Connect with us
Sunday,06-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

اسمرتی ایرانی مغربی خطے کے زونل میٹنگ صدارت کی کریں گی

Published

on

Smriti Irani

خواتین اور اطفال کی ترقی کی مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی منگل کو ممبئی میں ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں اور مغربی خطوں کے متعلقین کی زونل کانفرنس کی صدارت کریں گی۔ مہاراشٹر، راجستھان، گوا، گجرات، مدھیہ پردیش، دادرہ اور حویلی اور دمن اینڈ دیو کی ریاستیں اور مرکز کے زیرانتظام علاقے اس میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ حال ہی میں شروع کئے گئے تین مشن -پوشن 2.0، وتسلیہ اور شکتی کے زیادہ سے زیادہ اثرکو یقینی بنانے کے لئے خواتین اور اطفال کی ترقی کی وزارت نے ملک کے ہر علاقے میں ریاستی حکومتوں اور فریقوں کے ساتھ سلسلہ وار زونل مشاورت شروع کیا ہے۔ اس سلسلے میں ممبئی میں یہ چوتھی زونل میٹنگ ہے۔ اس طرح کی پہلی میٹنگ 2 اپریل کو چنڈی گڑھ میں، 4 اپریل کو بینگلورو اور تیسری میٹنگ 10 اپریل 2022 کو گواہاٹی میں منعقد ہو چکی ہے۔

خواتین اور بچوں کو بااختیار بنانا اور ان کا تحفظ جو ہندوستان کی آبادی کا 67.7 فیصد ہیں، اور محفوظ ماحول میں ان کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانا ملک کی پائیدار اور مساوی ترقی کے لئے بہت اہم ہیں، اسی طرح تبدیلی والی اقتصادی اور سماجی تغیرات کے لئے بھی بہت اہم ہیں۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے، وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ نے حال ہی میں وزارت کی 3 اہم امبریلا اسکیموں کو منظوری دی ہے جن کو مشن موڈ میں لاگو کیا جائے گا، یعنی مشن پوشن 2.0، مشن شکتی اور مشن وتسلیہ۔ یہ 3 مشن 15ویں مالیاتی کمیشن کی مدت، 2021-22 سے 2025-26 کے دوران نافذ کیے جائیں گے۔ امبریلا مشن کے تحت چلنے والی اسکیمیں مرکزی طور پر سپانسر شدہ اسکیمیں ہیں، جو لاگت کی تقسیم کے اصولوں کے مطابق لاگت کی تقسیم کی بنیاد پر ریاستی حکومتوں/ مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی انتظامیہ کے ذریعہ لاگو کی جاتی ہیں۔ اسکیم کے رہنما خطوط کا اشتراک ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

خواتین اور اطفال کی ترقی کی وزارت کا بنیادی مقصد خواتین اور بچوں کے لیے ریاستی کارروائی میں موجود خلاء کو دور کرنا اور صنفی مساوات اور بچوں پر مبنی قانون سازی، پالیسیاں اور پروگرام بنانے کے لیے بین وزارتی اور بین شعبہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے، اور خواتین اور بچوں کو ایسا ماحول مہیا کرانا ہے، جو قابل رسائی، سستی قابل اعتماد اور ہر طرح کے امتیاز اور تشدد سے مبّرا ہو۔ اس جانب وزارت کی اسکیموں کے تحت مقاصد کے حصول کے لئے ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی انتظامیہ جو کہ زمین پر ان اسکیموں کے نفاذ کے لئے ذمہ دار ہیں، کی سپورٹ حاصل کی جاتی ہے۔

زونل کانفرنسوں کا مقصد ریاستی حکومتوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو وزارت کے 3 امبریلا مشن پر حساس بنانا ہے، تاکہ کوآپریٹو فیڈرلزم کی حقیقی روح کے ساتھ اگلے 5 سالوں میں اسکیموں کے مناسب نفاذ میں سہولت فراہم کی جاسکے، تاکہ مش کے تحت تصورکئے گئے سماجی تبدیلی کو ملک کی خواتین اور بچوں کے فائدے کی تکمیل کے لئے یقینی بنایا جاسکے۔

مشن پوشن 2.0 ایک مربوط غذائیت سپورٹ پروگرام ہے۔ یہ بچوں، نوعمر لڑکیوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں میں نقص تغذیہ کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے غذائیت کے مواد اور ترسیل میں حکمت عملی کی تبدیلی کے ذریعے اور ایک متغیر ایکو سسٹم کی تشکیل کے ذریعے صحت، تندرستی اور قوت مدافعت کو فروغ دینے والے طریقوں کو ترقی دینے اور فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ پوشن 2.0 سپلیمنٹری نیوٹریشن پروگرام کے تحت خوراک کے معیار اور ترسیل کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا۔
مشن شکتی کا تصور ہے کہ خواتین کے لیے مربوط نگہداشت، حفاظت، تحفظ، باز آبادکاری اور تفویض اختیارات کے ذریعہ ایک مربوط شہری مرتکز لائف سائیکل سپورٹ مہیا کیا جائے تاکہ عورت کی زنجیروں کو توڑا جائے اوروہ اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں آگے بڑھ سکیں۔

مشن شکتی کی دو ذیلی اسکیمیں ‘سنبل’ اور ‘سمارتھیا’ ہیں۔ جب کہ “سمبل” ذیلی اسکیم خواتین کی حفاظت اور سلامتی کے لیے ہے، وہیں “سمارتھیا” ذیلی اسکیم خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ہے۔
مشن وتسلیہ کا مقصد ملک کے ہر بچے کے لیے ایک صحت مند اور خوشگوار بچپن کو محفوظ بنانا ہے۔ بچوں کی نشوونما کے لیے ایک حساس، معاون اور مطابقت پذیر ماحولیاتی نظام کو فروغ دینا، جوینائل جسٹس ایکٹ 2015 کے مینڈیٹ کی فراہمی میں ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مدد کرنا ہے، تاکہ وہ ایس ڈی جی اہداف کو حاصل کریں۔ مشن وتسلیہ کے تحت اجزاء میں قانونی ادارے، سروس ڈلیوری اسٹراکچر، ادارہ جاتی نگہداشت /خدمات، غیرادارہ جاتی کمیونٹی پرمبنی نگہداشت، ایمرجنسی آؤٹ ریچ سروسیز اور تربیت اورصلاحیت کی تعمیر شامل ہیں ۔

سیاست

شیو سینا یو بی ٹی غیر مراٹھی لوگوں کو مراٹھی سکھانے کی مہم شروع کرے گی، زبان کے نام پر ایم این ایس پر تشدد کی مذمت، بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام۔

Published

on

UBT-Anand-Dubey

ممبئی : مہاراشٹر میں ‘زبان’ کا تنازع ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں کے ذریعہ غیر مراٹھی لوگوں کی مسلسل پٹائی کے معاملے پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کارکنوں سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ اس لیے اب شیو سینا (یو بی ٹی) لوگوں کو مراٹھی سکھائے گی۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ خبریں آرہی ہیں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن غیر مراٹھی بولنے والوں پر حملہ کررہے ہیں۔ وہ اس کی توہین کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسے مراٹھی نہیں آتی۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہاں روزگار کی تلاش میں آئے ہوں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مراٹھی کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے سیکھیں گے؟ انہیں کون سکھائے گا؟ پھر ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ہم انہیں پڑھائیں گے۔ اس کے لیے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو لوگوں کو مراٹھی زبان سکھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے مہاراشٹر میں لوگوں کو مراٹھی سکھانے کا نعرہ بھی دیا گیا ہے۔ ایم این ایس والے لوگوں کی توہین کریں گے اور مار پیٹ کریں گے۔ لیکن ہم انہیں پیار سے مراٹھی زبان سکھائیں گے۔ یہی فرق ہے ان کی اور ہماری ثقافت میں۔ اس مہم کے تحت ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ آنند دوبے نے مراٹھی پڑھانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مراٹھی بولنے والوں کو مراٹھی سکھانے کے فیصلے کو ووٹ بینک کی سیاست کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی غریب کو زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے انہیں مراٹھی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ میں مہاراشٹر نو نرمان سینا سے بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے مراٹھی سکھانے پر توجہ دیں۔

انہوں نے بی جے پی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو مارتی ہے اور پھر ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور ان کے ووٹ لیتی ہے۔ یوپی، بہار اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور یہاں اگر کوئی غیر مراٹھی مارا پیٹا جائے تو یہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے۔

Continue Reading

سیاست

وقف ترمیمی بل پر بہار میں ہنگامہ۔ اورنگ آباد میں جے ڈی یو سے سات مسلم لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا۔

Published

on

JDU-leaders

اورنگ آباد : وقف بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کو بہار میں مسلسل دھچکے لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جے ڈی یو کو اورنگ آباد میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بل سے ناراض ہو کر اورنگ آباد جے ڈی یو کے سات مسلم لیڈروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کی بنیادی رکنیت اور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں جے ڈی (یو) کے ضلع نائب صدر ظہیر احسن آزاد، قانون جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ اطہر حسین اور منٹو شامل ہیں، جو سمتا پارٹی کے قیام کے بعد سے 27 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔

اس کے علاوہ پارٹی کے بیس نکاتی رکن محمد۔ الیاس خان، محمد فاروق انصاری، سابق وارڈ کونسلر سید انور حسین، وارڈ کونسلر خورشید احمد، پارٹی لیڈر فخر عالم، جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ضلع نائب صدر مظفر امام قریشی سمیت درجنوں حامیوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کی اور جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کی حمایت کرنے والے نتیش کمار اب سیکولر نہیں رہے۔ اس کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار اپاہج ہو گئے ہیں۔

ان لیڈروں نے کہا کہ جس طرح جے ڈی یو کے مرکزی وزیر للن سنگھ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پر اپنا رخ پیش کر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے بی جے پی کا کوئی وزیر بول رہا ہو۔ وقف ترمیمی بل کو لے کر جمعیۃ العلماء ہند، مسلم پرسنل لا، امارت شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وقف ترمیمی بل پر کچھ کہا۔ انہوں نے وہپ جاری کیا اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کی حمایت حاصل کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب جے ڈی یو کو مسلم لیڈروں، کارکنوں اور مسلم ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں ضلع جنرل سکریٹری ظہیر احسن آزاد نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں سمتا پارٹی کے آغاز سے ہی پارٹی کے سپاہی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ جب جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں 12 ایم پیز کے ساتھ جنتا دل جارج کی تشکیل ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب سمتا پارٹی بنی تو مجھے ضلع کا خزانچی بنایا گیا۔ اس کے بعد جب جنتا دل یونائیٹڈ کا قیام عمل میں آیا تو میں ضلع خزانچی تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بہار اسٹیٹ جے ڈی یو اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھی مجھے ضلعی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے میں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا تھا لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ جے ڈی یو اب سیکولر نہیں ہے۔ للن سنگھ اور سنجے جھا نے بی جے پی میں شامل ہو کر پارٹی کو برباد کر دیا۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پورا بھروسہ تھا کہ جے ڈی یو وقف بل کے خلاف جائے گی لیکن جے ڈی یو نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑا اور خیانت کی اور وقف بل کی حمایت کی۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرا استعفیٰ منظور کر لیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com