Connect with us
Wednesday,30-September-2026
تازہ خبریں

سیاست

معروف مسلم سیاست داں شیخ شمیم احمد کا انتقال،پیر کو تدفین ہوگی

Published

on

shamim

ممبئی کے معروف سیاستداں اور سابق ایم ایل اے شیخ شمیم احمدآج یہاں انتقال کرگئے۔ان کی تدفین پیر کو جنوبی ممبئی کے ناریل واڑی قبرستان میں عمل میں آئے گی۔
مرحوم شمیم شیخ کے پسماندگان میں بیوہ اور دو بیٹے معروف شاعر عبید اعظم اعظمی اور شیخ عبد الرحمن اور دو بیٹیاں ڈاکٹر شیخ سلمی اور شیخ عذرا شامل ہیں۔مرحوم شیخ شمیم احمد 1980 میں چنچپوکلی (بائیکلہ)اسمبلی حلقہ سے کانگریسی کے ٹکٹ پر مہاراشٹر اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے تھے اور ایک ایم ایل اے کی حیثیت سے اس مسلم اکثریتی حلقہ میں مختلف ترقیاتی کاموں کو تکمیل تک۔پہنچایاتھا۔ وہ ایک طویل عرصے تک ممبئی کانگریس کمیٹی کے نائب صدر بھی رہے۔
شیخ شمیم احمد مہاراشٹر اسمبلی میں مسلم مسائل کو بے باکی سے اٹھانے کے لیے پہچانے جاتے تھے اور اپنے سیاسی کیریئر میں انھوں نے بلا تفریق مذہب و ملت عوام کے لیے دن رات کام کیا۔
تیزی سے بدلتے سیاسی منظر نامے سے دل برداشتہ شیخ شمیم احمد نے عملی سیاست سے نوے کی دہائی میں کنارہ کشی اختیار کر لی تھی،ضعیف العمری کے سبب بھی زیادہ سر گرم نہیں رہے،سن کے چھوٹے صاحب زادہ عبدالرحن اور ایک رشتہِ دارکے بیرون ملک۔سے آمد کے بعد ہی تدفین عمل میں آئے گی۔سن بڑے صاحبزاد ہ عبید اعظم اعظمی معروف شاعر ہیں اورسن کی شاعری دل کو چھو لیتی ہے جبکہ ممبئی کے روزنامہ ہم آپ میں۔روزانہ قطعہ شائع ہوتا ہے۔
ان کے انتقال پر شعبہ اردو کے اسسٹنٹ لیکچرار قمر صدیقی نے گہرے رنج وغم کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ سیاست کے علاہ وہ ادبی سرگرمیوں میں بھی سرگرم رہے اور ان کا تعلق کئی اداروں سے رہا،صحافی جاوید جمال الدین نے کہاکہ 80 کی دہائی میں جب جنتا پارٹی کا عروج تھا،کانگریس کے ٹکٹ پر شمیم شیخ کی کامیابی ان کی مقبولیت کی علامت تھی ،انہوں نے کئی ترقیاتی کام کیے اور اس کے لیے یاد رکھا جائے گا ،پہلے جنوبی ممبئی میں ورلی علاقے میں رہائش پذیر تھے،لیکن بعد میں کرلیا منتقل ہوگئے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سیاست

بی جے پی کا کہنا ہے: “ایس آئی آر کا معاملہ کانگریس کے لیے راہل گاندھی کو دوبارہ سیاسی طور پر لانچ کرنے کا ایک ’بہانہ‘ ہے۔”

Published

on

نئی دہلی : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روز کہا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویو (ایس آئی آر) کے معاملے پر انڈیا بلاک کی میٹنگ کانگریس کے لیے لوک سبھا لیڈر آف اپوزیشن (ایل او پی) راہول گاندھی کو “دوبارہ لانچ” کرنے کا ایک اور “بہانہ” ہے۔ انتخابی فہرستوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے کام کاج پر ان کے خدشات اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی ترجمان پردیپ بھنڈاری نے ایکس کو لے کر کہا کہ اگر کانگریس نے 100 مختلف طریقوں سے راہل گاندھی کو “دوبارہ لانچ” کرنے کی کوشش کی تو بھی ملک کے عوام وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف انتخابی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پردیش نے اتحاد میں مزید سیٹوں کے لیے سودا کرنا، کانگریس کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ میں شرکت نہ کرنے سے راہل گاندھی کی طرف سے “اپوزیشن اتحاد” کے مطالبے کو بے نقاب کر دیا گیا ہے۔

“ایس آئی آر صرف “بہانہ” ہے؛ پہلے یہ “ای وی ایم” تھا، کل یہ کچھ اور ہو گا۔ کانگریس راہول کو 100 مختلف طریقوں سے دوبارہ لانچ کرنے کی کوشش کر سکتی ہے: 2029 ہندوستان کے لوگ وزیر اعظم نریندر مودی کو منتخب کریں گے،” بھنڈاری نے مزید کہا۔ اس سے پہلے، مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ “کوئی بھی” ہندوستان میں کانگریس یا لوک سبھا کی پارٹی کو قبول نہیں کرے گا۔ اپوزیشن (ایل او پی) راہول گاندھی کو اپنے لیڈر کے طور پر، اور اسی وجہ سے بہت سی پارٹیوں اور لیڈروں نے اپوزیشن اتحاد کی میٹنگ میں “شرکت سے انکار” کر دیا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہان نے کہا، “انڈی آئی اتحاد میٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا، ڈی ایم کے میٹنگ میں شرکت نہیں کر رہی ہے۔ اکھلیش یادو کہیں اور مصروف ہیں، لیکن اے اے پی نے پہلے ہی جسمانی طور پر یو اے پی میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی۔ عملی طور پر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟”

“اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی اتحاد راہول گاندھی کو اپنا لیڈر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ راہول گاندھی کی قیادت کو قبول نہیں کرتے، اسی لیے وہ اس میں شرکت نہیں کر رہے ہیں۔” مرکزی وزیر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خود کانگریس پارٹی کے کئی رہنما راہول کو اپنا لیڈر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ “نہ صرف ہندوستانی بلاک، بلکہ کانگریس کے رہنما بھی راہول گاندھی سے ملاقات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جب کانگریس لیڈر خود راہل گاندھی کو اپنا لیڈر ماننے کو تیار نہیں تو ملک انہیں کیسے قبول کرے گا؟ چوہان نے سوال کیا کہ “صاف ووٹر لسٹ جمہوریت کی روح ہے۔ اگر ووٹر لسٹ میں غلط نام شامل کیے جائیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ ایسے لوگوں کے نام ہٹانے یا جو شہری نہیں ہیں ان کے نام شامل کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ ووٹر لسٹ صاف ہونی چاہیے،” انہوں نے مزید کہا۔ ہندوستانی بلاک کی میٹنگ میں تمام پہلوؤں کے درمیان فرق اور حکمت عملی کے درمیان فرق کو اہمیت دی جاتی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ انتخابی فہرستوں میں نظرثانی اور متعلقہ خدشات پر ایک مشترکہ نقطہ نظر پر کام کرنا چاہتے ہیں۔

Continue Reading

قومی خبریں

گجرات میں بس اور ٹرک میں تصادم، پانچ افراد ہلاک، پانچ زخمی پی ایم مودی نے موت پر اظہار تعزیت کیا۔

Published

on

آنند : گجرات کے آنند ضلع میں احمد آباد-وڈودرا ایکسپریس وے پر بدھ کی صبح تقریباً 4 بجے ایک نجی لگژری بس کے ٹرک سے ٹکرا جانے سے پانچ افراد ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔ اس خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے میں پانچ لوگوں کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا اور حادثے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ “گجرات کے آنند میں ہونے والے ایک حادثے میں جانوں کے ضیاع پر گہرا دکھ ہوا، سوگوار خاندانوں سے تعزیت۔ میں تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں”۔ جب بس ٹرک کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ آنند سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، جی جی۔ جسانی نے بتایا کہ تصادم کے وقت بس میں 30 سے ​​40 مسافر سوار تھے۔ سائی درشن ٹریولز کی بس سورت سے راجستھان کے لیے روانہ ہوئی تھی اور آنند سے ناڈیاڈ کی طرف جا رہی تھی کہ ٹرک سے ٹکرا گئی۔ حادثے کے وقت زیادہ تر مسافر سو رہے تھے۔

دھماکے سے کئی مسافر تباہ شدہ بس کے اندر پھنس گئے۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور مقامی افراد نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں، زخمیوں کو بس سے نکال کر علاج کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مرنے والوں کی لاشوں کو ضروری تفتیشی کارروائی کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔ زخمی مسافروں میں سے ایک دھنیش جادھو نے بتایا کہ وہ سورت میں بس میں سوار ہوا تھا اور سو رہا تھا کہ اچانک تصادم کی آواز سے وہ جاگ گیا۔”حادثے کے فوراً بعد مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔” انہوں نے کہا کہ حادثے کے فوراً بعد ایکسپریس وے پر ٹریفک کی آمدورفت میں بھی خلل پڑا۔ پولیس نے تباہ شدہ گاڑیوں کو سڑک سے ہٹا کر ٹریفک کی نقل و حرکت بحال کردی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ٹرک کو اوور ٹیک کرنے کی بس ڈرائیور کی کوشش سمیت تصادم کے نتیجے میں ہونے والے حالات کی تفتیش شروع کردی ہے۔

Continue Reading

سیاست

انڈیا بلاک، کانگریس راہول کو لیڈر کے طور پر قبول نہیں کرتی۔ ملک ایسا کیسے کر سکتا ہے: شیوراج چوہان

Published

on

نئی دہلی : مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے بدھ کے روز زور دے کر کہا کہ انڈیا بلاک یا کانگریس پارٹی میں کوئی بھی لوک سبھا لیڈر آف اپوزیشن (ایل او پی) راہول گاندھی کو اپنا لیڈر ماننے کو تیار نہیں ہے، اور اسی لیے کئی پارٹیوں اور لیڈروں نے اپوزیشن اتحاد کی میٹنگ میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ کانسٹی ٹیوشن کلب، جہاں اپوزیشن جماعتیں انتخابی فہرستوں کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) اور الیکشن کمیشن کے کام کے بارے میں اپنے تحفظات پر تبادلہ خیال کر رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بات چیت کے بعد ایجنڈے کو حتمی شکل دی گئی اور توقع ہے کہ ایس آئی آر کی مشق اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو شامل کیا جائے گا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہان نے کہا، “انڈی آئی اتحاد میٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا۔ ڈی ایم کے میٹنگ میں شرکت نہیں کر رہی ہے۔ اکھلیش یادو کہیں اور مصروف ہیں۔ اے اے پی نے پہلے ہی انکار کر دیا تھا۔ ادھو ٹھاکرے جسمانی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر شامل ہوں گے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟” “اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی اتحاد راہول گاندھی کو اپنا لیڈر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ راہل گاندھی کی قیادت کو قبول نہیں کرتے، جس کی وجہ سے وہ اس میں شرکت نہیں کر رہے ہیں۔” مرکزی وزیر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خود کانگریس پارٹی میں کئی لیڈر راہل کو اپنا لیڈر تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

“نہ صرف انڈیا بلاک، بلکہ کانگریس کے لیڈر بھی راہل گاندھی کو اپنا لیڈر ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ راہول گاندھی نے سی ڈبلیو سی میٹنگ میں کانگریس کے لیڈروں سے کہا کہ وہ انہیں اپنا لیڈر کہیں۔ جب کانگریس لیڈر خود راہول گاندھی کو اپنا لیڈر ماننے کو تیار نہیں ہیں تو ملک انہیں کیسے قبول کرے گا؟” چوہان نے سوال کیا کہ “صاف ووٹر لسٹ جمہوریت کی روح ہے۔ اگر ووٹر لسٹ میں غلط نام شامل کیے جاتے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ ایسے لوگوں کے نام ہٹانے یا جو شہری نہیں ہیں ان کے نام شامل کرنے میں مسئلہ کیوں ہے؟ ووٹر لسٹ صاف ہونی چاہیے،” انہوں نے مزید کہا۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے الیکشن کمشنر گیان کمار کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد بھی پاس کی ہے۔ توقع ہے کہ ہندوستان بلاک ان مسائل پر ایک مربوط سیاسی ردعمل پر تبادلہ خیال کرے گا۔ ہندوستانی بلاک کی میٹنگ حکمت عملی اور شرکت پر اتحادیوں کے درمیان اختلافات کے درمیان اہمیت رکھتی ہے، اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ انتخابی فہرستوں پر نظرثانی اور متعلقہ خدشات پر ایک مشترکہ نقطہ نظر پر کام کرنا چاہتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان