Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

شیوسینا کا مرکز پر حملہ ، طوفان تو چلا گیا مگر مغربی بنگال میں ابا کا طوفان منڈلا رہا ہے

Published

on

bangal

مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے مابین مغربی بنگال کے سابق چیف سکریٹری علپن بنڈواپادھیائے کو لے کر جاری تنازع کے درمیان، شیوسینا نے جمعرات کو کہا کہ خلیج بنگال پرابھی تک “تکبر کا طوفان” منڈلا رہا ہے اور مرکز کی طرف سے ریاستوں پر دباؤ غلط ہے۔ شیو سینا کے اخبار “سامنا” کے ایک اداریے میں کہا گیا ہے کہ مرکز کو سیاسی فتوحات اور شکستوں کے بارے میں ایک جامع نظریہ اپنانا چاہئے کیونکہ اس کی عدم موجودگی سے ملک کے اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شیوسینا نے یہ بھی کہا کہ سابق وزرائے اعظم منموہن سنگھ، راجیو گاندھی، پی وی نرسمہا راؤ اور اٹل بہاری واجپئی کے دور میں، مرکز اور ریاستوں کے مابین جدوجہد کی چنگاری نہیں بھڑکتی تھی۔

مرکزی وزارت داخلہ نے 31 مئی کو بنڈواپادھیائے کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ طلب کردہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے ذریعہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے کے لئے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا۔ شیوسینا نے کہا، ‘ چکروات طوفان آیااور چلا گیالیکن مغربی بنگال میں انا کا طوفان ابھی بھی خلیج بنگال پر منڈلارہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ریاستی دورے کے دوران بلائی جانے والی چکرواتی جائزہ میٹنگ میں وزیر اعلی ممتا بنرجی موجود نہیں تھی، تو بنڈواپادھیائے بھی شریک نہیں ہوئے تھے۔ شیوشینا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکز نے بنڈواپادھیائے کو ڈیپوٹیشن پر دلی بنالیا تو انہیں اپنا مشیر خاص بنالیا. مرکز نے اب بنڈواپادھیائے کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کردیا اور دھمکی دی ہے کہ اگر اس کا جواب نہیں دی گیا تو مقدمہ درج کیا جائے گا۔

سینا نے کہا کہ بیوروکریٹس کا تعلق بنگال کیڈر سے ہے اور وہ وزیر اعلی کی ہدایت پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ وہ وزیر اعظم کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے کیونکہ وہ اس وقت طوفان کے بارے میں وزیر اعلی ممتا بنرجی کے ساتھ ایک اور میٹنگ میں تھے۔ اس طرح کے جھگڑوں میں سینئر نوکر شاہوں کی حالت سینڈوچ کی طرح ہوجاتی ہے۔ “اداریے میں کہا گیا ہے ،” اگر کوئی بیوروکریٹ اپنی ریاست کے وزیر اعلی کی ہدایت پر عمل کررہا ہے تو وہ مجرم کیسے ہوسکتا ہے…؟ اگر وہ وزیر اعظم کی میٹنگ میں شریک ہوتے تو ریاستی حکومت ان کے خلاف کارروائی کرتی۔ “مہاراشٹر میں حکمراں جماعت نے کہا ،” مرکز کے لئے ریاستوں پر دباؤ ڈالنا غلط ہے۔ ہمارے پاس وفاقی نظام ہے۔ ان ریاستی حکومتوں کی توہین کرنا غلط ہے جن کا سیاسی نظریہ مرکز سے مماثلت نہیں رکھتا ہے۔ “نارڈا اسٹنگ اسٹنگ آپریشن میں چھ ملزم ہیں۔ دو کو گرفتار کیا گیا ہے اور دو دیگر کو گرفتار نہیں کیا گیا کیونکہ وہ دونوں بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے۔ کیا آئین نے مرکز کو اختیار دیا ہے کہ وہ اس طریقے سے کام کرے؟ ‘انہوں نے کہا ،’ مرکز ممتا بنرجی کو بینڈوپادھیائے کو سزا دے کر سبق سکھانا چاہتا ہے۔ یہ ملک کی بیوروکریسی کے لئے خطرہ ہے۔ یہ تکبر کی اونچائی ہے۔ مرکز کو سیاسی شکست اور فتح کے لئے ایک جامع نقطہ نظر اپنانا چاہئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com