جرم
مہاراشٹر کے مختلف کوویڈ سینٹروں پر 12 خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور 2 کی عصمت ریزی سے انسانیت شرمسار!!
خیال اثر مالیگانوی
مہاراشٹر میں کورونا متاثرین کے علاج و معالجہ کے لئے بنائے گئے انتہائی نگہداشت والے کوویڈ سینٹروں میں خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور آبروریزی کے واقعات میں روز بروز اضافے کی خبریں منظر عام پر آرہی ہیں. مذکورہ واقعات میں کوویڈ سینٹروں میں تعینات ملازمین ہی سامنے آرہے ہیں. 12 پازیٹو خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور 2 پازیٹو مریضہ کی عصمت ریزی نے حفاظتی دستے پر بہت سے سوال اٹھا دیئے ہیں.
مانخورد, پنویل, نیو ممبئی, کولہا پور, پونہ سمیت دیگر شہروں میں کوویڈ سینٹروں میں زیر علاج خواتین سے چھیڑ چھاڑ اور عصمت دری کے واقعات روشنی میں آنے سے خواتین میں خوف و دہشت کا ماحول ہے. ایک معاملہ پنویل کے کوویڈ سینٹر میں پیش آیا جہاں 40 سالہ پازیٹو مریضہ کی عصمت وہاں کے صفائی ملازم نے تار تار کر دی. صفائی ملازم جانچ کے لئے نقلی ڈاکٹر کا روپ دھار کر مریضہ کے پاس پہنچا. مریضہ نے جب بدن میں درد کی شکایت کی شکایت کی تو اس جعلی ڈاکٹر نے مریضہ کو یہ کہہ کر کپڑے اتارنے کے لئے کہا کہ بدن کا مساج کرنا ضروری ہے اور پھر اس نے مریضہ کا منہ دبا کر عصمت ریزی کی . یہ واقعہ کوویڈ سینٹر کے پانچویں منزلے پر پیش آیا تھا. پولیس نے ملزم کے خلاف 376,354 کے تحت معاملہ درج کیا ہے. اسی طرح کا ایک واقعہ کولہا پور کے شیوا جی ودھیا پیٹھ انسی ٹیوٹ میں بنے کوویڈ سینٹر کے 13ویں منزلے پر رونما ہوا جہاں پر نابالغ مریضہ کو اپنی درندگی کا شکار بنایا گیا. متاثرہ کے شور و غل مچانے پر عیادت کے لئے آنے والے افراد نے ملزم کو زد و کوب کرتے ہوئے پولیس کے حوالے کیا.
اسی طرح مانخورد پولیس نے کوویڈ سینٹر میں زیر علاج 17 سالہ لڑکی سے دست درازی کے الزام میں 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا ہے. پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی مذکورہ سینٹر میں داخل ہے اور ملزم دیپیش سالوی شب میں 3 بجے کے قریب بلڈنگ کی 13ویں منزل پر واقع کمرے میں پہنچا اور روم صاف کرنے کا جھانسہ دے اندر داخل ہوگیا. روم میں داخل ہوتے ہی ملزم نے متاثرہ لڑکی سے دست درازی کی. متاثرہ کے شور مچانے پر ملزم بھاگ نکلا. پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد ملزم کو گرفتار کیا. پولیس نے ملزم کے خلاف پوسکو ایکٹ کے تحت کاروائی کی ہے. تھانے کے گلوبل کوویڈ سینٹر کے پانچویں منزلے پر خواتین کی بیت الخلاء کے پاس ایک مشتبہ کی جم کر پٹائی کی گئی. میرا روڑ کے واقع مہا نگر پالیکا کے کے کوویڈ سینٹر میں 20سالہ شادی شدہ مریضہ کی حفاظتی دستے کے ایک رکن نے کئ بار عصمت دری کی اور مسلسل دھمکی دیتا رہا. یہ معاملہ اس وقت بے نقاب ہوا جب متاثر خاتون دو ماہ کی حاملہ ہو گئی.
کورونا سے متاثر خاتون مریضوں کے ساتھ دست درازی اور ان عصمت ریزی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ سماج و معاشرہ کس درجہ تنزلی کا شکار ہوتا جارہا ہے. کورونا سے متاثر ہونے والی خواتین پہلے ہی اس خطرناک وبائی بیماری سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں لیکن انسان نما درندے اپنی حوانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی درندگی کا ثبوت دے رہے ہیں. انھیں یہ بھی خوف نہیں ہے کہ کورونا سے متاثر خواتین کے ساتھ غلط برتاؤ کرنے کی وجہ سے وہ خود اور ان کے اہل خانہ بھی کورونا کا شکار ہو سکتے ہیں یا پھر کورونا کا عذاب ان پر بھی مسلط ہو سکتا ہے. بہرحال ایک بات یہ طے ہے کہ قانون قدرت ایسے خاطی افراد کے خلاف ضرور اپنا جلوہ دکھائے گی اور ایسی حرکت کرنے والے افراد ضرور بہ ضرور عذاب الہی کا شکار ہو جائیں گے. ارباب حکومت اور محمکہ پولیس کو چاہیے کہ اس طرح کی غلط حرکات کا ارتکاب کرنے والے خاطی افراد کو گرفتار کرتے ہوئے سخت سے سخت دفعات کا نفاذ کرکے عدالت کے کٹہروں میں کھڑا کرنے کی کوشش کریں تاکہ اس طرح کی نازیبا حرکتوں پر قدغن لگ سکے. اس کے لئے ارباب حکومت اور محمکہ پولیس کو تمام کوویڈ سینٹروں پر سی سی ٹی وی کیمرے اور رات دن کے پہرے داروں کا تقرر کرتے ہوئے انتہائی نگہداشت کے مذکورہ مقامات کی فعالیت کے ساتھ نگرانی کرے تاکہ ایسے واقعات پر روک لگنے میں معاونت ہو اور خواتین کی عزت و آبرو محفوظ رہے ورنہ روز بروز ہونے والے ان واقعات سے کوویڈ سینٹروں کے علاوہ حکومت اور محمکہ پولیس بھی بدنامی اور شک کے گھیرے میں آ جائے گی.
آج ضرورت ہے کہ بلا تفریق غیرے تمام کوویڈ سینٹروں پر اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے خواتین کی عزت و ناموس کی حفاظت کا معقول انتظام کرکے اپنے ذمہ دارانہ فرائض کی انجام دہی میں نمایاں کردار ادا کریں یہی خواتین کے حق میں بہتر ثابت ہوگا اور خواتین بھی تمام کوویڈ سینٹروں پر علاج و معالجہ سے صحت یاب ہو کر پھر سے سماج و معاشرہ میں سرگرم عمل ہو جائیں گی.
بین الاقوامی خبریں
فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔
حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔
واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔
جرم
ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔
جرم
جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
