Connect with us
Sunday,21-June-2026

سیاست

بھیونڈی میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب ملتوی ہونے پر عوامی نمائندوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا

Published

on

bhiwandi-muncipal-s

بھیونڈی میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کے انتخاب میں غیر ضروری طور پر ہورہی تاخیر کو لے کر یہاں کے سیاسی حلقوں میں طرح طرح کی بحث کا بازار گرم ہے۔ شہر کے سیاسی گلیاروں میں اب یہ سوال زور پکڑنا شروع ہوگیا ہے کہ آخر اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب نہ کروانے کے پیچھے حکومت کی منشا کیا ہے؟ مہاراشٹر حکومت کی ایماء سے چیئرمین کے عہدے کے انتخاب کو لٹکا کر جنرل بورڈ اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے اختیارات کچھ دنوں تک گھما پھرا کر جنرل بورڈ میئر کے ہاتھوں میں رکھنے کی کہیں منحرف سیاسی چال تو نہیں ہے؟ جسے بھانپ کر اب اسٹینڈنگ کمیٹی کے ممبران نے بھی چیئرمین کے عہدے کا انتخاب کرانے کے لئے اپنا احتجاج درج کرانے سمیت ہاتھ پیر مارنا شروع کردیا ہے۔

جس کے تحت اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن ارون راؤت نے گزشتہ 24 دسمبر کو تھانہ ضلع کلکٹر اور 5 جنوری کو کوکن ڈویژن کے کمشنر کو میمورنڈم پیش کرکے میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب بلا تاخیر کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی بڑی اہم کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب نہ کرانے کی وجہ سے شہر کے ترقیاتی کاموں سمیت تمام طرح کی اہم تجاویز اور میونسپل کارپوریشن کے کام متاثر ہورہے ہیں۔ جس کا براہ راست اثر شہر کے لوگوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ چیئرمین کے عہدے کے انتخاب میں جتنی تاخیر ہوگی اتنی آئندہ کے چیئرمین کی میعاد بھی کم ہوجائے گی جو عملی طور پر غیر قانونی اور قانونی نقطہ نظر سے غیر منصفانہ ہے۔

غور طلب ہے کہ بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کی میعاد گزشتہ ستمبر کے مہینے میں ہی ختم ہوگئی تھی اور 25 ستمبر کو ہی اسٹینڈنگ کمیٹی کے 8 نئے ممبران کے انتخاب کا اعلان میونسپل جنرل بورڈ میں کیا گیا تھا۔ اس طرح قائدے سے چیئرمین کا انتخاب ستمبر مہینے کے آخر میں یا اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ہی ہوجانا چاہئے تھا۔ لیکن میونسپل انتظامیہ نے ستمبر کے بجائے 14 اکتوبر کو کوکن ڈویژن کے کمشنر کے پاس چیئرمین کے عہدے کے انتخاب کے لئے تجویز بھیجی تھی ۔ جس کے بعد 12 نومبر کو کوکن کمشنر نے پالگھر کے ضلع کلکٹر کو بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے چیئرمین کا انتخاب کرانے کے لئے مقرر کیا تھا۔ لیکن ایک مہینہ گزر جانے کے باوجود جب پالگھر کے ضلع کلکٹر نے انتخابات نہیں کروائے تو کوکن کمشنر نے پالگھر کے ضلع کلکٹر کے بدلے اس کام کے لئے تھانہ کے ضلع کلکٹر کو مقرر کردیا ہے۔جس کے بعد تھانہ کے ضلع کلکٹر نے 22 دسمبر کو چیئرمین کے انتخاب کی تاریخ طے کی تھی۔ لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر طے شدہ تاریخ پر انتخاب نہ کروا کر تھانہ ضلع کلکٹر کے ذریعے آئندہ کی تاریخ دینے کا اعلان کردیا گیا تھا۔

لیکن مذکورہ اعلان کے باوجود چیئرمین کے عہدے کے لئے انتخاب کی تاریخ نہ دینے کی وجہ سے اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن ارون راؤت نے 24 دسمبر کو تھانہ ضلع کلکٹر سے براہ راست ملاقات کرنے کے علاوہ میمورنڈم پیش کرتے ہوئے چیئرمین کا انتخاب فوری طور پر کرانے کی درخواست کی تھی۔ جس کے بعد تھانہ ضلع کلکٹر نے ارون راؤت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ بہت جلد انتخاب کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔ لیکن ابھی تک انتخاب کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے شبہ پیدا ہورہا ہے کہ کسی سیاسی دباؤ کی وجہ سے جان بوجھ کر اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے کے انتخاب کو ٹالا جارہا ہے؟ اس کے بعد ارون راؤت نے 5 جنوری کو کوکن ڈویژن کے کمشنر کو بھی میمورنڈم دے کر مذکورہ صورتحال سے آگاہ کراتے ہوئے جلد سے جلد انتخاب کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کے انتخاب میں غیر ضروری تاخیر ہونے کی وجہ سے عوامی کاموں میں مختلف رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندوں کی تجویز کو منظور کرنے سمیت دیگر عوامی فلاح و بہبود اور ضروری کاموں کے لئے بھی دشواریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ ارون راؤت نے کوکن کمشنر کو دئیے گئے میمورنڈم میں واضح طور پر کہا ہے کہ اگر بھیونڈی میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے کا انتخاب فوری طور پر نہیں کیا جاتا ہے اور اسے ملتوی کیا جاتا ہے تو انصاف کے لئے قانونی یا عدالتی طریقہ کار اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

اسرائیل نے جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی لبنان پر حملہ کر کے 5 افراد کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

بیروت، جنوبی لبنان: اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ تازہ ترین حملے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے عمل میں آنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد جنوبی لبنان کے شہر سجاد کے قریب جبل الرافی کے علاقے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

جنگ بندی پر ایک روز قبل اتفاق ہوا تھا۔ ژنہوا کے مطابق، جنگ بندی شام 4:00 بجے نافذ ہوئی۔ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق۔

دریں اثناء حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعے کے روز کہا کہ اگر تنظیم پر حملہ ہوا تو وہ ہتھیاروں کی طاقت سے اسرائیل کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں اس کے ارکان کو نہیں روکیں گی۔

المنار ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں قاسم نے کہا کہ “حزب اللہ کو ختم کرنے اور قبضے کو برقرار رکھنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور اسرائیل ہماری زمین کے ہر آخری انچ سے پیچھے ہٹ جائے گا۔”

انہوں نے کہا کہ لبنان کو اس وقت “انتہائی خطرناک دور” کا سامنا ہے اور ملک کے مستقبل کو نشانہ بنانے والی “امریکی اسرائیلی مہم” کا سامنا ہے۔ قاسم نے الزام لگایا کہ اسرائیل لبنان کی سیاسی طاقت کے خلاف ایک نئی تحریک کھڑا کرنا چاہتا ہے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں بھی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔

قاسم نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کے ہتھیار صرف اسرائیل کے خلاف استعمال کے لیے ہیں اور اسرائیل سے اپیل کی کہ وہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔

ان کے تبصرے جمعہ کو جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد جبل الرافی کے علاقے کو اسرائیلی فضائی حملوں نے نشانہ بنایا۔

قبل ازیں، حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک “مزاحمت سے وفاداری” کے رکن ابراہیم الموسوی نے کہا کہ اگر اسرائیل بھی اپنی شرائط پر عمل کرتا ہے تو حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کا احترام جاری رکھے گی۔

دریں اثنا، لبنان کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے اطلاع دی ہے کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کل 3,980 افراد ہلاک اور 12,001 زخمی ہو چکے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان