوں اور بھائیوں کے نام پر ہیں پلاٹ کسی اور کے نام پر ہے جہاں کارخانہ جاری ہے وہیں بجلی کنکشن برسوں سے کسی اور کے نام پر ہے اور بجلی بل اسی کے نام پر آتا ہے اور بنکر باقاعدگی سے بجلی بل ادا کرتا ہے۔اس طرح کی صورت حال کے بعد ریاستی حکومت نے آن لائن رجسٹریشن میں جو معلومات طلب کی ہیں اس کی وجہ سے بے چینیاں بڑھ رہی ہیں۔ بھیونڈی اور مالیگاؤں میں یہ تمام چیزیں ایک شخص کے پاس نہیں ہے ایسے میں کیا ان کو سبسڈی نہیں مل سکتی؟

مفتی محمد اسماعیل قاسمی صاحب نے وزیر ٹیکسٹائل اسلم شیخ کو مزید کہا کہ مالیگاؤں اور بھیونڈی میں بجلی کنکشن کسی اور کے نام پر ہے، پاور لوم پرمٹ کسی اور کے نام پر، جگہ کسی اور کے نام پر بعض مرتبہ کارخانہ کسی اور کے نام پر ہے اور دوسرا بنکر کرائے سے لیکر کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے ایسے حالات میں اس طرح کی شرائط پر عمل درآمد کیسے ہوسکتا ہے؟ اور جو دشواریاں حاوی ہیں اس سے بنکروں کی پریشانیاں واضح ہیں لہذا ماضی سے لیکر ابتک ریاستی حکومت جس طرح بجلی بلوں پر سبسڈی دیتی آئی ہے وہی طریقہ کار استعمال کیا جائے یا پھر ایک سادے طریقہ کار کا استعمال کرکے بجلی سبسڈی کا فارم پُر کروایا جائے ، لوم کا پرمٹ ، پلاٹ بجلی کنکشن کس کے نام پر ہے اس کی ضرورت نہیں ، تمام گفتگو کے بعد مفتی صاحب نے وزیر موصوف سے کہا کہ بنکروں کا وفد آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ اس پر وزیر اسلم شیخ نے بتایا کہ ریاستی حکومت کے کئی وزراء کورونا پازیٹیو ہوچکے ہیں ہم احتیاطی تدابیر کے مرحلے سے گزر رہے ہیں گزشتہ آٹھ دس دنوں سے وفود ملاقات کا سلسلہ بند ہے اس کے باوجود اگر دو چار نمائندہ بنکر ملاقات کیلئے آتے ہیں تو بروز جمعرات دوپہر ایک بجے سے دو بجے کے درمیان اس معاملے پر گفتگو ہوسکتی ہے اور آن لائن رجسٹریشن میں بجلی سبسڈی حاصل کرنے سے متعلق کوئی نا کوئی سہولت ضرور نکل آئےگی ایسے میں مفتی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ بروز جمعرات کو مالیگاؤں اور بھیونڈی کے مشترکہ وفد کی وزیر ٹیکسٹائل اسلم شیخ سے ملاقات ہوگی اور اس مسئلے پر گفتگو کرکے کوئی نا کوئی راستہ نکالا جائے گا۔اس مفصل ملاقات پر اسلم شیخ نے معاملے کی یکسوئی کا مثبت تیقن دیا۔

واضح رہے مذکورہ آن لائن رجسٹریشن کا مسئلہ 2018 کا ہے مگر بنکر دوستی کا دم بھرنے والے اس وقت کے ایم ایل اے ( جو اب سابق ہوچکے ہیں ) خاموش رہے جس سے ایک بار پھر اُن کی صنعت دشمنی اجاگر ہوتی ہے اور اُن کے والد پاور لوم صنعت کو بہرے پن کی وجہ بتا کر شہر کی لائف لائن پاور لوم صنعت کو شہر سے باہر کرنے کی بات بھی کرچکے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ٹی بی پاک ممبئی مہم کے تحت چیمبور میں عوامی بیداری ریلی کا انعقاد

Published

on

T-B

“ممبئی : ممبئی ملک کا مالیاتی دارالحکومت اور ‘خوابوں کا شہر’ ہے۔ اس شہر کو ٹی بی سے پاک کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اگر معاشرہ ٹی بی سے پاک ممبئی اور ٹی بی سے پاک ہندوستان کا مقصد حاصل کر سکتا ہے تو یہ ضروری ہے کہ ٹی بی کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کیا جائے اور ان سے ڈرنے یا خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ دعویٰ آج مہاراشٹر کے گورنر شری جشنو دیو ورما نے خطاب کے دوران کیا ۔ آج (29 جولائی 2026) ‘ٹی بی پاک ممبئی’ مہم کے تحت، مہاراشٹر لوک بھون، ممبئی میونسپل کارپوریشن، ممبئی یونیورسٹی کے نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) سیل، اور سری نارائنا گرو کالج آف کامرس، چیمبر کے مشترکہ طور پر ایک عوامی بیداری ریلی کا انعقاد کیا گیا

اس تقریب میں موجود نمایاں شخصیات میں اداکار راکیش بیدی، اداکار شیو ٹھاکرے، ممبئی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر رویندر کلکرنی، گورنر کے سکریٹری ڈاکٹر پرشانت نارنوارے، جوائنٹ سکریٹری ایس راما مورتی، بی ایم سی کے ایم ایسٹ وارڈ کے اسسٹنٹ کمشنر اجول انگولے، اور بڑی تعداد میں این ایس ایس کے طلبا شریک تھے۔ گورنر شری جشنو دیو ورما نے مزید کہا، “ٹی بی محض طبی چیلنج نہیں ہے بلکہ ایک سماجی اور معاشی بھی ہے۔ تاہم، اس بیماری سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹی بی کے لیے موثر علاج دستیاب ہیں، اور مریضوں کے لیے بروقت ٹیسٹ کروانا اور باقاعدہ علاج پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔” “مرکزی حکومت، ریاستی حکومت، اور برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام اسپتالوں کے ذریعے ٹی بی کے مریضوں کے لیے علاج کی مختلف سہولیات اور اسکیموں کا موثر نفاذ کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو خود ان سہولیات کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنا علاج مکمل کرنا چاہیے۔”انہوں نے مزید کہا کہ “کسی شخص کے ساتھ صرف اس وجہ سے امتیازی سلوک کرنا درست نہیں کہ اسے ٹی بی ہے۔ اس کے برعکس ایسے مریضوں کو ذہنی مدد اور ضروری مدد فراہم کرنا ہی انسانیت کی حقیقی نشانی ہے۔”گورنر نے خاص طور پر گنجان آباد علاقوں میں ٹی بی کے حوالے سے وسیع پیمانے پر عوامی بیداری کی ضرورت پر زور دیا۔ “طلباء، قومی خدمت اسکیم (این ایس ایس) کے رضاکاروں، آنگن واڑی کارکنوں، آشا کارکنوں، اور مختلف رضاکار تنظیموں کے ذریعے بیداری مہم کو زیادہ مؤثر طریقے سے چلانا ضروری ہے۔ اگر معاشرے کا ہر طبقہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے تو ممبئی جلد ہی ٹی بی سے پاک ہو جائے گا۔ ہماری اجتماعی کوششیں ٹی بی کے مریضوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن پیدا کریں گی۔” انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا۔ اس موقع پر معروف اداکار راکیش بیدی نے کہا، “ممبئی والے ہر بحران کا مقابلہ ہمت کے ساتھ کرتے ہیں، ممبئی کے ہر باشندے میں لڑنے کا جذبہ ہے۔ جس طرح ممبئی والوں نے متعدد بحرانوں پر قابو پایا ہے، اسی طرح انہیں ٹی بی کے خلاف جنگ میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ ‘ٹی بی فری ممبئی’ کو محض مہم سے آگے بڑھنا چاہیے، اس عوامی تحریک کے تیز تر مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ مہم دیکھی جائے گی۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ٹرمپ کو توقع ہے کہ ایران کے تنازع کے حل ہونے کے بعد امریکی اقتصادی ترقی میں اضافہ ہو گا۔

Published

on

Trump

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے حل ہونے کے بعد امریکی معیشت میں بحالی کی پیش گوئی کی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ان کی انتظامیہ کی ٹیکس، ٹیرف، اور توانائی کی پالیسیاں ان کی پہلی مدت کے مقابلے بہتر نتائج دے گی۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایک بار جب یہ چھوٹی سی صورتحال حل ہو جائے گی تو میرے خیال میں حالات بہتر ہو جائیں گے، حالات پہلے سے بہتر ہیں، آج بھی سٹاک مارکیٹ ہر روز نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ میں ریٹائرمنٹ اکاؤنٹس ریکارڈ سطح پر ہیں اور دعویٰ کیا کہ ان کی موجودہ مدت کے پہلے سال اور نصف میں اسٹاک مارکیٹ تقریباً 80 دنوں تک نئی بلندیوں پر پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا، “401(k) اکاؤنٹس ہر وقت بلند ترین سطح پر ہیں۔ تو میرا مطلب ہے کہ ہماری معیشت شاندار ہے۔”

صدر نے اس جذبات کا اعادہ ریپبلکن کانگریس مین اینڈی اوگلس آف ٹینیسی کے لیے ایک ورچوئل ٹیلی ریلی کے دوران کیا۔ انہوں نے اقتصادی صورتحال کو ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے اور تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے معاہدے سے منسلک کیا۔ ٹرمپ نے کہا، “مجھے یقین ہے کہ ہم اپنی پہلی مدت میں معاشی طور پر بہت اچھا کام کریں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہماری معیشت اب تک کی سب سے مضبوط ہوگی۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ میری پہلی مدت سے بھی بہتر ہوگی۔” ٹرمپ نے یہ بھی پیش گوئی کی تھی کہ ایران کے ساتھ حالات ٹھیک ہونے کے بعد توانائی کے اعداد و شمار بہتر ہوں گے۔ اس نے اوگلس کو امریکی توانائی کے غلبے کی حمایت کرنے کا سہرا دیا۔

انتخابی مہم کے دوران صدر نے اپنی ٹیکس قانون سازی کو فروغ دیا اور اسے ایک “عظیم، شاندار بل” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی ٹپس، اوور ٹائم کمائی، اور بزرگ شہریوں کی سوشل سیکورٹی آمدنی پر ٹیکس کو ختم کرتی ہے۔ ٹرمپ نے استدلال کیا کہ ان دفعات سے ریپبلکنز کو وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کا کنٹرول برقرار رکھنے میں مدد ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا، “صرف ان چیزوں سے ہمیں وسط مدتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی ملنی چاہیے۔”

صدر نے اس قانون کا بھی ذکر کیا جو امریکی ساختہ گاڑیوں کے قرضوں پر سود پر ٹیکس میں چھوٹ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی ٹیرف کے ساتھ مل کر کار سازوں کو امریکہ میں فیکٹریاں لگانے کی ترغیب دیتی ہے۔ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہم اس وقت اپنی تاریخ کے کسی بھی وقت سے زیادہ کار فیکٹریاں بنا رہے ہیں۔” ٹرمپ نے کہا کہ محصولات نے سینکڑوں بلین ڈالر کی آمدنی حاصل کی ہے اور گھریلو آٹوموبائل انڈسٹری کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر دعویٰ کیا کہ انہوں نے جنرل موٹرز کی مدد کی اور غیر ملکی صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی پیداوار کو ریاستہائے متحدہ میں لے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ “ٹیرف نے اس ملک کو بہت امیر بنا دیا ہے۔” ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کے دوران محصولات کو اپنے اقتصادی ایجنڈے کا ایک اہم حصہ بنایا، درآمد شدہ اسٹیل، ایلومینیم، اور مختلف قسم کی چینی اشیاء پر ڈیوٹیز عائد کیں۔ اس نے اپنی موجودہ مدت کے دوران ان کے استعمال میں مزید اضافہ کیا ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

آئی آر جی سی کا دعویٰ ہے کہ امریکی ایئر بیس اور سینٹ کام ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

Published

on

Attack

تہران : ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے اردن میں امریکی فوجی ایئر بیس اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا، مقامی میڈیا کے مطابق۔ ایران کی سرکاری خبر کے مطابق آئی آر جی سی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ بیان کے مطابق اس کی ایرو اسپیس فورس نے اردن میں امریکی فضائی اڈے اور سینٹرل ہیڈ کوارٹر پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا۔ آئی آر جی سی نے کہا کہ اس کی مخالفت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک امریکہ ایران کے خلاف “دھمکی، غیر قانونی اور دشمنانہ اقدامات” جاری رکھے گا۔ یہ تازہ حملہ مغربی ایشیا میں ایران اور امریکہ کے درمیان نئے سرے سے کشیدگی کے درمیان ہوا ہے۔

دریں اثنا، امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی طرف سے داغے گئے کئی بیلسٹک میزائلوں کو روک دیا۔ امریکہ نے اسے مشرق وسطیٰ میں تعینات اپنی افواج پر “حیران کن حملہ” قرار دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا، “شام 5:45 پر (ای ٹی)، اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایران سے متعدد بیلسٹک میزائل داغے۔ یہ مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں پر اچانک حملہ کرنے کی کوشش تھی۔” سینٹ کام نے کہا، “تمام ایرانی میزائلوں کو کامیابی کے ساتھ روک دیا گیا۔” اس میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج مکمل چوکس ہے اور کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

24 جولائی کو، آئی آر جی سی نے یہ بھی کہا کہ اس نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات پر جوابی حملے کیے ہیں۔ اس کے سرکاری سیپاہ نیوز کے مطابق یہ حملے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔ آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ اس نے جدید اور بھاری کامیکاز ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے کویت میں علی السلم ایئر بیس پر امریکی گولہ بارود کے ایک بڑے ڈپو کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اڈے پر موجود امریکی فوجیوں کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں ایک امریکی کمپنی کے ڈیٹا سینٹر کی باقی ماندہ عمارت کو تباہ کر دیا۔ مزید برآں، اس میں کہا گیا ہے کہ کویت کے العدیری کیمپ میں امریکی گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کے تین ڈپو تباہ کیے گئے اور بحرین میں امریکی فائفتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹر کے واچ ٹاور کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق اردن میں العزرق ایئر بیس پر تعینات امریکی لڑاکا طیاروں کو بھی اس کی ایرو اسپیس فورس کے حملے میں نقصان پہنچا۔ اس نے کہا کہ اڈے پر امریکی فوجیوں کی رہائش گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی آر جی سی نے عراق کے کردستان علاقے کے دارالحکومت اربیل میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کے بعد پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم اور ایک جاسوس غبارے کو تباہ کر دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان