Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

مودی کے بنگلہ دیش دورے پر شیوسینا کا حملہ ، وزیر اعظم کی پوجا کے بعد وہاں کے مندروں کو ہی توڑ دیا گیا

Published

on

shiv

شیوسینا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے اخبار سامنا کے ذریعہ نشانہ بنایا ہے۔ سامنا نے لکھا ہے کہ وزیر اعظم مودی کو ڈھاکہ میں ‘گاندھی شانتی پرسکار ‘ دیا گیا تھا لیکن وہاں پر امن کی ہولی جل گئی ۔ مودی جشوریشوری کے مندر میں جاکر پوجا کی ، لیکن اب وہاں کے مندروں کو ہی توڑ دیا گیا ۔ یہ مودی کے بنگلہ دیش کے دورے کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعظم مودی بنگلہ دیش سے واپس آئے ، لیکن اس کی وجہ سے وہاں کے ہندو زیادہ غیر محفوظ ہوگئے۔ مغربی بنگال انتخابات جیتنے کے لئے ہندو مسلم فساد بھڑکایا جائے گا ، جس کے بارے میں قیاس کیا جارہا تھا لیکن یہ فساد پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پھیل گیا۔ یہ آنچ یقینی طور پر مغربی بنگال میں لگے گی ۔

سامنا نے لکھا ہے کہ مغربی بنگال میں انتخابی جنگ کے دوران ، وزیر اعظم مودی ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کے دورے سے واپس آئے ہیں۔ جب اترپردیش میں اسمبلی انتخابات شباب پر تھے تو مودی نیپال کے دورہ پر گئے تھے ۔ وہاں پشوپتی ناتھ مندر جاکر ، انہوں نے سارا دن پوجا ارچنا کررہے تھے اور گائے کو چارہ اور پانی دے رہے تھے۔ بنگلہ دیش میں بھی مودی جشوریشوری کالی ماتا کے مندر میں جاکر بیٹھ گئے۔ انہوں نے پوجا کی۔ یہ تصویر صرف مغربی بنگال کے ہندو ووٹروں کو متاثر کرنے کے لئے ہوسکتی ہے۔ جب اترپردیش میں ووٹنگ کا پہلا مرحلہ چل رہا تھا ، اس وقت مودی نیپال کے مندر میں تھے . وہیں مغربی بنگال کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ کے موقع پر ، مودی مغربی بنگال کی سرحد پر بنگلہ دیش کے مندر میں تھے یہ اتفاق نہیں ہے۔ .

سامنا نے لکھا ہے کہ بی جے پی یعنی وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ شاہ نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کو وقار کا سوال بنا دیا ہے اور وہ اس کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہیں۔ بنگلہ دیشیوں کی ایک بڑی تعداد مغربی بنگال میں گھس آئے ہیں ۔ مغربی بنگال اور بنگلہ دیش کی زبان ایک جیسی ہے۔ مغربی بنگال کی ایک بڑی آبادی کے رشتہ دار بنگلہ دیش میں ہیں۔ بنگلہ دیش اندرا گاندھی کی بہادری اور دلیری کی وجہ سے تشکیل دیا گیا تھا ۔ اندرا گاندھی نے جنگ کا اعلان کرکے پاکستان کے دو ٹکڑے کردیئے ۔ اس کے بعد کسی بھی وزیر اعظم نے اس قسم کی بہادری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ سامنا نے لکھا ہے کہ مودی نے ایسی تاریخی معلومات بھی دی ہیں کہ انہیں بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے کے لئے بھی قید کردیا گیا تھا ۔ مودی نے بتایا ہے کہ انہوں نے یہ ستیہ گرہ اس وقت انجام دیا جب وہ 20-22 سال کے تھے۔ اندرا گاندھی نے پاکستان کو جنگ سے الگ کیا اور بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا ، اس کے بجائے بنگلہ دیش کے قیام کے لئے مودی کا ستیہ گرہ زیادہ اہم ہے ، بی جے پی کارکنان کو بھی ایسا ہی محسوس ہوسکتا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com