Connect with us
Sunday,21-June-2026

جرم

بھیونڈی کے اندرا گاندھی میموریل اسپتال میں حاملہ خواتین کے ساتھ ڈاکٹروں کے ناروا سلوک سے عوام میں زبردست غم و غصہ

Published

on

(نامہ نگار)
سرکاری ہسپتال غریب افراد کے علاج و معالجہ کے لئے تعمیر کئے جاتے ہیں. ان اسپتالوں میں علاج و معالجہ کے ساتھ ساتھ مہنگے ترین آپریشن کا حصول بھی غریبوں کے لئے کیا جاتا ہے لیکن جس طرح حکومتوں کے تمام اعلانات خوشنما ہوتے ہیں اسی طرح یہ عالیشان سرکاری اسپتال چند دنوں تک اپنی چمک دکھا کر ضرورت مند مریضوں کے لئے دور کے ڈھول سہانے ثابت ہوتے ہیں. ان سرکاری اسپتالوں میں مختلف بیماریوں کے ماہر ڈاکٹروں کی تقرری خطیر تنخواہ یا مشاہیرے پر کی جاتی ہیں. مہنگی ترین مشنری کی تنصیب ان اسپتالوں میں کی جاتی ہیں لیکن آج کے دور پر فتن میں ایسے تمام سرکاری اسپتال سفید ہاتھی ثابت ہوتے جارہے ہیں. ان اسپتالوں کا خرچ بے انتہا بڑھ گیا ہے لیکن علاج و معالجہ کی کوئی بھی سہولت یہاں نہ ہونے کی وجہ سے غریب افراد اپنے علاج و معالجہ کے لئے در در بھٹکنے پر مجبور ہیں.
ایسے ہی اسپتالوں میں بھیونڈی شہر کا اندرا گاندھی میموریل ہاسپٹل بھی شامل ہے. بھیونڈی کے اس نام و نہاد سرکاری ہسپتال کا یہ حال ہے کہ یہاں پر کان کے علاج کے لئے کوئی بھی ماہر ڈاکٹر موجود نہیں ہے. حاملہ خواتین کو ڈیلوری کے لئے ممبئی کے کاما ہاسپٹل میں روانہ کردیا جاتا ہے. انتہائی درد کی شکار حاملہ خواتین کا بھیونڈی شہر سے کاما ہاسپٹل کا طویل ترین راستہ طے کرنا انتہائی دشوار کن مرحلہ ہوتا ہے مزید ستم یہ غریب مریضوں سے اسپتال عملہ خطیر روپیہ طلب کرتا ہے. دیکھا جائے تو اگر ان غریب افراد کے پاس روپیہ موجود ہوتا تو یہ بے یار و مدد گار افراد سرکاری اسپتال کا رخ کیوں کرتے. وہ پہلے ہی اپنے علاج کے لئے مہنگے ترین اسپتال کا رخ کرتے ہوئے اپنے درد کا درماں کر لیتے. اس اسپتال کی کارکردگی کو لے کر بھیونڈی اور قرب و جوار کے علاقوں کے غریب افراد نالاں ہیں. اس اسپتال سے معمولی بیماری کے مریضوں کو سہولیات کا فقدان بتا کر مہنگے ترین پرائیوٹ اسپتالوں میں روانہ کیا جانا ایک عام بات ہوگئی ہے. بھیونڈی شہر کی نصف آبادی مزدور پیشہ اور غربت زدہ ہے. ایسے افراد کا مہنگے ترین اسپتالوں میں علاج کے لئے جانا انتہائی مشکل امر ہے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ مزدور پیشہ غریب افراد انتہائی پریشانی کے عالم میں علاج و معالجہ کے لئے مہنگے ترین اسپتالوں میں بھٹک رہے ہیں. مرد حضرات تو جیسے تیسے کرکے ان مہنگے اسپتالوں تک پہنچ جاتے ہیں لیکن سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا خواتین کو اٹھانا پڑ رہا ہے. خواتین بھی شتر بے مہار کی طرح اس اسپتال سے دوسرے اسپتال میں ڈوڑتی رہتی ہیں جہاں ان کا کوئی پرسان حال ہوتا ہے نہ ہی کوئی رہنمائی کرنے والا. ڈاکٹروں اور طبی عملہ کی لاپرواہی اور ناروا سلوک کی وجہ سے غریب خواتین آج خون کے آنسو رونے پر مجبور ہیں. اس کے برعکس دیکھا جائے تو مرکزی و ریاستی وزراء کے خوش کن اعلانات غریب افراد کے لئے جلے پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے. ریاستی وزراء کے لئے آج کا سلگتا ہوا موضوع “کورونا “ہے سرکاری حکام اپنی ساری توجہ کورونا پر ہی مرکوز کئے ہوئے ہیں. آج نہیں تو کل کورونا کا زور ضرور ٹوٹے گا اس لئے مرکزی و ریاستی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ معمولی بیماری کے شکار افراد کے علاج و معالجہ کے لئے اپنی پیش قدمی ایمانداری کے ساتھ شروع کریں. آج بھلے ہی عوام و خواص کورونا کا شکار ہو کر اپنی جان سےہاتَھ دھو رہے ہوں لیکن سرکاری اسپتالوں اور ان اسپتالوں سے خطیر تنخواہ حاصل کرنے والے ڈاکٹرس اور طبی عملہ کی لاپراوہی کا عالم یہی رہا تو بے شمار افراد معمولی بیماریوں کا شکار ہو کے گھٹ گھٹ کر مرنے پر مجبور ہو جائیں گے. اس لئے ریاستی حکومت کے وزراء بطور خاص وزیر صحت راجیش ٹوپے کو چاہیے کو وہ اپنے سے قریب بھیونڈی شہر کے اندرا گاندھی میموریل ہاسپٹل کا خصوصی دورہ کرتے ہوئے یہاں کی لاپراوہی اور زبو حالی کا نظارہ خود کریں تاکہ انھیں بھی معلوم ہو کہ ان کی ناک کے نیچے کیا ہورہا ہے. عیاں رہے کہ بھیونڈی شہر کے اندرا گاندھی ہاسپٹل میں ہونے والی ناانصافی اور ناروا سلوک کے خلاف ایم پی جے نامی فعال و متحرک این جی او نے ہر محاذ پر آواز بلند کی ہے. کورونا مہاماری کے دوران اس این جی او کی خدمات آب زر سے رقم کرنے کے قابل ہے. عوام کو چاہیے کہ ظلم و ناانصافی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والے اس این جی او کے ہاتھوں کو مضبوط کریں تاکہ ہم ہماری حق تلفی سے محفوظ و مامون رہ سکیں.

تفریح

فلمساز اور فیشن اسٹائلسٹ ریا انیل کپور کے زیورات چوری ہو گئے۔

Published

on

ممبئی میں فلمساز اور فیشن اسٹائلسٹ ریا انیل کپور کے کرائے کے زیورات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ممبئی کے سہار پولیس اسٹیشن نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس کی شکایت کے مطابق ریا کپور کے میک اپ آرٹسٹ کے ہینڈ بیگ سے ₹ 1.35 کروڑ مالیت کی ہیروں سے جڑی بالیاں اس وقت چوری ہوئیں جب وہ نیویارک میں ایک فیشن شو میں جا رہی تھیں۔ بالیاں ممبئی کے مہتا اینڈ گوینکا جیولرز سے کرائے پر لی گئی تھیں۔ ممبئی کے معروف میک اپ آرٹسٹ سویلین سنگھ نے گزشتہ سات سالوں سے ریا انیل کپور کے ساتھ کام کیا ہے۔ ریا کپور کو 29 اپریل کو نیویارک میں ہونے والے ’’نیٹ گالا‘‘ فیشن شو ایونٹ میں مدعو کیا گیا تھا۔ اس کی پوری ٹیم اس کے ساتھ تھی۔

ممبئی کے مہتا جیولرز اور گوینکا جیولرز سے ریا کپور کے ساتھ ان کی میک اپ ٹیم کے ساتھ مہنگی بالیوں کے دو جوڑے کرائے پر لیے گئے تھے۔ سویلین سنگھ نے ان ڈبوں کو اپنے ہینڈ بیگ میں رکھا تھا۔ سبھی نے 27 اپریل کی رات 10:25 بجے ایمریٹس کی پرواز سے ممبئی سے اڑان بھری۔ یہ ٹیم 28 اپریل کی شام 5:30 بجے ممبئی سے نیویارک کے کینیڈی ایئرپورٹ پہنچی۔ وہاں سے سب ہوٹل پیئر نیویارک میں اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔

جب سویلین سنگھ نے ٹیم کی ایک رکن شیریں کو بالیاں دینے کے لیے ڈبوں کو کھولا تو انھیں خالی پایا۔ مہتا جیولرز سے زمرد کے پتھر کی ہیرے کی سونے کی بالیاں، جن کی مالیت 6.6 ملین روپے ہے، اور گوئنکا جیولرز سے زیمبیائی پتھر کی گولڈ بارڈر والی بالیاں، جن کی مالیت ₹6.9 ملین تھی۔ ممبئی واپس آنے پر، سویلین سنگھ نے سہار پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے چوری کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ میک اپ آرٹسٹ سویلین سنگھ کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ شکایت کنندہ ریا کپور کی ٹیم کے ساتھ نیویارک جا رہا تھا جب 1.35 کروڑ روپے کی کرائے کی بالیاں چوری ہو گئیں۔ ایئرپورٹ سے ہوٹل تک کی پوری ٹائم لائن کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ ممبئی پولیس اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ چوری ممبئی کے ہوائی اڈے پر، فلائٹ میں ہوئی یا نیویارک پہنچنے کے بعد۔

Continue Reading

تفریح

سندھیا تھیٹر بھگدڑ کیس میں اللو ارجن کو طلب، 22 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم

Published

on

نامپلی فوجداری عدالت نے سندھیا تھیٹر بھگدڑ کیس میں معروف ٹالی ووڈ اداکار اللو ارجن کو سمن جاری کرتے ہوئے انہیں 22 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

یہ پورا واقعہ 4 دسمبر 2024 کا ہے، جب فلم “پشپا 2: دی رول” کے پریمیئر کے دوران حیدرآباد کے سندھیا تھیٹر میں ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق اور اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔ اس واقعہ نے ریاست بھر میں صدمے کی لہر دوڑادی اور حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کردیئے۔

اس معاملے میں کل 23 لوگوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، جن میں اللو ارجن کو ملزم نمبر 11 کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

تفتیش کے دوران پولیس نے ابتدائی طور پر تھیٹر انتظامیہ سے وابستہ 10 افراد کو ملزم نامزد کیا۔ کیس میں اداکار کی سیکیورٹی کے لیے تعینات آٹھ باؤنسر بھی شامل تھے۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ تمام ملزمان کے عدالت میں پیش ہونے کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگا۔

4 دسمبر 2024 کو، اللو ارجن پریمیئر شو میں شرکت کے لیے سندھیا تھیٹر پہنچے۔ جیسے ہی ان کی موجودگی کی خبر پھیلی، تھیٹر کے باہر اور اندر ایک بڑا ہجوم جمع ہوگیا۔ ہجوم پر قابو پانے کی کوشش کی گئی لیکن حالات آہستہ آہستہ بگڑتے گئے اور بھگدڑ مچ گئی۔ اس واقعے کے دوران ایک خاتون، جس کی شناخت ایم ریوتی کے نام سے ہوئی، کی موت ہوگئی، جب کہ اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔

پولیس نے اس معاملے میں سنگین الزامات درج کیے ہیں جن میں قصوروار قتل بھی شامل ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ ہجوم پر قابو پانے اور حفاظتی انتظامات میں لاپرواہی کے باعث حادثہ پیش آیا، اور مختلف سطحوں پر ذمہ داری کا تعین ہونا باقی ہے۔

اس واقعے کے بعد، اللو ارجن کو 13 دسمبر 2024 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، اسے نامپلی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ تاہم، ان کے وکلاء نے اسی دن ہائی کورٹ کا رخ کیا اور انہیں عبوری ضمانت دے دی گئی۔ اگلے دن اسے جیل سے رہا کر دیا گیا۔ بعد میں انہیں باقاعدہ ضمانت دے دی گئی۔

تفتیش کے دوران، 24 دسمبر کو اللو ارجن سے پولس نے تقریباً تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ یہ پوچھ گچھ سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس کی تیار کردہ ویڈیو کی بنیاد پر کی گئی۔

پولیس نے اس معاملے میں کل 23 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔

Continue Reading

تفریح

دہلی ہائی کورٹ نے سلمان خان کی درخواست پر سماعت ملتوی، ‘بلیک ہرن’ کیس میں اگلی تاریخ یکم جولائی مقرر کی

Published

on

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کی طرف سے فلم “بلیک بک: دی بیٹل فار لیگیسی” کی ریلیز پر روک لگانے کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی۔ عدالت نے اگلی سماعت کی تاریخ یکم جولائی مقرر کی ہے۔

فلم پروڈیوسرز نے عدالت میں کہا کہ انہیں ابھی تک سلمان خان کی جانب سے دائر کی گئی مکمل پٹیشن کی کاپی نہیں ملی۔ انہیں صرف ایک درخواست کی کاپی فراہم کی گئی تھی۔ جسٹس مدھو جین نے سلمان خان کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ درخواست کی مکمل کاپی دوسرے فریق کو فراہم کی جائے۔

اس سے قبل کی سماعت میں عدالت نے فلم کے پروڈیوسر امیت جانی اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔

یہ سارا تنازعہ فلم “بلیک بک: دی بیٹل فار لیگیسی” سے متعلق ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سلمان خان کے بہت زیر بحث کالے ہرن کے شکار کے کیس پر مبنی ہے۔ سلمان خان کا الزام ہے کہ فلم میں ان کا نام، تصویر اور شخصیت کو بغیر اجازت کے استعمال کیا گیا ہے، جو ان کے ذاتی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فلم کے پوسٹر میں ایسے عناصر ہیں جو براہ راست سلمان خان کی عوامی شناخت سے مشابہت رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں فلم کی ریلیز، تشہیر اور یہاں تک کہ ڈیجیٹل اسٹریمنگ پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔

سلمان خان نے یہ پٹیشن پروڈیوسر امیت جانی، جانی فائر فاکس فلمز، ڈائریکٹر بھارت شرینے، اکشے پانڈے اور پروجیکٹ سے وابستہ دیگر کے خلاف دائر کی تھی۔

’بلیک بک: بیٹل فار لیگیسی‘ کی پہلی جھلک اور ٹیزر میں سلمان خان سے متاثر ایک کردار کا نام آیان خان ہے۔ ایان خان کا کردار اداکار کاشف اقبال خان نے ادا کیا ہے۔ سامعین نے اس کی ظاہری شکل، چلنے کا انداز، اور ہر اشارہ سلمان سے ایک حیرت انگیز مشابہت پایا۔ کاشف اقبال خان کو سلمان خان جیسا بریسلٹ پہنے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں

Continue Reading
Advertisement

رجحان