Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مالیگاوں میں مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کی کوشش

Published

on

(نامہ نگار)
22 مارچ 2020ء کو کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے ہندوستانی وزیر اعظم کے ذریعے جنتا کرفیو کا اعلان کیا گیا تھا جو ملک بھر کی طرح ریاست مہاراشٹر کے شہر مالیگاوں میں بھی کامیاب رہا- باوجود اس کہ چند اوباش، شریر اور نفرت پھیلانے والے عناصر اس بات کا جھوٹا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ مشرقی مالیگاوں یعنی مسلم اکثریتی علاقہ بند نہیں تھا اور لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر نہ صرف وزیراعظم کے بیان پر عمل نہیں کیا بلکہ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی وجہ سے دوسروں کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں- شہر کے سینئر صحافی عطا الرحمان نوری کی رپورٹ کے مطابق نیوز 18 کے غیر دیانت دار اور زر خرید صحافی نے بھی ملک بھر میں مالیگاوں کی شبیہ خراب کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی، اس پر افتاد یہ کہ کپٹی دل و دماغ رکھنے والے شرپسند عناصر اس ویڈیو کو زور و شور سے شیئر کر کے مزید بدنامی پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں-
اسی طرح مغربی مالیگاوں یعنی کیمپ سائڈ کے چند گھمنڈی ڈاکٹروں نے بھی مسلم مریضوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے- ان کا ماننا ہے کہ مسلم افراد احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے انھیں بھی کرونا کا خطرہ ہے اس لیے وہ مسلم علاقوں کے مریضوں کو اپنی حدود میں ہی نہ آنے دیں-
واضح ہو کہ IMA نے پہلے ہی اس ایمرجنسی کنڈیشن میں اپنی OPD بند رکھنے کا فیصلہ لے لیا ہے اور اب IMA کے ایک ذمہ دار بلکہ غیرذمہ دار ممبر ڈاکٹر تشار ہیرے نے اپنے آفیشیل فیس بک اکاونٹ پر مسلم مریضوں کا علاج نہ کرنے کا نہ صرف اعلان کیا ہے بلکہ پریسیڈنٹ ڈاکٹر میور شاہ اور وائس پریسیڈنٹ ڈاکٹر پرشانت واگھ کو IMA کی جانب سے فیصلہ لینے پر آمادہ کرنے کی بیباک جسارت بھی کی ہے- اس ضمن میں IMA کا کیا موقف ہے وہ تو کل ہی معلوم ہو سکے گا مگر تشار ہیرے کے من میں پھیلی ہوئی گندگی آج باہر آ چکی ہے جس کی بو کا احساس ہر شہری کو ہونا چاہیے-
سچ کہا ہے کسی نے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت اور انسانیت ہونی چاہیے ورنہ انسان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود جاہل، راکشس اور نفرتوں کو پروان چڑھانے والا پرتشدد غیر ذمہ دار حیوان بن جاتا ہے-
مسلم سماج کے دینی، ملی، سیاسی، سماجی قائدین اور خدمت گاروں کو ہوش کے ناخن لینا چاہیے، کب تک اپنی دال روٹی کے لیے قوم کا استحصال کرتے رہیں گے، اب جب قوم کی شناخت اور بدنامی پر بات بن آئی ہے تو اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں-
اس سے قبل بھی NPR اور NRC کے وقت مغربی علاقے کے بزنس مین، وکلاء اور ڈاکٹرس اس طرح کی زہر افشانی کر چکے ہیں- ان لوگوں کے خلاف جگہ جگہ باضابطہ طور پر رجسٹرڈ کمپلینٹ ہونا چاہیے اور ہاں جس ڈاکٹر کے دل میں مسلموں کے تئیں اتنی نفرت ہو جو مجبور، لاچار اور ضرورت مند مریضوں کا علاج کرنے سے منع کر رہا ہوں خود سے ان ڈاکٹرس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، اور تف ہے ایسے مسلموں پر جن کی بیوقوفی، نااہلی، بد دماغی، نادانی، یتیم العقلی اور نابالغی پر جو سڑکوں پر نکل کر پوری قوم کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں- خدارا خدارا احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور قوم کو رسوا کرنے سے بچیں-
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ CUT پانے والا کوئی بھی ڈاکٹر محض اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے یہ بیان نہ دیں کہ ڈاکٹر صاحب کے موبائل سے کسی وارڈ بوائے نے ایسا میسیج کر دیا تھا- اس سے قبل بھی یہ بات بول کر ایک ڈاکٹر کی نفرت کو دبانے کی کوشش کی گئی تھی، اگر اسی وقت سخت ایکشن لیا گیا ہوتا تو آج کسی کی ہمت نہیں ہوتی- اگر واقعی کسی وارڈ بوائے نے ماضی میں ایسی حماقت کی تھی تو کیا صفائی دینے والوں نے اس کے خلاف قانونی کاروائی کی تھی؟ کیوں کہ تشدد بہر حال تشدد ہے، پھر چاہے وہ ڈاکٹر سے سرزد ہو یا وارڈ بوائے سے نوری اکیڈمی کے صدر و اراکین مالیگاوں پرساشن سے درخواست کرتے ہیں کہ مشرقی حصے میں سختی کے ساتھ احتیاطی تدابیر پر عمل کروائیں اور مغربی حصے میں پھیلنے والی منافرت کا سر کچل دیں بصورت دیگر کرونا کے سائے تلے مالیگاوں میں ہندو مسلم تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے-

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور شدہ وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی، بل پر سوال اٹھائے

Published

on

Asaduddin-Owaisi

نئی دہلی : پارلیمنٹ سے منظور شدہ وقف ترمیمی بل کے خلاف قانونی جنگ اب تیز ہونے لگی ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ اب اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ یہ بل راجیہ سبھا میں 128 ارکان کی حمایت سے پاس ہوا جب کہ 95 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ یہ بل لوک سبھا میں 3 اپریل کو منظور کیا گیا تھا جس کی 288 ارکان نے حمایت کی اور 232 نے مخالفت کی۔ حالانکہ وقف بل پارلیمنٹ سے پاس ہوچکا ہے، اب اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کی جارہی ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے بھی اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وقف (ترمیمی) بل کی دفعات مسلمانوں اور مسلم کمیونٹی کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی کرتی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بل کا خوب چرچا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر من مانی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بل مسلم کمیونٹی کی مذہبی آزادی کو مجروح کرتا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وکیل انس تنویر کے ذریعے درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ اس میں ان پر ایسی پابندیاں لگائی گئی ہیں جو دیگر مذہبی اداروں کے انتظام میں نہیں ہیں۔ اس سے قبل کانگریس سمیت انڈیا الائنس کی تمام جماعتوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے جمعہ کو کہا کہ وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پاس ہو سکتا ہے۔ لیکن اسے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ اس پر صدر کے دستخط ہونا باقی ہیں اور پھر اسے قانونی جنگ سے گزرنا پڑے گا۔ پرمود تیواری نے مزید کہا کہ ہم وہی کریں گے جو آئینی ہے۔ پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا ترمیمی بل غیر آئینی ہے۔

اگرچہ وقف ترمیمی بل پہلے لوک سبھا اور پھر راجیہ سبھا نے پاس کیا ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ آئینی طور پر یہ بہت کمزور بل ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی وویک تنکھا نے کہا کہ یہ بل عدالت میں کھڑا نہیں ہوگا اور اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ تنخا نے اس کے نفاذ کے عمل اور اس کے اثرات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ساتھ ہی سی پی ایم کے راجیہ سبھا رکن جان برٹاس نے کہا کہ بل پاس ہونے کے باوجود اپوزیشن پورے ملک میں یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئی ہے کہ وہ متحد ہے۔ مرکزی حکومت پر آمریت کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر جاوید علی خان نے بھی اس بل پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلے ہی طے تھا کہ بل منظور کیا جائے گا لیکن یہ غیر آئینی ہے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وقف ترمیمی بل پر طویل بحث ہوئی۔ مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بدھ کو لوک سبھا میں یہ بل پیش کیا۔ جس پر 12 گھنٹے سے زائد میراتھن بحث ہوئی، پھر رات دیر گئے 2 بجے کے بعد ووٹنگ میں حکمراں جماعت بل کو منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ پھر اگلے دن یعنی جمعرات کو مرکزی وزیر رجیجو نے راجیہ سبھا میں بل پیش کیا۔ راجیہ سبھا میں بھی 12 گھنٹے سے زیادہ بحث کے بعد دیر رات 2.32 بجے وقف بل کو ووٹنگ کے ذریعے پاس کیا گیا۔ اس دوران بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے اتحاد میں شامل تمام پارٹیاں، چاہے وہ نتیش کمار کی جے ڈی یو ہو یا چندرابابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی، سبھی نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اسی وجہ سے حکومت وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com