Connect with us
Friday,23-October-2026

سیاست

شیوسینا ارکان اسمبلی کو توڑنے کی سازش، خرید وفروخت کا امکان

Published

on

مہاراشٹر میں بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان اقتدار حاصل کرنے کی ہوڑ اب عروج پر پہنچ گئی ہے۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے وزیر اعلیٰ عہدے کے لئے اپنے دعوے کو مضبوط قرار دیا جا رہا ہے اور ایک دوسرے پر الزامات بھی عائد ہو رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں شیوسینا کے سینئر لیڈر سنجے راؤت جارحانہ رویہ اختار کیے ہوئے ہیں اور بی جے پی پر حملہ آور ہیں۔ وہیں دیویندر فڑنویس نے بھی شیوسینا پر پلٹ وار کیا ہے۔ دریں اثنا بی جے پی کے رکن پارلیمان سنجے کاکڑے نے ایک بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ شیوسینا کے 45 ممبر اسمبلی بی جے پی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ سنجے کاکڑے نے دعویٰ کیا کہ ’’شیوسینا کے نومنتخب 56 میں سے 45 ایم ایل اے وزیر اعلی کے رابطے میں ہیں اور مخلوط حکومت تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ان 45 میں سے کچھ ارکان اسمبلی ادھو ٹھاکرے کو منالیں گے اور دیویندر فڑنویس کو وزیر اعلی بنانے اور حکومت سازی کرنے پر راضی کرلیں گے۔‘‘ کاکڑے نے مزید کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ اس کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ شیوسینا کے ایم ایل اے مستقل طور پر فون کر رہے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں بھی حکومت میں شامل کیا جانا چاہیے۔‘‘ کاکڑے کے اس بیان پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا بی جے پی شیوسینا کے ارکان اسمبلی کو توڑنے کی تیاری کر رہی ہے؟کاکڑے کے بیان سے قبل شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے ایک بڑا بیان دیا تھا۔ انہوں نے بی جے پی پر براہ راست حملہ بولتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں کوئی دشینت چوٹالہ نہیں ہے جس کے والد جیل میں ہوں۔ راوت نے کہا کہ ہمارے پاس ایک متبادل ہے۔دریں اثناء مہاراشٹر میں اب تک حکومت کا قیام نہیں ہو پایا ہے، اسمبلی انتخابات کے نتائج کو آئے ہوئے پانچ دن گزر چکے ہیں، خبروں کے مطابق شیوسینا سی ایم عہدے اور حکومت میں نصف حصے داری پر اڑی ہوئی ہے، شیوسینا کی جانب سے ایک بار پھر بڑا بیان آیا ہے، شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے براہ راست بی جے پی پر حملہ بولا ہے، انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں کوئی دشینت نہیں ہے، جس کے والد جیل میں ہوں، راوت نے کہا کہ ہمارے پاس متبادل موجود ہے۔غور طلب ہے کہ ہریانہ میں جے جے پی کی حمایت سے بی جے پی کی حکومت بنی ہے، بی جے پی کے پاس اکثریت نہیں تھی، جے جے پی سپریمو دشینت چوٹالہ کے والد اجے چوٹالہ جیل میں ہیں، اسی بات کا ذکر سنجے راوت نے اپنے بیان میں کیا ہے۔ جے جے پی کے ذریعے بی جے پی کو حمایت دینے پر یہ کہا جا رہا ہے کہ دشینت کے والد اجے چوٹالہ جیل میں ہیں اور ان کی اس مجبوری نے بی جے پی کو حمایت دینے پر مجبور کیا ہے۔اس سے قبل گزشتہ روز پیر کو بھی شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے بیان دیا تھا، انہوں نے این سی پی کے ذریعے حمایت دینے کی خبروں پر کہا تھا کہ اس پر ابھی غور نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اس پر کچھ بھی کہنا جلد بازی ہوگی، حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سیاست میں سب کچھ ممکن ہے۔ سنجے راوت نے کہا کہ ہم سب رام پر یقین رکھتے ہیں تو رام کی طرح جان جائے پر ’وچن‘ نہ جائے کی پالیسی اپنانی چاہیے۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد سے ہی شیوسینا نے صاف کر دیا تھا کہ بی جے پی صدر امت شاہ سے جو معاہدہ ہوا تھا انہیں شرائط پر حکومت کا قیام عمل میں آئے گا۔خبروں کے مطابق 50-50 فارمولے پر بی جے پی اور شیوسینا میں اتحاد ہوا تھا، اس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات کے نتائج کے بعد اب اگر حکومت بنتی ہے تو اس میں شیوسینا کی 50 فی صد حصہ داری ہوگی، یعنی کابینہ میں شیوسینا کے 50 فیصد وزیر ہوں گے۔، اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر ڈھائی ڈھائی سال کے لئے رضامندی بنی تھی۔ یہی وجہ کہ شیوسینا آج بی جے پی کو ان وعدوں کی یاد دہانی کر رہی ہے جس کا وعدہ انہوں نے انتخابات سے قبل کیا تھا، وہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی اب شیو سینا سے کیے گئے اپنے وعدے سے منحراف ہو رہی ہے۔

(جنرل (عام

آسام ویجیلنس ڈی ایس پی ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تحقیقات جاری ہیں

Published

on

Death

گوہاٹی : آسام میں چیف منسٹر کے ویجیلنس سیل سے منسلک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کھرگیشور رابھا کی جزوی طور پر بوسیدہ لاش جمعرات کو بونگائیگاؤں کے ایک ہوٹل کے کمرے سے برآمد ہوئی، جس سے اس کی موت کے آس پاس کے حالات کی تحقیقات شروع ہوگئی، حکام نے بتایا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق رابھا کی لاش بونگائی گاؤں میں ہوٹل جاہنوی ریجنسی کے کمرہ نمبر 102 کے اندر سے ملی تھی۔ اطلاعات کے مطابق جب اسے برآمد کیا گیا تو لاش جزوی طور پر گلنے والی حالت میں تھی۔ جسم کی بازیابی کی وجہ سے حالات واضح نہیں ہیں۔ موت کی وجہ سرکاری طور پر قائم نہیں ہوسکی ہے اور واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ پولیس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ افسر کی موت کے ارد گرد کے حالات کی تحقیقات کرے گی اور اس کی لاش کی بازیابی سے پہلے کے واقعات کی ترتیب قائم کرے گی۔

فوری طور پر اس بارے میں کوئی سرکاری معلومات دستیاب نہیں ہوسکی کہ آیا کسی غلط کھیل کا شبہ تھا یا پوسٹ مارٹم کا معائنہ کیا گیا تھا۔ تحقیقات کے نتائج اور طبی معائنے سمیت مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ یہ واقعہ حالیہ مہینوں میں آسام میں پولیس اہلکاروں پر مشتمل پریشان کن اقساط کی ایک سیریز کے درمیان سامنے آیا ہے، بشمول عسکریت پسندوں کے حملے، پولیس آپریشن کے دوران حملے اور سیکورٹی اداروں کے اندر مہلک فائرنگ۔ 10 ستمبر کو، ضلع ناگون کے گائوں گیرواٹی میں ایک آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ایک پولیس ٹیم پر لوگوں کے ایک گروپ کی طرف سے حملہ کیا گیا جس میں کھٹووال تھانے کے انچارج سمیت پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ واقعے میں پولیس کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔

اس سے قبل 3 ستمبر کو کامروپ ضلع کے گیمریمورا پولیس چوکی پر فائرنگ میں آسام پولیس کے دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ ایک ساتھی پولیس اہلکار پر اے کے 47 رائفل سے فائرنگ کرنے کا الزام تھا۔ ایک اور بڑے واقعے میں، آسام پولیس کے چار اہلکار زخمی ہوئے جب مشتبہ عسکریت پسندوں نے 22 مارچ کو تینسوکیا ضلع کے جگن میں ایک پولیس کمانڈو چوکی پر حملہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق، حملے میں راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ شامل تھے۔ ان واقعات نے ریاست میں پولیس اہلکاروں کو آپریشن کے دوران اور سیکورٹی اداروں کے اندر درپیش خطرات کو اجاگر کیا ہے۔ تاہم، پولیس ابھی تک ان واقعات اور رابھا کی موت کے درمیان کوئی تعلق قائم نہیں کر پائی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں مجوزہ یکساں سول کوڈ سے متعلق مسلمانوں اور اقلیتی برادریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کا ابوعاصم اعظمی کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماج وادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے متعلق رائے طلب کئے جانے کے ساتھ اس میں مسلمانوں اقلیتوں کے مذہبی عقائد کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے ایک میمورنڈم میں وزیر اعلیٰ سمیت اعلیٰ حکام کو یہ باور کروایا کہ یو سی سی یکساں سول کوڈ سے متعلق فیصلہ میں سرکار مسلمانوں اقلیتوں کے مذہبی آزادی اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔ مہاراشٹر میں مجوزہ یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کے مطابق شہریوں سے طلب شدہ اعتراضات اور تجاویز کے پس منظر میں، ایک نمائندگی و میمورنڈم وزیر اعلی ریاست مہاراشٹر دیویندر فڑنویس ممبئی سٹی، ممبئی مضافاتی اور بھیونڈی کے متعلقہ ڈسٹرکٹ کلکٹرس کو پیش کیا گیا اس میں مطالبے کیا گیا تمام اقلیتی برادریوں بشمول مسلم کمیونٹی کے آئین ہند کی طرف سے دی گئی مذہبی آزادی، ذاتی قوانین سے متعلق حقوق اور حقوق کے تحفظ کیا جائے اس یادداشت کے معرفت یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ یکساں سول کوڈ کے بارے میں فیصلہ لیتے وقت مسلم کمیونٹی کے مذہبی عقائد، روایات اور پرسنل لاز پر مکمل غور کیا جائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نکاح، مہر، طلاق، نفقہ اور وراثت کے حقوق جیسے مسائل پر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل مسلم کمیونٹی کے مذہبی رہنماؤں، فقہا، خواتین کے نمائندوں اور اقلیتی برادریوں کے نمائندوں سے وسیع تر بات چیت کی جانی چاہیے۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ یکساں سول کوڈ کا پورا مسودہ منظر عام پر لایا جائے، شہریوں کو اپنے اعتراضات اور تجاویز کے لیے مناسب وقت دیا جائے اور موصول ہونے والی تمام تجاویز پر منصفانہ غور کیا جائے۔ ساتھ ہی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یکساں سول کوڈ کے عمل میں آئین میں مساوات کا حق، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ خواتین اور مردوں کو یکساں انصاف، وقار اور قانونی تحفظ ملنا چاہیے۔ تاہم اس کے لیے کسی بھی مذہبی طبقے کے آئینی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس میں موقف پیش کیا گیا ہے کہ حکومت کو تمام متعلقہ برادریوں کو اعتماد میں لینے، شفاف طریقے سے اور وسیع تر بات چیت کے بعد ہی آگے کی کارروائی کرنی چاہیے۔ حکومت اس بیان کا نوٹس لے، مسلم کمیونٹی سمیت تمام اقلیتی برادریوں کے اعتراضات اور تجاویز پر صحیح غور کرے اور ان کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام کرے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ٹائیگر شراف فائرنگ معاملے میں مزید چار گرفتار، دو خواتین پر اسلحہ فراہم کرنے کا الزام، ملزمین 26 اکتوبر تک پولیس ریمانڈ پر

Published

on

ممبئی ٹائیگر شراف فائرنگ کیس میں ممبئی کرائم برانچ نے مزید چار ملزمین کو گرفتار کیا ہےجس میں دو خواتین اور دو مرد شامل ہے ان دو خواتین میں بییتا اور رداھا جبکہ اس میں کنال اور ویجندر کو گرفتار کیا گیا ہے ان چاروں ملزمین کو آج قلعہ کورٹ میں پیش کیا گیا اس دوران سیکورٹی کے پختہ انتظامات کیے گئے تھے پولس نے اس معاملہ میں ملزمین سے تفتیش کےلئے ریمانڈ طلب کیا جس کے بعد پولس کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے ملزمین کو۲۶ اکتوبر تک پولس ریمانڈپر رکھنے کا حکم صادر کیا ہے ان دو خواتین پر شوٹروں کو اسلحہ جات فراہم کرنے اور ملزمین کی مدد کا الزام ہے اس معاملہ میں مزید تفتیش اورُیہ معلوم کرنے کہ آیا ملزمین کا تعلق بشنوئی گینگ سے ہے یا نہیں اس کی تفتیش کےلیے پولس نے ریمانڈطلب کیا تھااب تک پولس نے اس معاملہ میں ۱۰ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اس کے ساتھ ہی پولس نے شوٹروں پھول سنگھ ، ریحان اور ریتک عرف روشن کو گرفتار کیا تھا ان تینوں نے ہی فائرنگ کی تھی اور ممبئی سے فرار ہو کر دلی بذریعہ ٹرین سفر کر رہے تھے ممبئی پولس کی اطلاع پر کوٹا پولس نےانہیں گرفتار کیا گیا اس کے ساتھ دلی اسپیشل سیل نے ہریانہ اور دلی سے ۶ ملزمین کو گرفتار کیا تھا جس میں خواتین اور دیگر اسلحہ سپلائر بھی شامل ہے اس معاملہ میں پولس مزید تفتیش کر رہی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان