Connect with us
Sunday,20-September-2026

جرم

مہاراشٹر کے مختلف کوویڈ سینٹروں پر 12 خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور 2 کی عصمت ریزی سے انسانیت شرمسار!!

Published

on

rape

خیال اثر مالیگانوی
مہاراشٹر میں کورونا متاثرین کے علاج و معالجہ کے لئے بنائے گئے انتہائی نگہداشت والے کوویڈ سینٹروں میں خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور آبروریزی کے واقعات میں روز بروز اضافے کی خبریں منظر عام پر آرہی ہیں. مذکورہ واقعات میں کوویڈ سینٹروں میں تعینات ملازمین ہی سامنے آرہے ہیں. 12 پازیٹو خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور 2 پازیٹو مریضہ کی عصمت ریزی نے حفاظتی دستے پر بہت سے سوال اٹھا دیئے ہیں.
مانخورد, پنویل, نیو ممبئی, کولہا پور, پونہ سمیت دیگر شہروں میں کوویڈ سینٹروں میں زیر علاج خواتین سے چھیڑ چھاڑ اور عصمت دری کے واقعات روشنی میں آنے سے خواتین میں خوف و دہشت کا ماحول ہے. ایک معاملہ پنویل کے کوویڈ سینٹر میں پیش آیا جہاں 40 سالہ پازیٹو مریضہ کی عصمت وہاں کے صفائی ملازم نے تار تار کر دی. صفائی ملازم جانچ کے لئے نقلی ڈاکٹر کا روپ دھار کر مریضہ کے پاس پہنچا. مریضہ نے جب بدن میں درد کی شکایت کی شکایت کی تو اس جعلی ڈاکٹر نے مریضہ کو یہ کہہ کر کپڑے اتارنے کے لئے کہا کہ بدن کا مساج کرنا ضروری ہے اور پھر اس نے مریضہ کا منہ دبا کر عصمت ریزی کی . یہ واقعہ کوویڈ سینٹر کے پانچویں منزلے پر پیش آیا تھا. پولیس نے ملزم کے خلاف 376,354 کے تحت معاملہ درج کیا ہے. اسی طرح کا ایک واقعہ کولہا پور کے شیوا جی ودھیا پیٹھ انسی ٹیوٹ میں بنے کوویڈ سینٹر کے 13ویں منزلے پر رونما ہوا جہاں پر نابالغ مریضہ کو اپنی درندگی کا شکار بنایا گیا. متاثرہ کے شور و غل مچانے پر عیادت کے لئے آنے والے افراد نے ملزم کو زد و کوب کرتے ہوئے پولیس کے حوالے کیا.
اسی طرح مانخورد پولیس نے کوویڈ سینٹر میں زیر علاج 17 سالہ لڑکی سے دست درازی کے الزام میں 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا ہے. پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی مذکورہ سینٹر میں داخل ہے اور ملزم دیپیش سالوی شب میں 3 بجے کے قریب بلڈنگ کی 13ویں منزل پر واقع کمرے میں پہنچا اور روم صاف کرنے کا جھانسہ دے اندر داخل ہوگیا. روم میں داخل ہوتے ہی ملزم نے متاثرہ لڑکی سے دست درازی کی. متاثرہ کے شور مچانے پر ملزم بھاگ نکلا. پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد ملزم کو گرفتار کیا. پولیس نے ملزم کے خلاف پوسکو ایکٹ کے تحت کاروائی کی ہے. تھانے کے گلوبل کوویڈ سینٹر کے پانچویں منزلے پر خواتین کی بیت الخلاء کے پاس ایک مشتبہ کی جم کر پٹائی کی گئی. میرا روڑ کے واقع مہا نگر پالیکا کے کے کوویڈ سینٹر میں 20سالہ شادی شدہ مریضہ کی حفاظتی دستے کے ایک رکن نے کئ بار عصمت دری کی اور مسلسل دھمکی دیتا رہا. یہ معاملہ اس وقت بے نقاب ہوا جب متاثر خاتون دو ماہ کی حاملہ ہو گئی.
کورونا سے متاثر خاتون مریضوں کے ساتھ دست درازی اور ان عصمت ریزی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ سماج و معاشرہ کس درجہ تنزلی کا شکار ہوتا جارہا ہے. کورونا سے متاثر ہونے والی خواتین پہلے ہی اس خطرناک وبائی بیماری سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں لیکن انسان نما درندے اپنی حوانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی درندگی کا ثبوت دے رہے ہیں. انھیں یہ بھی خوف نہیں ہے کہ کورونا سے متاثر خواتین کے ساتھ غلط برتاؤ کرنے کی وجہ سے وہ خود اور ان کے اہل خانہ بھی کورونا کا شکار ہو سکتے ہیں یا پھر کورونا کا عذاب ان پر بھی مسلط ہو سکتا ہے. بہرحال ایک بات یہ طے ہے کہ قانون قدرت ایسے خاطی افراد کے خلاف ضرور اپنا جلوہ دکھائے گی اور ایسی حرکت کرنے والے افراد ضرور بہ ضرور عذاب الہی کا شکار ہو جائیں گے. ارباب حکومت اور محمکہ پولیس کو چاہیے کہ اس طرح کی غلط حرکات کا ارتکاب کرنے والے خاطی افراد کو گرفتار کرتے ہوئے سخت سے سخت دفعات کا نفاذ کرکے عدالت کے کٹہروں میں کھڑا کرنے کی کوشش کریں تاکہ اس طرح کی نازیبا حرکتوں پر قدغن لگ سکے. اس کے لئے ارباب حکومت اور محمکہ پولیس کو تمام کوویڈ سینٹروں پر سی سی ٹی وی کیمرے اور رات دن کے پہرے داروں کا تقرر کرتے ہوئے انتہائی نگہداشت کے مذکورہ مقامات کی فعالیت کے ساتھ نگرانی کرے تاکہ ایسے واقعات پر روک لگنے میں معاونت ہو اور خواتین کی عزت و آبرو محفوظ رہے ورنہ روز بروز ہونے والے ان واقعات سے کوویڈ سینٹروں کے علاوہ حکومت اور محمکہ پولیس بھی بدنامی اور شک کے گھیرے میں آ جائے گی.
آج ضرورت ہے کہ بلا تفریق غیرے تمام کوویڈ سینٹروں پر اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے خواتین کی عزت و ناموس کی حفاظت کا معقول انتظام کرکے اپنے ذمہ دارانہ فرائض کی انجام دہی میں نمایاں کردار ادا کریں یہی خواتین کے حق میں بہتر ثابت ہوگا اور خواتین بھی تمام کوویڈ سینٹروں پر علاج و معالجہ سے صحت یاب ہو کر پھر سے سماج و معاشرہ میں سرگرم عمل ہو جائیں گی.

بین الاقوامی خبریں

پاکستان : خیبر پختونخواہ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ آور کا مسجد پر حملہ، 15 ہلاک اور 50 زخمی

Published

on

blast

اسلام آباد : پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں جمعے کو ایک زبردست بم دھماکے سے لرز اٹھا۔ ضلع کوہاٹ کے علاقے پولیس لائنز میں ایک مسجد کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم 15 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکہ نماز جمعہ کے دوران اس وقت ہوا جب حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ کیا۔ مسجد کے اندر اور باہر زیادہ ہجوم کی وجہ سے دھماکے سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ زخمیوں میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال کے ایم ایس طاہر علی شاہ نے جیو نیوز کو بتایا کہ دھماکے کے بعد 15 لاشیں اور 50 زخمی افراد کو اسپتال لایا گیا ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس سے مسجد کے باہر گڑھا پڑ گیا۔ حملہ آوروں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

دھماکے کے بعد پولیس لائنز میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔ امدادی کارکنوں نے بتایا کہ دھماکے سے مسجد کے بیرونی حصے کو شدید نقصان پہنچا اور ایک دیوار گر گئی۔ کوہاٹ میں ڈی ایچ کیو انتظامیہ نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد حکام نے کوہاٹ ہنگو روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ پولیس اور متعلقہ ادارے حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) ذوالفقار حمید نے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور فائرنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خودکش حملہ تھا۔ فائرنگ کے دوران سپیشل برانچ کی عمارت میں ایک اور خودکش دھماکہ ہوا۔ سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) نے بتایا کہ آئی جی پی نے کوہاٹ ریجنل پولیس آفیسر سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

پاکستان کا صوبہ کے پی ایک طویل عرصے سے تشدد اور بدامنی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ صوبے میں کئی مسلح گروہوں نے پاکستانی حکومت اور فوج کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ان گروہوں نے مسلسل پاکستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ کے پی نے حالیہ مہینوں میں کئی بڑے حملوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ پاکستانی فوج نے سخت کارروائی کرنے کا عزم کیا ہے لیکن اب تک وہ ان گروہوں کے خلاف بے بس دکھائی دے رہی ہے۔

Continue Reading

جرم

کٹکا: بہار کے شخص نے بیوی کو قتل کر دیا، گلا گھونٹ کر گرم تیل ڈالا۔

Published

on

death

بنگلورو، ایک چونکا دینے والے واقعے میں، ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کے جسم پر گرم تیل ڈالا اور اس کی کھال چھیلنے کی کوشش کی اور بنگلورو کے مائیکو لے آؤٹ پولیس اسٹیشن حدود کے تحت بلیکاہلی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر جھگڑے کے بعد اس کا گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔ بہار سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا اپنے دو بچوں کے ساتھ بنگلورو میں رہتا تھا اور مبینہ طور پر ان کا اکثر جھگڑا رہتا تھا۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب جوڑے کے بچے گھر کے باہر کھیل رہے تھے۔ گپتا اور گنجا میں مبینہ طور پر جھگڑا ہوا، جس کے بعد گپتا نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم نے بعد میں جسم پر گرم تیل ڈالا اور مبینہ طور پر جلد کو چھیلنے کی کوشش کی۔ پولیس نے لاش برآمد کی تو وہ بری طرح زخمی حالت میں پائی گئی۔

مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد گپتا گھر سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے کے بعد اس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا اور اس کا سراغ لگا کر اسے حراست میں لے لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران گپتا نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کر لیا، پولیس نے یہ بھی بتایا کہ گپتا نے واقعے کے بعد خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ اس کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حالات اور طریقے کے بارے میں تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ پولیس جھگڑے اور اس کے بعد قتل کی وجہ بننے والے حالات کی تفتیش کر رہی ہے۔ گپتا کی مبینہ کارروائیوں کے پیچھے محرکات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ قتل کے بعد ہونے والے واقعات اور مبینہ طور پر جسم پر گرم تیل ڈالنے کی وجہ جاننے کے لیے پولیس ملزم سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔مقدمہ اور ملزم کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Continue Reading

جرم

کار موٹر سائیکل کو 500 میٹر تک گھسیٹنے کے بعد دہلی کا 73 سالہ شخص گرفتار

Published

on

نئی دہلی، ایک 73 سالہ شخص کو اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب اس کی کار ایک موٹرسائیکل سے ٹکرائی اور اسے جنوب مغربی دہلی کے آر کے میں ایک سڑک پر تقریباً 500 میٹر تک گھسیٹ گئی۔ پورم کا علاقہ۔ جمعرات کی رات دیر گئے پیش آنے والے اس واقعے کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ فوٹیج میں ایک کار درختوں سے جڑی سڑک پر چلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے جس کے نیچے موٹرسائیکل پھنسی ہوئی ہے۔ گاڑی سے چنگاریاں اڑتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں جب کار چلتی رہتی ہے، جب کہ اسکوٹر پر سوار ایک شخص قریب سے پیچھے پیچھے آتا ہے اور بار بار ڈرائیور سے کہتا ہے کہ وہ رکنے کا کہہ رہا ہے۔ بوڑھا ڈرائیور کار کے نیچے موٹرسائیکل کے ساتھ گاڑی چلا رہا ہے۔

کار آخر کار رک جاتی ہے۔ سکوٹر پر سوار ایک خاتون نے واقعہ ریکارڈ کیا اور گاڑی کے قریب پہنچی۔ وہ کار کا دروازہ کھولتی ہے اور ڈرائیور سے باہر نکلنے کو کہتی ہے۔ “باہر آؤ۔ ہاتھ مت جوڑو، پہلے باہر آؤ،” وہ اس سے کہتی ہے۔ مجمع میں موجود ایک اور شخص کو ڈرائیور کو “بے شرم” کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ڈرائیور جس کی شناخت وینو گوپال کے نام سے ہوئی ہے، جو وسنت کنج کا رہنے والا ہے، معافی کے اشارے میں ہاتھ جوڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ پھر ایک آدمی نے اسے کالر سے پکڑ کر باہر نکالنے کی کوشش کی۔ گاڑی گوپال جیسے ہی باہر نکلا، ہجوم کے ارکان نے اس کا سامنا کیا۔

موٹرسائیکل کا سوار جس کی شناخت تاپس کے نام سے ہوئی ہے، بزرگ ڈرائیور سے اس واقعے پر پوچھ گچھ کرتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ “اگر یہ غلطی ہوتی تو آپ روک سکتے تھے، میں مر سکتا تھا،” وہ اس سے کہتا ہے۔ ہجوم میں شامل ایک اور شخص نے ڈرائیور سے سوال کیا کہ اگر کوئی موٹرسائیکل کے نیچے پھنس جاتا تو وہ کیا کرتا۔ دہلی پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث کار ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید تفتیش کے لیے۔پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ تاپس سڑک کے کنارے کھڑی گاڑی پر بیٹھا ہوا تھا کہ اس کی موٹرسائیکل کو بزرگ شخص کی طرف سے چلائی گئی نیلی کار نے ٹکر مار دی۔ کار پھر چلتی رہی، بائیک کو تقریباً 500 میٹر تک اپنے نیچے گھسیٹتی رہی۔

واقعہ کی اطلاع آر کے سے ملی۔ پورم علاقہ، اور تفتیش کار ان حالات کا جائزہ لے رہے ہیں جن کی وجہ سے تصادم جاری تحقیقات کے حصے کے طور پر ہوا۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ واقعہ کے بعد کار کے ڈرائیور کا طبی معائنہ کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ جانچ میں اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ وہ اس وقت شراب کے نشے میں تھا، حکام نے بتایا کہ واقعات کی صحیح ترتیب کو قائم کرنے اور تصادم اور اس کے بعد موٹرسائیکل کو گھسیٹنے کے حالات کا تعین کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔ یہ واقعہ گروگرام میں ایک حالیہ کیس کے حوالے سے سامنے آیا ہے جہاں ایک کار ڈرائیور نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو گرفتار کرنے کے لیے جان بوجھ کر ایک خاتون کو زخمی کر دیا تھا، جس نے کلب کی رہنمائی کرنے والے شخص کو زخمی کر دیا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان