Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں محرم کی رسومات کا پر امن اختتام

Published

on

(خیال اثر)
کورونا بیماری کے چلتے لاک ڈاؤن کی وجہ سے گزشتہ پانچ مہینے میں جو تہوار اور مواقع آئے، سب پابندی کی نذر ہو گئے. عرس، اجتماع، وعظ کے پروگرام تو دور، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز کی بھی اجازت نہیں دی گئی. اس لئے محرم الحرام کی رسومات اور تعزیہ داری کی اجازت مل سکے گی یا نہیں؟ اس تعلق سے تعزیہ داروں کے علاوہ عام مسلمان بھی فکر اور تشویش میں مبتلا تھے. ایسے وقت میں دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ سنی تعزیہ کمیٹی کے نے بھی مہاراشٹر حکومت تک اپنی بات پہنچائی. جس کی وجہ سے حکومت نے اپنی گائیڈ لائن میں واضح طور پر تعزیہ رکھنے کی اجازت دے دی. اب مسئلہ یہ تھا کہ بیماری نا پھیلے، اس کی روک تھام کے لئے تعزیہ کے پاس بھیڑ بھاڑ کو روکنے کے لئےمناسب احتیاط اور انتظام کرتے ہوئے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے رسومات ادا کی جائے. سب سے بڑا مسئلہ تعزیہ کو لے کر جانے کا تھا. کیونکہ اس کی اجازت سرکار نے نہیں دی.
سنی تعزیہ کمیٹی نے اپنی حکمت عملی کے تحت بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے سرکاری انتظامیہ، محکمہ پولیس اور میونسپل کارپوریشن سے ہر ممکن سہولیات اور چھوٹ حاصل کرنے کی کوشش کی، اور مناسب انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا.اور اللہ نے سنی تعزیہ کمیٹی کے ارکان کی زبان میں وہ اثر دیا کہ ہر جگہ ہماری بات سنی بھی گئی اور مانی بھی گئی.اور آج محرم الحرام کی تمام تقریبات خصوصاً تعزیہ داری کی تمام رسومات قانون کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے پوری احتیاط کے ساتھ پر امن طریقے سے اور اپنی روایتی شان و شوکت کے ساتھ انجام دی گئی.اور آخری مرحلہ تعزیہ کو کربلا یا امام باڑے تک لے جانے کا بھی کارپوریشن کے تعاون سے مکمل کیا گیا.اس طرح سنی تعزیہ کمیٹی نے ہر جگہ مناسب نمائندگی کرتے ہوئے جس طرح کی سہولیات اور انتظامات فراہم کروائے، اس کے لئے تعزیہ داروں کے ساتھ ساتھ شہر کے ہر مکتبہ فکر کے مسلمانوں کی جانب سے اطمینان کا اظہار کیا جارہا ہے.
درمیان میں کچھ ایسے لوگ بھی منظر عام پر آئے، جو سال بھر کہیں نظر نہیں آتے. اور سنی تعزیہ کمیٹی کے بر خلاف خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کی. اس کے لئے کچھ اخبارات میں ایسے بیانات دیئے، مانو گاڑی انہیں لوگوں نے کھینچی ہے. جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی حرکتوں سے صرف مشکلیں بڑھائیں تھی. گنپتی وسرجن کے لئے جس طرح تیرہ جگہوں پر پوائنٹ بنا کر گاڑیوں کا انتظام کارپوریشن نے کیا، اسی طرح کا کوئی انتظام تعزیہ کے لئے کرنے کا مطالبہ جب سنی تعزیہ کمیٹی نے پولس کنٹرول روم کی میٹنگ میں کیا، تو وہ لوگ مخالفت میں خوب چینخ وپکار کر رہے تھے، مگر سنی تعزیہ کمیٹی کے مطالبے کو منظور کرتے ہوئے عملی کاروائی شروع ہوئی تو اخبارات میں ایسے بیان شائع کروائے گئے کہ سب ان کا ہی کارنامہ ہے. جبکہ شہریان بخوبی جانتے ہیں کہ کون کام کرتا رہتا ہے، اور کون کام کروانے کی صلاحیت رکھتا ہے.
بہر حال! اراکین سنی تعزیہ کمیٹی اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہیں، کہ سب کچھ اطمینان کے ساتھ اختتام پذیر ہوا. اسی طرح تمام سرکاری آفیسران، کارپوریشن محکمہ اور خصوصی طور پر پولیس محکمہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ پولس ڈپارٹمنٹ نے شہر کے امن کے لئے اپنے ڈیوٹی سے محنت بھی کی اور تعاون کیا. ہم شہر کی عوام کے بھی شکر گزار ہیں کہ عوام کے تعاون کے بغیر تو یہ ممکن ہی نہیں تھا.
ریاض احمد عطر والے(صدر سنی تعزیہ کمیٹی )، جاوید انور(سکریٹری) اور تمام عہدے دار و اراکین سنی تعزیہ کمیٹی، مالیگاؤں کی جانب سے تمام ہی لوگوں کا شکریہ ادا کیا گیا.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان