Connect with us
Monday,16-March-2026

سیاست

آر ایس ایس اور بی جے پی نے دنیا کے سامنے ملک کا سر شرم سے جھکا دیا: کانگریس

Published

on

CONGRESS

کانگریس نے کہا ہے کہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی آئیڈیل راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی نفرت انگیز سوچ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کی وجہ سے ملک کو دنیا میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ اس وقت جو ماحول ہے وہ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت پر مبنی ہے۔ فلم ان لوگوں نے ڈائریکٹ اور پروڈیوس کی ہے اس لیے سائیڈ ایکٹر کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ اس ماحول کی بنیادی وجہ آر ایس ایس ہے اور اسے اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی وجہ سے ملک کو دنیابھر میں شرمندگی کا سامنانہ کرنا پڑے اس لئے غیر رجسٹرڈ تنظیم آر ایس ایس کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے اور اس پورے معاملے میں خود آر ایس ایس کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات سالوں میں دانشوروں، ریٹائرڈ بیوروکریٹس، آزاد میڈیا اور دیگر نے حکومت کو بارہا یہ یاد دلانے کی کوشش کی کہ ہم متنوع ملک ہیں لیکن حکومت نے کسی کی نہیں سنی اور ملک کو اب اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ عجیب صورتحال ہے کہ جب ملک نفرت کے ماحول کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اسے دبا دیا جاتا ہے لیکن غیر ملکی دباؤ پر فوری قدم اٹھایا جاتا ہے۔70 سالوں میں پاکستان نے ہندستان کو گھیرنے کی مسلسل کوششیں کیں لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکا، لیکن گزشتہ 7 سالوں کے دوران مودی سرکار نے اسے کامیاب ہونے کا ہر موقع دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب بی جے پی کی پریس ریلیز بیرون ملک ہندوستانی سفارت خانوں کے ذریعے تقسیم کی جا رہی ہے۔ سفارت خانوں سے نکلنے والے پیغامات میں بی جے پی کا بیان منسلک ہے۔ بی جے پی نے سفارت خانے کا غلط استعمال کیا ہے اور بی جے پی کی غلطیوں کی وجہ سے دنیا کے سامنے ملک کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحیح بات تو یہ ہے کہ حکومت نے کبھی بھی ہم وطنوں کی صحیح بات نہیں سنی، صحیح وقت پر صحیح بات نہیں کی اور اب وضاحت دیتی پھر رہی ہے۔ بی جے پی نے غلطی کی ہے اور ملک کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چہروں اور مکھوٹا کا کھیل آر ایس ایس کا پرانا کھیل ہے اور یہ کھیل طویل عرصے سے کھیلا جا رہا ہے۔ بی جے پی کا اصل چہرہ یہ ہے کہ وہ اپنا مکھوٹا بدل بدل کر کام کرتی ہے اور مسٹر مودی تمام متنازع مسائل پر چپی سادھے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اس ملک کی معیشت کے لیے سب سے بڑا دھچکا ہے جہاں امن نہ ہو اور ماحول خراب ہو۔ ایسا ماحول رکھنے والے کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری نہیں آتی اور اس کی معاشی سرگرمیاں مسدود ہوجاتی ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ایس آئی آر سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو بھی پریشان ہے، ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو کا یوپی سرکار اور الیکشن کمیشن پر تنقید

Published

on

ممبئی: سماجوادی پارٹی قومی صدر رکن پارلیمان اکھلیش یادو نے یہ واضح کیا ہے کہ آئی ایس آر سے صرف مسلمانوں کو ہی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ اترپردیش میں ہندوبھی قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ہندوؤں کو بھی ایس آئی آر سے پریشانی کا سامنا ہے وزیر اعلیٰ بھی اس سے گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ۴ کروڑ ووٹ ہمارا کٹ کیا جو لوگ مسلمانوں کے کاغذ ڈھونڈ رہے تھےاب سب ہندو بھائیو کو انہوں نے لائن میں لگادیا۔ ہندو بھائی کاغذ ڈھونڈ رہے ہیں یوپی میں ایس آئی آر سے پریشان اپوزیشن نہیں بلکہ برسراقتدار جماعتیں پریشان ہے۔ فرضی ووٹ ڈالے گئے تھے الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں خاموش تھا اس کی غیر جانبداری اور ایمانداری پر بھی سوال اٹھا اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر سے اپوزیشن کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ یہاں ممبئی میں ایک سمٹ سے خطا ب کررہے تھے انہوں نے مغربی بنگال میں ایک مرتبہ پھر ممتا بنرجی کی واپسی کی بھی پیشگوئی اور دعویٰ کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹرسماجوادی پارٹی ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی بھی موجود تھے۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن اور یوپی سرکار پر بھی جم کر تنقید کی اور سرکار کے طریقہ کار اور فرقہ پرستی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

Continue Reading

سیاست

ای سی آئی نے سومیت گپتا کو شمالی کولکتہ کے لیے ضلع انتخابی افسر مقرر کیا ہے۔

Published

on

کولکتہ: ہندوستان کے الیکشن کمیشن نے کولکتہ میونسپل کارپوریشن کے سمیت گپتا کو شمالی کولکاتہ کے لیے ضلعی انتخابی افسر (ڈی ای او) کے طور پر مقرر کیا ہے، ریاستی حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے اتوار کو بتایا۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے سے پہلے ہی شمالی کولکتہ کے ڈی ای او کا نام فائنل کر لیا گیا تھا۔ فی الحال، آئی اے ایس افسر سمیت گپتا کولکتہ میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق وہ اس الیکشن کے دوران شمالی کولکتہ کے لیے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے فرائض انجام دیں گے۔ عام طور پر، الیکشن کمیشن متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو ڈسٹرکٹ ایگزیکٹو آفیسر (ڈی ای او) کے طور پر مقرر کرتا ہے۔ تاہم کولکتہ میں قوانین مختلف ہیں۔ چونکہ کولکتہ میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نہیں ہے، اس لیے یہ ذمہ داری عام طور پر کسی مخصوص سرکاری محکمے کے آئی اے ایس رینک کے افسر کو سونپی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، پہلے یہ ڈیوٹی کسی مخصوص نامزد اہلکار کو نہیں سونپی گئی تھی۔ تاہم اب اس انتظام کو باقاعدہ شکل دے دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کو براہ راست شمالی کولکتہ کے لیے ریٹرننگ آفیسر (ڈی ای او) کے طور پر مقرر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے آج اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان متوقع ہے۔ تاہم، اس سے پہلے، چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کی سربراہی میں کمیشن کی ایک فل بنچ نے مغربی بنگال کا دورہ کیا۔ انہوں نے انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیا اور انتظامیہ اور پولیس دونوں کے ساتھ کئی میٹنگیں کیں۔ انہوں نے ریاست کی تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ میٹنگیں بھی کیں۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق مغربی بنگال میں انتخابات دو سے تین مرحلوں میں ہو سکتے ہیں۔ توقع ہے کہ اتوار کو شام 4 بجے قومی دارالحکومت میں ایک پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا جائے گا۔ تاہم، انتخابات کا باضابطہ اعلان ہونے سے پہلے ہی، الیکشن کمیشن نے شمالی کولکتہ کے لیے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر (ڈی ای او) کو حتمی شکل دے دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مئیر ریتو تاورے اور وی وی آئی پی کی کار پر بتی لائٹ کو کاروں سے بتیاں ہٹانے کا بی ایم سی کا دعویٰ، انتظامیہ کی وضاحت

Published

on

ممبئی: ممبئی مئیر آف ممبئی ریتو تاوڑے کی کار پر بتی اور بی ایم سی عہدیداروں کے وی آئی پی کلچرل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی ایم سی نے تمام سرکاری عہدیداروں کی کار سے بتی اور چمکتی ہوئی لائٹیں نکالنے کا دعوی کیا ہے بی ایم سی کے مطابق میڈیا میں میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کی گاڑیوں پر چمکتی ہوئی لائٹیں لگانے کی خبریں نشر ہوئی تھی اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عہدیداران کو عہدہ سنبھالنے کے بعد گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ جیسے ہی ان گاڑیوں پر چمکتی ہوئی بتی روشنی کا معاملہ سامنے آیا تو عہدیداران کی گاڑیوں پر لگی چمکتی روشنیاں (فلشر لائٹس) ہٹا دی گئیں۔ واضح رہے کہ بی ایم سی اس وقت حرکت میں آئی جب میئر ریتوتاوڑے کی کار پر نصب وی وی آئی پی کلچرل سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی تھی اور اب بی ایم سی انتظامیہ نے اس مسئلہ پر وضاحت کر کے کاروں سے بتی ہی ہٹا دی ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے وی وی آئی پی کلچرل کے خلاف وزراسمیت دیگر کی کاروں سے لال بتیاں نکالنے کا حکم دیاتھا اس کے بعد بی ایم سی میئر کی کار پر بتی کی تنصیب پر تنقیدیں شروع ہو گئی تھی اب یہ تمام کاروں کی بتیاں نکالنے کا دعویٰ بی ایم سی نے کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان