Connect with us
Monday,16-March-2026

(جنرل (عام

این آئی آر ایف 2022 : جامعہ ملیہ اسلامیہ ملک کی تیسری سرکردہ یونیورسٹی

Published

on

Jamia Millia Islamia

جامعہ ملیہ اسلامیہ، ناک کی توثیق شدہ اے پلس پلس یونیورسٹی نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی طرف سے آج جاری کردہ نیشنل انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک (این آئی آر ایف) دو ہزار بائیس میں ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ نے این آئی آر ایف کی گزشتہ سال کی اپنی چھٹی رینک سے اس سال مزید بہتر مظاہرہ کیا ہے۔ وزارت تعلیم، حکومت ہند نے ملک میں اعلی تعلیمی اداروں کی رینکنگ کی پہل سال دو ہزار سولہ میں شروع کی تھی۔

پروفیسر نجمہ اختر، شیخ الجامعہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ ’خدا کے فضل وکرم سے جامعہ ملیہ اسلامیہ لگاتار ترقی کی نئی نئی منزلیں طے کر رہا ہے۔ یونیورسٹی تدریس،آموزش اور تحقیق کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے متواتر جدو جہد کر رہی ہے۔ دو ہزار سولہ کی این آئی آر ایف رینکنگس میں ہمیں تراسیواں مقام حاصل تھا، جو سال دو ہزار اکیس میں چھٹا مقام ہوگیا، اور آج ملک کی تین سب سے اعلی یونیورسٹیوں سے ایک ہے۔ یہ سب یونیورسٹی کے مخلص اور محنتی فیکلٹی اراکین کی اعلی معیار کی مرکوز اور بامعنی تدریس اور معیاری تحقیق کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی حکومت کے وژن کو حقیقت بنانے کے لیے پابند عہد ہے، اور ہم قومی اور بین الاقوامی رینکنگس میں مزید بہتر کرنے کے لیے بدستور کوشش کرتے رہیں گے۔
ٍ
شیخ الجامعہ نے تدریس، ملازمت کے مواقع کی دستیابی اور تحقیق وغیرہ کے تناظر میں یونیورسٹی کے متعلق بہتر ہوتے احساس سے بھی اس کو جوڑ کر دیکھا ہے۔ بڑی تعداد میں درخواستوں کا موصول ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ طلباء کی ایک اہم پسند بن گئی ہے۔ ’ہمیں توقع ہے کہ آئندہ برسوں میں ہم اور بھی بہتر کریں گے۔ شیخ الجامعہ نے مزید کہا۔

قابل ذکر ہے کہ یونیورسٹی نے این آئی آر ایف کی سال دو ہزار اکیس میں تحقیق کے زمرے میں تیسویں رینک کے مقابلے میں اس مرتبہ تحقیق کے زمرے میں انیسویں رینک حاصل کی ہے۔ یونیورسٹی نے آرکی ٹیکچر، انجینرئنگ، ڈینٹل اور مینجمنٹ زمروں میں بھی بہترین مظاہرہ کیا ہے، اور قانون کی کٹیگری کے تحت اپنی گزشتہ پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ایس آئی آر سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو بھی پریشان ہے، ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو کا یوپی سرکار اور الیکشن کمیشن پر تنقید

Published

on

ممبئی: سماجوادی پارٹی قومی صدر رکن پارلیمان اکھلیش یادو نے یہ واضح کیا ہے کہ آئی ایس آر سے صرف مسلمانوں کو ہی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ اترپردیش میں ہندوبھی قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ہندوؤں کو بھی ایس آئی آر سے پریشانی کا سامنا ہے وزیر اعلیٰ بھی اس سے گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ۴ کروڑ ووٹ ہمارا کٹ کیا جو لوگ مسلمانوں کے کاغذ ڈھونڈ رہے تھےاب سب ہندو بھائیو کو انہوں نے لائن میں لگادیا۔ ہندو بھائی کاغذ ڈھونڈ رہے ہیں یوپی میں ایس آئی آر سے پریشان اپوزیشن نہیں بلکہ برسراقتدار جماعتیں پریشان ہے۔ فرضی ووٹ ڈالے گئے تھے الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں خاموش تھا اس کی غیر جانبداری اور ایمانداری پر بھی سوال اٹھا اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر سے اپوزیشن کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ یہاں ممبئی میں ایک سمٹ سے خطا ب کررہے تھے انہوں نے مغربی بنگال میں ایک مرتبہ پھر ممتا بنرجی کی واپسی کی بھی پیشگوئی اور دعویٰ کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹرسماجوادی پارٹی ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی بھی موجود تھے۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن اور یوپی سرکار پر بھی جم کر تنقید کی اور سرکار کے طریقہ کار اور فرقہ پرستی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مئیر ریتو تاورے اور وی وی آئی پی کی کار پر بتی لائٹ کو کاروں سے بتیاں ہٹانے کا بی ایم سی کا دعویٰ، انتظامیہ کی وضاحت

Published

on

ممبئی: ممبئی مئیر آف ممبئی ریتو تاوڑے کی کار پر بتی اور بی ایم سی عہدیداروں کے وی آئی پی کلچرل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی ایم سی نے تمام سرکاری عہدیداروں کی کار سے بتی اور چمکتی ہوئی لائٹیں نکالنے کا دعوی کیا ہے بی ایم سی کے مطابق میڈیا میں میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کی گاڑیوں پر چمکتی ہوئی لائٹیں لگانے کی خبریں نشر ہوئی تھی اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عہدیداران کو عہدہ سنبھالنے کے بعد گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ جیسے ہی ان گاڑیوں پر چمکتی ہوئی بتی روشنی کا معاملہ سامنے آیا تو عہدیداران کی گاڑیوں پر لگی چمکتی روشنیاں (فلشر لائٹس) ہٹا دی گئیں۔ واضح رہے کہ بی ایم سی اس وقت حرکت میں آئی جب میئر ریتوتاوڑے کی کار پر نصب وی وی آئی پی کلچرل سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی تھی اور اب بی ایم سی انتظامیہ نے اس مسئلہ پر وضاحت کر کے کاروں سے بتی ہی ہٹا دی ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے وی وی آئی پی کلچرل کے خلاف وزراسمیت دیگر کی کاروں سے لال بتیاں نکالنے کا حکم دیاتھا اس کے بعد بی ایم سی میئر کی کار پر بتی کی تنصیب پر تنقیدیں شروع ہو گئی تھی اب یہ تمام کاروں کی بتیاں نکالنے کا دعویٰ بی ایم سی نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ملاڈ ریلوے اسٹیشن پر نماز ادائیگی کریٹ سومیا کے دباؤ میں کیس درج, خوانچہ فروشوں سمیت دیگر پر کارروائی

Published

on

ممبئی: ملا ڈ ریلوے اسٹیشن پر نماز ادائیگی پر پولس نے کریٹ سومیا کی شکایت کے بعد کیس درج کرلیا ہے اور اس معاملہ ریلوے کی ملکیت پر نماز ادا کرنے پر ملزمین کو نوٹس بھی ارسال کردی ہے بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے ریلوے اسٹیشن پر نماز کی ادائیگی پر اعتراض کرتے ہوئے فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیا تھا اتنا ہی نہیں ہے اسے مراٹھی ممبئی کو مسلم ممبئی قرار دینے کی سازش بھی قرار دیا تھا اس کے بعد کریٹ سومیا نے جائے وقوع کا بھی معائنہ کیا اور پھر ریلوے پولس میں شکایت درج کروانے کےلیے ایک تحریری شکایت بھی کی تھی ایک مسافر نے سوشل میڈیا پرنماز کا ویڈیو جاری کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد کریٹ سومیا نے اس پر نوٹس لیا اور پھر کیس درج کر لیا گیا ہے۔ ممبئی میں جس طرح سے نماز پر کریٹ سومیا نے اعتراض درج کرایا ہے اسی طرز پر کیا وہ ریلوے میں بھجن منڈلی اور دیگر خرافات پر بھی کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ ریلوے پولس نے ملاڈریلوے اسٹیشن پر نماز
کے خلاف کارروائی شروع کردی پولس نے اس معاملے میں اسٹیشن ماسٹر کی شکایت کے بعد مشتاق بابو لون (عمر 35) ہاکر، صہیب صداقت ساہا (عمر 25) ہاکر، بسم اللہ دین انصاری (عمر 43) ہاکر اور دیگرکے خلاف کیس درج کرلیا گیا ہے ۔ ریلوے پروٹیکشن فورس آر پی ایف نے ریلوے ایکٹ کی دفعہ 147 کے تحت شکایت درج کی ہے۔ریلوے پولیس جی آر پی نے بی این ایس کی دفعہ 168 کے تحت نوٹس جاری کیا۔ مزید تفتیش جاری ہے۔ پولس کی اس کارروائی کے بعد اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریلوے پولس نے جس طرح کریٹ سومیا کے دباؤ میں کارروائی کرتے ہوئے کیس درج کر لیا ہے کیا اسی طرز پر ریلوے میں غیر قانونی بھجن منڈلیوں کے خلاف کارروائی ہو گی ۔ اس معاملہ میں جن ملزمین پر کیس درج کیا گیا ہے وہ خوانچہ فروش ہے اور اس کے ساتھ پولس اس معاملہ مزید تفیش میں مشغول ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان