Connect with us
Friday,10-April-2026

سیاست

ضلع کے حدود ابھی کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں، لاک ڈاؤن کے بارے میں صحیح فیصلہ ۳؍ مئی کے بعد لیا جائے گا: وزیر اعلی

Published

on

(محمد یوسف رانا)
۳؍ مئی کے بعد ریاستی علاقوں کا جائزہ لینے کے بعد ریاست میں لاک ڈاؤن کے تعلق سےفیصلہ لیا جائے گا۔ کل (پیر) وزیر اعظم کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اس طرح کا اظہار وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے آج سہ پہر براہ راست نشریات کے ذریعے عوام سے خطاب کے دوران کیا- وزیراعلیٰ نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کے تمام مذاہب نے ملک کے تئیں یکساں فرض شناسی اور انسانیت کا مظاہرہ کیا تو کرونا کے خلاف جاری جنگ میں ہمیں جیت حاصل ہوگی۔
وزیر اعلی نے ریاست کے عوام کو اکشے ترتیا اور مسلمان بھائیوں کو رمضان کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے مہاتما بسویشور جینتی کے موقع پر بھی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کرونا سے متاثرہ علاقوں میں حکومت نے شرائط و ضوابط کے تحت۲۰؍اپریل کے بعد کچھ کاروبار شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ریاست میں زرعی کاموں، زرعی اجناس اور ضروری اشیاء کی نقل و حمل کا کام جاری ہے۔ کپاس کی خریداری کے مراکز شروع کردیئے گئے ہیں۔ پھلوں کی آمدورفت شروع ہوگئی ہے۔ ہم گھر پر پھل پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ مہاراشٹر کے اضلاع کی حدود بند ہیں، انہیں نہیں کھولا جائے گا لیکن کچھ اضلاع کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا ۳؍ مئی کے بعد وہاں کچھ اور نرمی کی جاسکتی ہے یا نہیں۔
حب الوطنی اور انسانیت کو ترجیح دینے اور تمام تہواروں کو گھروں میں آسان طریقے سے منانے پر ریاست کے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے ریاست کے مسلمانوں سے رمضان کے دوران گھر میں نماز ادا کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ آج کی صورتحال میںصبر وضبط کا مظاہرہ کرنا ہی ہماری طاقت ہے موجودہ حالات میں ڈاکٹر، نرسیں، حفظان صحت کا عملہ، صفائی کامگار اور پولیس ہمارے لئے ایک مسیحاہیں۔ جو ہماری صحت کے لئے اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرنا بہت ضروری ہے۔
وزیر اعلی نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بغیر کسی سیاست کے مہاراشٹر کے لئے ہر ممکن مدد کا وعدہ کیا ہے جس کے ہم شکر گذار ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ دوسری ریاستوں کے مزدور مہاراشٹر میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں اپنے وطن بھیجنے کے لئے لائحہ عمل اور منصوبہ بندی جاری ہے۔ اگرچہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرین شروع نہیں ہوگی، لیکن مرکزی حکومت کی رہنمائی اور منظوری کے بعد انہیں بحفاظت گھر بھیجنے کا انتظام کیا جائے گا۔وزیر اعلی نے یہ بھی بتایا کہ بڑے صنعت کاروں جیسے ٹاٹا، ریلائنس، وِپرو، مہیندر اینڈ مہندر، برلا اور دیگر نے ریاست کی بہت مدد کی ہے اور ان سب کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وزیر اعلی نے بتایا کہ ریاست سے کچھ طلبا کو لانے کے انتظامات کیے جارہے ہیں جو راجستھان کے کوٹہ شہر میں پھنسے ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بتایا کہ ریاست کی صورتحال کا جائزہ لینے مرکزی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی ٹیم ایک ہفتہ سے ریاست میں خیمہ زن ہے اور ہم نے ان سےگذارش کی ہے کہ وہ ہماری ناہلی کی نشاندہی کریں اور اگر کوئی کوتاہی ہے تو ہم نے انتظامیہ کو ان کی ہدایت پر عمل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ممبئی اور پونے کی عوام کو غفلت سے باہر آنا ہوگا کرونا وائرس خطرناک ہے اور ہماری ذرا سی لاپرواہی ہمیں بڑا نقصان دے سکتی ہے۔ وزیر اعلی نے واضح کیا کہ 80 فیصد کرونا کے متاثرین میں کرونا کی علامتیں ظاہر نہیں ہوتی ہے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ایک دوسرے سے دور رہنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 20 فیصد لوگوں میں شدید علامات پائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ صورتحال کب بدلے گی، جب لاک ڈاؤن ختم ہوگا، لیکن اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہم وائرس کے اثرات کو روکنے میں کامیاب رہے ہیں ۔ہم نے مریضوں کی بڑھتی تعداد کو کنٹرول کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں، ماہرین کی رہنمائی، دنیا بھر کے موجودہ واقعات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، ہم تحقیق پر توجہ دے رہے ہیں۔ ہم کسی ایک معمولی نقطہ کو نظرانداز نہیں کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کی ساری دنیا میں تعریف کی جارہی ہے، ہمارے ملک نے صبر، تحمل اور اعتماد کی طاقت سے بحران کا سامنا کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ سب کا احتیاط اورکرونا کے خلاف جنگ میں سب کا اتحاد بے مثال رہا ہے۔
ریاست میں کرونا سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور علاج مہیا کیا جارہا ہے، وزیر اعلی نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی واقعے کی صورت میں پولیس کیا کرتی ہے۔ لیکن آج وہی پولیس دن رات خدمات انجام دے رہی ہے، بدقسمتی سے دو پولیس اہلکار کرونا کی وجہ سے فوت ہوگئے، حکومت پولیس کے کنبے کے پیچھے کھڑی ہے ان سب کو مدد فراہم کرے گی۔ہمیں ان پر کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ پولیس، ڈاکٹر، نرسیں اور صحت کے کارکن اپنی صحت کو خطرے میں ڈال کر کام کررہے ہیں۔
وزیر اعلی نے کہا کہ ریاست میںعوام کی صحت کے لئے سہولیات میں مزید اضافہ کیا ہے ۔ مریضوں کوالگ تھلگ رکھنے کے لئے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہاٹ اسپاٹ اور کنٹینمنٹ زون کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی ٹیم نے ورلی کولی واڑامیں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں کمی کرنے والے اقدامات کی سراہنا کی ہے۔ مہاراشٹر میں اب تک 1 لاکھ 8 ہزار 972 ٹیسٹ ہوچکے ہیں جن میں سے 1 لاکھ 1 ہزار 162 افراد کی کرونا رپورٹ منفی آئی ہے۔ بدقسمتی سے 323 افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں پلازما تھراپی کی اجازت دی گئی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو پرمٹ اور لائسنس کے لیے مراٹھی لازمیت قطعا درست نہیں, پہلے مراٹھی زبان سکھائی جائے : ابوعاصم

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر میں رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے پرمٹ اور لائسنس کے لئے مراٹھی لازمیت درست نہیں ہے ہر صوبہ کی اپنی زبان ہے یہ لازمی ہونی چاہئے, لیکن اس سے قبل اگر مراٹھی کو لازمی کرنا ہے تو پہلے مراٹھی زبان سکھانے کے لیے اسکول کھولی جائے اور ان لوگوں کو مراٹھی سکھائی جائے جو اس سے نابلد ہے۔ ہر ملک میں اپنی زبان بولی جاتی ہے تو ملک کی زبان ہندی کہاں بولی جائے گی۔ اس ملک کی ہر ریاست کی اپنی زبان ہے جیسے مہاراشٹر میں مراٹھی، کیرالہ میں ملیالم، آسام میں آسامی لیکن کسی کو کوئی بھی زبان بولنے پر مجبور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ مراٹھی سیکھنا چاہتے ہیں تو انھیں کتابیں دیں، انھیں کلاسیں دیں، انھیں مجبور نہ کریں ملک میں بے روزگاری عام ہے اگر کوئی دیگر ریاست سے ممبئی اور مہاراشٹر میں آتا ہے تو اس کو روزی روٹی کمانے کا حق ہے اس کے باوجود صرف مراٹھی کی لازمیت کی شرط عائد کرنا قطعی درست نہیں ہے, روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے ریاست میں اگر مراٹھی کو لازمی درجہ حاصل ہے تو اس کے لیے اس زبان کو سکھانے کے لیے انہیں کلاسیز دینی چاہئے نہ کہ مراٹھی کے نام پر سیاست کی جائے اس سے ریاست کی شبیہ بھی خراب ہوتی ہے, کیونکہ مراٹھی زبان سے نابلد باشندوں پر کئی مرتبہ تشدد بھی برپا کیا گیا ہے اس لئے ایسے حالات نہ پیدا کئے جائے اور ایسی صورتحال پیدا نہ ہو اس کے لیے ریاست کی زبان انہیں سکھائی جائے اور پھر انہیں لائسنس اور پرمٹ فراہم کیا جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : اشوک کھرت کیس نے ریاست بھر میں ہلچل مچا دی، پرتیبھا چاکنکر بھی دائرہ تفتیش میں، نت نئے انکشافات

Published

on

ممبئی : ڈھونگی بابااشوک کھرت کیس ریاست بھر میں بہت مشہور ہےمتاثرہ خاتون نے ناسک کے ایک دھوکہ باز اشوک کھرات کے خلاف تشدد کی شکایت درج کرائی تھی۔ اس شکایت کی بنیاد پر پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا۔ اس دوران ایک ایک کر کے اس کے کارنامے سامنے آنے لگے ہیں۔ اس سے بڑی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ اب تک اس کے خلاف خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور دھوکہ دہی کے کئی مقدمات درج ہیں۔ اس معاملے میں ایک ایس آئی ٹی کا تقرر کیا گیا ہے، اور ایس آئی ٹی اس سے بھی تفتیش کر رہی ہے۔ اب اس معاملے میں ایک بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس معاملے میں روپالی چاکنکر کی بہن پرتیبھا چاکنکر کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ شرڈی پولیس نے پرتیبھا چاکنکر کو نوٹس بھیجا ہے۔ شرڈی پولس نے دھوکہ باز اشوک کھرات کے معاملے میں پرتیبھا چاکنکر کو آج نوٹس جاری کیا ہے۔ دھوکہ باز اشوک کھرات کے خلاف شرڈی میں منی لانڈرنگ کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ جب اس معاملے کی تفتیش جاری تھی، پولیس کو چونکا دینے والی معلومات ملی۔ سمتا پتسنتھا میں کئی اکاؤنٹس ہیں، جو مختلف لوگوں کے نام پر ہیں، لیکن نامزد خود اشوک کھرات ہیں۔ ان کھاتوں کے ذریعے کروڑوں روپے کی لین دین کی گئی ہے۔ پرتیبھا چاکنکر اور ان کے بیٹے کے بھی سمتا پتسنتھا میں چار کھاتے ہیں۔ ان تمام کھاتہ داروں کے بیانات لینے کا کام جاری ہے۔ اس معاملے میں اب تک 33 کھاتہ داروں نے اپنے بیانات درج کرائے ہیں پرتیبھا چاکنکر کو اب اپنا بیان دینے کے لیے شرڈی پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونا پڑے گا۔ شرڈی پولیس نے پرتیبھا چاکنکر کے دو پتوں پر ڈاک کے ذریعے نوٹس بھیجے ہیں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ اگلے پانچ دنوں میں اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے حاضر ہوں۔ اس لیے اب پرتیبھا چاکنکر کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے شرڈی پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونا پڑے گا۔ اس دوران اشوک کھرات کے ساتھ فوٹو سامنے آنے سے ریاست میں کچھ لیڈروں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔

Continue Reading

بزنس

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں 1 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔

Published

on

ممبئی: خام تیل کی عالمی قیمتوں میں جمعہ کو اضافہ ہوا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے باوجود، سرمایہ کار سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں سپلائی میں رکاوٹ کے امکان کے بارے میں فکر مند ہیں۔ بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت 1.13 فیصد اضافے کے ساتھ 97.01 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 1.39 فیصد اضافے کے ساتھ 99.24 ڈالر فی بیرل پر تجارت کر رہا ہے۔ گزشتہ بدھ کو تیل کی قیمت تقریباً 20 فیصد گر گئی، جو کہ 28 فروری سے اس سطح کے آس پاس رہنے کے بعد، $100 فی بیرل سے نیچے گر گئی۔ ہندوستان میں ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر 20 اپریل کی ڈیلیوری کے لیے خام تیل کا مستقبل صبح 11:07 بجے کے قریب 2.43 فیصد بڑھ کر 9,150 روپے فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ ایران جنگ بندی پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور اسرائیل لبنان میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ادھر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس سے تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ شپنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس اہم سمندری راستے سے بحری جہاز بھیجنے سے پہلے جنگ بندی کی شرائط پر مزید وضاحت چاہتے ہیں۔ دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی کی شرائط پر عمل نہ کیا گیا تو بڑے پیمانے پر فوجی ردعمل سامنے آسکتا ہے، حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھا جائے گا جس کے لیے امریکی فوج تیار ہے۔ جمعرات کو آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی سرگرمیاں معمول کی سطح کے 10 فیصد سے بھی کم پر چل رہی تھیں، جس سے سپلائی چین متاثر ہوا۔ مستقبل کی صورت حال کے حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتیں قریبی مدت میں بلند رہ سکتی ہیں لیکن اگر جغرافیائی سیاسی تناؤ کم ہوا تو وہ بتدریج مستحکم ہو سکتی ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان