Connect with us
Saturday,18-April-2026

(جنرل (عام

شاہین باغ کی شیرنیاں اور بے شرم اور بزدل سیاسی و مذہبی قیادت

Published

on

(محفوظ الرحمن انصاری)
این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر جیسے کالے قانون کیخلاف ہماری مائیں بہنیں جو احتجاج کررہی ہیں اس پر ہمارے کچھ سیاسی رہنمائوں اور علما نے اعتراض کرنا شروع کردیا ہے کہ اس طرح شاہین باغ اور ممبئی باغ بناکر کیا حاصل ہو جائے گا ؟ عورتوں کا یوں سڑکوں پر بیٹھنا کہاں تک درست ہے ؟ عورتوں کے احتجاج کو لے کر حرام حلال کرنے والی یہ بزدل مذہبی اور سیاسی قیادت ذرا ان باتوں کا جواب دے گی ۔
(۱)بابری مسجد کا تالا کھلنے سے لے کر کورٹ کا فیصلہ آنے تک اس مسئلہ پر ہمارے مرد سیاسی رہنمائوں اور علما نے ہی قیادت کی تھی ، نتیجہ کیا نکلا ؟ بابری مسجد شہید بھی ہوئی اور پوری طرح ہاتھ سے نکل گئی ، اور اس دوران انہی مرد رہنمائوں اور علما نے ایک دوسرے پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہاتھوں بابری مسجد کا سمجھوتہ کرنے کے الزامات تک لگائے۔
(۲)تین طلاق پر تو قیادت انہی مرد رہنمائوں اور علما کے ہاتھوں میں تھی ۔ انہوں نے خواتین کو جلسوں میں بلایا وہ گئیں ، ان کے کہنے پر خواتین نے ریلی بھی نکالی ، فارموں پر دستخط کروائے ، یہ چیخ چیخ کر کہتے تھے ’ہم جان دے دیں گے مگر شریعت میں مداخلت کا بل پاس ہونے نہیں دیں‘ پھر جب بل پاس ہو ہی گیا تو جان دینا تو دور ان کے منھ سے اف تک نہیں نکلا ۔ کیا یہ بتائیں گے کہ خواتین کے دستخط ہوئے وہ کروڑوں فارم کا کیا ہوا ؟ اس وقت کہاں رکھے ہیں ؟ کیا کباڑی کو کلو کے حساب سے بیچ دیئے گئے ؟
3(۳)تمام خواتین اسلام متحد ہو کر بغیر مسلک بازی کے احتجاج کر رہی ہیں ؟ کیا ہمارے علما نے آج تک ایسا اتحاد دکھایا ہے ؟ یہ تو جہاں پہنچ گئے سنی ، شیعہ ، دیوبندی ، اہل حدیث ، صحیح العقیدہ و بدعقیدہ کا ایسا تفرقہ پھیلایا کہ قوم کو فرقے ، فرقے کر کے لڑا کر برباد کر ڈالا ، اس کی پوری طاقت ختم کر دی ، سکھ عیسائی مسلمانوں سے کم ہیں مگر متحد ہیں اس لئے ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا جبکہ ٹکڑوں میں بنٹے مسلمانوں کا ملک میں کیا حال ہے سب کو معلوم ہے ، اس لئے مسلمان ماب لنچنگ میں چن چن کر مارے جارہے ہیں ۔ ممبئی سمیت ملک کی بہت سی مساجد میں جو بورڈ ہیں کہ اس مسجد میں دوسرے مسلک کا مسلمان نماز تک پڑھنے نہیں آسکتا ، کیا مسجدوں میں ایسے زہر بھرے مسلکی بورڈ ان خواتین نے لگوائے ہیں ؟ نہیں نا ، انہیں تو ہمارے معزز علمائے کرام نے لگوایا ہے ۔ سبھی سیاسی رہنما الگ الگ پارٹیوں میں بنٹے ہوئے اور صرف اپنی پارٹی کے ہی وفادار ہیں ، اسی طرح سارے علما مسلکی فرقوں میں نا صرف بنٹے ہوئے ہیں بلکہ قوم کو بھی فرقوں میں بانٹ کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ ایسے میں خواتین اسلام کا اس طرح متحد ہونا کیا ان کے منھ پر طمانچہ نہیں ہے ؟
4(۴)کیا وقف کی اربوں روپئے کی جائداد پر سے یہ مرد و مذہبی قیادت غیر قانونی قبضہ ہٹوا پائی ؟
5(۵)خواتین اسلام کے احتجاج پر حلال حرام کرنے والے سبھی لوگوں خصوصا اپنے آپ کو عالم کہنے والے رمضان المبارک میں سیاسی لیڈروں کی یقینی طور پر حرام کے پیسوں سے افطار کی دعوت کھاتے ہیں وہاں ان لوگوں کو حلال حرام یاد نہیں آتا ہے ۔ اس میں سبھی مسلک کے علما شامل رہے ہیں ، اس لئے کسی نے غلطی سے بھی دوسرے پر انگلی نہیں اٹھائی
(۶)تین طلاق کا بل پاس ہونے پر سب خاموش رہے ، بابری مسجد کے فیصلہ پر چپ رہے ، اس پر بھی سارے لوگ تھوڑا بہت بول کر چپ ہوجاتے ، وہ تو عورتوں نے دن رات اپنی قربانیاں پیش کرکے قوم کی ناک کٹنے سے بچالیا ، بڑے شرم کی بات ہے کہ ہم ان کے جذبے اور قربانیوں پر ان کا شکرگزار ہونے کی بجائے ان پر تنقید کر رہے ہیں ۔ دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام احمد بخاری اور محمود مدنی اور ان جیسے بڑے بڑے مذہبی ٹھیکیدار بالکل خاموش اور منظر نامہ سے غائب ہیں کیا انہیں اس کی قیمت مل گئی ہے ؟
(۷)دھرنے میں شامل ہونے والی خواتین کے شوہر ، باپ ، بھائی اور بیٹوں کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے وہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، گھر سے دھرنے والی جگہ لانے اور لے جانے کا کام خوشی خوشی کررہے ہیں ، پھر آخر سیاسی اور مذہبی قیادت کے ٹھیکیداروں اور دعویداروں کے ہی پیٹ میں اتنا درد کیوں ہو رہا ہے ؟
8(۸)ٹِک ٹاک کے گھٹیا الزام کا جواب یہ ہے کہ دھرنے میں شامل ہماری مائیں بہنیں نہیں بنا رہی ہیں بلکہ جو لڑکے لڑکیاں پہلے سے ہی اس پیشے کو اپنائے ہوئے تھے اب بھی وہ لوگ ہی اسے بنا رہے ہیں ۔ جبکہ دھرنے میں شامل ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں دعائیں مانگ رہی ہیں ، قربانی دے رہی ہیں ، یہاں تک کہ بیمار پڑ رہی ہیں تو کسی کی گود ہی اجڑ گئی ۔ وہ وہی نماز پڑھ رہی ہیں قرآن کی تلاوت کررہی ہیں۔
(۹)کیا یہ خوشی کی بات نہیں ہے کہ ہماری خواتین میں سیاسی بیداری پیدا ہو گئی ہے ، ورنہ کل تک انہیں نہ ملک کے حالات حاضرہ سے کچھ لینا دینا تھا نا ہی اس کی معمولی سی سمجھ ہی تھی ، یہ اپنے گھریلو اور رشتوں کے مسائل ، بازار زیور کپڑوں میں الجھی ہوئی تھیں ۔ ہمیں اس سیاسی بیداری کا استقبال کرنا چاہئے نا کہ تنقید۔
(۱۰)دراصل ہماری خواتین نے اس طرح بیدار ہوکر آگے آکر مردانگی دکھانے سے مرد سیاسی اور مذہبی قیادت کی نامردی اور بزدلی سب پر ظاہر ہوگئی ہے ۔ ان کا بھائو گر گیا ہے ۔ خواتین یہاں تک کہ ہمارے کالج کے بچے بچیاں پولس اور غنڈوں کی لاٹھیاں و گولیاں کھاکر بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت اپنے گھروں میں آرام فرمارہی ہے ۔ حتیٰ کہ کچھ بکے اور گرے ہوئے لوگ حکومت کی حمایت تک کررہے ہیں ۔ ان کی اسی بزدلی پر یو پی کے ایک شاہین باغ کی خاتون نے ان پر چوڑیاں برسائی تھی کیوں کہ یہ اسی لائق ہیں ۔ تاریخ ان خواتین اسلام کا شکریہ ادا کرے گی ۔ شاہین باغ ، ممبئی باغ ، سمیت ملک کے ہر شاہین باغ اور وہاں بیٹھی ہماری سبھی مائوں بہنوں اور بیٹیوں (اصلی شیرنیوں) کو پورے ملک کی طرف سے عقیدت بھرا سلام ۔آخر میں عرض کردوں کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور اگر جنگ کے وقت کا کسی کو حکم یاد نہیں تو نبی ﷺ یا قرون اولیٰ کے جنگوں کی تاریخ پڑھ لیں کہ اس وقت جنگ میں زخمی ہونے والے مجاہدین کی تیمارداری ان کا علاج انہیں پانی پلانے کا کام خواتین اسلام ہی کیا کرتی تھیں ۔ آج حالات کی نزاکت کے سبب ہماری مائیں بہنیں خود مورچہ سنبھال چکی ہیں تو ان پر تنقید کرنے اور مسلکی تفرقہ میں وقت لگانے سے کچھ وقت بچ جائے تو ہماری شاندار تاریخ کے اوراق میں سے کچھ ورق گردانی کرلیں ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

آیان شیخ جنسی استحصال کیس لوجہاد نہیں, تفتیش میں نیا خلاصہ, آیان کی جان کو خطرہ

Published

on

ممبئی: امراؤتی پر توارڈ پولس اسٹیشن کی حدود میں آیان شیخ عرف ایاز شیخ کے خلاف جنسی استحصال کی ایک ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے آیان شیخ کے معاملہ میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ اس کے ویڈیو اس کے دوست عذیر خان نے ہی اپنے انسٹاگرام پر لیک افشا کئے تھے جس کے بعد بھونچال آگیا اس معاملہ میں پولس نے تفتیش شروع کرتے ہوئے ۸ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اس کے ساتھ ہی ان سے تفتیش میں کئی اہم خلاصے ہوئے ہیں آیان شیخ نے ہی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے متاثرین سے رابطہ کیا تھا اور دوستی بنانے کے بعد وہ ان لڑکیوں سے معاشقہ رکھتا اور پھر انہیں ہوٹل میں لیجا کر ان سے تعلقات قائم کرتا تھا عذیر نے انسٹاگرام پرُاس لئے ویڈیو وائرل کی تھی کیونکہ وہی آیان کا سوشل میڈیا ہینڈل بھی کیا کرتا تھا اور پیسوں کو لے کر دونوں میں تنازع ہو گیا تھا اور اس نے غصہ میں ویڈیوز وائرل کیا اس معاملہ میں ویڈیو تیار کرنے والوں سے لے کر اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں تک کو پولس نے گرفتار کیا ہے
تین پولس والے معطل
آیان شیخ کیس میں ایک اے ایس آئی سلیم اور دو کانسٹبل کو معطل کردیا گیا ہے ان پولس والوں کے ساتھ آیان کی ویڈیو وائرل تھی اور یہ آیان کے ساتھ رابطے میں تھے اس لیے اس سے پولس محکمہ کی شبیہ خراب ہو رہی تھی جس کے بعد پولس والوں کے خلاف معطلی اور انکوائری کی کارروائی کی گئی ہے آیان شیخ کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہے کیونکہ متاثرین کے رشتہ دار اور والدین مشتعل ہے اور عدالت میں پیشی کے دوران اس کی سیکورٹی کا بھی خاص خیا ل رکھا جاتا ہے پولس نے بتایا کہ آیان شیخ سے متعلق جو تفتیش شروع کی گئی اس میں اب تک یہ معاملہ لوجہاد کا نہیں ہے اور نہ ہی متا ثریا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے بعد اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش تیز ہے اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں بلڈوزر ایکشن بھی لیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونے امبیڈکر جینتی پروگرام میں نکسلیوں کا ‘ہڈما’ گانے پر رقص, بی بی اے کے دو طلبا کے خلاف کیس درج

Published

on

ممبئی: ممبئی پونے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جینتی کے موقع پر منعقدہ ایک ثقافتی پروگرام میں نکسلائیٹ ہدما ماڈوی پر مبنی گانے پر مبنی ڈانس پرفارمنس منظر عام پر آنے سے ہلچل مچ گئی اسی مناسبت سے پولس نے کیس بھی درج کر لیا ہے لیکن گانے اور رقص پر کیس درج کرنے پر اب سوشل میڈیا پر یہ سوال عام ہے کہ آیا کیا گانے اور رقص کو قابل اعتراض تصور کر کے کیس درج کرنا قانونی طور درست ہے ؟ ہڈما گانے پر وشرانت واڑی پولیس نے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
کرن نارائن گوماسے (عمر 22 سال، آبائی باشندہ دیچلی، تلہ ہری، ضلع گڈچرولی، فی الحال بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل، ویشرانت واڑی میں مقیم ہیں) اور سرینواس ہنومنت کماری (عمر 23 سال، آبائی باشندہ جھنگنور، تال. گچھی، اس وقت اسی سرونڈنگ، ضلع سرونڈنگ) ہاسٹل) کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں بی بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔پولیس کے مطابق امبیڈکر جینتی کے موقع پر 11 اپریل کو بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل وشرانت واڑی میں ایک ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں ہدما مادوی پر مبنی گانے پر رقص کا مظاہرہ کیا گیا،جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھا اور پیپلز لبریشن گوریلا آرمی (پی ایل جی اے) کی بٹالین نمبر 1 کی کمانڈر بھی تھا۔پولیس نے گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں کارروائی کی ہے جس سے ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرہ ہے ۔ اس معاملے میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 197(1)(ڈی) 353(1) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وشرانت واڑی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے اور پولیس سب انسپکٹر بھوسلے معاملے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔ اس واقعے نے شہر میں ہلچل پیدا کردی ہے اور علمی و سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ محض گانے پر رقص سے کیس درج کر لیا گیا کیا یہ اظہار آزادی کے منافی نہیں ہے ؟

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ڈونگری 9 غیر مجاز دکانوں پر محکمہ بی کی انہدامی کارروائی

Published

on

Dongri

ممبئی بی’ ڈپارٹمنٹ کے تحت، حال ہی میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘بی’ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے سردار ولبھ بھائی پٹیل مارگ اور ڈونگری علاقے میں 9 غیر مجاز دکانوں، غیر مجاز گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے سڑک پر لگائے گئے لوہے کے ستون، دکانوں کی غیر مجاز نام کی تختیوں اور دیگر تجاوزات پر بے دخلی کی کارروائی کی گئی۔ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر (زون 1) چندا جادھو کی رہنمائی میں اسسٹنٹ کمشنر یوگیش دیسائی کی قیادت میں کی گئی۔یہ پایا گیا کہ ولبھ بھائی پٹیل مارگ اور ڈونگری کے علاقے میں ‘بی’ ڈپارٹمنٹ میں فٹ پاتھ پر غیر مجاز دکانیں اور تجاوزات پیدل چلنے والوں کے لیے رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ اس پس منظر میں میونسپل کارپوریشن کے ‘بی’ انتظامی ڈویژن (وارڈ) کے تحت کام کرنے والے کنزرویشن، انکروچمنٹ ریموول اور لائسنسنگ ڈیپارٹمنٹس نے مشترکہ طور پر ایک مہم چلائی۔ اس آپریشن کے دوران 9 غیر مجاز دکانیں، فٹ پاتھ پر قائم تجاوزات، دکانوں کی غیر مجاز اضافی تعمیرات، غیر مجاز گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے سڑک پر نصب لوہے کے ستون اور دکانوں کی غیر مجاز نام تختیاں ہٹا دی گئیں۔ اس دوران علاقے میں غیر مجاز ہاکروں کے خلاف بھی بے دخلی کی کارروائی کی گئی۔

اس آپریشن میں ’بی‘ ایڈمنسٹریٹو ڈویژن کے تحت کام کرنے والے کنزرویشن، انکروچمنٹ ریموول، لائسنسنگ اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران اور ملازمین نے حصہ لیا۔ اس وقت ڈونگری پولس اسٹیشن کی طرف سے مناسب سیکورٹی تعینات کی گئی تھی۔ ادھر انتظامیہ واضح کر رہی ہے کہ غیر مجاز تعمیرات اور غیر مجاز ہاکروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی جاری رہے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان