Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

اب ایسا لگتا ہے ملک میں عدالتوں کی کوئی ضرورت نہیں؟ مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق قانون سے چھیڑچھاڑ انتہائی خطرناک، انتظامیہ کا مظاہرین کے درمیان مذہب کی بنیاد پر تفریق افسوسناک : مولانا ارشد مدنی

Published

on

Maulana Arshad Madani

جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ نے ملک کی موجودہ صورتحال پر سنجیدگی سے غور وخوض کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت، شدت پسندی، امن وقانون کی ابتری اور مسلم اقلیت کے خلاف بدترین امتیازی رویہ پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ یہ تشویش کا اظہار صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس کا کیا گیا۔ دوسری طرف مولانا مدنی نے کہا کہ پورے ملک میں بدامنی، افراتفری، فرقہ واریت اور لاقانونیت اپنی انتہا پر ہے، ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے ان کے آئینی وجمہوری اختیارات چھینے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں دعوٰی کیا گیا کہ ملک کے امن و اتحاد اور یکجہتی کے لئے یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے، دعوٰی کیا گیا حکمرانوں کے ذریعہ آئین وقانون کی پامالی کی یہ موجودہ روش ملک کے جمہوری ڈھانچہ کو تار تار کرسکتی ہے، اس موقع پر اجلاس میں اتفاق رائے سے جو تجاویز منظور ہوئیں ان میں سے دو اہم تجاویز میں کہا گیا کہ جناب نبی کریم ﷺ کی شان میں جن لوگوں نے گستاخی کی جرأت کی ہے، ان کی معطلی ہی کافی نہیں، بلکہ انہیں فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق ایسی سخت سزا دی جانی چاہئے، جو دوسروں کے لئے باعث عبرت ہو۔

دوسری اہم تجویز میں کہا گیا ہے کہ مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق 1991ء کے اہم قانون میں ترمیم کی کسی بھی کوشش کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، تجویز میں کہا گیا ہے کہ ترمیم یا تبدیلی کے بجائے اس قانون کو مضبوطی سے لاگو کیا جانا چاہئے، جس کے سیکشن 4/ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ”یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ 15/ اگست 1947ء میں موجود تمام عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت ویسی ہی رہے گی جیسی کہ اس وقت تھی“ سیکشن 4 (2) میں کہا گیا ہے کہ اگر 15/ اگست 1947ء میں موجودکسی بھی عبادت گاہ کی مذہبی نوعیت کی تبدیلی سے متعلق کوئی مقدمہ، اپیل یا کوئی کارروائی کسی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی میں پہلے سے زیر التواء ہے، تو وہ منسوخ ہو جائے گی۔ اور اس طرح کے معاملہ میں کوئی مقدمہ، اپیل یا دیگر کارروائی کسی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی کے سامنے اس کے بعد پیش نہیں ہوگی، اسی لئے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں جو پٹیشن داخل ہے، جمعیۃ علماء ہند اس میں مداخلت کار ہے۔

مجلس عاملہ کے اس اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ عاملہ کا یہ اجلاس ایک ایسے نازک وقت میں منعقد ہو رہا ہے کہ جب پورے ملک میں بدامنی، افراتفری، فرقہ واریت اور لا قانونیت اپنی انتہا پر ہے، ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے ان کے آئینی وجمہوری اختیارات چھینے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کے ذریعہ کئے جانے والے پرامن احتجاج کو بھی ملک دشمنی سے تعبیر کر کے قانون کی آڑ میں ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے رسول اقدس ﷺ کی شان میں دانستہ گستاخی کی گئی، اور ان گستاخوں کی گرفتاری کے مطالبہ کو لیکر جب مسلمانوں نے احتجاج کیا تو ان پر گولیاں اور لاٹھیاں برسائی گئیں، گرفتاریاں ہوئیں یہاں تک کہ اس کی پاداش میں بہت سے لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر چلوا دیا گیا، سنگین دفعات کے تحت مقدمات قائم کئے گئے ہیں، یعنی جو کام عدالتوں کا تھا اب وہ حکومتیں کر رہی ہیں۔ اب نہ ملک میں عدالتوں کی ضرورت ہے اور نہ جج درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر ہندوستانی شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن موجودہ حکمرانوں کے پاس احتجاج کو دیکھنے کے دو پیمانہ ہیں، مسلم اقلیت احتجاج کرے تو ناقابل معافی جرم؛ لیکن اگر اکثریت کے لوگ احتجاج کریں اور سڑکوں پراتر کر پرتشدد کاروائیاں انجام دیں اور پوری پوری ریل گاڑیاں اور اسٹیشن پھونک ڈالیں تو انہیں تتر بتر کرنے کے لئے ہلکا لاٹھی چارج بھی نہیں کیا جاتا، انتظامیہ کا مظاہرہ اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر تفریق افسوسناک ہے۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ فوج میں ٹھیکہ کے نوکری کے خلاف ہونے والا پرتشدد احتجاج اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، احتجاجیوں نے جگہ جگہ ٹرینوں میں آگ لگائی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، پولس پر پتھر بازی کی تو وہی پولس جو مسلمانوں کے خلاف تمام حدیں توڑ دیتی ہے خاموش تماشائی بنی رہی اس پرتشدد احتجاج کو لیکر جو لوگ گرفتار کئے گئے ہیں ان کے خلاف ایسی ہلکی دفعات لگائی گئی ہیں کہ تھانہ سے ہی ان کی ضمانت ہوسکتی ہیں۔ اتر پردیش پولس کا ایک بڑا افسر ان واقعات پر یہ کہتا ہے کہ یہ ہمارے ہی بچے ہیں ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔

مولانا مدنی نے سوال کیا کہ اپنے رسولؐ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف پر امن احتجاج کرنے والے کیا دشمن کے بچے تھے؟ انہوں نے کہاکہ اب اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے، ایک بھارت شریشٹھ بھارت اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگانے والوں نے قانون کو بھی مذہبی رنگ دیدیا ہے، اکثریت کے لئے قانون الگ ہے، اور اقلیت کے لئے الگ، سوال یہ ہے کہ اب اگر ملک میں پر امن احتجاج کرنا جرم ہے تو جن لوگوں نے پرتشدد احتجاج کیا ان کے گھروں کو ابتک مسمار کیوں نہیں کیا گیا؟ مولانا مدنی نے آگے کہا کہ گستاخی کرنے والے لیڈروں کی معطلی کا جو خط بی جے پی کے دفتر کی طرف سے لکھا گیا تھا اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ پارٹی ملک کے آئین پر عمل کرتی ہے، اور تمام مذاہب کے تئیں احترام کا جذبہ رکھتی ہے، اگر ایسا ہے تو گستاخی کرنے والے لیڈر اب تک آزاد کیوں ہیں؟ جو لوگ گستاخی کرنے والوں کے خلاف احتجاج کریں، انہیں سنگین دفعات لگا کر جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے، اور جن لوگوں کی دریدہ دہنی کی وجہ سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے وہ اب بھی آزاد ہیں، کیا قانون کے دوہرے استعمال کی اس سے بدترین کوئی دوسری مثال ہوسکتی ہے؟

مولاںا مدنی نے یہ بھی کہا کہ اگنی پتھ اسکیم کے خلاف نوجوانوں کا ملک بھر میں پرتشدد احتجاج حکومت کے لئے ایک انتباہ ہے، اگر ملک کی ترقی کے بارے میں نہیں سوچا گیا، روزگار کے وسائل نہیں پیدا کئے گئے، پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکریاں نہیں دی گئیں، تو وہ دن دور نہیں جب ملک کے تمام نوجوان سڑکوں پر ہوں گے۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ مذہب کا نشہ پلاکر عوام کو بہت دنوں تک بنیادی مسائل سے گمراہ نہیں کیا جا سکتا، روٹی کپڑا اور مکان انسان کی وہ بنیادی ضرورت ہے جسکو نظر انداز کیا جانا ملک کی فلاح وبہبود کے لئے اچھی علامت نہیں، اب بھی وقت ہے حکومت ہوش کے ناخن لے مذہب اور نفرت کی سیاست ترک کر کے عوام بالخصوص نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچے ورنہ وہی سب کچھ یہاں بھی شروع ہو سکتا ہے، جس کا نظارہ پوری دنیا سری لنکا میں کر چکی ہے۔ مولانا مدنی نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ اس کا حل کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بنیادی مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ملک میں نفرت اور مذہبی شدت پسندی کا جو طوفان برپا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ ٹی وی چینلوں پر جو نفرت سے بھری شرانگیز بحثیں ہوتی ہیں، اس پر پابندی لگائی جائے اس سلسلہ میں حکومت کو بہت پہلے سے سخت موقف اختیار کرنا چاہئے تھا، لیکن ہمارے تمام تر مطالبوں کے باوجود حکومت نے ایسا نہیں کیا؛ چنانچہ مجبور ہو کر جمعیۃ علماء ہند کو اس کے خلاف عدالت میں پٹیشن داخل کرنی پڑی، اس پٹیشن پر اب تک 13/ سماعتیں ہو چکی ہیں؛ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ اس پر اب تک حتمی بحث نہیں ہوسکی ہے، انہوں نے کہاکہ ملک سے اس وقت تک نفرت کا خاتمہ نہیں ہوسکتا جب تک ان متعصب ٹی وی چینلوں پر ہونے والی یکطرفہ اور جانبدارانہ رپورٹنگ اور بحثوں پر پابندی نہیں لگائی جاتی انہوں نے آخر میں کہا کہ اب پانی سر سے اوپر ہوتا جارہا ہے، اگر اب بھی حکومت نے اس تعلق سے کچھ نہیں کیا تو ملک میں امن واتحاد خطرہ میں پڑ سکتا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند سیاسی جماعتوں، ملک کے دانشوروں، سماجی تنظیمیں اور مختلف شعبہئ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ اپنے اثرات کا استعمال کر کے ملک کے بگڑتے ہوئے ماحول کو بچانے کی کوشش کریں، جس نے ملک کی یکجہتی، آئین ودستور اور سلامتی کے شدید خطرات پیدا کر دیئے گے ہیں۔

اجلاس میں جاری ٹرم کے لئے مفتی سید معصوم ثاقب کو ناظم عمومی نامزد کیا گیا، شرکاء میں مولانا عبد العلیم فاروقی لکھنو، جناب گلزار احمد اعظمی سکریٹری قانونی امداد کمیٹی جمعیۃ علماء مہاراشٹر، مفتی غیاث الدین احمدرحمانی، مولانا اشہد رشیدی، مولانا مشتاق احمد عنفر، مولانا عبد الہادی پرتاپ گڑھی، مولانا سید اسجد مدنی دیوبند، فضل الرحمن قاسمی، مولانا عبدالرشید قاسمی، مولانا مفتی محمد اسماعیل قاسمی، مولانا قاری شمس الدین، حاجی سلامت اللہ دہلی، مفتی اشفاق احمد سرائے، مولانا بدر احمد مجیبی، مفتی عبد القیوم منصوری، جناب فضیل احمد ایوبی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ کے علاوہ مولانا حلیم اللہ قاسمی، مولانا عبد القیوم قاسمی، مفتی محمد احمد، مفتی محمد راشد، مولانا محمد مسلم قاسمی، جناب شاہد ندیم ایڈوکیٹ، مفتی حبیب اللہ قاسمی راجستھان، مولانا محمد خالد قاسمی اور مولانا مکرم الحسینی بیگوسرائے بطور مدعو خصوصی شریک ہوئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان