Connect with us
Thursday,11-June-2026
تازہ خبریں

سیاست

نئے زرعی قوانین کسانوں کے لئے سود مند:مودی

Published

on

وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو نئے زرعی قوانین پر کسانوں کے احتجاج کے پیش پشت کارفرما اپوزیشن سیاسی پارٹیوں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ نئے زرعی قوانین کسانوں کے فائدے کے لئے لائے گئے ہیں لیکن کچھ پارٹیاں ان قوانین کے سلسلے میں کسانوں کو گمراہ کررہی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر ہماری پالیسیوں یا نئے زرعی قوانین پر تعمیر ی تنقید کے بجائے یہ کہا جارہا ہے کہ کچھ چیزیں مستقبل کے لئے تشویش کا باعث ہیں۔اور ایسی چیزیں کسانوں کو گمراہ کرنے اور ان کو مشکلات میں ڈالنے کے لئے کی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب ایک نیا ٹرینڈ چلا ہے اس سے قبل حکومت کے فیصلوں کی مخالفت کی جاتی تھی مگر اب پروپیگنڈہ و افواہ اپوزیشن کی بنیاد بن چکے ہیں۔اب یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ اگرچہ یہ فیصلہ صحیح ہے لیکن اس سے دوسرے خدشات مستقبل میں پیدا ہوسکتے ہیں۔یہی بات زرعی قوانین کے سلسلے میں بھی ہے اور یہ چیزیں ان افراد کے ذریعہ انجام دی جارہی ہیں جو ہمیشہ سے کسانوں کی مخالف رہی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میں پوری وثوق کے ساتھ آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ مستقبل میں اس کے دور رس نتائج دیکھنے کو ملیں گے اور یہ قانون کسانوں کے لئے سود مند ثابت ہوگا۔نئے زرعی قوانین کسانوں کے نئے متبادل اور لیگل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ حکومت کسانوں سے بات کرنے اور ان کے سوالات و تحفظات کا تشفی بخش جواب دینے کو تیار ہے۔اگر کسان پرانے طریقے سے اپنی پیدوار کو فروخت کرنا چاہ رہے ہیں تو انہیں کون روک رہا ہے؟۔ہم نے نئے قوانین میں ان کو پرانے قانون پر عمل کرنے سے نہیں روکا ہے۔
کھجری میدان میں منعقد ایک پروگرام میں وارانسی۔پریاگ راج ہائی وے کا افتتاح کرنے کے بعد وزیرا عظم زور دیا کہ ‘نئے زرعی قوانین کسی کو بھی پرانے طریقے سے اپنی پیداوار کو فروخت کرنے سے منع نہیں کرتا۔اس سے پہلے منڈی کے باہر اپنے پیداوار کو فروخت کرنا غیر قانونی سمجھا جاتا تھا۔اور چھوٹے کسانوںکے ساتھ دھوکہ دہی ہوتی تھی۔کیونکہ وہ منڈیوں تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔اس نئے قانون میں کسانوں کو اس دھوکہ اور فریب سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ ریاستوں نے ہمارے نئے قوانین اور یہاں تک کہ کسان سمان ندھی جیسے کسانوں کے لئے نفع بخش اسکیمات کو بھی نافذ کرنے سے انکار کردیا۔ریاستوں کا یہ رویہ کسانوں کو ان کے حقوق اور فائد کے حصول میں مانع ہے۔ہم ان چیزوں کو ان ریاستوں میں اقتدار میں آنے کے بعد نافذ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو بڑے بازار تک رسائی دے کر انہیں باختیار بنانے کی کوشش کی ہے۔کسانوں کے مفاد میں ہی اصلاحات کی گئی ہیں۔جو ان کو زیادہ سے زیادہ متبادل فراہم کرے گا۔انہوں سے سوال کیا کہ’کیا کسانوں کو یہ آزادی نہیں چاہئے کہ جو ان کے پیداوار کی اچھی قیمت اور سہولت دے انہیں وہ اپنی پیداوار فروخت کرسکیں۔
مسٹر مودی نے دعوی کیا کہ ہماری حکومت نے سوامی ناتھ کمیشن کے مطابق کسانو ں کو ایم ایس پی کا ڈیڑھ گنا دینے کا وعدہ پورا کیا ہے۔یہ وعدہ نہ صرف کاغذات پر پورا ہو اہےبلکہ کسانوں کے بینک اکاونٹ میں بھی پہنچا ہے۔سابقہ حکومتوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ‘ صرف قرض معافی کے اعلانات کئے جاتے تھے اور لیکن ان اسکیمات کا فائدہ کبھی بھی کسانوں کو نہیں پہنچتا تھا۔وہ خود بھی اس بات کو قبول کرتے تھے کہ اگر ایک روپیہ گاؤں کو بھیجا جاتا تھا تو وہاں تک صرف15پیسے ہی پہنچتے تھے۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے دعوی کیا کہ ان کی حکومت نے ایم ایس پی کی بنیاد پر اناج اور دلال 2014سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ خریدے ہیں۔ہم نے ایم ایس پی کے ذریعہ 49ہزار کروڑ کی دالیں خرید ہیں۔جبکہ اس سے پہلے یہ صڑف 650کروڑ تھا۔اسی طرح سے پہلے جو دھان 2لاکھ کروڑ تھی ہم نے گذشتہ پانچ سالوں میں 5لاکھ کروڑ خرید ے ہیں اسی طرح سے پہلے کے 1.5لاکھ کروڑ کے مقابلے میں ہم نے 3لاکھ کروڑ دھان کی خریداری کی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گوریگاؤں ۴۸ گھنٹے میں پل کے معیار اور ناقص ہونے کا الزام، سوشل میڈیا پر ڈامبر اکھڑنے کی ویڈیو وائرل، اپوزیشن کی بی ایم سی پر تنقید

Published

on

Bridge

ممبئی : ممبئی کے گوریگاؤں میں محض ۴۸ گھنٹے میں ہی پل کے ڈامبر اکھڑنے کا ویڈیو وائرل ہونے سے اس پل کے معیار پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور پل کی تعمیر میں کرپشن بدعنوانی کے الزام عائد کئے جارہے ہیں۔ ممبئی کا ناقص انفراسٹرکچر ایک بار پھر جانچ کی زد میں آ گیا ہے۔ گوریگاؤں میں 248 کروڑ روپے کے مرنلتائی فلائی اوور کے افتتاح کے 48 گھنٹے بھی نہیں گزرے ہیں کہ اس کے معیار پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ 750 میٹر طویل فلائی اوور کو مکمل ہونے میں آٹھ سال کا عرصہ لگا لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہی بتاتی ہے۔ ایک خصوصی زمینی رپورٹ میں کئی مقامات پر ڈامبر اکھڑنے کا انکشاف ہوا، اور تعمیراتی معیار بھی ناقص ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام کا غصہ پھوٹ پڑا ہے اور کروڑوں روپے کے اس منصوبے کے معیار کے حوالے سے جوابدہی کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔بی ایم سی کی مئیر ریتو تاوڑے نے اس پل کا افتتاح دو روز قبل کیا تھا لیکن دو دنوں میں ہی اس کی قلعی کھل گئی ہے۔ مرنلتائی فلائی اوور کے کام کے معیار پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ مرنلتائی پل کے ناقص کام سے متعلق جب مئیر آف ممبئی ریتو تاوڑے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پل کو فائنل ٹچ نہیں دیا گیا ہیں جبکہ اس کا معیار ناقص نہیں ہے, جبکہ دوسری طرف اپوزیشن نے پل کے کام سے متعلق برسراقتدار جماعت کو ہدف تنقید بنانا شروع کر دیا ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

پاکستانی ماہرین اس وقت حیران رہ گئے جب مغربی بنگال حکومت نے 5000 بنگلہ دیشیوں کو ملک بدر کیا اور ایک ‘مذہبی’ تعلق کی طرف کیا اشارہ۔

Published

on

Bangladesh-border

اسلام آباد/ڈھاکہ : حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ماہ مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت نے تقریباً 5000 بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کیا ہے۔ پاکستانی جیو پولیٹیکل ماہر قمر چیمہ بھارت کے اقدامات پر برہم ہیں۔ ایک ویڈیو میں چیمہ نے کہا، “بھارت نے کہا تھا کہ وہ بنگلہ دیشی دراندازوں کو روکنے کے لیے پانی میں سانپ چھوڑے گا، اور اب جب کہ بھارت انہیں نکال رہا ہے، بھارت بنگلہ دیش کو پیغام دے رہا ہے”۔ چیمہ نے کہا کہ ہندوستان نے پہلے ایسا نہیں کیا جب شیخ حسینہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اب مگرمچھ اور سانپوں کو سرحد کے ساتھ پانی میں چھوڑنے کی بات کر رہا ہے، پیغام دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان نے ایک سیاسی رہنما کو بنگلہ دیش میں سفیر کے طور پر بھیجا ہے، سفارتکار کو نہیں۔ چیمہ نے کہا کہ محمد یونس کو بنگلہ دیش ڈی پورٹ کرنے پر بھارت ناراض ہے اور محمد یونس کو فرانس سے ڈھاکہ ڈی پورٹ کرنے کے پیچھے ایک الگ کہانی ہے۔

ہندوستان مسلم اکثریتی بنگلہ دیش کے ساتھ ایک طویل اور غیر محفوظ سرحد کا اشتراک کرتا ہے، جہاں لوگ معاشی مشکلات اور دیرینہ خاندانی تعلقات کی وجہ سے تاریخی طور پر نقل مکانی کر چکے ہیں۔ برسراقتدار آنے کے بعد مغربی بنگال کی نئی حکومت نے میانمار میں ظلم و ستم سے بھاگنے والے بنگلہ دیشیوں اور بغیر کسی قانونی دستاویزات کے روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے حراستی مراکز قائم کرنے کا حکم دیا۔ بھارت غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والوں کو ڈی پورٹ کر رہا ہے۔ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ لاکھوں غیر قانونی بنگلہ دیشی شہری ہندوستان میں مقیم ہیں۔ مغربی بنگال میں بہت سے لوگ ایسے پائے گئے ہیں جو بنگلہ دیشی شہری ہیں لیکن یہاں ووٹ ڈالتے تھے۔ قمر چیمہ نے کہا کہ بنگلہ دیش بھارت کی ہمسایہ پالیسی کے لیے اہم ہے، اور اس سے بھی زیادہ شمال مشرقی بھارت کے لیے۔ مزید برآں، بھارت بنگلہ دیش میں ترقیاتی منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ کمار چیمہ نے زہر اگلتے ہوئے کہا، ‘دراصل مسئلہ مذہب کا ہے، مسئلہ ہندوستان کی آمرانہ قوتوں کا ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان وہ خدمات کیوں فراہم نہیں کریں گے جو شیخ حسینہ ہندوستان کو فراہم کرتی تھیں؟’

اے ایف پی کے مطابق، مغربی بنگال کے رہنما سویندو ادھیکاری نے اتوار کو کولکتہ میں کہا کہ تقریباً 5000 بنگلہ دیشی شہریوں کو سرحد پار واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ادھیکاری نے کہا، “ہم نے بنگلہ دیشی دراندازوں کو واپس بھیجنے کا عمل شروع کر دیا ہے جو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے دائرے میں نہیں آتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے مئی میں ریاست کے تمام اضلاع میں ہولڈنگ سنٹر قائم کیے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “اب تک ان مراکز سے 4,800 بنگلہ دیشی دراندازوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔”

Continue Reading

سیاست

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے نئی دہلی میں ایک اہم میٹنگ کی صدارت کی، بی جے پی کی مہم، اپوزیشن اتحاد اور انحراف کے مسئلہ پر کیا تبادلہ خیال۔

Published

on

Kharge-&-Rahul

نئی دہلی : پارٹی کے جنرل سکریٹریوں، انچارجوں اور پردیش کانگریس کمیٹی (پی سی سی) کے صدور کی ایک اہم میٹنگ جمعرات کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے صدر دفتر، اندرا بھون میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں راہل گاندھی، تنظیم کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، جئے رام رمیش اور کئی دیگر لیڈران موجود تھے۔ کانگریس لیڈروں کی یہ اہم میٹنگ حالیہ اسمبلی انتخابات اور ترنمول کانگریس میں جاری پھوٹ کے درمیان ہوئی ہے۔ اس میٹنگ سے ایک دن پہلے کے سی وینوگوپال نے سوشل میڈیا پر اس بارے میں معلومات دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہنگامی میٹنگ موجودہ سیاسی پیش رفت پر تبادلہ خیال کے لیے بلائی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، جمعرات کی میٹنگ میں موجودہ سیاسی پیش رفت کے ساتھ ساتھ مرکز میں اقتدار میں 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر بی جے پی کی مہم کا جواب دینے کی حکمت عملیوں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے جواہر لعل نہرو کے سب سے طویل عرصے تک رہنے والے وزیر اعظم کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑنے سے متعلق سیاسی بحث پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پارٹی قیادت نے انحراف کے بڑھتے ہوئے واقعات اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ریاستوں میں ممکنہ حلیفوں کے ساتھ تال میل بڑھانے اور حزب اختلاف کے اتحاد کو وسعت دینے پر بھی غور و خوض کا امکان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ میٹنگ میں کانگریس کے اپوزیشن اتحاد کو برقرار رکھنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے اس قیاس کے درمیان کہ ترنمول کانگریس کے کچھ ممبران پارلیمنٹ لوک سبھا میں ایک الگ گروپ کے طور پر بیٹھ سکتے ہیں اور بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔

یہ میٹنگ پیر کو ہونے والی انڈیا الائنس کی میٹنگ کے بعد ہوئی۔ ملاقات کے بعد ملکارجن کھرگے نے کہا تھا کہ ہندوستانی اتحاد کی تمام پارٹیاں قومی مسائل پر بہتر تال میل کے لیے ہر دو ماہ بعد ملاقات کریں گی۔ اتحاد کا اگلا اجلاس اگست میں حیدرآباد میں ہوگا۔ کھرگے نے کہا کہ ہندوستانی اتحاد نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر)، مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور ووٹر لسٹ سے متعلق مسائل کے بارے میں چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی این ای ای ٹی اور سی بی ایس ای امتحانات سے متعلق تنازعات پر مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ دہرایا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان