Connect with us
Friday,04-September-2026

سیاست

بیمہ بل پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا شدید ہنگامہ، کاروئی چار مرتبہ ملتوی

Published

on

Rajya Sabha

بیمہ کمپنیوں میں غیر ملکی پونجی کی حد بڑھانے والے بیمہ ترمیمی بل 2021 کے سلسلے میں راجیہ سبھا میں جمعرات کو کانگریس سمیت اپوزیش پارٹیوں نے شدید ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے ایوان کی کاروائی چار مرتبہ ملتوی کرنا پڑی۔

ظہرانے کے وقفے کے بعد ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ایوان کی کاروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیر خزانہ سیتا رمن کا نام بحث کے مقصد سے بل پیش کرنے کے لیے پکارا تو اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ اس بل میں بیمہ کمپنیوں میں براہ راست پونجی کی حد 74 فیصد کرنے کا التزام کیا گیا ہے، جو ملک کے عوام کے لیے بہت خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں کئی کمیاں ہیں جنھیں دور کرنے کے لیے اسے ایوان کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجا جانا چاہیے۔

قبل ازیں کانگریس کے ہی رکن شکتی سنگھ گوہل نے بھی ایک خط لکھ کر بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ انہوں نے مسٹر کھڑگے کی بات بھی سنی ہے اور گوہل کا خط بھی پڑھا لیکن اراکین کو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ یہ بل 15 مارچ کو ہی ایوان میں پیش کیا گیا تھا لہٰذا اراکین کو اس بارے میں اپنا نوٹس وقت رہتے دینا چاہیے تھا لیکن اب موقع نکل گیا ہے اور اب ایوان میں بحث کے بعد ووٹنگ کے ذریعے ہی فیصلہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ بل پہلے ہی پیش ہو چکا ہے۔
قبل ازیں محترمہ سیتا رمن نے بل کو بحث کے لیے پیش کر دیا۔

بعد ازاں کانگریس، سماجوادی پارٹی، اے اے پی، آر جے ڈی، شیو سینا اور بائیں بازو کی پارٹیوں کے اراکین چیئر قریب آکر نعرے بازی کرنے لگے جسے دیکھتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین نے دو بج کر 32 منٹ پر ایوان کی کاروائی 10 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔

قبل ازیں بی جے پی کے رکن بھوپیندر یادو نے کہا کہ بیمہ بل کو جانچنے کے لیے اسیٹینڈنگ کمیٹی میں پہلے بھی بھیجا گیا تھا اور دیگر کئی سطح پر بھی اس کے بارے میں تفصیل سے غور وخوض کیا گیا ہے۔

10 منٹ کے بعد پریسائزڈ ڈپٹی چیئرمین سسمِت پاترا نے ایوان کی کاروائی تین بجے تک ملتوی کر دی۔
تین بجے بھی کاروائی شروع ہونے کے بعد ایوان میں بد نظمی کا ماحول دیکھتے ہوئے ایوان کی کاروائی سوا تین بجے تک ملتوی کرنا پڑی۔

بعد ازاں ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ایک بار پھر ایوان کی کاروائی بہتر ڈھنگ سے چلانے کے لیے اپوزیشن اراکین سے تعاون کرنے کی اپیل کی لیکن اراکین کے خاموش نہ ہونے پر انہوں نے ہنگامے کے درمیان ہی بحث شروع کروا دی۔ بعد میں ایوان میں ہنگامے کے پیش نظر انہوں نے ساڑھے تین بجے کاروائی 15 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بین الاقوامی خبریں

بلوچستان میں پاکستانی فوجی کارروائیوں کے دوران ایک شخص ہلاک، 25 افراد مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتا

Published

on

انسانی حقوق کی ایک سرکردہ تنظیم نے جمعہ کے روز بلوچستان کے ضلع خضدار کے زہری علاقے میں پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں شدت لانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ رہائشی علاقوں پر ڈرون حملے میں ایک خاتون ہلاک اور دو دیگر زخمی جبکہ 25 شہریوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بلوچ وائس فار جسٹس (بی وی جے) نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے مبینہ طور پر پانی جمع کرنے کے لیے دو خواتین کو ڈرون حملے میں ہلاک کیا تھا۔ ایک اور خاتون سمیت دیگر افراد مبینہ طور پر زخمی ہوئے۔ اس میں بتایا گیا کہ مرنے والوں کی شناخت اور زخمیوں کی موجودہ حالت کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے، حقوق کی تنظیم نے مزید کہا کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز نے مبینہ طور پر 25 مقامی باشندوں کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔ یہ واقعہ زہری میں طویل کرفیو کے درمیان پیش آیا ہے جو مبینہ طور پر کئی مہینوں سے برقرار ہے۔

“موبائل فون سروسز مبینہ طور پر زہری بھر میں کرفیو کی وجہ سے معطل کر دی گئی ہیں، متاثرہ کمیونٹیز کے ساتھ رابطے کو سختی سے محدود کر دیا گیا ہے۔ اس مواصلاتی بلیک آؤٹ نے مبینہ طور پر جبری گمشدگیوں کے ساتھ ساتھ مبینہ طور پر ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے بارے میں قابل اعتماد معلومات حاصل کرنا مشکل بنا دیا ہے۔” بی وی جے نے کہا۔ انہوں نے کہا، “شہریوں کو نشانہ بنانا، لوگوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا، اور معلومات اور مواصلات تک رسائی کو محدود کرنا انسانی حقوق کے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے اور فوری، آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔” بی وی جے نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ زہری میں ہونے والی زیادتیوں کی تحقیقات کریں، پاکستانی حکام سے تمام لاپتہ افراد کے ٹھکانے اور حفاظت کے بارے میں معلومات کا مطالبہ کریں، جبکہ شہریوں کو مزید نقصان پہنچانے سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

بلوچستان کے علاقے تربت میں ایک اور واقعے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے سڑکوں کی من مانی بندش کو شہریوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے اور پاکستان کی فرنٹیئر کور (ایف سی) کی جانب سے عوام کے خلاف کیے جانے والے تشدد کو “انتہائی قابل مذمت” قرار دیا ہے۔ رک گئے، اور سڑکیں کئی گھنٹوں تک بند رہیں۔ اس کے نتیجے میں اسکول جانے والے بچوں، مریضوں، ڈاکٹروں، اسپتال کے عملے اور کاروباری افراد سمیت ہزاروں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جب مریضوں اور سینئر ڈاکٹروں نے سڑک کی بندش کے بارے میں سوال اٹھایا تو ایف سی کی جانب سے ان پر تشدد کیا گیا، ایک ڈاکٹر کی طرف رائفل تان کر اسے گولی مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔اس واقعے سے قبل مریضوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ تربت ٹیچنگ ہسپتال میں مریضوں، اور ہسپتال کے عملے نے کرفیو جیسی صورتحال کے خاتمے اور شہریوں کے خلاف تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی ڈیوٹیوں کا بائیکاٹ کیا۔” بی وائی سی نے کہا۔

“یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ بلوچستان میں وسائل کو نام نہاد “جعلی بیانیہ” بنانے کے لیے خرچ کیا جا رہا ہے جب کہ اسی مقصد کے لیے عام شہریوں کو ان کی نقل و حرکت کی بنیادی آزادی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں شہریوں کی زندگی کو سیکورٹی کے نام پر مسلسل پابندیوں اور جبر کے تحت رکھنا کسی بھی طرح سے ناقابل قبول ہے۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ٹیکسی اور رکشہ کے میٹر میں چھیڑ چھاڑ کرکے عام مسافروں سے دھوکہ دہی کرنے اور میٹر میں تکنیکی ڈیوائس لگانے والے 5 گرفتار

Published

on

ممبئی : 2 ستمبر کو صبح تقریباً 8 بجے پولیس سپاہی نلیش سالونکے کو اپنے مخبر کے ذریعے اطلاع ملی کہ دہیسر علاقے میں متعدد رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور اپنے کرایہ میٹر میں ایک مخصوص آلے کا استعمال کر کے مصنوعی طور پر کرایہ بڑھا رہے ہیں اور مسافروں سے مالی دھوکہ دہی کر رہے ہیں۔ مذکورہ اطلاع سینئر افسران کو دی گئی، جس کے بعد انہوں نے اطلاع کی تصدیق کر کے مزید کارروائی کرنے کے احکامات جاری کیے۔ اطلاع کی تصدیق کے لیے یکم ستمبر کو شام کے وقت ایک فرضی مسافر کو ٹیکسی نمبر ایم ایچ ۰۱ سی جے ۶۴۸۷ میں سفر کے لیے بھیجا گیا۔ متعلقہ ٹیکسی ڈرائیور نے اپنے کرایہ میٹر کو ڈھانپ رکھا تھا۔ اس کی مشکوک حرکات کے باعث ٹیکسی ڈرائیور کو ٹیکسی سمیت حراست میں لے لیا گیا۔

بعد ازاں علاقائی ٹرانسپورٹ محکمہ، بوریولی-کانڈیولی، دہیسر ایسٹ، ممبئی سے خط و کتابت کر کے مذکورہ ٹیکسی کی جانچ کروائی گئی۔ جانچ کے دوران ٹیکسی کے کرایہ میٹر میں الیکٹرانک رننگ سرکٹ ڈیوائس کو غیر قانونی طور پر تار کے ذریعے جوڑ کر چھیڑ چھاڑ کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ اس ڈیوائس کے ذریعے کرایہ مصنوعی طور پر بڑھایا جاتا تھا، جس کے ذریعے عام مسافروں کو دھوکہ دیا جا رہا تھا۔ مزید تفتیش میں معلوم ہوا کہ ٹیکسی نمبر ایم ایچ ۰۱ سی جے ۶۴۸۷ میں یہ ڈیوائس امین رمضان پٹھان، عمر 31 سال، پیشہ رکشہ ڈرائیور/الیکٹریشن، عرف اسلام نے نصب کی تھی۔ اس سے پوچھ گچھ کے بعد مزید چار ٹیکسیوں اور رکشوں کے کرایہ میٹر میں بھی الیکٹرانک رننگ سرکٹ ڈیوائس کو غیر قانونی طور پر تار کے ذریعے جوڑ کر چھیڑ چھاڑ کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ اس معاملے میں دہیسر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ نمبر ۱۲۹۳/۲۶ درج کیا گیا ہے۔ ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا ۲۰۲۳ کی دفعہ ۳۱۸(۴) اور موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعات ۳۳، ۳۵ اور ۱۴۵(اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ضبط کی گئی گاڑیاں

گوکل آنند ہوٹل کے قریب، اشوک ون، دہیسر ایسٹ، ممبئی سے کرایہ میٹر میں چھیڑ چھاڑ والی ٹیکسیاں اور رکشے ضبط کیے گئے :

  • ماروتی سوزوکی کمپنی کی کالی پیلی ٹیکسی نمبر ایم ایچ ۰۱ سی جے ۶۴۸۷
  • بجاج کمپنی کا کالی پیلی رکشہ نمبر ایم ایچ ۰۲ ڈی یو ۰۷۷۷
  • بجاج کمپنی کا کالی پیلی رکشہ نمبر ایم ایچ ۰۳ بی وائی ۴۲۶۸
  • ماروتی سوزوکی کمپنی کی کالی پیلی ٹیکسی نمبر ایم ایچ ۰۲ بی کیو ۷۳۹۲
  • ماروتی ارتیگا کول کیب نمبر ایم ایچ ۰۱ ای ایم ۶۰۴

ضبط شدہ سامان

کرایہ میٹر میں چھیڑ چھاڑ کے لیے استعمال کیا جانے والا الیکٹرانک رننگ سرکٹ اور اس سے متعلق دیگر سامان بھی ضبط کیا گیا۔

گرفتار ملزمان

  1. ظہیب الطاف دیشمکھ، عمر ۳۲ سال
  2. امین رمضان پٹھان، عمر ۳۱ سال
  3. ریاض عبدالغنی شیخ، عمر ۴۵ سال
  4. نذیر ابراہیم پٹیل، عمر ۵۷ سال
  5. آنند کمار نانک پرساد رائے، عمر ۶۰ سال

.پولیس نے تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گیٹ وے آف انڈیا پر سمندری کشتی میں خرابی کے سبب پولس کی مدد سے کشتی اور مسافروں کو بحفاظت باہر نکالا

Published

on

speed-boat-accident

ممبئی : گیٹ وے آف انڈیا سمندر میں پولس نے بحفاظت سمندری کشتی اور مسافروں کو باہر نکالا۔ سمندر میں فیری بوٹ کشتی ‘انواری’ جو گیٹ وے آف انڈیا سے نصف گھنٹے کی سمندری سیر کرتی ہے۔ تقریباً 1.5 ناٹیکل میل کے فاصلے پر سمندر میں ٹوٹ گئی، جب کہ ساڑھے بجے کے قریب گیٹ وے پر واپس لوٹی۔ جہاز میں کل 38 افراد سوار تھے جن میں 34 مسافر اور 4 عملے کے ارکان شامل تھے۔کنٹرول روم سے یہ اطلاع ملتے ہی پولیس کانسٹیبل ابھیجیت شندے اور بیٹ نمبر 01 کے پولیس نائک گورو نے فوری طور پر صورتحال کی سنگینی کو سمجھ لیا اور آس پاس کی دیگر کشتیوں کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کی۔ انہیں معلوم ہوا کہ فیری بوٹ ‘آزاد ہند’ پھنسے ہوئے جہاز کے قریب ہے۔

اس کے بعد انہوں نے ‘آزاد ہند’ کے مالک جنید ملا سے رابطہ کیا، اور ‘آزاد ہند’ کو معذور کشتی کے مقام پر بھیجنے کا بندوبست کیا۔ ‘آزاد ہند’ فوری طور پر پہنچا، ‘انواری’ کو واپس کھینچ لیا اور گیٹ وے آف انڈیا پر بحفاظت جیٹی نمبر 2 پر لے آیا۔ جہاز میں سوار تمام 34 مسافر اور عملے کے 4 ارکان محفوظ ہیں۔ ممبئی پولس کے کانسٹیبلوں کی حاضر دماغی اور تعاون کے سبب مسافروں اور کشتی کو بچایا گیا اس کی سوشل میڈیا پر بھی ستائش کی جارہی ہے جبکہ جو کشتی سمندر میں پھنس گئی تھی وہ ٹوٹ گئی تھی اور آگے سفر سے قاصر تھی اس لیے پولس نے فوری امداد پہنچائی جس کے سبب بڑا حادثہ ٹل گیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان