(جنرل (عام
پڑ ھےگا انڈیا بڑھے گا انڈیا کی یاد میں کھونی گرام پنچایت دفتر میں ہائی اسکول کے کامیاب طلباء کو اعزاز و اکرام سے نوازا گیا
بھیونڈی:ملک میں اقلیتوں با الخصو ص مسلمانوں کے خلاف ہجومی تشدد کے واقعات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔بے قصوروں کا بے رحمی سے پیٹ پیٹ کرقتل کیا جارہا ہے۔جس کے خلاف قومی سطح پرملک گیرسطح پر ملی،سماجی،سیاسی تنظیموں کی جانب سے شدت کے ساتھ صدائے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔اسی تناظر میں منگل کو ’میڈیکل ریپریزینٹیٹوکوالیفائیڈپیوپل‘نامی تنظیم کے بینر تلے سینکڑوں ڈاکٹروں اورایم آرنے ہجومی تشددکے خلاف پرانت آفس کے سامنے خاموش احتجاج کیا۔مظاہرین اپنے منہ پر کالی پٹی باندھے ہوئے تھے۔نیز ان کے ہاتھوں میں تختیاں تھیں جن پر ’سیاسی قتل بند کرو‘،’مذہب کے نام پر قتل بند کرو‘،’ماب لنچنگ بند کرو‘، جیسے نعرے تحریر تھے۔اسہجومی تشدد کے خلاف ڈاکٹرس اور میڈیکل ریپرنزیٹیو اور تعلیم یافتہ شہریوں نے زبردست خاموش احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین نے اس کے خلاف سخت قانون بنانے اور ملزمین کو سخت سے سخت سزاد ینے کا مطالبہ کیا،ان دنوں ملک بھر میں ماب لنچنگ کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ملک میں بڑھتے ہجومی تشدد کو لیکر اقلیتوں میں ںتشویش و خوف کا ماحول پھیل رہا ہے جس کو لیکر ملک بھر میں احتجاج و مظاہروں کا سلسلہ چل پڑا ہے. بھیونڈی میں میڈیکل ریپرنزیٹیو کوالیفائیڈ پیوپل کے زیرِ اہتمام پرانت دفتر کے سامنے شہر کے ڈاکٹرز اور ایم آر نے کثیر تعداد میں شامل ہوکر خاموش احتجاج کیا گیا جس میں مظاہرین نے منہ پر کالی پٹی باندھ کر اور ہاتھوں میں ہجومی تشدد میں ہلاک ہونے والوں کی تصویریں اٹھائے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اس ملک میں بڑھتی منافرت افسوس ناک ہے روز بروز کسی نہ کسی مسلم نوجوان کو ہجومی تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کا کیا گیا وعدہ ’سب کا وشواش‘ کہاں گیا کیا اس طرح سے اقلیتوں کو مار کر انھیں ڈرا کر انکے نوجوانوں کو سر عام پیٹ کر انکا وشواش جیتا جائے گا۔
(جنرل (عام
عید میلادالنبی پر تھانے میں سکیورٹی سخت، نیاز و لنگر کی تقسیم اور سوشل میڈیا پر پولیس کی نظر

ممبئی : تھانہ پولس عید میلاد النبی کے پیش نظر تھانہ پولس نے بھی الرٹ جاری کیا ہے یہاں ممبئی محرم میں فیاض کی زہریلی سازش کے بعد اب تھانہ میں جلوس محمدی میں نیاز اور لنگر کی تقسیم پر پولس کی خاص نگرانی ہو گی اور پولس تنظیموں کا اندارج بھی کرے گی جو لنگر اور نیاز تقسیم کرتے ہیں جلوس کے روٹ پر سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی پولس نظر رکھے گی اگر کوئی جلوس میں گڑبڑی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے یا ماحول خراب کرتا ہے تو اس پر سخت کارروائی ہو گی یہ انتباہ تھانہ پولیس کمشنر اشوتوش ڈومبرے نے دیا ہے انہوں نے کہا کہ تھانہ میں جلوس سے قبل میٹنگ کا بھی انعقاد کیا گیا ہے.
اس کے ساتھ ہی محلہ کمیٹیوں اور پیس کمیٹی کی میٹنگ میں رہنمایانہ اصولوں اور قانون کی پابندی سے متعلق ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں ۔ عاشقان رسول سے پولس کمشنر ڈومبرے نے اپیل کی ہے کہ وہ جلوس میں خرافات ، ٹریپل سیٹ ، رش ڈرائیونگ اور قانون کی خلاف ورزی سے گریز کرے کیونکہ بحالت مجبوری پولس کو ان پر کارروائی کرنے پر مجبورہونا پڑتا ہے ۔ آشوتوش ڈمبرے نے واضح کیا ہے کہ جلوس محمدی کےلیے ضروری اجازت نامے فراہم کئے جاتے ہیں اس میں کوئی بھی بے جا شرائط کا اطلاق نہیں کیا گیا ہے قانون کے مطابق پولس سبھی کو اجازت دیتی ہے اس میں پولس پر کسی بھی قسم کی جانبداری یا بھید بھاؤ کا الزام عائد کرنا غلط ہے بھیونڈی میں جلوس کے جھنڈے کو لے کر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس پر پولس کمشنر نے وضاحت کی ہے کیونکہ جھنڈے کی لمبائی پر اعتراض کیا گیا تھا پولس کمشنر ڈومبرے نے کہا کہ قانون کے مطابق ہر تہوار کو اجازت دی جاتی ہے اس میں بھید بھاؤ یا اضافی شرائط کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
ڈومبرے نے کہا کہ جلوس میں بچوں پر خاص توجہ دی جائے انہیں ٹرک کے ٹپ پر ہر گز بھی بیٹھے کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ اس سے حادثہ کا خطرہ ہے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی عید میلاد النبی کے دوران نگرانی میں شدت پیدا کردی گئی ہے اگر کوئی سوشل میڈیا پر متنازع پوسٹ کرتا ہے جس سے حالات خراب ہونے اور دو فرقوں میں نفرت کا خطرہ ہوتا ہے ایسے افراد کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرتی ایجنڈہ ناقابل برداشت ہے اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے اور سماج و معاشرے میں دوری پیدا کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا ۔
تھانہ ، ممبرا ، بھیونڈی ، کلیان را بوڑی ڈومبیولی جیسے علاقوں میں بڑے پیمانے پر جوش و خروش کے ساتھ جلوس عید میلادالنبی نکالا جاتا ہے جلوس میں نوجوان جوش میں ہوش نہ کھو بیٹھے اس بات کا بھی انہیں خاص خیال رکھنا لازمی ہے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال ماحول خراب کرنے کا سبب بنتا ہے اس لئے غیر مصدقہ مواد اور مشمولات کو شئیر نہ کیا جائے کیونکہ ایسے میں ان کے خلاف بھی کاروائی ہوسکتی ہے جو ان کے ایجنڈے اور نفرتی مشمولات کو آگے بڑھاتے ہیں ۔
آشوتوش ڈومبرے نے یہاں ایک معاصر اردو روزنامہ اور اردو کی ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے عید میلاد النبی پر خصوصی انتظامات کا دعوی کیا ہے انہوں نے کہا کہ پولس ہر طرح سے تیار ہے جلوس پر نگرانی کے ساتھ ساتھ ہر اسکے روٹ پر بھی سخت بندوبست ہوگا عاشقان رسول سے کمشنر آشوتوش ڈومبرے نے درخواست کی ہے کہ وہ نظم و نسق اور قانون کی پابندی کرے کیونکہ نبی رحمت حضور پاک امن کے پیامبر ہے اور رحمت للعالمین بن کر تشریف لائے ہیں اس لئے ہمیں حضور کے طریقے اور تعلیمات پر ہی امن وامان کا دامن تھامتے ہوئے جلوس میں شرکت کرنا چاہیے ۔ ڈومبرے نے کہا کہ فرقہ پرستوں پر جلوس محمدی کے دوران خاص نظر رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی اگر کوئی بھی ماحول خراب کرنے اور قانون کی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا گیا تو اس پر کارروائی ہو گی ۔
(جنرل (عام
بہار: بیتیہ میں سڑک کنارے آرکسٹرا پروگرام میں بس کے ٹکرا جانے سے پانچ افراد ہلاک، متعدد زخمی

بہار کے مغربی چمپارن ضلع میں ایک المناک سڑک حادثے میں پانچ لوگوں کی موت ہو گئی، جب ایک مسافر بس سڑک سے الٹ گئی اور لوریہ تھانہ علاقے میں سڑک کے کنارے آرکسٹرا پرفارمنس سے ٹکرا گئی۔ یہ جان لیوا حادثہ جمعہ کی رات دیر گئے بیتیہ- لوریا مین روڈ پر پراؤ ٹولہ بنکٹوا کے قریب پیش آیا، جہاں شتروگھن دوبے کی رہائش گاہ پر چھتیار کی تقریب کے ایک حصے کے طور پر ایک آرکسٹرا پروگرام کا اہتمام کیا گیا تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق شاہی ٹریولز کی ایک مسافر بس گورکھپور سے بیتیہ کی طرف جا رہی تھی کہ رات تقریباً 11.50 بجے اس علاقے کے قریب پہنچ رہی تھی کہ مخالف سمت سے ایک تیز رفتار ٹرک آ گیا۔تصادم سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے، بس مبینہ طور پر کنٹرول کھو بیٹھی اور سڑک کے کنارے موجود اجتماع میں جا گری۔پانچ افراد موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ مرنے والوں کی شناخت بہادر مہتو، سنجے کمار، بھولا دوبے، دیویندر دوبے اور چھنگور رام کے طور پر کی گئی ہے، سبھی بنکٹوا کے رہنے والے ہیں۔دیویندر دوبے اس بچے کے والد تھے جن کی چھتیار کی تقریب منائی جا رہی تھی۔
حادثے میں نصف درجن سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے جن میں ونے کمار یادو، شیام بابو، موتی چندر مہتو اور نریش رام شامل ہیں۔پولیس اور مقامی لوگوں نے زخمیوں کو علاج کے لیے جی ایم سی ایچ بیتیہ پہنچایا۔حادثے سے مقامی لوگوں میں غم و غصہ پھیل گیا، جنہوں نے تصادم میں شامل بس اور ٹرک کو نقصان پہنچایا۔نارکٹیا گنج کے ایس ڈی پی او جے پرکاش سنگھ نے موقع پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کرنے میں مدد کی۔
پولیس نے لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے جی ایم سی ایچ بھیج دیا۔ حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔مغربی چمپارن پولیس نے بس اور ٹرک کے ڈرائیوروں کے خلاف جلدی اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے اور انہیں پکڑنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ وہ بھاگ رہے ہیں۔اس سانحہ نے بنکٹوا گاؤں سوگ میں ڈوب گیا، مرنے والوں کے اہل خانہ اس نقصان سے تباہ ہو گئے۔
اس واقعے نے مناسب حفاظتی اقدامات یا ٹریفک کو گزرنے کے لیے کافی کلیئرنس کے بغیر بڑے عوامی اجتماعات اور سڑک کے کنارے تقریبات کے انعقاد کے بارے میں بھی خدشات کو جنم دیا ہے۔
(جنرل (عام
ٹی سی تنازع : طلبہ پر خاتون اسکول ملازمہ سے بدسلوکی اور مارپیٹ کا الزام

پولیس نے ہفتے کے روز کہا کہ طلباء کے ایک حصے پر مغربی بنگال کے مالدہ ضلع میں ایک اسکول کے اسٹاف روم میں داخل ہونے اور ایک سابق طالب علم کو ٹرانسفر سرٹیفکیٹ (ٹی سی) سے انکار کرنے پر غیر تدریسی عملے کی خاتون رکن پر حملہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کو بامنگولا کے جگدالہ ہائی اسکول میں پیش آیا لیکن ہفتہ کو اس وقت منظر عام پر آیا جب خاتون نے اسکول کے قائم مقام پرنسپل کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی، اور الزام لگایا کہ اس نے طالبات کو اس پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا تھا۔ مبینہ طور پر اس واقعہ کو ظاہر کرنے والی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔
اس خاتون نے تقریباً ڈیڑھ سال قبل جگدالہ ہائی اسکول میں غیر تدریسی عملے کی رکن کے طور پر شمولیت اختیار کی تھی۔ ان کے مطابق، جمعہ کو ایک سابق طالب علم کو ٹرانسفر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے معاملے پر جھگڑا ہوا۔ اس نے الزام لگایا کہ بعد میں طلباء اسٹاف روم میں داخل ہوئے اور اس کے ساتھ حملہ کیا۔ تاہم، خاتون نے بدلے میں کچھ طالب علموں کے ساتھ مبینہ طور پر حملہ بھی کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ قائم مقام پرنسپل امیت ہلدر کے مبینہ طور پر اکسانے اور اکسانے کی وجہ سے طلبہ نے اس پر حملہ کرنے کی ہمت کی۔ خاتون نے بامنگولا پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کرائی ہے۔
اس کی شکایت کے مطابق، طالبہ کا نام اسکول کے ریکارڈ میں غلط درج کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے اس نے ٹی سی جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے مزید الزام لگایا کہ ہلدر نے پہلے اس پر “غیر اخلاقی کام” کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا اور اس معاملے پر اسے ہراساں کیا تھا۔ خاتون نے الزام لگایا، “قائمقام پرنسپل نے مجھے پہلے بھی غیر اخلاقی کام کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مجھ پر ہاتھ ڈالے ہیں۔ انہوں نے طالب علموں کو بھی مارا پیٹا۔”
اس نے دو اساتذہ نانی رائے اور بمن پال کے خلاف بھی شکایت کی ہے۔ خاتون نے اسکول میں مختلف قسم کی بدعنوانی کا الزام لگایا، جس میں مڈ ڈے میل اسکیم سے متعلق بے قاعدگی بھی شامل ہے۔ اس نے مزید الزام لگایا کہ ٹی آئی سی اور دیگر ترنمول کانگریس حکومت کے دوران بااثر تھے اور اس اثرو رسوخ نے ان کے خلاف کارروائی کو روک دیا۔ اس نے پہلے ہلدر پر چھیڑ چھاڑ اور نامناسب مشورے دینے کا الزام لگایا تھا۔ “ہمیں تحفظ ملنا چاہیے۔ طلبہ کو اسٹاف روم میں داخل ہونے اور سر یا میڈم پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت کہاں سے آتی ہے، جب تک کہ ان کے پیچھے کسی کا تعاون نہ ہو۔” اس نے پوچھا. ہلدر نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کی تردید کی۔
“اس خاتون کے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں۔ میں نے اس اسکول میں 18 سال کام کیا ہے۔ میں دو سال سے ٹی آئی سی ہوں، اس نے ڈیڑھ سال پہلے نوکری جوائن کی تھی، وہ کوئی کام ٹھیک سے نہیں کرتی، یہاں ایک طالبہ کو ٹی سی دینے پر جھگڑا ہوا، اس نے مجھے بدتمیزی کی، میرے کچھ کہنے کے بعد اس نے پلٹ کر کہا، “میں نے کچھ نہیں جانا اور کیا ہوا، مجھے تھپڑ مارا۔ “طلبہ نے بعد میں مجھے بتایا کہ ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ پولیس اور انتظامیہ کے حکم پر میں طبی معائنے کے لیے اسپتال گئی، وہاں اس خاتون اور اس کے شوہر نے مجھے مارا پیٹا۔ مجھے مارنے کے بعد سڑک پر پھینک دیا گیا۔” ترنمول اثر و رسوخ کے الزام کا جواب دیتے ہوئے امیت نے کہا، “یہ ایک تعلیمی ادارہ ہے۔ ترنمول یا بی جے پی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔”
بی جے پی نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ جنوبی مالدہ کے بی جے پی کے جنرل سکریٹری بسواجیت رائے نے کہا، “پولیس اور انتظامیہ اس بات کی جانچ کرے گی کہ خاتون اسکول ورکر کو کس طرح زدوکوب کیا گیا اور کارروائی کی جائے گی۔ خاتون کو نامناسب مشورے دینے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ اسکول میں سیاست کو برداشت نہیں کیا جائے گا”۔ مقامی ترنمول لیڈر بسواجیت گھوش نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جو بھی قصوروار پایا جائے اسے سخت سزا دی جانی چاہئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس واقعہ کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
