Connect with us
Saturday,29-November-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولاناسید ارشد مدنی امیرالہند خامس اورمفتی محمد سلمان منصورپوری نائب امیرالہند منتخب، اسلام میں عمارت کا اہم مقام۔ مولانا سید ارشد مدنی

Published

on

Maulana Arshad Madani

امارت شرعیہ ہند کے ارکان شوری، جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران اور منتخب ارباب حل و عقد کے ایک روزہ نمائندہ اجتماع میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی امیر الہند خامس اور مفتی محمد سلمان منصور پوری نائب امیر الہند منتخب ہوئے۔ اس اجتماع کی صدارت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند نے کی۔

اجتماع میں حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری کی وفات کے بعد خالی ’امیر‘ کی جگہ پر کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی نے اس باوقار منصب کے لیے جامع کمالات شخصیت حضرت مولانا سید ارشد صاحب مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند وصد المدرسین دارالعلوم دیوبند کا نام پیش کیا، انھوں نے کہا کہ اس وقت ملی ضروریات میں جن اہم کاموں کو اولیت حاصل ہے اس میں امارت کا کام بھی شامل ہے، آج مسلم معاشرہ بالخصوص خانگی مسائل میں کافی بگاڑ پیدا ہو گیا ہے، اس کو حل کرنے کے لیے محکمہ شرعیہ کے نظام بڑھانے اور اصلاح معاشرہ کی تحریک کی ضرورت ہے، انھوں نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جو آج کے اجلاس میں شریک ہوئے۔اجتماع میں مولانا حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند نے امیر الہند مرحوم مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری ؒپر ایک تجویز تعزیت پیش کی، تجویز میں امیر الہند کے سانحہ ارتحال پر غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کا وجود پوری ملت اسلامیہ کے لیے باعث خیر وبرکت تھا، اور ان کی ذات تقوی، دیانت اور حسن انتظام کے اعتبار سے قابل تقلید تھی۔

مولانا محمود مدنی کی تجویزکی تائید حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا عبدالعلیم فاروقی امیر شریعت اترپردیش، حضرت مولانا رحمت اللہ کشمیری رکن شوری دارالعلوم دیوبند امیر شریعت جموں و کشمیر، حضرت مولانا سید اسجد مدنی، حضرت مفتی احمد دیولہ نائب صدر جمعیۃ علماء گجرات، حضرت مولانا سید اشہد رشیدی مہتمم جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد، حضرت مولانا بدراحمد مجیبی خانقاہ مجیبیہ پٹنہ بہار، حضرت مولانا یحییٰ باسکنڈی امیر شریعت آسام، حضرت مولانا بدرالدین اجمل صدر جمعیۃ علماء آسام نے کی۔ اس کے بعد صدر اجتماع مفتی ابوالقاسم نعمانی نے مولانا سید ارشد صاحب مدنی کے نام کا اعلان کیا۔ حالاںکہ حضرت مولانا مدنی نے اپنی ضعیف العمری کی وجہ سے معذرت ظاہر کی تاہم تمام مجمع کی تائید کے بعد وہ امیر الہند خامس منتخب ہوئے۔

امیر الہند خامس مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اسلام میں امارت کا بہت بڑا مقام ہے۔ انھوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے قیام کے محض ایک سال بعد ۰۲۹۱ء میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ مالٹا سے واپس تشریف لائے تو آپ کو جمعیۃ علماء ہند کا مستقل صدر منتخب کیا گیا، چنانچہ آپ کی صدارت میں جمعیۃ علماء ہند کا اجلاس دوم منعقد ہوا، اس میں حضرت شیخ الہند ؒ نے قومی سطح پر امیر الہند کے انتخاب کی تجویز پیش کی۔ بعد میں محض بارہ دن بعد حضرت ؒ کا انتقال ہو گیا، تو ان کے جانشین حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ نے اس مشن کو آگے بڑھایا، لیکن بعض وجودہ سے اس وقت یہ کام آگے نہیں بڑھ پا یا، بعد میں اللہ تعالی نے حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی ؒ کو توفیق بخشی جن کی قیادت میں امارت شرعیہ ہند کا قیام عمل میں آیا، آج امارت شرعیہ ہند کے تحت سو سے زائد محاکم شرعیہ چل رہے ہیں، اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ملک کے کونے کونے میں محاکم شرعیہ قائم کیے جائیں اور امارت کے نظام کو صوبائی سطح پر مستحکم کیا جائے، اس موقع پر اہل مدارس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے مدرسوں میں دارالقضاء کا کورس شروع کریں اور پھر داخل طلباء کو تربیت دے کر محاکم شرعیہ میں مقرر کریں۔ امیر الہند خامس نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے حضرت مفتی سید محمد سلمان منصورپوری استاذ حدیث جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد و جنرل سکریٹری مرکزی دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند کو نائب امیر الہند بنائے جانے کا بھی اعلان کیا، جس کی اجتماع نے تائید کی۔

قبل ازیں امارت شرعیہ کا تعارف پیش کرتے ہوئے حضرت مولانا مفتی سید محمد سلمان منصورپوری نے کہا کہ دنیا کے نظام میں دو شعبوں کی بڑی اہمیت ہے، ایک تو حکومتی شعبہ ہے اور دوسرا عدلیہ کا شعبہ ہے۔ عدلیہ کا کام یہ ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون حق پر ہے، اور کون ناحق ہے۔ اب عدلیہ کے تحت بھی دو معاملات آتے ہیں، ایک فوجداری کے معاملات، دوسرے سول معاملات، فوجداری کے معاملات کے لیے قوت نافذہ کی ضرورت ہوتی ہے، جب تک ہمارے ملک میں اسلامی حکومت قائم تھی، کوئی مسئلہ نہیں تھا، لیکن جب مسلمانوں کا اقتدار ختم ہو گیا تو ہمارے اکابر کی کوشش سے ملک کے بعض حصوں میں قاضی کو اختیارات دیے گئے، لیکن مرکزی طور پر اسے منظوری نہیں ملی، ایسی صورت میں ہمارے اکابر نے عائلی وشرعی مسائل میں کئی طرح کی کوششیں کیں، خاص طور سے خواتین کے ذریعہ اپنے ظالم شوہر سے نجات کے لیے حضرت اقدس مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کی کتاب ’الحیلۃ الناجزہ‘ کی روشنی میں محاکم شرعیہ کا نظام جاری کیا گیا۔ امیر الہند رابع حضرت اقدس مولانا قاری سید محمدعثمان منصورپوری ؒ نے بالخصوص اس کتاب کی تلخیص کی ہدایت دی، اور اسے امارت شرعیہ ہند کے تحت شائع کروایا، تلخیص کی وجہ سے مسائل کو سمجھنے میں کافی آسانی پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 1986 میں امارت شرعیہ ہند کا قیام عمل میں آیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ امارت کے انتخاب کی پہلی تجویز حضرت شیخ الہند ؒ نے جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس دوم میں رکھی، حالاں کہ اس سے قبل حضرت شیخ الہندؒ کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے ابوالمحاسن حضرت مولانا محمد سجاد بہاریؒ نے پٹنہ میں امارت شرعیہ بہار کو قائم کیا جو آج تک قائم و دائم ہے۔

جرم

برتھ ڈے پارٹی میں دوست کو نذرآتش کی کوشش… غیر ارادتا قتل کا کیس درج کرنے پر متاثرہ کے بھائی کا پولس تفتیش پر کئی سنگین الزام

Published

on

Crime

ممبئی کرلا کوہ نور فیس 3 میں سالگرہ پارٹی میں دلخراش واردات نے دل کو دہلا کر رکھ دیا ہے, جبکہ متاثرہ کے بھائی عبدالحسیب نے اپنے کنبہ کی جان کو ملزمین کے شناسائی اور رشتہ داروں سے خطرہ قرار دیا ہے۔ عبدالرحمن خان کو ۲۵ نومبر کو سالگرہ منانے کے لئے سوسائٹی میں بلایا گیا اور پانچ دوستوں نے کیک کاٹنے کے دوران پہلے انڈے اور پتھر سے ان پر حملہ کردیا اور پھر متاثرہ پر ایاز ملک نے پٹرول چھڑک دیا اور لائٹر سے آگ لگا دی, اس کے بعد متاثرہ فوری طور پر آگ بجھانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگا اور واچمین سے پانی کی بوتل لے کر اس نے اپنے جسم پر ڈالی. پولس نے اس معاملہ میں کیس درج کرلیا ہے, اس معاملہ میں پولس نے غیر ارادتا قتل کا کیس درج کیا ہے. متاثرہ اب بھی سٹی اسپتال میں زیر علاج ہے لیکن اب متاثرہ کے بھائی عبدالحسیب خان نے یہ سنگین الزام عائد کیا ہے. پولس نے اقدام قتل کا کیس درج کرنے کے بجائے غیرارادتا قتل کا کیس درج کیا ہے, جبکہ منصوبہ بند طریقے سے میرے بھائی کو بلا کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی اور پٹرول چھڑک کر آگ لگائی گئی, لیکن جب ہم نے پولس کو اقدام قتل کا کیس درج کرنے کی درخواست کی تو پولس افسر کا کہنا ہے کہ اس میں اقدام قتل کا کیس نہیں بنتا, جبکہ میرے بھائی کی جان خطرہ میں ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔ جب سے یہ واقعہ پیش آیا اس وقت سے کئی لوگوں نے ہم پر کیس واپس لینے کا دباؤ ڈالا ہے اور کئی نامعلوم افراد گھر کے پاس بھی نظر آرہے ہیں. گھر پر کیس واپس لینے کے دباؤ ڈالنے والوں کا کہنا ہے کہ اب جو ہونا تھا ہوگیا, کیس کر کے کچھ حاصل نہیں ہوگا ہم مسلمان ہے اور آپ کو یہیں رہنا ہے اس لئے آپس میں صلح کر کے کیس واپس لے لو. لیکن ہمیں انصاف ملے گا اس لئے ہم پولس کمشنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس پر توجہ دے جو بھی خاطی اس میں ملوث ہے اس پر سخت کارروائی ہو. عبدالحسیب نے الزام عائد کیا کہ مقامی پولس سیاسی دباؤ میں کام کررہی ہے اور اس لئے غیر ارادتا قتل کا کیس درج کیا گیا ہے, جبکہ یہ معاملہ اقدام قتل کا ہے۔ وی بی نگر کے سنئیر پولس انسپکٹر پوپٹ آہواڑ نے کہا کہ اس معاملہ میں غیر ارادتا قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش جاری ہے. پنچنامہ سمیت دیگر دستاویزات بھی پولس نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے, سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی مرول ساکی ناکہ قتل کا معمہ یوپی سے دو ملزمین گرفتار

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے قتل کا معمہ حل کر اترپردیش یوپی سے دو ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ممبئی مرول سہار پائپ لائن ۲۶ نومبر کو ایک زخمی حالت میں ایک نامعلوم شخص پایا گیا. پولس کنٹرول روم کو اس کی اطلاع ملی, جب پولس نے جائے وقوع پر پہنچ پر مذکورہ بالا شخص کو زخمی حالت میں پایا جو اس کے سر پر زخموں کے نشان تھے, اسے فوری طور پر کپور اسپتال میں داخل کیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا, پولس نے ۲۸ سالہ شخص کی مشتبہ حالت میں موت کے بعد اس کا سرغ لگایا. اس کی کوئی شناخت نہیں ہوئی اسکے بعد پولس نے یہ معلوم کیا کہ مقتول موہت جگت رام سونی ۲۸ سالہ اندھیری کا ساکن ہے اور کا قتل کیا گیا ہے جس کے بعد پولس نے قتل کا کیس درج کرکے تفتیش شروع کی اور بعدازاں پولس کو معلوم ہوا کہ اس کا آبائی وطن اترپردیش یوپی ہے۔ پولس نے قتل کے بعد مخبروں کا سرگرم کردیا اور پولس کو مفرور ملزمین کی شناخت ہوئی اس معاملہ میں پولس نے ۱۰ ٹیمیں تیار کی پولس کو تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ قتل کے بعد ملزمین فوری طور پر یوپی فرار ہوگئے پولس کی ایک ٹیم نے یوپی بھیجی اور اترپردیش سے دو ملزمین کو زیر حراست لیا ان دونوں کی شناخت روہت گنگا رام ۲۴ سالہ بہرائچ، منوج کمار سونی ۲۵ سالہ بہرائچ کے طور پر ہوئی یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں ڈی سی پی دتہ نلاورے نے انجام دی اور قتل کا معمہ حل کر کے دونوں ملزمین کو گرفتار کر لیا۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ہانگ کانگ کی رہائشی عمارت میں آگ لگنے سے ہلاکتوں کی تعداد 128 ہو گئی

Published

on

ہانگ کانگ، 28 نومبر، ہانگ کانگ میں ایک رہائشی کمپلیکس میں لگنے والی بڑی آگ میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 128 ہو گئی ہے، اور اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، ایچ کے ایس اے آر حکومت نے جمعہ کو کہا۔ ایف ایس ڈی نے کل 304 فائر انجن اور ریسکیو گاڑیاں روانہ کی ہیں، اور دوبارہ جلنے سے بچنے کے لیے گرمی کی سطح کی نگرانی کے لیے ڈرون کا استعمال کیا ہے۔ سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ محکمہ نے متاثرہ عمارتوں میں سے چار میں آگ بجھا دی ہے اور باقی تین میں آگ پر قابو پالیا ہے۔ رہائشی علاقہ وانگ فوک کورٹ آٹھ عمارتوں پر مشتمل ہے، جن میں سے سبھی ایک بڑے تزئین و آرائش کے منصوبے کی وجہ سے سبز جالیوں اور سہاروں سے گھری ہوئی تھیں۔ تزئین و آرائش کے ذمہ دار تین افراد کو قبل ازیں مشتبہ قتل عام کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، کیونکہ پولیس کی تفتیش میں آگ کے تیزی سے پھیلنے کی ممکنہ وجہ کے طور پر عمارتوں کو ڈھانپنے والے آتش گیر مواد کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ اسے ہانگ کانگ میں کئی دہائیوں میں دیکھی جانے والی بدترین آگ سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو جان لی نے جمعرات کو چھوٹے گھنٹے میں کہا کہ وانگ فوک کورٹ میں لگی آگ پر فائر فائٹرز کی انتھک کوششوں کے بعد بتدریج قابو پالیا گیا ہے۔ ایک پریس بریفنگ میں بات کرتے ہوئے لی نے بتایا کہ لگ بھگ 279 لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ انتیس ہسپتال میں زیر علاج رہے جن میں سات کی حالت نازک ہے۔ لی نے کہا کہ وہ اس صورتحال سے بہت افسردہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باہر سے، تین عمارتوں میں اب کوئی دکھائی دینے والے شعلے نہیں دکھائی دے رہے تھے، جب کہ چار دیگر عمارتوں میں آگ کے شعلے ہی دکھائی دے رہے تھے۔ لی نے زور دیا کہ حکومت امدادی کارروائیوں میں مکمل تعاون کے لیے تمام وسائل کو متحرک کرے گی۔ انہوں نے محکموں اور یونٹوں کو آگ بجھانے، پھنسے رہائشیوں کو بچانے، زخمیوں کا علاج، خاندانوں کو امداد اور جذباتی مدد فراہم کرنے اور حادثے کی مکمل تحقیقات کرنے سمیت جامع کام انجام دینے کی ہدایت کی ہے۔ فائر سروسز ڈیپارٹمنٹ کو تقریباً 2:51 بجے حادثے کی اطلاع دی گئی۔ بدھ کو مقامی وقت کے مطابق۔ شدید آگ کی وجہ سے، محکمہ نے مقامی وقت کے مطابق شام 6:22 پر نمبر 5 کے الارم فائر کے لیے الرٹ بڑھا دیا۔ ریسکیو آپریشن بدستور جاری تھا۔ عارضی پناہ گاہوں میں سے ایک پر، ہوم افیئر ڈیپارٹمنٹ، سول ایڈ سروس، کیئر ٹیموں اور پولیس فورس کے اہلکاروں نے مل کر کام کیا، ہر ایک نے اپنے کردار کو پورا کیا اور کوششوں کو مربوط کیا۔ تائی پو کیئر ٹیم کے رکن اور ضلعی کونسلر لام یک کوین نے کہا کہ بہت سی تنظیموں اور افراد نے بحران کے وقت یکجہتی اور باہمی نگہداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر سامان عطیہ کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com