Connect with us
Wednesday,06-May-2026

سیاست

بھیونڈی میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب ملتوی ہونے پر عوامی نمائندوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا

Published

on

bhiwandi-muncipal-s

بھیونڈی میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کے انتخاب میں غیر ضروری طور پر ہورہی تاخیر کو لے کر یہاں کے سیاسی حلقوں میں طرح طرح کی بحث کا بازار گرم ہے۔ شہر کے سیاسی گلیاروں میں اب یہ سوال زور پکڑنا شروع ہوگیا ہے کہ آخر اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب نہ کروانے کے پیچھے حکومت کی منشا کیا ہے؟ مہاراشٹر حکومت کی ایماء سے چیئرمین کے عہدے کے انتخاب کو لٹکا کر جنرل بورڈ اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے اختیارات کچھ دنوں تک گھما پھرا کر جنرل بورڈ میئر کے ہاتھوں میں رکھنے کی کہیں منحرف سیاسی چال تو نہیں ہے؟ جسے بھانپ کر اب اسٹینڈنگ کمیٹی کے ممبران نے بھی چیئرمین کے عہدے کا انتخاب کرانے کے لئے اپنا احتجاج درج کرانے سمیت ہاتھ پیر مارنا شروع کردیا ہے۔

جس کے تحت اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن ارون راؤت نے گزشتہ 24 دسمبر کو تھانہ ضلع کلکٹر اور 5 جنوری کو کوکن ڈویژن کے کمشنر کو میمورنڈم پیش کرکے میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب بلا تاخیر کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی بڑی اہم کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب نہ کرانے کی وجہ سے شہر کے ترقیاتی کاموں سمیت تمام طرح کی اہم تجاویز اور میونسپل کارپوریشن کے کام متاثر ہورہے ہیں۔ جس کا براہ راست اثر شہر کے لوگوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ چیئرمین کے عہدے کے انتخاب میں جتنی تاخیر ہوگی اتنی آئندہ کے چیئرمین کی میعاد بھی کم ہوجائے گی جو عملی طور پر غیر قانونی اور قانونی نقطہ نظر سے غیر منصفانہ ہے۔

غور طلب ہے کہ بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کی میعاد گزشتہ ستمبر کے مہینے میں ہی ختم ہوگئی تھی اور 25 ستمبر کو ہی اسٹینڈنگ کمیٹی کے 8 نئے ممبران کے انتخاب کا اعلان میونسپل جنرل بورڈ میں کیا گیا تھا۔ اس طرح قائدے سے چیئرمین کا انتخاب ستمبر مہینے کے آخر میں یا اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ہی ہوجانا چاہئے تھا۔ لیکن میونسپل انتظامیہ نے ستمبر کے بجائے 14 اکتوبر کو کوکن ڈویژن کے کمشنر کے پاس چیئرمین کے عہدے کے انتخاب کے لئے تجویز بھیجی تھی ۔ جس کے بعد 12 نومبر کو کوکن کمشنر نے پالگھر کے ضلع کلکٹر کو بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے چیئرمین کا انتخاب کرانے کے لئے مقرر کیا تھا۔ لیکن ایک مہینہ گزر جانے کے باوجود جب پالگھر کے ضلع کلکٹر نے انتخابات نہیں کروائے تو کوکن کمشنر نے پالگھر کے ضلع کلکٹر کے بدلے اس کام کے لئے تھانہ کے ضلع کلکٹر کو مقرر کردیا ہے۔جس کے بعد تھانہ کے ضلع کلکٹر نے 22 دسمبر کو چیئرمین کے انتخاب کی تاریخ طے کی تھی۔ لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر طے شدہ تاریخ پر انتخاب نہ کروا کر تھانہ ضلع کلکٹر کے ذریعے آئندہ کی تاریخ دینے کا اعلان کردیا گیا تھا۔

لیکن مذکورہ اعلان کے باوجود چیئرمین کے عہدے کے لئے انتخاب کی تاریخ نہ دینے کی وجہ سے اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن ارون راؤت نے 24 دسمبر کو تھانہ ضلع کلکٹر سے براہ راست ملاقات کرنے کے علاوہ میمورنڈم پیش کرتے ہوئے چیئرمین کا انتخاب فوری طور پر کرانے کی درخواست کی تھی۔ جس کے بعد تھانہ ضلع کلکٹر نے ارون راؤت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ بہت جلد انتخاب کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔ لیکن ابھی تک انتخاب کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے شبہ پیدا ہورہا ہے کہ کسی سیاسی دباؤ کی وجہ سے جان بوجھ کر اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے کے انتخاب کو ٹالا جارہا ہے؟ اس کے بعد ارون راؤت نے 5 جنوری کو کوکن ڈویژن کے کمشنر کو بھی میمورنڈم دے کر مذکورہ صورتحال سے آگاہ کراتے ہوئے جلد سے جلد انتخاب کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کے انتخاب میں غیر ضروری تاخیر ہونے کی وجہ سے عوامی کاموں میں مختلف رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندوں کی تجویز کو منظور کرنے سمیت دیگر عوامی فلاح و بہبود اور ضروری کاموں کے لئے بھی دشواریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ ارون راؤت نے کوکن کمشنر کو دئیے گئے میمورنڈم میں واضح طور پر کہا ہے کہ اگر بھیونڈی میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے کا انتخاب فوری طور پر نہیں کیا جاتا ہے اور اسے ملتوی کیا جاتا ہے تو انصاف کے لئے قانونی یا عدالتی طریقہ کار اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : تربوز کھانے کے سبب ایک ہی کنبہ کے چار افراد کی علاج میں تاخیر سے موت، تربوز میں زہر خورانی سے متعلق ایف ڈی اے کی رپورٹ

Published

on

ممبئی: ممبئی پائیدھونی میں تربوز تناول فرمانے کے سبب ایک ہی میاں بیوی اور دو بیٹیوں کی پر اسرار موت کے بعد ایک سنسنی خیز خلاصہ ہوا ہے طبیعت بگڑنے کے بعد جے جے اسپتال میں ان کے علاج میں تاخیر و تامل برتا گیا جس کے سبب ان کی حالت مزید خراب ہوگئے بروقت معالجہ نہ میسر ہونے کے سبب ایک ہی کنبہ کے چار افراد کی موت واقع ہوگئی۔ تربوز تناول فرمانے کے سبب موت کے بعد اب ممبئی میں تربوز کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے اس کے ساتھ ہی کئی دعوت میں تو تربوز پوری طرح سے غائب ہوگیا ہے۔ جے جے اسپتال میں اس معاملہ میں ڈیٹ ایڈٹ بھی شروع کی تھی چاروں کو پیٹ میں درد کی شکایت کے بعد اسپتال میں داخل کیا گیا تھا ان چاروں کو الٹی اور دست کی شکایت تھی بتایا جاتا ہے کہ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد تاخیر سے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے فارنسک تفتیش میں زہر خورانی سے متعلق بھی شبہ ہے اس معاملہ میں پولیس نے باقاعدہ طورپر حادثاتی موت کا معاملہ درج کیا ہے 25 اپریل کو کنبہ نے بریانی تناول فرمایا اس کے بعد تربوز کھانے کے سبب ان کی موت واقع ہوئی لیکن ابتدائی تفتیش میں یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے ایف ڈی اے کی تحقیق میں یہ واضح ہوا ہے کہ تربوز میں کوئی بھی زہریلی شئے کی آمیزش نہیں تھی اس کے علاوہ اب ایف ڈی اے اور دیگر ایجنسی غذائی سمیت کے زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

Continue Reading

سیاست

شائنا این سی نے کہا – ممتا بنرجی کو مینڈیٹ کو قبول کرنا چاہئے اور استعفیٰ دینا چاہئے۔

Published

on

ممبئی: شیو سینا لیڈر شائنا این سی نے بدھ کو کہا کہ ممتا بنرجی کو مینڈیٹ کو قبول کرنا چاہئے اور استعفیٰ دینا چاہئے۔ انہوں نے مغربی بنگال میں منصفانہ انتخابات اور ووٹر لسٹوں کے مسائل پر الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا بھی دفاع کیا۔ ممتا بنرجی کے استعفیٰ دینے سے انکار پر شیو سینا کی رہنما شائنا این سی نے میڈیا کو بتایا، “15 سال تک مغربی بنگال کے لوگوں نے ممتا بنرجی کو ایک موقع دیا، جب انہوں نے (عوام) نے فیصلہ کیا کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں کیونکہ خواتین کے تحفظ، امن و امان، دراندازی اور بدعنوانی کے حوالے سے بڑے مسائل تھے، ممتا بنرجی کو بنگال میں 9 فیصد آبادی کے ووٹ کی تبدیلی کو قبول کرنا چاہیے تھا۔” بنرجی اس کو سمجھنے میں ناکام رہی لیکن یہ ایک آئینی ضابطہ ہے۔” الیکشن کمیشن کے خلاف ممتا بنرجی کے الزامات کے بارے میں، شائنا این سی نے کہا، “الیکشن کمیشن نے تمام بے بنیاد دعووں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اپوزیشن نے بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تھا۔ وی وی پی اے ٹی میچ کر دیے گئے تھے، اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ 25,000 جگہوں پر کوئی بے ضابطگیاں نہیں ہوئیں”۔ انہوں نے مزید کہا، “لوگ ایس آئی آر کے بارے میں جھوٹی کہانیاں پھیلاتے رہے، ایس آئی آر صرف ان لوگوں کے ناموں کو ہٹانے کا عمل تھا جو فوت ہو چکے ہیں یا اپنی رہائش گاہ منتقل کر چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایس آئی آر ووٹر لسٹ کو صاف کرنے کی ایک مشق تھی۔ سچ یہ ہے کہ عوام تبدیلی چاہتے تھے، اور اب وہ (ممتا بنرجی) اس کے لیے الیکشن کمیشن کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہیں۔” مغربی بنگال میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کے بارے میں شیو سینا کے رہنما نے کہا، “9 مئی کو بنگال میں ایک نیا وزیر اعلیٰ ہوگا جو امن و امان کو بہتر کرے گا اور خواتین کی حفاظت کرے گا۔ وہ بدعنوانی کے خلاف بھی کارروائی کرے گا”۔

Continue Reading

جرم

سائبر مجرموں نے ایک ریٹائرڈ مینیجر کو دہلی دھماکہ کیس میں پھنسانے کی دھمکی دے کر 40.90 لاکھ روپے کا دھوکہ دیا۔

Published

on

ممبئی کے بھنڈوپ علاقے میں سائبر فراڈ کا ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دہلی بم دھماکوں اور منی لانڈرنگ کیس میں ایک ریٹائرڈ بینک مینیجر کو پھنسانے کی دھمکی دیتے ہوئے، دھوکہ بازوں نے اسے 54 دنوں تک “ڈیجیٹل گرفتاری” کے تحت رکھا اور 40.90 لاکھ روپے کا فراڈ کیا۔ شکایت کے بعد، ممبئی سائبر سیل نے تحقیقات شروع کی. 10 مارچ کو، متاثرہ، راجیندر (مہاراشٹر اسٹیٹ کوآپریٹو بینک کے ریٹائرڈ مینیجر) کو سگنل ایپ پر ایک اکاؤنٹ سے ویڈیو کال موصول ہوئی جس کا لیبل “اے ٹی ایس ڈیپارٹمنٹ” تھا۔ کال کرنے والے نے اپنی شناخت “پی ایس آئی سنگھ” کے طور پر کروائی، جو دہلی اے ٹی ایس کے ایک افسر تھے، اور دعویٰ کیا کہ اس کا نام جنوری کے دہلی بم دھماکوں اور منی لانڈرنگ کیس میں سامنے آیا تھا۔ دھوکہ بازوں نے متاثرہ کو مطلع کیا کہ اس کے آدھار اور موبائل نمبر کا استعمال کرتے ہوئے کرناٹک میں ایک بینک اکاؤنٹ کھولا گیا ہے، جس میں کل 2.65 کروڑ روپے کے مشتبہ لین دین ہوئے۔ سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے گرفتاری اور جائیداد ضبط کرنے کی دھمکی دی۔ خوف کا ماحول بنا کر دھوکہ بازوں نے متاثرہ کو گھر کے الگ کمرے میں رہنے، کسی سے بات کرنے سے گریز کرنے اور مسلسل ویڈیو کال کرنے پر مجبور کیا۔ ذہنی دباؤ کے تحت متاثرہ نے ابتدائی طور پر 2.90 لاکھ روپے منتقل کر دیے۔ اس کے بعد دھوکہ بازوں نے اسے اسٹاک مارکیٹ میں اپنی ₹29 لاکھ کی سرمایہ کاری کو بیچنے پر مجبور کیا، جس سے ₹28 لاکھ مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے۔ مزید برآں، انہوں نے “بیل سیکیورٹی” کے نام پر ₹ 10 لاکھ بھتہ وصول کیا، جو متاثرہ کی بیوی نے قرض کے ذریعے فراہم کیا تھا۔ جعلسازوں نے انہیں یقین دلایا کہ دو دن میں پوری رقم واپس کر دی جائے گی اور معاملہ ختم ہو جائے گا لیکن انہوں نے رقم ملتے ہی رابطہ منقطع کر دیا۔ کئی دنوں تک انتظار کرنے اور کوئی جواب نہ ملنے کے بعد متاثرہ کو احساس ہوا کہ اسے دھوکہ دیا گیا ہے۔ اس نے 3 مئی کو سائبر ہیلپ لائن 1930 پر شکایت درج کروائی اور 4 مئی کو سائبر سیل میں باقاعدہ شکایت درج کرائی۔ ممبئی پولیس کے مطابق، یہ کیس سائبر کرائم کے ایک خطرناک نئے رجحان کو اجاگر کرتا ہے جسے “ڈیجیٹل گرفتاری” کہا جاتا ہے، جہاں جعلساز سرکاری اداروں کے خوف کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ذہنی طور پر دباؤ ڈالتے ہیں اور بڑی رقم بٹورتے ہیں۔ سائبر سیل اس وقت متعلقہ بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کر رہا ہے اور ملزم کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان