Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

عوام کو حکمراں جماعت کا ۲۲۰؍سیٹ جیتنے کا دعوی پسند نہیں آیا: پوار

Published

on

pawar

مہاراشٹر کی ستارا لوک سبھا سیٹ کے لئے ہوئے ضمنی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کے شروعاتی دور میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے شرینواس پاٹل برتری بنائے ہوئے ہیں۔ستارا سیٹ سے بی جے پی کے اودے نارائن، این سی پی کے شرینواس پاٹل، ونچت بہوجن اگادی کے چندرکانت، ہندوستان جنتا پارٹی کے وینکٹیشور مہا سوامی کے علاوہ تین آزاد النکرت ابھیجیت بچولکے، شیواجی نارائن بھونسلے، ایڈوکیٹ شیواجی راؤ جادھو انتخابی میدان میں ہیں۔چھترپتی شیواجی مہاراج کے کنبے کے مسٹر اودے نارائن بھونسلے نے ستارا سے گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں این سی پی امیدوار کے طور پر انتخاب جیتا تھا لیکن تین مہینے قبل وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے۔نیشلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی )کے سبراہ شردپوار نے جمعرات کو کہاکہ عوام نے حکمراں جماعت کے 220سیٹ پر جیت درج کرنے کے دعوے کو پسند نہیں کیا۔مسٹر پوار نے یہاں صحافیوں سے کہاکہ عوام نے لیڈروں کے پارٹی بدلنے کے قدم کو تسلیم نہیں کیا۔انھوں نے کہاکہ کچھ ماہ قبل مسٹر ادین راجے بھونسلے کو این سی پی کے ٹکٹ پر عوام نے لوک سبھا بھیجا تھا لیکن انھوں نے پارٹی چھوڑ کر لوک سبھا کی رکنیت سے دیدیا اور پھر سے انتخابی میدان میں اترے لیکن عوام نے انھیں مسترد کردیا۔این سی پی صدر نے کہاکہ کانگریس اور این سی پی کے کارکنوں نے بہت محنت کی جس کے لیے وہ سبھی کارکنوں کا شکریہ اداکرتے ہیں ۔انھوں نے کہاکہ اقتدارتو آتاجاتارہتاہے لیکن حکمراں جماعت کے لوگوں کو ہنگامہ نہیں کرنا چاہئے اور زمین سے جڑا رہنا چاہئے ۔دریں اثناء این سی پی لیڈر سپریا سولے نے میڈیا سے کہا کہ ’’آج ملک میں معاشی بدحالی، بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کا ایشو بڑا چیلنج ہے۔ اہم ایشوز کو چھوڑا جا رہا ہے اور بلاوجہ کی چیزیں میں لوگوں کو پھنسایا جا رہا ہے۔ یہ مینڈیٹ آپ کو واضح طور سے بتاتا ہے کہ لوگ کسی ایسے شخص کو چاہتے ہیں جو بہتر نتیجہ دے گا۔‘‘واضح رہے کہ نیشلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی )کے سبراہ شردپوار نے جمعرات کو کہا کہ عوام نے حکمراں جماعت کے 220 سیٹ پر جیت درج کرنے کے دعوے کو پسند نہیں کیا۔پوار نے یہاں صحافیوں سے کہا کہ عوام نے لیڈروں کے پارٹی بدلنے کے قدم کو تسلیم نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ کچھ ماہ قبل ادین راجے بھونسلے کو این سی پی کے ٹکٹ پر عوام نے لوک سبھا بھیجا تھا لیکن انھوں نے پارٹی چھوڑ کر لوک سبھا کی رکنیت سے دیدیا اور پھر سے انتخابی میدان میں اترے لیکن عوام نے انھیں مسترد کر دیا۔این سی پی صدر نے کہا کہ کانگریس اور این سی پی کے کارکنوں نے بہت محنت کی جس کے لیے وہ سبھی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اقتدار تو آتا جاتا رہتا ہے لیکن حکمراں جماعت کے لوگوں کو ہنگامہ نہیں کرنا چاہئے اور زمین سے جڑا رہنا چاہئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com