Connect with us
Thursday,06-August-2026

(جنرل (عام

چائلڈ لیبرکو روکنے کے لئے بھیونڈی اسسٹنٹ لیبرکمشنر نے این جی او کی مدد سے شہر میں ریلی نکالی

Published

on

بھیونڈی (فہیم انصاری)
بھیونڈی میں بچوں کی مزدوری کو روکنے کے لئے، اسسٹنٹ لیبر کمشنر نے ایک زوردار مہم شروع کی ہے جس کے تحت بچوں کے ذریعے کام نا کروانے کے لئے این جی او کی مدد سے شہر میں عوامی بیداری کے لئے ریلی نکالی جارہی ہے۔ بلکہ جگہ جگہ اسٹیکر لگاکر بچوں سے کام نہ کروانے کی نصیحت بھی دی جارہی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی شہر اورآس پاس کے گلی کوچے میں نکڑ سبھا کاانعقاد کرکے اس کو روکنے کی اپیل بھی کی جارہی ہے تاکہ بال مزدوری پر مکمل طور پر لگام لگایا جاسکے.
واضح ہوکہ بھیونڈی اسسٹنٹ لیبر کمشنر، سان دابھاڑے کی رہنمائی میں، 6 دسمبر کو صبح 10 بج کر 30 منٹ پر بال مزدوری روکنے کے لئے عوامی بیداری ریلی نکالی گئی تھی جس میں اسسٹنٹ کمشنر آفس کے نریندر تیلم، منوہر واترے، ککتکر، شوبھا پھالکے کے ساتھ ادارہ اور اسکول کے طلباء ‌‌‌‌نے اس ریلی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مذکورہ ریلی دھامنکر ناکا سے نکل کر کالج روڈ، پدما نگر ہوتے ہوئے کلیان روڈ پہنچی۔ راستے میں ریلی میں شامل لوگوں نے بال مزدوری روکنے کے لئے پاور لوم علاقے کے ساتھ بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پراسٹیکر لگا کر لوگوں کو بال مزدوری کے جرم سے متعلق آگاہ کرنے کے ساتھ ہی بچوں سے کام نہ کرانے کی اپیل بھی کی۔ اس تناظر میں اسسٹنٹ لیبر کمشنر دابھاڑے نے بتایا کہ اس سے قبل پولیس کے اشتراک سے متعدد علاقوں میں عوامی بیداری ریلی نکالی جاچکی ہے اوراس کے ساتھ ہی مزدور اکثریتی علاقے کے لوم مزدوروں، مالکوں، ہوٹل والوں کے ساتھ نکڑ سبھا کاانعقاد کر انہیں بچوں سے کام نہ کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ایس ٹی اسٹینڈ میں چائلڈ لیبر کے خلاف دستخطی مہم بھی چلائی گئی۔ لیبر کمشنر دابھاڑے نے بتایا کہ اس مہم کی شروعات ڈسٹرکٹ کلکٹر کے دفتر سے ہوئی تھی، جو 7 نومبر سے شروع ہوئی، عوامی بیداری مہم 7 دسمبر تک جاری رہے گی انہوں نے کہاکہ اگراس کے باوجود کوئی کاروباری بچوں سے مزدوری کراتے ہوئے پایا جاتا ہے تو پھراس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔
آٹھ بچوں کو چائلڈ لیبر سے آزاد کرایا جاچکا ہے، تین کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے اور چار کو نوٹس دیا گیا ہے۔
چائلڈ لیبر کو روکنے کے لئے چلائی جارہی عوامی بیداری مہم کے تحت اسسٹنٹ لیبر کمشنر کے ذریعے ہوٹلوں اور گیراج پر چھاپہ مار کر کل آٹھ بچوں کو چائلڈ لیبر سے مستثنیٰ کرایا گیا ہے۔ ساتھ ہی بچوں سے کام کروانے والے تین ہوٹلوں پر معاملہ درج کرنے کے ساتھ ہی چار افراد کو نوٹس بھی دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے پیسہ بچانے کے لیے بال مزدوروں سے کام کروانے والوں میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے۔
بھیونڈی اسسٹنٹ لیبر کمشنر دابھاڑے کی ہدایت پر لیبر محکمہ کے لوگوں نے مقامی مولچند کمپاؤنڈ کے کھانے کی بسی، فیضان کمپاؤنڈ کے طیب ہوٹل اور پیرانی پاڑا کے سلیم کینٹین پر چھاپہ مارکر 9 سے 14 سال سے نیچے کے بچوں کو بال مزدوری سے آزاد کرانے کے ساتھ ہی مذکورہ کاروباریوں پر مختلف پولیس اسٹیشنوں میں چائلڈ لیبرایکٹ کے تحت معاملہ درج کرایا گیا ہے۔ جبکہ دھامنکر ناکا کے سپر گیریج، ناوی پاڑا کے احباب ہوٹل اور کھونی گاؤں کے منگل ہوٹل پر چھاپہ مارکر، لیبر حکام نے 14 سے 18 سال تک کے چار بچوں کو بال مزدوری سے آزاد کراتے ہوئے مذکورہ لوگوں کو نوٹس دیا گیا ہے۔ آزاد کراۓ گئے آٹھوں بچوں کو چلڈرن ہوم میں بھیج دیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ لیبر کمشنر دابھاڑے نے کہا ہے کہ بچوں سے مزدوری کرانے والوں کو کبھی نہیں بخشا جائے گا۔ اسسٹنٹ لیبر کمشنر کے سخت رویہ کی وجہ سے پیسہ بچانے کیلئے چائلڈ لیبروں کا استحصال کرنے والوں کے سامنے بڑی مشکل کھڑی ہوگئی ہے.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ایم آئی ڈی سی پولس کی بڑی کارروائی… ۹ سال قبل بھنگار کے گالے میں قتل کے کیس میں مطلوب ملزم کرناٹک سے گرفتار

Published

on

ARREST-5

ممبئی : پولس نے ۹ سال سے فرار مطلوب ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو قتل کے معاملہ میں مطلوب تھا اسے گوا اور کرناٹک میں تلاشی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ۲۰۱۷ کو ایک چائے فروش کے بھائی وسیع اللہ محسن کو فون کر کے اس کے شناسا نے بلایا اور پھر ایم آئی ڈی سی کی حدود میں ایک بھنگار کے گالے میں صاحب راؤ نے کہا کہ اس نے پولس کو خبر دی تھی جس کے بعد صاحب راؤ کے ہمراہ فیروز، صابر علی دیگر نے وسیع اللہ اور اس کے رشتہ دار کا محاصرہ کیا اور پھر وسیع اللہ لوکھنڈ پر پائپ سے حملہ کر دیا جس کے سبب اس کی موت واقع ہو گئی۔ پولس نے اس قتل کیس میں ۶ ملزمین کو پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔ اس میں مطلوب ملزم مہتاب عالم عظمت اللہ مفرور ملزم تھا اور اسے بعد ازاں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پولس کو مفرور ملزم سے متعلق اطلاع ملی کہ وہ اپنی شناخت چھپا کر کرناٹک میں اسکارپیو کا کام کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر پولس نے اس کے رشتہ داروں اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اس کی تصدیق کی اور پھر اسے جال بچھا کر کرناٹک سے گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے ایم آئی ڈی سی کے سنئیر انسپکٹر گھنشیام نائر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مانخورد شیواجی نگر میں غیر استعمال شدہ بیت الخلاء اور وہاں مفت ادویات کی دکان، خواتین کا جم اور کنڈرگارڈن بنایا جائے گا : ابو اعظمی

Published

on

asim

ممبئی : مانخورد شیواجی نگر اسمبلی حلقہ میں بہت سے عوامی بیت الخلاء انتہائی خستہ حال (مرمت سے باہر) حالت میں ہیں۔ کئی مقامات پر مقامی شہریوں کو ان بیت الخلاء کی ضرورت نہیں ہے اور وہ غیر استعمال شدہ ہیں۔ مقامی ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تمام غیر استعمال شدہ اور خستہ حال بیت الخلاء کو جلد از جلد بلڈوز کیا جائے اور اس زمین کو عوامی فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایم ایل اے اعظمی نے شہریوں کی سہولت کے لیے ان زمینوں پر ایک ‘جنرک میڈیکل شاپ’، صرف خواتین کے لیے ایک جدید ‘جم’ اور بچوں کے لیے ‘کنڈرگارٹن’ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں میونسپل کمشنر اور ‘ایم ایسٹ’ وارڈ کے انتظامی افسران سے خط و کتابت کی گئی ہے اور اس تجویز کو جلد از جلد منظور کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ عوامی مقامات کو لوگوں کے براہ راست فائدے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ غیر استعمال شدہ بیت الخلاء کو ہٹانے اور وہاں طبی اور سماجی سہولیات فراہم کرنے سے علاقے کی خواتین اور بچوں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ اگر انتظامیہ فوری اجازت دے تو ہم اصل کام شروع کر دیں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان