Connect with us
Tuesday,09-June-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

نظام الدین مرکز کے اجتماع میں شرکت کرنے والے تلنگانہ کے کئی افراد الگ تھلگ مراکز اور اسپتال منتقل کردیئے گئے

Published

on

دہلی کے نظام الدین مرکز میں اجتماع میں شرکت کرنے والے 6افراد کی تلنگانہ میں موت کے بعد ریاستی حکومت نے چوکسی اختیار کرتے ہوئے مختلف اضلاع میں ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی ہے کہ وہ اجتماع میں شرکت کرنے والوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کو فوری طورپرالگ تھلگ مرکز منتقل کیاجائے۔اس ہدایت کے بعد کل سے یہ عمل ریاست کے مختلف اضلاع میں شروع کردیاگیا۔اضلاع میں بیشتر افراد کی نشاندہی کی گئی اور ان کو الگ تھلگ مرکز منتقل کرنے کے اقدامات کئے گئے۔ان افراد کو مختلف سرکاری اسپتالوں کے ساتھ ساتھ اس وبا کے مشتبہ مریضوں کیلئے بطورخاص بنائے گئے الگ تھلگ مراکز منتقلی کا عمل جاری ہے۔اضلاع کے حکام کی جانب سے ایسے افراد کی شناخت کا کام بڑے پیمانہ پر کیاجارہا ہے۔محبوب نگر ضلع میں دہلی کے اجتماع میں شرکت کرنے والے17 افراد کی شناخت ہوئی ہے ان تمام کو اسپتال کے الگ تھلگ وارڈس منتقل کیا گیا۔ضلع سے تعلق رکھنے والے وزیر وی سرینواس گوڑ اور ضلع کلکٹر وینکٹ راؤ نے محبوب نگر اسپتال میں انتظامات کا جائزہ لیا اور انہیں گورنمنٹ میڈیکل کالج میں قائم سنٹر منتقل کردیا۔ متحدہ ضلع نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے تقریبا 52افراد کے نئی دہلی کے نظام الدین علاقہ میں واقع تبلیغی مرکز میں ہوئے اجتماع میں شرکت کی اطلاع ملی جس کے بعد ضلعی عہدیداروں نے 13افراد کی نشاندہی کی جن میں سے پانچ کو گاندھی اسپتال کے الگ تھلگ مرکز منتقل کیاگیا جبکہ دیگر 8کو سوریہ پیٹ ضلع میں بنائے گئے الگ تھلگ مرکز منتقل کیاگیا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ 13افراد میں کورونا وائرس کی کوئی علامات نہیں پائی گئیں تاہم ان کو مشورہ دیاگیا ہے کہ وہ گھروں میں ہی الگ تھلگ رہیں۔اسی دوران گذشتہ روز تلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کے دفتر کی جانب سے کئے گئے ٹوئیٹ میں کہا گیا کہ ضلع کلکٹرس کے تحت خصوصی ٹیمیں ان افراد کی نشاندہی کر رہی ہیں جن کو ایک دوسرے سے رابطہ پر کورونا وائرس ہونے کا خطرہ ہے اور ان افراد کو اسپتال منتقل کیاجارہا ہے۔تلنگانہ کے محکمہ صحت سے خواہش کی گئی ہے کہ اس اجتماع میں شرکت کرنے والوں سے خواہش کرے کہ ایسے افراد رضاکارانہ طورپر اسپتالوں سے رجوع ہوں۔ساتھ ہی ایک اور ٹوئیٹ میں محکمہ صحت کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ دہلی کے اس مرکز میں منعقدہ اجتماع میں شرکت کے بعد واپس افراد کا اتہ پتہ معلوم کرتے ہوئے حکومت کو مطلع کرے۔ان افراد کے معائنے مفت کئے جائیں گے۔اسی دوران راجنا سرسلہ ضلع کے ویمل واڑہ سے تعلق رکھنے والے 4نوجوان جنہوں نے مرکز میں اجتماع میں شرکت کی تھی کو سرسلہ کے اسپتال منتقل کردیاگیا۔ان نوجوانوں کا تعلق ٹاون کے سبھاش نگر سے ہے جو 14مارچ کو حیدرآباد سے دہلی بذریعہ طیارہ گئے تھے تاکہ اس اجتماع میں شرکت کرسکیں۔وہ 15مارچ کو قومی دارالحکومت سے بذریعہ ترین روانہ ہوئے اور راماگنڈم پہنچے جہاں سے انہوں نے 17اپریل کو ویمل واڑہ پہنچے۔ان نوجوانوں کے بارے میں اطلاع ملنے پر عہدیداروں نے ان کوگھروں پر الگ تھلگ کردیاتھا۔چونکہ مرکز میں ہوئے اجتماع میں شرکت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے،اسی لئے عہدیداروں نے چوکسی اختیار کرتے ہوئے ان کو مزید معائنوں کے لئے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔دریں اثناجگتیال ضلع سے تعلق افراد کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے دہلی کے اجتماع میں شرکت کی تھی۔ایسے 32افراد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ن تمام کو پولاس اگریکلچر کا لج کے الگ تھلگ مرکز میں 14 دن کے لئے منتقل کیا گیا۔ضلع ہیلت آفیسر سریدھر نے یہ بات بتائی۔ضلع کھمم سے تعلق رکھنے والے دس افراد اور بھدرادری کوتہ گوڑم سے تعلق رکھنے والے دس افراد کو بھی الگ تھلگ رکھا گیا جنہوں نے اس اجتماع میں شرکت کی تھی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کرلا ساکی ناکہ پائپ لائن کی مرمت کا کام مکمل، پانی سپلائی بحال

Published

on

Pipline

ممبئی : ممبئی کے کرلا ساکی ناکہ 90 فٹ تلک نگر میں نالہ کے قریب بی ایم سی کی 1200 ملی میٹر قطر کے پانی کے پائپ لائن کی مرمت کا کام صبح کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا جس کے بعد اب کرلا کے متاثرہ علاقوں میں پانی سپلائی بھی بحال کر دی گئی ہے۔ پانی کی پائپ جو سڑک کی سطح سے تقریبا 5 میٹر گہرا ہے, مکمل طور پر کھول کر اس کے تباہ شدہ حصے کو تبدیل کر دیا گیا۔ کھدائی کے دوران یہ پائپ لائن متاثر ہوگئی تھی اور پائپ لائن پھٹنے کے بعد دو دنوں سے اہلیان کرلا پانی کیلئے پریشان ہے اور یہاں پانی سپلائی مکمل طور پر بند تھی, لیکن اب دوبارہ اسے بحال کر دیجا گیا ہے۔ اس کام کے دوران کھدائی میں تکنیکی دشواریاں بھی پیش آئی۔ کیونکہ ایک طرف مہا نگر گیس لمٹیڈ ایم جی ایل کا 300 ملی میٹر قطر کا گیس پائپ لائن بھی تھا اور دوسری طرف پل کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ پھر بھی انجینئرز اور عملے نے انتہائی احتیاط اور منصوبہ بندی کے ساتھ کام کو انجام دیا وارڈ نمبر 156,158,161,162,163,171,168,167,166,165,164 کے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔ آج رات میں پانی معمول کے مطابق جاری ہوجائیگا۔ یہ اطلاع آج ممبئی میونسپل کارپوریشن نے دی ہے۔ بی ایم سی کے مطابق پانی سپلائی میں شب میں تاخیر اور کم پریشر ہونے کا بھی امکان ہے۔ اس لئے شہریوں کو پانی فراہمی کے دوران احتیاط لازمی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

دادر پلازہ سنیما اور گارڈن کے قریب سڑک حادثہ، ایک کی موت سے ٹریفک نظام درہم برہم، بس ڈرائیور گرفتار

Published

on

ممبئی : دادر ویرکوتاوال گارڈن کے پلازہ سنیما پر ایک اندوہناک سڑک حادثہ میں چار افراد شدید طور سے زخمی ہوگئے, جس میں ایک کی موت واقع ہوگئی ہے. ایک بے قابو بس نے ایک کار اور ایک موٹر سائیکل کو ٹکر ماردی, جس کے سبب چار افراد شدید طور سے زخمی ہوگئے اور انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے, جہاں ان کی حالت تشویشناک ہے. اس حادثہ میں 22 سے 25 سالہ نوجوان کی موت واقع ہوگئی ہے, جبکہ رشب گپتا 25 سالہ, ستیش واگھمارے 48 سالہ, مہیش دھوئیپھوڑے 50 سالہ کو زخمی حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے. تفصیلات کے مطابق آج تقریبا 9 بجکر 30 منٹ پر الیکٹرک بس ڈرائیور نے بے قابو بس کوتوال گارڈن کے قریب 5 گاڑیوں سے ٹکر ماری, جس میں ایکٹیو ٹووہیلر, الیکٹرک بائیک, ٹیکسی, کار اور الیکٹرک کار شامل ہے, اس واقعہ میں بس کنڈیکٹر اور الیکٹرک بائیک سوار کو چوٹیں آئی. زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کیلئے سائن اسپتال داخل کیا گیا. بس ڈرائیور کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے. حادثے میں تباہ ہونے والی گاڑیوں کو سڑک کے کنارے منتقل کر دیا گیا ہے اور ٹریفک کی نقل وحرکت کو دوبارہ بحال کر دیا گیا اس حادثہ کے بعد دادر علاقہ میں ٹریفک جام ہوگئی تھی, لیکن اب سڑکوں پر حالات معمولات پر آگئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ بس ڈرائیور کو لاپروائی سے ڈرائیورنگ کرنے کے معاملہ میں حراست میں لے کر باز پرس جاری ہے. اس کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ اس کی تصدیق ڈی سی پی مہندر پنڈت نے کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

جہاں طاقت ہے وہاں توجہ مرکوز رکھو، جیت ہماری ہوگی… انتخابات میں ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر شریکانت شندے نے کارکنوں کو جیت کا منتر دیا

Published

on

Dr.-Shrikant-Shinde

ممبئی آئندہ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی کے انتخابات میں جہاں تنظیم مضبوط ہے وہیں پوری طاقت کے ساتھ توجہ مرکوز کریں۔ مائیکرو لیول پر منصوبہ بندی کریں، بوتھ کوآرڈینیٹر مقرر کریں اور انتخابی تیاریوں کو مضبوط بنائیں۔ اگر ہم منظم اور حکمت عملی کے ساتھ کام کریں گے تو فتح ہماری ہی ہوگی۔ یہ پیغام شیوسینا پارلیمانی پارٹی لیڈر اور پارلیمنٹ رتن ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے کارکنوں اور عہدیداروں کو دیا۔ ایم پی ڈاکٹر شری کانت شندے کا دو روزہ شیو سمواد دورہ آج کھاندیش کے نندربار سے شروع ہوا۔ اس دوران انہوں نے نندربار اور تلودہ میں منعقدہ میٹنگوں میں ضلع کے مختلف اسمبلی حلقوں کا جائزہ لیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آئندہ الیکشن کی تیاریوں اور تنظیم سازی کے حوالے سے کارکنوں کی رہنمائی کی۔ اس موقع پر وزیر دادا بھوسے، ایم ایل اے امشا پاڈوی، ایم ایل اے چندرکانت رگھوونشی، ایم ایل اے راجندر گاویت، شیو سینا کے ریاستی تنظیم کے سربراہ اور سابق ایم پی آنند پرانجاپے، شیو سینا کے سکریٹری بھاؤ صاحب چودھری، شیوسینا نندربار لوک سبھا رابطہ سربراہ اور سابق ایم ایل اے شریش چودھری اور دیگر اہم عہدیدار موجود تھے۔

ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے آج صبح تلودہ میں شہادہ اور اکلکووا اسمبلی حلقوں کا جائزہ لیا۔ اس میٹنگ میں انہوں نے عہدیداروں کو ووٹر لسٹ پر نظرثانی مہم کو مؤثر طریقے سے چلانے، بی ایل اے کی تقرری اور 20 پولنگ اسٹیشنوں میں سے ہر ایک پر ایک کوآرڈینیٹر مقرر کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کوآرڈینیٹروں کی تقرری سے ہر بوتھ کا باقاعدہ جائزہ ممکن ہو سکے گا۔ اگر بوتھ کی سطح پر منظم طریقے سے کام کیا جائے تو تنظیم مضبوط ہوگی اور الیکشن جیتنے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ ایم پی ڈاکٹر شندے نے مزید کہا کہ پچھلے انتخابات میں جو کچھ ہوا اسے پیچھے چھوڑ دینا چاہیے۔ تمام کارکنوں اور عہدیداروں کو یہ سوچ کر متحد ہو کر کام کرنا چاہئے کہ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی علاقوں میں شیوسینا کی طاقت کو کیسے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں کوئی اتحاد نہیں ہوگا، اس کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی تاہم کارکنان ہر بوتھ پر توجہ دے کر کام کریں۔ اگر ہم پوری محنت اور لگن سے کام کریں گے تو فتح ہماری ہی ہوگی۔

ڈاکٹر شندے نے کہا کہ نندوربار ضلع میں شیوسینا کی طاقت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ریاست میں ایک بڑا طبقہ بن چکا ہے جو شندے صاحب کی قیادت کا احترام کرتا ہے۔وزیر اعلی کی حیثیت سے شندے صاحب نے مفاد عامہ کی کئی فلاحی اسکیموں کو نافذ کیا، جن سے ووٹر واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نگر پریشد اور میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں شیوسینا کو اچھی عوامی حمایت اور کامیابی ملی ہے۔

نندوربار شہر میں منعقدہ دوسری میٹنگ میں ایم پی ڈاکٹر شریکانت شندے نے نندوربار اور نواپور اسمبلی حلقوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شندے صاحب نے “شان آپ کے دروازہ” مہم کے ذریعے عام لوگوں کے لیے بہت سے کام کیے ہیں۔ ان کی قیادت پر عوام کا اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن بھی شیوسینا میں شامل ہونے کے لیے بے تاب ہیں۔ رکن اسمبلی ڈاکٹر شندے نے کارکنوں سے تنظیم کو مضبوط بنانے پر زور دیا اور کہا کہ وہ پوری وفاداری کے ساتھ کام کریں اور پارٹی کی طاقت میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ شیوسینا کا انتخابی نشان ‘دھنوش بان’ ہر علاقے تک پہنچنا چاہیے۔ پارٹی قیادت کارکنوں کو مضبوط کرنے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اس موقع پر ایم ایل اے چندرکانت رگھوونشی نے کہا کہ اکلکووا اور دھارگاؤں تعلقہ میں شیوسینا کی اچھی گرفت ہے، جب کہ تلودہ اور شہادہ تعلقہ میں تنظیم کو مزید مضبوط کرنے کے لیے خصوصی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آنے والے نندربار ضلع پریشد انتخابات میں شیوسینا بھگوا پرچم لہرائے گی۔ ایم ایل اے رگھوونشی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پارٹی عہدیداروں اور کارپوریٹروں کو مزید تنظیمی اختیارات اور ذمہ داریاں دی جائیں۔ ایم ایل اے امشا پاڈوی اور سابق ایم ایل اے شریش چودھری نے بھی میٹنگ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

شندے صاحب کی ہر تعلقہ اور اسمبلی حلقہ پر نظر :
شیو سینا کے سربراہ رہنما اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ہر تعلقہ اور اسمبلی حلقہ پر خصوصی توجہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی رہنما 45 ڈگری درجہ حرارت جیسی شدید گرمی میں بھی مسلسل دورے کر رہے ہیں۔ یہ بات شیوسینا پارلیمانی پارٹی کے لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سریکانت شندے نے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی کوئی الیکشن نہیں ہے، پھر بھی شیوسینا کے لیڈر گاؤں گاؤں جا کر کارکنوں سے مل رہے ہیں اور تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر شندے نے کہا کہ شندے صاحب کی قیادت میں شیوسینا کے کام کرنے کے انداز میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ پہلے لیڈر دوروں پر جاتے، تقریریں کرتے اور چلے جاتے، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب صرف تقریر نہیں ہوتی بلکہ لیڈر خود میدان میں جا کر کام کرتا ہے اور کارکنوں سے براہ راست مکالمہ قائم کرتا ہے۔ ڈاکٹر شندے نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں وہ چار بار ضلع نندربار کا دورہ کر چکے ہیں، جس سے پارٹی قیادت کی تنظیم کے تئیں سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان