Connect with us
Friday,29-August-2025
تازہ خبریں

سیاست

معافی نامہ لکھنے والے لوگ ملک کی آزدی میں اپنی جان قربان کرنے والوں سے ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانگ کر رہے ہیں: کنہیا کمار

Published

on

قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنے موقف میں شدت لاتے ہوئے جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین کے سابق صدر ڈاکٹر کنہیا کمارنے انگریزوں کو معافی نامہ لکھنے والے لوگ ملک کی آزدی میں جن کے آباو اجداد نے اپنی جان قربان کی ان سے ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانگنے والے پہلے اپنے ہندوستانی ہونے کا ثبوت پیش کریں۔
انہوں نے ’جن گن من یاتر ا‘ جو چمپارن سے شروع ہوا ہے کے کشن گنج پہنچنے پر سی ا ے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلا ف کشن گنج کے تاریخی روئی دھاسہ میدان میں احتجاجی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ جن لوگوں نے ملک کی آزادی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا ان سے شہریت کاثبوت طلب کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت جس طرح ٹرمپ کے ہندوستان دورے کی سلسلے میں گجرات کی جھوپڑ یوں کو چھپا نے کیلئے دیوار کھڑی کر رہی ہے ٹھیک اسی طرح آسام میں این آر سی کے غلطی کو چھپا نے کیلئے حکومت سی اے اے کے نام کی ایک دیوار کھڑی کرنا چاہتی ہے جیسے اس ملک کے عوام کبھی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب سرکار رافیل کی فائلوں کی حفاظت نہیں کرسکتی توملک کی عوام اپنے کاغذات کی حفاظت کیسے کریں گے۔ ڈاکٹر کنہیا نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی ناکامیابیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے سی اے اے، این آر سی، این پی آر جیسے موضوع کو سامنے لاکر عوام کو ان کے بنیادی چیزوں سے دھیان ہٹانا چاہتی ہے۔
کنہیا کمار نے امت شاہ کا نام لئے بغیر کہا کہ کوئی گنجا ہونے سے چانکیہ نہیں ہوجاتا۔ تمام وسائل موجودہوں، سی بی آئی، آئی ڈی، انکم ٹیکس وغیرہ جیسی ایجنسیاں ہوں تو کوئی بھی چانکیہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دوراقتدار میں ابتک 3کروڑ 16لاکھ لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں لیکن حکومت کو ان کی کوئی پرواہ نہیں،انہوں نے ریلوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قوم پرست حکومت اب قوم کے اثاثہ کوبھی فروخت کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے سی اے اے کو لیکر کہا کہ اس قانون سے صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ ہندؤ کوبھی نقصان ہونے والا ہے اس لئے اس لڑائی کو ہندو مسلم کے آئینہ سے نہیں دیکھا جا ئے یہ لڑائی ملک کے دستو ر کے تحفظ کی لڑائی ہے۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کدوا ایم ایل اے ’جن گن من یاتر ا‘ کے شریک کار ڈاکٹر شکیل احمد خاں نے قومی شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس سے سب سے زیادہ نقصان کمزور طبقوں کو ہوگا جن میں ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی۔ انہوں نے اویسی اور اس کی پارٹی پر طنز کرتے ہوئے اشاروں اشاروں میں اویسی کا موازنہ پروین توگڑیا سے کیا۔
سماجی کارکن انجینئر محمد اسلم علیگ نے قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس قانون سے ملک کا سماج بٹ جائے گا اور ہندوستان کی قومی یجہتی کمزور ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ اس سیاہ قانون کے خلاف آج سڑکوں پر صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ دلت، قبائلی، ہندو اور دیگر اقلیتی طبقہ بھی سڑکوں پر ہیں۔ سکھ بھائی اس کی شدت سے مخالفت کر رہے ہیں۔ سی اے اے کے خلاف مظاہروں سے حکومت کو شدید جھٹکا لگا کہ جو اسے ہندو مسلم کا رنگ دینے پر آمادہ تھے۔
اس جن گن من یاترا میں مسٹر کنہیا کمار کے ہمراہ کدو ا کے رکن اسمبلی شکیل احمدکے ہمراہ ممبئی سے ملند جی بھی شریک تھے، این آر سی، این پی آر اور سی اے اے کے خلاف منعقد و اس احتجاجی پروگرام میں مقامی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر جاوید، بایاں محاذ لیڈر فیروز عالم، سابق ایس ڈی ایم سید حفیظ وغیرہ موجودتھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی مراٹھا مورچہ بی ایم سی کی صاف صفائی مہم

Published

on

cleanliness

ممبئی مراٹھا مورچہ کے سبب مہاراشٹر بھر سے احتجاج مظاہرین کی ممبئی آزاد میدان آمد کے تناظر میں ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر کے سامنے واقع آزاد میدان میں میونسپل کارپوریشن نے مختلف ضروری شہری خدمات اور سہولیات فراہم کی ہیں۔ آزاد میدان اور آس پاس کے علاقے میں ‘پے اینڈ یوز’ کے اصول پر تمام عوامی بیت الخلا مظاہرین کے استعمال کے لیے مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ مظاہرین کے استعمال کے لیے آزاد میدان کے اندر کل 29 بیت الخلاء مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ آزاد میدان سے متصل مہاتما گاندھی مارگ پر کل تین موبائل بیت الخلاء، جن میں سے ہر ایک میں 10 بیت الخلاء دستیاب ہیں۔ آزاد میدان میں میٹرو سائٹ کے قریب ایگزیکٹو انجینئر (ٹرانسپورٹ) (مغربی مضافات) کے دفتر کی طرف سے کل 12 پورٹیبل بیت الخلا فراہم کیے گئے ہیں۔ مزید بیت الخلاء فراہم کیے جا رہے ہیں. احتجاج کے مقام پر مظاہرین کو پینے کے پانی کے لیے کل 6 ٹینکرز فراہم کیے گئے ہیں۔ اضافی ٹینکرز منگوائے گئے ہیں۔ بارش کی وجہ سے احتجاج کی جگہ کیچڑ تھی۔ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے احتجاجی مقام تک جانے والی سڑک پر موجود کیچڑ کو ہٹا کر اس سڑک پر 2 ٹرک بجری ڈال کر سڑک کو ہموار کر دیا گیا ہے۔ میڈیکل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شہریوں کے علاج اور طبی معائنے کے لیے ایک طبی امدادی کمرہ قائم کیا گیا ہے۔ 108 ایمبولینس خدمات بھی دستیاب کرائی گئی ہیں۔ برسات کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد میدان اور آس پاس کے علاقوں میں کیڑے مار دوا کا اسپرے ادویات کا چھڑکاؤ کیا گیا ہے۔ احتجاجی مقام اور آس پاس کے پورے علاقے کی صفائی کے لیے مناسب تعداد میں عملہ تعینات کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بارش، اب بتائیے یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

Published

on

Prophet-is-celebration

آمد رسول سے قبل لڑکیاں زمین میں زندہ دفن کردی جاتی تھیں، جس دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اس دن جتنی بھی ولادت ہوئی ان میں کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی، اس لئے کہ اللہ کو یہ گوارہ ہی نہیں ہوا کہ جس دن میرے محبوب کی دنیا میں آمد ہو اس دن پیدا ہونے والی لڑکی زندہ دفن ہو، یہ بات بارہا علماء کرام سے سنا گیا ہے، پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ آتش کدہ بجھ گیا جو ایک مدت سے جل رہا تھا جسے دیکھ کر لوگوں کے اندر گھمنڈ پیدا ہوتا تھا اور لوگ ظالم بن جایا کرتے تھے، آمد رسول کے موقع پر آتش کدہ کا بجھنا یہ جشن آمد رسول و خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

آمد رسول سے قبل جہالت کی انتہا تھی، عرب کے لوگ ایک ایک روٹی اور ایک ایک بوٹی کے لئے قتل وغارت گری کیا کرتے تھے، جوا اور شراب عام تھی دسترخوان پر کھانے کے ساتھ پانی نہیں شراب رکھا کرتے تھے، جوا کھیلنے میں اپنی بیویاں تک ہار جایا کرتے تھے، باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اپنی ماں کو بیوی بنا لیا کرتا تھا، بیوہ عورت کو منحوس مانا جاتا تھا، بچی پیدا ہوتی تو زمین میں زندہ دفن کردیا جاتا تھا، محمد سے پہلے تھا عالم نرالا، لگایا تھا شیطاں نے ظلمت کا تالا، کہیں تیر و نشتر کہیں تیغ و بھالا، دوشنبہ کا دن تھا سحر کا اجالا، کہ مکے میں پیدا ہوا کملی والا( صلی اللہ علیہ وسلم) سعودی عرب میں سعود خاندان کی حکومت قائم ہوئی تو 23 ستمبر کو نیشنل ڈے منایا جانے لگا، یوم سعودیہ منایا جانے لگا جبکہ نبی پاک کی ولادت کا دن انسان کی آزادی کا دن ہے، سسکتی بلکتی اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کی آزادی کا دن ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عالم انسانیت کے لئے رب کائنات کا عظیم تحفہ ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر خوشی ہوتی ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر یقیناً خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور کیا بھی جانا چاہئے۔

ہاں جشن عید میلادالنبی و جلوس محمدی کے تقدس کو برقرار رکھنا ضروری ہے نماز چھوٹنی نہیں چاہئے، کوئی بھی خلاف شرع کام نہیں ہونا چاہئے، باجا نہیں بجنا چاہئے، کیک نہیں کاٹا جانا چاہئے، کسی کی دل آزاری نہیں ہونا چاہئے اور نعرہ بھی ایسا ہی لگایا جانا چاہئے کہ اسلام کی صداقت و حقانیت کا اعلان ہو، اسلامی تعلیمات کا اعلان ہو، سیرت النبی کا اعلان ہو، اس لئے کہ ہم اس مقدس ہستی کا جشن منا رہے ہیں جو رحمۃ للعالمین ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں۔

راقم الحروف کے اس مضمون کو مسلکی نظر سے نہ دیکھا جائے جو جس مسلک کا ماننے والا ہے وہ اس پر قائم رہے یا نہ رہے یہ اس کی مرضی لیکن خدا کے واسطے اختلافات کی زنجیروں کو توڑئیے کم از کم ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جشن و خوشی کو اختلافات کا رنگ نہ دیجیے، جس کا کلمہ پڑھتے ہیں اس کی آمد پر خوشی کا اظہار کیجئیے، ہاں اسے سیر وتفریح کا ذریعہ ہرگز ہرگز نہیں بنائیے، غریبوں، مسکینوں، یتیموں کے لئے سہارا بنئیے، نزدیکی اسپتالوں میں پہنچ کر ذات برادری اور مسلک و مذہب پوچھے بغیر مریضوں کی عیادت کیجئیے، انہیں پھل فروٹ دیجئے، غریب مریضوں کا مالی تعاؤن کیجیئے، لوگوں کو پانی پلائیے یہ سب کچھ کر کے اچھا انسان بننے کا ثبوت پیش کیجئے انسانیت کو فروغ دیجئیے اور مسلمان ہونے کا حق ادا کیجئیے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر دھوکہ دہی خود ساختہ سی بی آئی افسر گرفتار

Published

on

cyber Attack

ممبئی سی بی آئی افسر بتا کر ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر شکایت کنندہ سے ایک کروڑ روپے بینک اکاؤنٹ میں وصول کرنے والا خود ساختہ سی بی آئی افسر جس نے شکایت کنندہ کو فون کر کے دلی سے ڈی سی پی سنجے اڑورہ سی بی آئی افسر اور ہائیکورٹ کا حکم وہاٹس اپ پر ارسال کر کے ایک جرم میں اس کے شریک ہونے اور ڈیجیٹل اریسٹ کی آڑ میں ایک کروڑ ٢٦ لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس میں طلب کئے اور اس کے بعد شکایت کنندہ نے پولس نے دھوکہ دہی اور سائبر فرا ڈ کا کیس درج کیا, جس کے بعد ممبئی سائبر سیل نے اس معاملہ میں تفتیش شروع کر دی اور ۳۶ گھنٹے میں بینک سے خط وکتابت کے بعد اکاؤنٹ ہولڈر کی شناخت کی اور پھر روہیت سنجے سونار ۳۳ سالہ بینک ہولڈر کو گرفتار کیا. اسی کے اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی ہوئی تھی, ملزم ضلع جلگاؤں کا ساکن ہے اس کا ساتھی دوسرا اکاؤنٹ ہولڈر ہتیش ہیمنت پاٹل ۳۱ سالہ جلگاؤں کو بھی پولس نے گرفتار کیا ہے. یہ اکاؤنٹ ہولڈر کی تفصیل بیرون ملک میں فراہم کیا کرتا تھا. اس ملزمین کے قبضے سے تین موبائل فون بھی پولس نے ضبط کئے ہیں. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں سائبر ڈی سی پی پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے. سائبر پولس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر اگر کوئی خوفزدہ کرتا ہے تو اس کے دام میں نہ آئے کیونکہ ڈیجیٹل اریسٹ کوئی چیز نہیں ہے۔ پولس کبھی بھی آن لائن اریسٹ نہیں کرتی ہے اور نہ ہی آن لائن تفتیش کی جاتی ہے, ایسے میں شہریوں کو محتاط رہنے کی اپیل پولس نے کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com