Connect with us
Wednesday,22-July-2026

سیاست

شیوسینا ارکان اسمبلی کو توڑنے کی سازش، خرید وفروخت کا امکان

Published

on

مہاراشٹر میں بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان اقتدار حاصل کرنے کی ہوڑ اب عروج پر پہنچ گئی ہے۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے وزیر اعلیٰ عہدے کے لئے اپنے دعوے کو مضبوط قرار دیا جا رہا ہے اور ایک دوسرے پر الزامات بھی عائد ہو رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں شیوسینا کے سینئر لیڈر سنجے راؤت جارحانہ رویہ اختار کیے ہوئے ہیں اور بی جے پی پر حملہ آور ہیں۔ وہیں دیویندر فڑنویس نے بھی شیوسینا پر پلٹ وار کیا ہے۔ دریں اثنا بی جے پی کے رکن پارلیمان سنجے کاکڑے نے ایک بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ شیوسینا کے 45 ممبر اسمبلی بی جے پی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ سنجے کاکڑے نے دعویٰ کیا کہ ’’شیوسینا کے نومنتخب 56 میں سے 45 ایم ایل اے وزیر اعلی کے رابطے میں ہیں اور مخلوط حکومت تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ان 45 میں سے کچھ ارکان اسمبلی ادھو ٹھاکرے کو منالیں گے اور دیویندر فڑنویس کو وزیر اعلی بنانے اور حکومت سازی کرنے پر راضی کرلیں گے۔‘‘ کاکڑے نے مزید کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ اس کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ شیوسینا کے ایم ایل اے مستقل طور پر فون کر رہے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں بھی حکومت میں شامل کیا جانا چاہیے۔‘‘ کاکڑے کے اس بیان پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا بی جے پی شیوسینا کے ارکان اسمبلی کو توڑنے کی تیاری کر رہی ہے؟کاکڑے کے بیان سے قبل شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے ایک بڑا بیان دیا تھا۔ انہوں نے بی جے پی پر براہ راست حملہ بولتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں کوئی دشینت چوٹالہ نہیں ہے جس کے والد جیل میں ہوں۔ راوت نے کہا کہ ہمارے پاس ایک متبادل ہے۔دریں اثناء مہاراشٹر میں اب تک حکومت کا قیام نہیں ہو پایا ہے، اسمبلی انتخابات کے نتائج کو آئے ہوئے پانچ دن گزر چکے ہیں، خبروں کے مطابق شیوسینا سی ایم عہدے اور حکومت میں نصف حصے داری پر اڑی ہوئی ہے، شیوسینا کی جانب سے ایک بار پھر بڑا بیان آیا ہے، شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے براہ راست بی جے پی پر حملہ بولا ہے، انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں کوئی دشینت نہیں ہے، جس کے والد جیل میں ہوں، راوت نے کہا کہ ہمارے پاس متبادل موجود ہے۔غور طلب ہے کہ ہریانہ میں جے جے پی کی حمایت سے بی جے پی کی حکومت بنی ہے، بی جے پی کے پاس اکثریت نہیں تھی، جے جے پی سپریمو دشینت چوٹالہ کے والد اجے چوٹالہ جیل میں ہیں، اسی بات کا ذکر سنجے راوت نے اپنے بیان میں کیا ہے۔ جے جے پی کے ذریعے بی جے پی کو حمایت دینے پر یہ کہا جا رہا ہے کہ دشینت کے والد اجے چوٹالہ جیل میں ہیں اور ان کی اس مجبوری نے بی جے پی کو حمایت دینے پر مجبور کیا ہے۔اس سے قبل گزشتہ روز پیر کو بھی شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے بیان دیا تھا، انہوں نے این سی پی کے ذریعے حمایت دینے کی خبروں پر کہا تھا کہ اس پر ابھی غور نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اس پر کچھ بھی کہنا جلد بازی ہوگی، حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سیاست میں سب کچھ ممکن ہے۔ سنجے راوت نے کہا کہ ہم سب رام پر یقین رکھتے ہیں تو رام کی طرح جان جائے پر ’وچن‘ نہ جائے کی پالیسی اپنانی چاہیے۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد سے ہی شیوسینا نے صاف کر دیا تھا کہ بی جے پی صدر امت شاہ سے جو معاہدہ ہوا تھا انہیں شرائط پر حکومت کا قیام عمل میں آئے گا۔خبروں کے مطابق 50-50 فارمولے پر بی جے پی اور شیوسینا میں اتحاد ہوا تھا، اس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات کے نتائج کے بعد اب اگر حکومت بنتی ہے تو اس میں شیوسینا کی 50 فی صد حصہ داری ہوگی، یعنی کابینہ میں شیوسینا کے 50 فیصد وزیر ہوں گے۔، اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر ڈھائی ڈھائی سال کے لئے رضامندی بنی تھی۔ یہی وجہ کہ شیوسینا آج بی جے پی کو ان وعدوں کی یاد دہانی کر رہی ہے جس کا وعدہ انہوں نے انتخابات سے قبل کیا تھا، وہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی اب شیو سینا سے کیے گئے اپنے وعدے سے منحراف ہو رہی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کو پانی فراہم کرنے والی تانسا جھیل لبریز

Published

on

Tansa-Deam

ممبئی تانسا جھیل ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے ایک، آج (22 جولائی 2026) کو لبریز ہو گئی۔ بی ایم سی کے ہائیڈرولک انجینئر ڈپارٹمنٹ نے اطلاع دی ہے کہ جھیل آج صبح 8:51 پر بہنے لگی۔ بی ایم سی علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے، وہار جھیل 7 جولائی 2026 کو رات 9:00 بجے بہنے لگی۔ اس کے فوراً بعد، اسی دن 7 جولائی 2026 تلسی جھیل بھی رات 11:43 پر بہنے لگی۔ اب تونسا جھیل بھی آج صبح سے اوور فلو لبریز ہونے لگی ہے۔ نتیجتاً، 22 جولائی 2026 تک، بی ایم سی کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے تین بہہ رہی ہیں۔ آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ گزشتہ چند دنوں سے کیچمنٹ کے علاقوں میں مسلسل، شدید بارش ہوئی ہے۔ آج صبح 6:00 بجے کی گئی پیمائش کے مطابق، تمام سات جھیلوں میں پانی کا کل ذخیرہ ان کی کل صلاحیت کا 61.90 فیصد ہے تانسا ڈیم تھانے ضلع کے شاہ پور تعلقہ میں واقع ہے اور ملک کے چند ڈیموں میں سے ایک ہے جو پتھر کی چنائی سے بنائے گئے ہیں۔ تانسا جھیل کی زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش، جو آج سے بہہ رہی ہے، 14,508 کروڑ لیٹر (145,080 ملین لیٹر) ہے۔ پچھلے سال، تانسا جھیل 23 جولائی کو شام 5:40 پر بہنے لگی۔ اس سے پہلے، یہ 24 جولائی 2024 کو صبح 4:16 پر بہنے لگی۔ 26 جولائی 2023 کو صبح 4:35 بجے؛ 14 جولائی 2022 کو شام 8:50 بجے؛ اور 22 جولائی 2021 کو صبح 5:48 پر۔ اس سے پہلے خاص طور پر 20 اگست 2020 کو یہ شام 7:05 پر بہنا شروع ہوا۔

اضافی معلومات :
تانسا ڈیم دنیا کے طویل ترین ڈیموں میں سے ایک ہے جس کی لمبائی 2,743.20 میٹر ہے۔
قیام کا سال : 1892
یومیہ سپلائی : 455 ایم ایل ڈی (ملین لیٹر فی دن)
پانی کی کل فراہمی میں شراکت : 11.00%
مقام : ممبئی سے 106 کلومیٹر

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

دھوکہ دہی کی ایف آئی آر کے بعد مھاڈا اور بی ایم سی کا بڑا ایکشن : ‘مدیار مینشن’ کی این او سی منسوخ، ‘سٹاپ ورک’ نوٹس جاری

Published

on

Madyar Mansion

ممبئی : دھوکہ دہی اور جعلی دستاویزات کے سنگین الزامات میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد مئی بائی یعنی مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (مھاڈا) اور برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے مانڈوی ڈویژن میں واقع ‘مدیار مینشن’ عمارت کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ مھاڈا نے اس پروجیکٹ کے لیے جاری کردہ عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (این او سی) منسوخ کر دیا ہے، جبکہ بی ایم سی کے بلڈنگ پروپوزل ڈیپارٹمنٹ نے تعمیراتی کام کو روکتے ہوئے ‘سٹاپ ورک نوٹس’ (کام روکنے کا نوٹس) جاری کر دیا ہے۔

مھاڈا کی جانب سے سخت ہدایات
مھاڈا کے جاری کردہ سرکاری حکم نامے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ :
اس پروجیکٹ کو مستقبل میں کسی بھی قسم کی انتظامی اجازت، ترمیم یا منظوری نہیں دی جائے گی۔
کسی بھی قانونی یا انتظامی پیچیدگی سے بچنے کے لیے جائے وقوعہ پر جاری تمام تعمیراتی کام فوری طور پر روکنے کی ہدایت دی گئی ہے.
قابلِ غور بات : معاملے میں ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود، جائے وقوعہ پر ساتویں منزل (گراؤنڈ + 7) تک کی تعمیر کا کام جاری رکھا گیا تھا۔

جعلی دستاویزات پر مبنی 8 رجسٹریشنز منسوخی کے دائرے میں
معاملے میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سب رجسٹرار آف اشورینس (سب رجسٹرار آف ایشورنس) کی جانب سے 8 دستاویزات رجسٹر کی گئی تھیں۔ اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے سب رجسٹرار کے دفتر نے متعلقہ پولیس اسٹیشن کو خط لکھا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ان 8 دستاویزات کی بنیاد جعلی کاغذات پر ہے، لہٰذا ان کا استعمال کہیں بھی نہ کیا جائے۔
معاملہ کیا ہے؟

اس جائیداد سے متعلق دھوکہ دہی کا انکشاف رواں سال 2 فروری کو اس وقت ہوا جب شکایت کنندہ محمد رفیق عثمان پودینہ والا نے دھوکہ دہی اور جعل سازی کا الزام لگاتے ہوئے شکایت درج کرائی۔
شکایت کی بنیاد پر پائے دھونی پولیس اسٹیشن میں درج ذیل ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ (ایف آئی آر) درج کیا گیا تھا :

مریم محبوب کوڈیا
حسین کوڈیا
یوسف ابراہیم سپاری والا (بلڈر)
مھاڈا کے اس سخت موقف کے بعد توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس پروجیکٹ سے جڑے دیگر انتظامی پہلوؤں اور افسران کے کردار کی تحقیقات میں بھی تیزی آئے گی۔

Continue Reading

سیاست

بھوپال میں بی جے پی لیڈروں نے کالے کپڑے پہن کر سڑکوں پر نکل کر کانگریس کے دفتر کا گھیراؤ کیا۔

Published

on

BJP

بھوپال : مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں بی جے پی رہنماؤں نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی کی جانب سے دہلی میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب دیے گئے دھرنے کے خلاف احتجاج کیا۔ وہ سڑکوں پر آکر کانگریس دفتر کا گھیراؤ بھی کیا۔ ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال کی قیادت میں بی جے پی کارکنان دارالحکومت کے ریڈ کراس چوراہے پر جمع ہوئے۔ منگل کو دہلی میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب دیے گئے دھرنے کے خلاف ریاستی صدر سمیت تمام سینئر لیڈروں نے سیاہ لباس پہن کر احتجاج کیا۔ بی جے پی قائدین نے یہاں کانگریس کو آئین مخالف قرار دیا اور کارکنوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے۔

بی جے پی کے ریاستی صدر کھنڈیلوال نے کہا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی مسلسل آئین کا قتل کر رہے ہیں۔ اسے انتخابی شکست کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں کانگریس بیک ڈور انارکی کا سہارا لیتی ہے۔ بی جے پی لیڈروں نے کارکنوں کے ساتھ مل کر کانگریس کی اس خلاف آئین سرگرمی کے خلاف احتجاج کیا۔ کانگریس، جو انتخابات جیتنے میں ناکام رہتی ہے، بالآخر جمہوریت کو دباتی ہے اور انتشار کا سہارا لیتی ہے۔

کھنڈیلوال نے مزید کہا کہ بی جے پی کانگریس کے اس عمل کی مخالفت کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کارکنان کی بڑی تعداد ان کے دفتر کا گھیراؤ کر رہی ہے۔ راہل گاندھی کے غیر ملکی پلیٹ فارم پر دیئے گئے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال نے کہا کہ راہول گاندھی جب بیرون ملک جاتے ہیں تو ہندوستان کی توہین کرتے ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال کی قیادت میں بی جے پی کارکنان ریڈ کراس اسکوائر سے کانگریس کے دفتر کی طرف بڑھے، لیکن پولیس کی طرف سے لگائے گئے رکاوٹوں کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ سکے۔ دوسری طرف کانگریس کے دفتر کے باہر کانگریسی لیڈر بی جے پی کارکنوں کے استقبال کے لیے پھولوں کے ساتھ کھڑے تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان