Connect with us
Thursday,10-September-2026

سیاست

نئے زرعی قوانین کسانوں کے لئے سود مند:مودی

Published

on

وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو نئے زرعی قوانین پر کسانوں کے احتجاج کے پیش پشت کارفرما اپوزیشن سیاسی پارٹیوں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ نئے زرعی قوانین کسانوں کے فائدے کے لئے لائے گئے ہیں لیکن کچھ پارٹیاں ان قوانین کے سلسلے میں کسانوں کو گمراہ کررہی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر ہماری پالیسیوں یا نئے زرعی قوانین پر تعمیر ی تنقید کے بجائے یہ کہا جارہا ہے کہ کچھ چیزیں مستقبل کے لئے تشویش کا باعث ہیں۔اور ایسی چیزیں کسانوں کو گمراہ کرنے اور ان کو مشکلات میں ڈالنے کے لئے کی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب ایک نیا ٹرینڈ چلا ہے اس سے قبل حکومت کے فیصلوں کی مخالفت کی جاتی تھی مگر اب پروپیگنڈہ و افواہ اپوزیشن کی بنیاد بن چکے ہیں۔اب یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ اگرچہ یہ فیصلہ صحیح ہے لیکن اس سے دوسرے خدشات مستقبل میں پیدا ہوسکتے ہیں۔یہی بات زرعی قوانین کے سلسلے میں بھی ہے اور یہ چیزیں ان افراد کے ذریعہ انجام دی جارہی ہیں جو ہمیشہ سے کسانوں کی مخالف رہی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میں پوری وثوق کے ساتھ آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ مستقبل میں اس کے دور رس نتائج دیکھنے کو ملیں گے اور یہ قانون کسانوں کے لئے سود مند ثابت ہوگا۔نئے زرعی قوانین کسانوں کے نئے متبادل اور لیگل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ حکومت کسانوں سے بات کرنے اور ان کے سوالات و تحفظات کا تشفی بخش جواب دینے کو تیار ہے۔اگر کسان پرانے طریقے سے اپنی پیدوار کو فروخت کرنا چاہ رہے ہیں تو انہیں کون روک رہا ہے؟۔ہم نے نئے قوانین میں ان کو پرانے قانون پر عمل کرنے سے نہیں روکا ہے۔
کھجری میدان میں منعقد ایک پروگرام میں وارانسی۔پریاگ راج ہائی وے کا افتتاح کرنے کے بعد وزیرا عظم زور دیا کہ ‘نئے زرعی قوانین کسی کو بھی پرانے طریقے سے اپنی پیداوار کو فروخت کرنے سے منع نہیں کرتا۔اس سے پہلے منڈی کے باہر اپنے پیداوار کو فروخت کرنا غیر قانونی سمجھا جاتا تھا۔اور چھوٹے کسانوںکے ساتھ دھوکہ دہی ہوتی تھی۔کیونکہ وہ منڈیوں تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔اس نئے قانون میں کسانوں کو اس دھوکہ اور فریب سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ ریاستوں نے ہمارے نئے قوانین اور یہاں تک کہ کسان سمان ندھی جیسے کسانوں کے لئے نفع بخش اسکیمات کو بھی نافذ کرنے سے انکار کردیا۔ریاستوں کا یہ رویہ کسانوں کو ان کے حقوق اور فائد کے حصول میں مانع ہے۔ہم ان چیزوں کو ان ریاستوں میں اقتدار میں آنے کے بعد نافذ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو بڑے بازار تک رسائی دے کر انہیں باختیار بنانے کی کوشش کی ہے۔کسانوں کے مفاد میں ہی اصلاحات کی گئی ہیں۔جو ان کو زیادہ سے زیادہ متبادل فراہم کرے گا۔انہوں سے سوال کیا کہ’کیا کسانوں کو یہ آزادی نہیں چاہئے کہ جو ان کے پیداوار کی اچھی قیمت اور سہولت دے انہیں وہ اپنی پیداوار فروخت کرسکیں۔
مسٹر مودی نے دعوی کیا کہ ہماری حکومت نے سوامی ناتھ کمیشن کے مطابق کسانو ں کو ایم ایس پی کا ڈیڑھ گنا دینے کا وعدہ پورا کیا ہے۔یہ وعدہ نہ صرف کاغذات پر پورا ہو اہےبلکہ کسانوں کے بینک اکاونٹ میں بھی پہنچا ہے۔سابقہ حکومتوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ‘ صرف قرض معافی کے اعلانات کئے جاتے تھے اور لیکن ان اسکیمات کا فائدہ کبھی بھی کسانوں کو نہیں پہنچتا تھا۔وہ خود بھی اس بات کو قبول کرتے تھے کہ اگر ایک روپیہ گاؤں کو بھیجا جاتا تھا تو وہاں تک صرف15پیسے ہی پہنچتے تھے۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے دعوی کیا کہ ان کی حکومت نے ایم ایس پی کی بنیاد پر اناج اور دلال 2014سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ خریدے ہیں۔ہم نے ایم ایس پی کے ذریعہ 49ہزار کروڑ کی دالیں خرید ہیں۔جبکہ اس سے پہلے یہ صڑف 650کروڑ تھا۔اسی طرح سے پہلے جو دھان 2لاکھ کروڑ تھی ہم نے گذشتہ پانچ سالوں میں 5لاکھ کروڑ خرید ے ہیں اسی طرح سے پہلے کے 1.5لاکھ کروڑ کے مقابلے میں ہم نے 3لاکھ کروڑ دھان کی خریداری کی ہے۔

سیاست

وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے این سی رکنِ اسمبلی کے ’پاجامہ والے بیان‘ کا کیا دفاع، اسے تاریخی حقیقت قرار دیا

Published

on

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس (این سی) کے ترجمان اور ایم ایل اے تنویر صادق کے متنازعہ ‘پاجامہ ریمارک’ کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی حقیقت قرار دیا۔ تنویر صادق نے حال ہی میں یہ کہہ کر یہ کہہ کر بھڑکایا تھا کہ یہ این سی کے بانی مرحوم شیخ محمد عبداللہ تھے جن کی قیادت میں پاجاما کشمیریوں کو پہننا ممکن ہوا۔ 8 ستمبر کو شیخ محمد عبداللہ کی 44ویں برسی کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تنویر صادق نے کہا کہ اس وقت تک پورے محلہ (علاقہ) کے پاس صرف ایک پاجامہ تھا جسے وہ باری باری پہنتے تھے۔

آج یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ تنویر صادق یا این سی کو اس ریمارک پر معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ عمر عبداللہ کے مطابق یہ بیان تاریخی طور پر درست تھا۔ وزیر اعلیٰ نے صحافیوں کو بتایا کہ ماضی میں کشمیریوں کو درپیش غربت اور مشکلات کو مورخین نے اچھی طرح سے دستاویزی شکل دی ہے اور تنویر کی ذاتی رائے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس نے کیا کہا، عمر عبداللہ نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ والٹر لارنس اور کئی دوسرے مورخین نے جموں و کشمیر کے بارے میں لکھا ہے، خاص طور پر کشمیریوں کی غربت اور جس طرح سے لوگ جاگیرداروں کے نظام میں پھنسے ہوئے ہیں۔

“لوگوں کے پاس پیسے نہیں تھے۔ تنویر نے پہلے اس بارے میں بات نہیں کی، ہوسکتا ہے کہ ہمارے صدر سے لے کر جنرل سکریٹری تک کوئی سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر ہو، جس نے اس بارے میں بات نہیں کی،” وزیر اعلیٰ نے کہا، “ایک وقت تھا جب کشمیری اتنے غریب تھے کہ انہیں مسجد سے پاجامہ لے کر شہر آنا پڑتا تھا، یہ تنویر کی اپنی سوچ نہیں ہے، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، وزیر اعلیٰ تنویر نے کہا ” کشمیریوں نے ان مشکل حالات میں جو پیش رفت کی ہے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لوگ اب اپنے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں اور ڈاکٹر اور انجینئر پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کا اس مسئلے کو اٹھانے کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔

“تنویر کو اس کے لیے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ ہی اسے کوئی وضاحت دینے کی ضرورت ہے۔ نہ ہی میری پارٹی (این سی) کو اس کے لیے معافی مانگنے کی ضرورت ہے۔ تنویر نے کچھ غلط نہیں کیا،” انہوں نے کہا۔ کانگریس کی طرف سے وندے ماترم کے مکمل گانے گانے پر اعتراض کرنے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی حکومت کو موجودہ قانون پر عمل کرنا ہوگا اور اگر ہم کانگریس کے موجودہ قانون کی پاسداری کریں گے۔ طاقت، وہ قانون کو منسوخ کر سکتے ہیں لیکن جب تک قانون موجود ہے، ہمیں اس پر عمل کرنا ہو گا۔” عمر عنداللہ نے کہا کہ دو گورنروں، لیفٹیننٹ گورنر اور ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کی شرکت میں لازمی طور پر قومی ترانہ بجانا ہوگا، جبکہ موجودہ دفعات میں بھی وندے ماترم کے مکمل بندوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ شق صرف جموں و کشمیر تک ہی محدود نہیں تھی، بلکہ کانگریس کی حکومت والی ریاستوں سمیت پورے ملک میں لاگو ہوتی ہے۔ “اگر ایسا نہیں ہوتا ہے، تو جو لوگ (قومی گیت) کے مکمل بند پر کھڑے نہیں ہوتے ہیں، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، تو کانگریس کیا چاہتی ہے؟ کشمیریوں کو اس بہانے سے قید کیا جائے،” انہوں نے سوال کیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اندھیری : کمپنی کے ڈرائیور نے انکم ٹیکس چھاپہ کی سازش کی تیار، ایک کروڑ روپے ہفتہ طلب کر افسر ظاہر کرنے والے گینگ کے تمام ۱۰ ملزمین گرفتار

Published

on

ممبئی : پولس نے فلمی انداز میں انکم ٹیکس کا چھاپہ مار کر ہفتہ طلب کرنے والے فرضی افسر و گروہ کو بےنقاب کیا جو اسپشل ۲۶ فلم کے طرز پر ممبئی کے اندھیری میں انکم ٹیکس کا چھاپہ مار کر مالک وملازمین کو یرغمال بنا کر ان کے موبائل بھی چھین لئے تھےاور اسٹاف کو یرغمال بنایا تھا۔ انکم ٹیکس اور کرائم برانچ کے افسر بتاکر جعلی چھاپہ مار کر 1 کروڑ روپے کا ہفتہ طلب کرنے والی گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کے ساتھ مفرور ملزمین کو بھی گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مذکورہ مقدمے کی مختصر تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ راجکمار کنڈاسامی، عمر 49 سال کے پاس پہلے ڈرائیور کے طور پر ملازم شخص سنتوش ادئے کھوپٹکر اور شکایت کنندہ کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ اس وجہ سے شکایت کنندہ نے 06 مہینے کی تنخواہ نہ دیتے ہوئے سنتوش کھوپٹکر کو نوکری سے نکال دیا۔ اس بات سے ناراض سنتوش ادئے کھوپٹکر نے اس کے پاس موجود شکایت کنندہ کے متعلق معلومات کا استعمال کرکے اس کے شناسائی 06 مرد اور 3 خواتین کے ساتھ مل کر مجرمانہ سازش رچ کر انکم ٹیکس اور کرائم برانچ محکمہ کے سرکاری افسر و ملازم ہونے کا جھوٹا دعوی کرکے شکایت کنندہ کی ملکیت کے آفس میں زبردستی غیر قانونی طور پر داخل ہوئے۔ نیز جعلی سرکاری شناختی کارڈ دکھا کر شکایت کنندہ اور اس کی بیوی کا اغوا کرکے نیز شکایت کنندہ اور اس کی بیوی اور دفتر کے دیگر 10 ملازمین کے موبائل چھین کر انہیں دفتر کے باہر جانے سے غیر قانونی طور پر روک کر انکم ٹیکس محکمہ کی طرف سے قانونی کارروائی کرنے کی دھمکی دے کر گالی گلوچ کی۔ نیز کارروائی ٹالنے کے لیے 1 کروڑ روپے کا ہفتہ طلب کیااس لیے شکایت کنندہ نے مذکورہ نامعلوم اشخاص کے خلاف قانونی شکایت دینے پر ان کا تفصیلی بیان نوٹ کرکے 892/2026 دفعہ 61(2), 204, 205, 233, 140(2), 127(1), 351(2), 308(4) بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔مذکورہ مقدمے کے سلسلے میں ملزمان کو تکنیکی جانچ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتار کیے گئے ملزمین میں 1) سنتوش ادئے کھوپٹکر عمر 37 سال، 2) ونئے رمیش مورے عمر 37 سال، 3) پریم کسن سبنانی عمر 50 سال، 4) پرگیہ ہریش مائن عمر 27 سال، 5) ریشمہ شامراؤ وارنگ عمر 41 سال، 6) شبنیہ حفیظ شیخ عمر 48 سال, مذکورہ گرفتار ملزمان سے کی گئی پوچھ تاچھ میں مذکورہ ملزمین میں سے ملزم نمبر 7 اور 8 یہ انکم ٹیکس محکمہ میں بالترتیب انکم ٹیکس انسپکٹر اور ٹیکس اسسٹنٹ کے عہدے پر کام کر رہے ہیں اور مذکورہ ملزم یہ مذکورہ ملزم نمبر 02 سے 06 اور ملزم نمبر 09 اور 10 کے ساتھ شکایت کنندہ کے آفس میں جاکر مذکورہ مجرمانہ سازش میں شامل ہونے کی معلومات حاصل ہونے پر مذکورہ ملزمین کی تلاش لے کر انہیں موجودہ مقدمے میں تاریخ ۱۰ ستمبر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمین میں7) سریش مہاویر پرساد مشرا عمر 57 سال (انکم ٹیکس انسپکٹر)، 8) سنیل منوہر گورے عمر 59 سال (ٹیکس اسسٹنٹ)، 9) جتو عرف جتیندر نامدیو مورے عمر 52 سال 10) اشوک وٹھوبا شندے عمر 57 سال شامل ہے، یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے اور ملزمین کو گرفتار کر کے اس گینگ کو بے نقاب کیا ہے۔ ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے بتایا کہ اس سے قبل بھی معاملہ میں ۶ ملزمین کو گرفتار کیا گیا تھا, لیکن اس میں انکم ٹیکس انسپکٹر اور اسسٹنٹ کی بھی شمولیت تھی جس کے بعد آج مزید مفرور ملزمین کو بھی گرفتار کر کے اس پورے گینگ پر ہی کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

پرنس رحیم آغا خان پنجم نے صدر مرمو سے ملاقات کی۔

Published

on

شیعہ اسماعیلی مسلمانوں کے 50 ویں موروثی امام (روحانی پیشوا) اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے چیئر پرنس رحیم آغا خان پنجم نے جمعرات کو راشٹرپتی بھون میں صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کی۔ اپنی بات چیت کے دوران صدر مرمو نے آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی طرف سے شروع کیے گئے کام کی تعریف کی۔”عزت مآب پرنس رحیم آغا خان پنجم نے صدر دروپدی مرمو سے راشٹرپتی بھون میں ملاقات کی۔صدر نے آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی طرف سے شروع کیے گئے کام کی تعریف کی اور کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کے ساتھ شراکت میں کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیمیں کس طرح ریاستی عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنا سکتی ہیں۔”

اس سے پہلے دن میں نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے آغا خان کے ساتھ میٹنگ کی، جس میں کھیل اور تعلیم سمیت کئی شعبوں میں ہندوستان اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ کے دوران، دونوں لیڈروں نے بنیاد پرستی کو ختم کرنے کی ضرورت کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بات چیت ہی امن، استحکام اور خوشحالی کا راستہ ہے۔ عزت مآب نائب صدر ہند جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج اپراشٹرپتی بھون میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے پانی اور صفائی، خواتین کی زیر قیادت سیلف ہیلپ گروپس، تعلیم اور کمیونٹی کی ترقی پر تبادلہ خیال کیا اور مشرقی افریقہ اور افغانستان میں اس کے مؤثر اقدامات کی تعریف کی۔

“انہوں نے کھیل اور تعلیم جیسے شعبوں میں ہندوستان اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے بنیاد پرستی کے خاتمے کی ضرورت کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بات چیت ہی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کا راستہ ہے۔” صحت کی دیکھ بھال، زراعت، دیہی ترقی، نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانا۔” ہز ہائینس پرنس رحیم آغا خان پنجم سے مل کر خوشی ہوئی۔ اپنے والد مرحوم آغا خان چہارم اور ترقیاتی کوششوں میں ان کی لازوال شراکت کو یاد کیا۔ میٹنگ۔ پرنس رحیم آغا خان پنجم نائب صدر رادھا کرشنن کی دعوت پر ہندوستان کے سات روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان