Connect with us
Sunday,01-November-2026

جرم

قینچی کی طرح زبان چلانے والی بیوی کا “قینچی” سے بہیمانہ قتل سے سنسنی!!!

Published

on

murder

خیال اثر مالیگانوی
کورونا نامی خطرناک وباء کے پھیلنے اور لاک ڈاؤں کی صعوبتوں نے ہر ہندوستانی کو بے دست و پا بنا کر رکھ دیا ہے. اس خطرناک بیماری اور لاک ڈاؤن نے ملکی معیشت کو سسک سسک کر دم توڑنے پر مجبور کردیا ہے. لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہر کاروبار خسارے ہو سودا ہوتا جارہا ہے تو مزدور پیشہ افراد پر بے روزگاری اور بھکمری کے سائے منڈلا رہے ہیں اور اس کا راست اثر غریب اور مزدور پیشہ افراد پر اس شدت سے سر ابھار رہا ہے کہ ان کی ازدواجی زندگی داؤ پر لگ گئی ہے. مرد اور خاتون خانہ سبھی حیران و پریشان ہیں. بے روزگاری کے بڑھتے سائے نے سب سے زیادہ اثر بچوں پر ڈالا ہے. بچوں کو فاقہ کشی پر مجبور ہوتا دیکھ کر بے بس و لاچار مائیں اپنے روز گار شوہروں سے دست غریباں ہوتے جارہی ہیں. ایک تو بےروزگاری کا عذاب اور بچوں کا بھوک سے تڑپنا, بلبلانا, دیکھنا اور سہنا پھر اس کے بعد بیوی کے طعنے سن سن کر مجبور و بے کس شوہر کا خون کھول اٹھتا ہے اور جب بھی ایسا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کا خمیازہ خواتین اور بچوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے. جودھ پور کا ایسا ہی واقعہ خبروں کی زینت بنا ہوا ہے. تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز ایک 35 سالہ بےروزگار شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کا گلا کاٹ کر قتل کردیا۔ مہا مندر پولیس اسٹیشن کےاسٹیشن ہاؤس آفیسر(SHO)کیلاش دان نے بتایا کہ قریب ایک بجے بی جے ایس کالونی میں رہنے والے ملزم وکرم سنگھ نے پولیس کنٹرول روم کو اطلاع دی کہ اس نے کچھ تنازعہ پر اپنی بیوی کو قتل کردیا ہے۔ جیسے ہی ہمیں اطلاع موصول ہوئی ہم جائے حادثہ پر پہنچے اور خاتون کی لاش دیکھی اس کا گلا کٹا ہوا تھا۔ پولیس نے فورینسک ٹیم کو جائے حادثہ پر بلایا اور متاثرہ کے اہل خانہ کو حادثہ کی اطلاع دی۔ لاش کو مردہ خانہ میں روانہ کیا گیا اور ملزم کو قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔
ایک مجبور و بےکس اور روزگار شخص جو بےروزگاری کے ستم سہنے کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی کے طعنے سہہ سہہ کر اوب گیا تھا. روزگار سے محروم اس شخص کا ایک مکان کرائے پر دیا ہوا تھا جس کے کرائے سے ہی اس کا گھر خرچ عمل میں آ رہا تھا. کرایہ سے ملنے والی رقم بھی ان کی کفالت کے لئے انتہائی نا کافی ثابت ہونے لگی تھی اسی کے حوالے سے ایک دن دونوں میاں بیوی میں جب تکرار شروع ہوئی تو ختم ہونے کا نام ہی نہ لی. ان کے دو کم عمر بچے بھی حیران و پریشان ماں باپ کی اس جوتم پیراز کو حیرت سے دیکھ رہے تھے. جب بیوی کی زبان قینچی کی طرح چلتی گئی تو شوہر نے انتہائی طیش کے عالم میں قینچی سے بیوی کی گردن اور جسم کے دیگر اعضاء پر یکے بعد دیگرے وار کرتے ہوئے قینچی کی طرح چلنے والی زبان کو نہ صرف بند کردیا بلکہ ہمشیہ کے لئے اس کی سانس کی ڈور بھی قینچی سے کاٹ دی. اتنے پر ہی بس نہ کرتے ہوئے اس شوہر نامدار نے پولیس اسٹیشن فون کرتے ہوئے اپنے کارہائے نمایاں بیان کر دیئے جسے سن کر پولیس عملہ فورأ ہی جائے وقوع پر پہنچ گیا. پولیس نے بچشم خود اس دلدوز اور خونی مناظر کو دیکھا. شوہر کے ہاتھوں بیوی کی کٹی پھٹی لاش دیکھ کر پولیس کے بھی رونگھٹے کھڑے ہوگئے. پولیس نے جب قاتل شوہر سے باز پرس کی تو قاتل شوہر نے بتایا کہ بیوی کے روز روز طعنے اور گلے شکوے جب اس کی برداشت سے باہر ہوگئے تو اس نے انتہائی طیش کے عالم میں یہ قدم اٹھایا ہے.
۔پولیس کے مطابق ملزم اور مقتولہ کے دو بچے ہیں، ایک 8 سالہ بیٹی اور 5 سالہ بیٹا شامل ہیں۔جو فی الحال جودھپور میں اپنے دادا دادی کے پاس ہیں۔
تعجب خیز امر یہ ہے کہ شب و روز ساتھ ساتھ زندگی گزارنے والے ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں شریک رہنے والے اور ساتھ جینے ساتھ مرنے کی قسمیں کھانے والے حالات حاضرہ کی لپیٹ میں آ کر حالات کی بے رحمی کا شکار ہو گئے. ایک ناری جو اپنے شوہر کو بھگوان سمان مان کر اس کے چرنوں کو روز چھوتے ہوئے اپنی مانگ میں سندور کی طرح سجاتی تھی اسی کے ہاتھوں اس بے رحمی سے قتل ہو گئی کہ دیکھنے اور سننے والے بھی دانتوں تلے انگلی دبانے پر مجبور ہو گئے . اس خونی واقعہ کے بعد قاتل شوہر تو جیل کی سلاخوں کے پچھے پہنچ گیا اور بیوی قتل کے بعد انتم سنسکار کے لئے امر دھام پہنچ کر خاک ہوگئی اور رہے بچے تو وہ والدین سے محرومی کا کرب جھیلتے ہوئے اپنے دادا دادی کے پاس شب و روز روتے ہوئے گھٹ گھٹ کر اپنا بچپن گزارنے پر مجبور ہیں. شوہر کے ہاتھوں بیوی کے قتل کا یہ خونی واقعہ بے روزگاری کا ساخشانہ بتایا جارہا ہے جو کہ کورونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے لا تعداد ہندوستانیوں کا نصیب بنا دیا گیا ہے. قتل کا حالیہ واقعہ آج ہر عام ہندوستانی کو سوچنے پر مجبور کررہا ہے کہ کیا انھیں بے روزگاری یہ عذاب برسوں بھگتنا پڑے گا ؟کیا آنے والے وقتوں میں بھی روز بروز ایسے ہی خونی واقعات گھر گھر میں رونما ہوتے رہیں گے کیونکہ دم توڑتی ہوئی معیشت اور روزگاری کا عفریت ہر گھر پر دستک دینے کے لئے تیار بیٹھا ہے اور ظاہر ہے کہ اس عفریت کا شکار صرف اور صرف خاتون خانہ اور معصوم بچے ہی ہوں گے. بے روزگاری کے اس عفریت اور خود کو اور اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لئے ہر خاتون خانہ کو چاہیے کہ ایسے نا مسائد حالات میں اپنے بے روزگار شوہروں کو طعنہ نہ دیتے ہوئے ان کے شانہ بشانہ قدم در قدم چلتے ہوئے ان کا ساتھ دیں نہ کہ روز مرہ کے خرچ کے لئے باہم دست غریباں رہتے ہوئے ان کا جینا حرام کردیں. بلا وجہ انھیں طیش نہ دلائیں اور خود باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے گھریلو اخراجات پر قابو رکھتے ہوئے فضول خرچی سے پرہز کریں اسی میں ان کی آنے والی زندگی کے اسرار و رموز پوشیدہ ہیں.

جرم

دہلی پولیس نے بینک اکاؤنٹ کی نقالی کرنے والے گروہ کا پردہ فاش کیا، دو ملزمان گرفتار اور ڈھائی کروڑ روپے مالیت کے اثاثے ضبط

Published

on

نئی دہلی : دہلی پولیس کے سنٹرل ڈسٹرکٹ نے بینک کھاتہ داروں کی نقالی کرنے میں ملوث ایک سنڈیکیٹ کا پردہ فاش کیا ہے اور دو ملزمین کو 22.56 لاکھ روپے کے بینک حکام کو دھوکہ دہی والے ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ (آر ٹی جی ایس) ہدایات کے ذریعے گرفتار کیا ہے، حکام نے جمعرات کو بتایا۔ تقریباً 2.50 کروڑ روپے کے اثاثے بشمول سونے کے زیورات، سونے کے 101 سکے، نقدی اور ایک ایس یو وی، موجودہ اور منسلک معاملات میں ضبط کیے گئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں سے ایک اشتہاری مجرم بھی پایا گیا جو جعلی کرنسی کے کیس میں سات سال سے زیادہ عرصے سے مفرور تھا۔ یہ معاملہ بینک آف انڈیا کے برانچ منیجر راجیندر پلیس، نئی دہلی کی طرف سے دائر کی گئی شکایت سے شروع ہوا ہے۔ 5 اگست کو، دیپک ملہوترا کی نقالی کرنے والے ایک شخص نے، برانچ میں اکاؤنٹس رکھنے والی متعدد کارپوریٹ اداروں سے منسلک ایک ڈائریکٹر، بینک حکام سے رابطہ کیا۔

پولیس کے مطابق، کال کرنے والے نے ابتدائی طور پر حکام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ایک کروڑ روپے کی فکسڈ ڈپازٹ رسید (ایف ڈی آر) بنانے پر بات کی۔ بعد میں اس نے ان سے رابطہ کیا، یہ دعویٰ کیا کہ کمپنی کو ادائیگی کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کی چیک بک ختم ہوچکی ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ ای میل کے ذریعے لین دین پر کارروائی کی جائے۔ ملزم نے کمپنی کے رجسٹرڈ ایڈریس سے ملتے جلتے ای میل آئی ڈی کا استعمال کرتے ہوئے جعلی ادائیگی کی درخواست بھیجی۔ ای میل، جس میں کمپنی کا جعلی لیٹر ہیڈ تھا، بینک کو 22,56,922 روپے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

جب بینک حکام نے لازمی معاوضے کی دستاویزات طلب کیں، تو کال کرنے والے نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے ان پر دباؤ ڈالا کہ اسی طرح کے لین دین پر پہلے عمل کیا گیا تھا اور ادائیگی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ بعد میں بینک نے دھوکہ دہی والے آر ٹی جی ایس ٹرانسفر پر کارروائی کی۔ بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات کے تحت وسطی ضلع کے سائبر پولیس اسٹیشن میں ای ایف آئی آر درج کی گئی۔ تفتیش کے دوران، پولیس نے دھوکہ دہی کی رقم کو مغربی بنگال میں بندھن بینک کے ساتھ رکھے ہوئے ایک خچر بینک اکاؤنٹ سے ٹریس کیا۔ ٹیلی کام ریکارڈز، ڈیجیٹل شواہد اور مواصلاتی تفصیلات کے تکنیکی تجزیہ نے تفتیش کاروں کو مشتبہ افراد کی شناخت میں مدد کی۔ سب انسپکٹر کملیش کمار کی قیادت میں ایک پولیس ٹیم نے ملزم کو گرفتار کیا، جن کی شناخت غازی آباد، اتر پردیش کے لونی کے رہنے والے 36 سالہ ونے کمار یادو اور نوئیڈا کے رہنے والے 65 سالہ انیل کمار سہگل کے طور پر ہوئی ہے۔

تحقیقات سے پتہ چلا کہ ملزمان نے کارپوریٹ بینک ٹرانزیکشنز کو نشانہ بنانے کے لیے جعلی کمپنی کے لیٹر ہیڈز، دھوکہ دہی والی ای میل آئی ڈی، سوشل انجینئرنگ اور خچر اکاؤنٹس کا استعمال کیا۔ بعد میں اس رقم کو مغربی بنگال کے ایک جیولر سے خریدا گیا سونا سمیت دیگر اثاثوں میں موڑ دیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ دونوں ملزمین غازی آباد، سہارنپور، ایودھیا اور فرید آباد سمیت کئی مقامات پر مالی فراڈ کے مقدمات میں سابقہ ​​مجرمانہ ملوث تھے۔ وہ مبینہ طور پر جیل میں رہتے ہوئے واقف ہوئے تھے اور اس سے قبل وہ چیک سے متعلق فراڈ سے منسلک رہے تھے جس میں نام نہاد جادوئی قلم شامل تھے۔ گرفتاریوں نے پولیس کو گروگرام، پلوال اور دہلی میں درج کیے گئے اسی طرح کے چھ کیسوں پر کام کرنے میں بھی مدد کی ہے، جس میں 16.65 لاکھ روپے سے لے کر 2.98 کروڑ روپے تک کی دھوکہ دہی کی رقم کے ساتھ ساتھ 88 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کی کوشش بھی شامل ہے۔

Continue Reading

جرم

بنگال میں زمین چوری کیس : ابھیشیک بنرجی کے معاون کو اب گرفتار ظاہر کیا گیا

Published

on

کولکاتہ : ترنمول کانگریس کے لوک سبھا ممبر ابھیشیک بنرجی کے ایگزیکٹیو اسسٹنٹ سمیت رائے کو بدھ کے روز ڈائمنڈ ڈسٹرکٹ پولیس نے مٹی چوری کے معاملے میں گرفتار کیا ہے۔ رائے اس سال 10 ستمبر کو مغربی بنگال کے مغربی مدنا پور ضلع کے سالبونی میں کروڑوں روپے کے غیر قانونی زمین پر قبضے کے معاملے میں مغربی بنگال پولیس کے کریمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے اہلکاروں کے ذریعہ گرفتار کیے جانے کے بعد پہلے ہی عدالتی تحویل میں ہے۔ ڈائمنڈ ہاربر پولیس نے اسے ایک نئے کیس میں گرفتار ظاہر کرنے کے بعد، سیاسی مبصرین محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی باس دونوں پر اضافی دباؤ بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔ رائے کو ڈائمنڈ ہاربر ڈسٹرکٹ پولیس نے اسی پولس ضلع کے تحت کالیتلا-آشوتی پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف درج ایک کیس کے سلسلے میں گرفتار دکھایا گیا تھا، جہاں اس پر 400 کروڑ روپے کی مٹی کی چوری میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔

“رائے کو بدھ کے روز کولکتہ کی ایک نچلی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جس میں اسے تحویل میں لینے کی درخواست کی گئی تھی۔ وہ پہلے سے ہی سالبونی اراضی بدعنوانی کے معاملے میں عدالتی تحویل میں ہے۔ اس کی تفتیش جاری ہے۔ اس لیے ڈائمنڈ ہاربر پولیس ڈسٹرکٹ نے اسے قواعد کے مطابق مٹی کی چوری کے معاملے میں گرفتار ظاہر کیا ہے اور اس کی تحویل کی درخواست کی ہے،” ایک ضلعی پولیس افسر نے بتایا۔ سالبونی غیر قانونی زمین پر قبضہ کیس میں پولیس نے سب سے پہلے ترنمول کانگریس کے سابق رکن اسمبلی سوجے ہزارا کو گرفتار کیا تھا۔ ہزارہ سے تفتیش کے دوران اس کیس کے سلسلے میں رائے کا نام سامنے آیا، جس کے بعد سی آئی ڈی کے اہلکاروں نے اسے متعدد بار پوچھ گچھ کے بعد 10 ستمبر کو گرفتار کیا تھا۔ اس معاملے میں سی آئی ڈی کی طرف سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں جانچ ایجنسی نے اس بات کی تفصیلات دی تھیں کہ سالبونی غیر قانونی زمین پر قبضہ کیس میں رقم رائے کے دفتر تک کیسے پہنچی۔ اس تفتیش کے درمیان، اسے ڈائمنڈ ہاربر ڈسٹرکٹ پولیس نے ایک اور کیس میں گرفتار ظاہر کیا تھا۔

Continue Reading

جرم

جموں و کشمیر پولیس نے جموں میں ریلوے میں ملازمت دلانے کے نام پر 4 کروڑ 10 لاکھ روپے کے فراڈ کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا

Published

on

جموں : جموں و کشمیر پولیس ضلع نے بدھ کے روز کہا کہ انہوں نے 4.10 کروڑ روپے کے ریلوے نوکری کے فراڈ کیس میں مرکزی ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ریلویز میں نوکریوں اور ٹینڈر کا وعدہ کرکے اور شمالی ریلوے کو پینے کے پانی کی بوتلوں کی فراہمی کے لیے کیے گئے دھوکہ دہی کے مرکزی ملزم کو منگل کو جموں میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے کہا، “اب جرم میں ملوث دیگر مشتبہ افراد کی شناخت، سراغ لگانے اور گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔” دھوکہ دہی کے سلسلے میں جموں کے چنی ہمت پولیس اسٹیشن میں حال ہی میں قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تفتیش کے دوران مرکزی ملزم کی شناخت اور گرفتار کیا گیا ہے، جو اس وقت عدالتی تحویل میں ہے۔ تحقیقات میں ملوث پورے نیٹ ورک کی شناخت، مالی لین دین کا پتہ لگانے اور فراڈ سے وابستہ دیگر افراد کے کردار کو قائم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔”

جاری تفتیش کے پیش نظر، رازداری کو برقرار رکھنے اور تفتیش کی سالمیت کے تحفظ کے لیے ملوث افراد کی شناخت مخفی رکھی جا رہی ہے۔ ملزمان نے ریلوے بورڈ کی بھرتی کے عمل کے ذریعے نوکریوں کا جھوٹا وعدہ کرکے اور ناردرن ریلوے کو پینے کے پانی کی بوتلوں کے لیے جعلی سپلائی ٹینڈرز کا بندوبست کرکے متاثرین سے تقریباً 4.10 کروڑ روپے کا دھوکہ دیا۔ اسی طرح کی ایک اور دھوکہ دہی میں جموں کی کرائم برانچ نے جولائی میں بارہمولہ سے عبدالرزاق تانترے کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ ملزم نے شکایت کنندہ سے محکمہ ریلوے میں نوکری کا وعدہ کرکے رقم (نقدی اور بینک ٹرانسفر کے ذریعے) جمع کی، جعلی دستاویزات جیسے رول نمبر سلپ اور جعلی صداقت کی رسید فراہم کی۔ اس معاملے کی کرائم برانچ جموں کی طرف سے سرگرم تفتیش ہے۔

بڈگام ضلع میں 2025 میں ایک اور گھوٹالے میں، کرائم برانچ کشمیر کے اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) نے ایف آئی آر نمبر 08/2025 میں جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس، بیرواہ، بڈگام کی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔ ملزمین جن میں عبدالحمید شیخ (بیرواہ)، عادل شاہ (سرینگر/زیوان) اور مفتی غلام حسن کمار (سوپور/بیرواہ) شامل ہیں، نے ریلوے کی ملازمتوں کے لیے جعلی تقرری لیٹر جاری کیے تھے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ شکایت کنندگان میں سے ایک (مفتی غلام حسن کمار) بھی دوسرے متاثرین سے جعلی نوکری کے آرڈر کے ذریعے رقم بٹورنے میں سرگرم تھا۔ 8 فروری 2025 کو، سی بی آئی نے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی اور کونکن ریلوے کے چیف انجینئر سومیت کھجوریا کے خلاف رشوت ستانی کا مقدمہ درج کیا۔ چیف انجینئر جموں و کشمیر میں اسٹریٹجک یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ سے وابستہ تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان