Connect with us
Thursday,23-April-2026

سیاست

نئے زرعی قوانین کسانوں کے لئے سود مند:مودی

Published

on

وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو نئے زرعی قوانین پر کسانوں کے احتجاج کے پیش پشت کارفرما اپوزیشن سیاسی پارٹیوں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ نئے زرعی قوانین کسانوں کے فائدے کے لئے لائے گئے ہیں لیکن کچھ پارٹیاں ان قوانین کے سلسلے میں کسانوں کو گمراہ کررہی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر ہماری پالیسیوں یا نئے زرعی قوانین پر تعمیر ی تنقید کے بجائے یہ کہا جارہا ہے کہ کچھ چیزیں مستقبل کے لئے تشویش کا باعث ہیں۔اور ایسی چیزیں کسانوں کو گمراہ کرنے اور ان کو مشکلات میں ڈالنے کے لئے کی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب ایک نیا ٹرینڈ چلا ہے اس سے قبل حکومت کے فیصلوں کی مخالفت کی جاتی تھی مگر اب پروپیگنڈہ و افواہ اپوزیشن کی بنیاد بن چکے ہیں۔اب یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ اگرچہ یہ فیصلہ صحیح ہے لیکن اس سے دوسرے خدشات مستقبل میں پیدا ہوسکتے ہیں۔یہی بات زرعی قوانین کے سلسلے میں بھی ہے اور یہ چیزیں ان افراد کے ذریعہ انجام دی جارہی ہیں جو ہمیشہ سے کسانوں کی مخالف رہی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میں پوری وثوق کے ساتھ آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ مستقبل میں اس کے دور رس نتائج دیکھنے کو ملیں گے اور یہ قانون کسانوں کے لئے سود مند ثابت ہوگا۔نئے زرعی قوانین کسانوں کے نئے متبادل اور لیگل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ حکومت کسانوں سے بات کرنے اور ان کے سوالات و تحفظات کا تشفی بخش جواب دینے کو تیار ہے۔اگر کسان پرانے طریقے سے اپنی پیدوار کو فروخت کرنا چاہ رہے ہیں تو انہیں کون روک رہا ہے؟۔ہم نے نئے قوانین میں ان کو پرانے قانون پر عمل کرنے سے نہیں روکا ہے۔
کھجری میدان میں منعقد ایک پروگرام میں وارانسی۔پریاگ راج ہائی وے کا افتتاح کرنے کے بعد وزیرا عظم زور دیا کہ ‘نئے زرعی قوانین کسی کو بھی پرانے طریقے سے اپنی پیداوار کو فروخت کرنے سے منع نہیں کرتا۔اس سے پہلے منڈی کے باہر اپنے پیداوار کو فروخت کرنا غیر قانونی سمجھا جاتا تھا۔اور چھوٹے کسانوںکے ساتھ دھوکہ دہی ہوتی تھی۔کیونکہ وہ منڈیوں تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔اس نئے قانون میں کسانوں کو اس دھوکہ اور فریب سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ ریاستوں نے ہمارے نئے قوانین اور یہاں تک کہ کسان سمان ندھی جیسے کسانوں کے لئے نفع بخش اسکیمات کو بھی نافذ کرنے سے انکار کردیا۔ریاستوں کا یہ رویہ کسانوں کو ان کے حقوق اور فائد کے حصول میں مانع ہے۔ہم ان چیزوں کو ان ریاستوں میں اقتدار میں آنے کے بعد نافذ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو بڑے بازار تک رسائی دے کر انہیں باختیار بنانے کی کوشش کی ہے۔کسانوں کے مفاد میں ہی اصلاحات کی گئی ہیں۔جو ان کو زیادہ سے زیادہ متبادل فراہم کرے گا۔انہوں سے سوال کیا کہ’کیا کسانوں کو یہ آزادی نہیں چاہئے کہ جو ان کے پیداوار کی اچھی قیمت اور سہولت دے انہیں وہ اپنی پیداوار فروخت کرسکیں۔
مسٹر مودی نے دعوی کیا کہ ہماری حکومت نے سوامی ناتھ کمیشن کے مطابق کسانو ں کو ایم ایس پی کا ڈیڑھ گنا دینے کا وعدہ پورا کیا ہے۔یہ وعدہ نہ صرف کاغذات پر پورا ہو اہےبلکہ کسانوں کے بینک اکاونٹ میں بھی پہنچا ہے۔سابقہ حکومتوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ‘ صرف قرض معافی کے اعلانات کئے جاتے تھے اور لیکن ان اسکیمات کا فائدہ کبھی بھی کسانوں کو نہیں پہنچتا تھا۔وہ خود بھی اس بات کو قبول کرتے تھے کہ اگر ایک روپیہ گاؤں کو بھیجا جاتا تھا تو وہاں تک صرف15پیسے ہی پہنچتے تھے۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے دعوی کیا کہ ان کی حکومت نے ایم ایس پی کی بنیاد پر اناج اور دلال 2014سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ خریدے ہیں۔ہم نے ایم ایس پی کے ذریعہ 49ہزار کروڑ کی دالیں خرید ہیں۔جبکہ اس سے پہلے یہ صڑف 650کروڑ تھا۔اسی طرح سے پہلے جو دھان 2لاکھ کروڑ تھی ہم نے گذشتہ پانچ سالوں میں 5لاکھ کروڑ خرید ے ہیں اسی طرح سے پہلے کے 1.5لاکھ کروڑ کے مقابلے میں ہم نے 3لاکھ کروڑ دھان کی خریداری کی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ناسک ٹی سی ایس کیس ندا خان کو نشانہ بنایا گیا, پولس اپنی شبیہ خراب کر رہی ہے : سماجی خادم نرنجن ٹکلے

Published

on

Press-Con.

ممبئی : ناسک ٹی سی ایس کیس میں تبدیلی مذہب کا کوئی تعلق نہیں ہے اس کیس میں ندا خان کو نشانہ بنایا گیا ہے, جبکہ وہ ایچ آر ہیڈ نہیں تھی اس کے باوجود اس کا میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے۔ ناسک کا معاملہ میں مذہبی جذبات بھڑکانے اور مذہبی منافرت لوجہاد یا پھر کارپوریٹ جہاد کا معاملہ بھی نہیں ہے, صرف یہ جنسی استحصال کا معاملہ ہے لیکن اس میں ندا خان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس قسم کا سنگین الزام آج یہاں مراٹھی پترکار سنگھ میں اے پی سی آر کی منعقدہ پریس کانفرنس میں سماجی خادم تیستا سیتلواڈ نے عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نے ایک خاتون کی شناخت کو عام کیا اور اگر پولس نے یہ افشا کیا ہے تو پولس کے حوالے سے خبر نشر کی جانی چاہئے تھی متاثرہ اور شکایت کنندہ سے بات کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے, ایسے کئی کیسز ہے جس میں کسی پر بھی کچھ بھی الزام عائد کئے جاسکتے ہیں, لیکن ناسک کے کیس میں ماحول تیار کیا گیا جو سراسر غلط ہے۔ ناسک کے سماجی خادم نرنجن ٹکلے نے کہا کہ اس کیس میں کسی کا سیاسی ایجنڈہ سیٹ کرنے کی کوشش پولس نے کی ہے, جبکہ پولس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے پولس کی شبیہ خراب ہوتی ہے۔ بدلاپور میں کیا ہوا تھا اکشے شندے کو انکاؤنٹر کیا گیا اس کے بعد اس کے مناسبت سے بنیر لگا کر بدلاپور کا ایجنڈہ چلایا گیا اس کے بعد عدالت نے اسے قتل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح سے سومناتھ سوریہ ونشی کے کیس میں کس قدر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے سبب اس کی حراستی موت ہو گئی۔ اس بھی عدالت نے کیس درج کرنے کا حکم دیا ہے اس کے ساتھ ہی ناسک کے کیس میں بھی ایجنڈہ چلایا گیا ہے اور کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت اس کمپنی ٹی سی ایس کی ملازمہ ندا خان کو نشانہ بنایا گیا ندا خان ایک معمولی ملازمہ ہے, لیکن اسے ایچ آر ہیڈ بنا کر پیش کیا گیا۔ میڈیا نے اس کا ٹرائل چلایا ہے, والمک کراڈ خودسپردگی تک پولس کے ہاتھ نہیں لگا۔ ایک سال قبل ہی اشوک کھرات کے خلاف کیس درج کیا تھا لیکن اسے اجیت پوار کی موت کے بعد گرفتار کیا گیا کسی کا پولیٹیکل ایجنڈہ سیٹ کرنے کے لیے پولس خود کو بدنام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح سے ناسک کے کیس میں ہو رہا ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پولس نے جو تفتیش کی ہے اس کو میڈیا ٹرائل کے معرفت عام کیا جارہا ہے, جبکہ اس میں تبدیلی مذہب کا کوئی تذکرہ تک نہیں ہے۔ اس پریس کانفرنس میں اے پی سی آر نے ناسک کیس میں فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بھی پیش کی ہے۔ اس کانفرنس میں ڈولفی ڈیسوزا، شاکر شیخ سمیت دیگر موجود تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

نیسکو میوزک کنسرٹ پارٹی میں منشیات سپلائی کرنے والی خاتون کا پردہ فاش، خاتون کے اکاونٹ میں کروڑوں روپے جمع، اب تک ۱۱ ملزمین گرفتار

Published

on

ممبئی : ونرائی پولیس نے منشیات کیس کے ایک ملزم آیوش ساہتیہ سے 933 نشہ آور گولیاں ضبط کی ہیں، جن کی مالیت مبینہ طور پر 1.5 ملین روپے ہے۔ اپنی گرفتاری سے قبل آیوش ساہتیہ نے ان گولیوں کو کولہاپور کے ایک مقام پر پھینک دیا تھا، جسے پولیس نے ضبط کر لیا ہے۔ آیوش ساہتیہ سے پوچھ گچھ میں کئی اہم انکشافات ہوئے جن میں ایک خاتون ساتھی کا نام بھی شامل ہے۔ ونرائی پولیس نے میرا روڈ علاقے سے ملزم خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم جیا راچل جیکب کو میرا روڈ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جیا اس پورے ڈرگ سنڈیکیٹ کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرتی تھی۔ نیسکو میوزک کنسرٹ میں خریدی گئی ادویات بھی جیا کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئیں۔ جیا ایک اعلیٰ درجے کی خاتون ہیں۔ جس کے ایک بڑے ڈرگ سپلائیر سے روابط کا انکشاف ہوا ہے۔ جیا سے بھاری مقدار میں منشیات بھی برآمد ہوئی ہے۔ فی الحال پولیس خاتون کے اکاؤنٹ اور اس کے رابطوں کو مزید جوڑنے میں مصروف ہے۔ ونرائی پولیس نے گوریگاؤں منشیات کیس میں اب تک 11 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی پولس ڈی سی پی زون ۱۲ مہیش چمٹے نے دی ہے۔

Continue Reading

بزنس

بازار مسلسل دوسرے دن سرخ رنگ میں رہے، سینسیکس 852 پوائنٹس، نفٹی 0.84 فیصد گرا

Published

on

ممبئی: ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ مسلسل دوسرے کاروباری دن سرخ رنگ میں بند ہوئی، مشرق وسطی میں جاری تنازعات، خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، کمزور روپے اور دیگر ناموافق عوامل کے درمیان آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی وجہ سے تیزی سے گراوٹ کا پتہ لگا۔ اس مدت کے دوران اہم گھریلو بینچ مارکس سینسیکس اور نفٹی تقریباً 1 فیصد گر گئے۔ ٹریڈنگ کے اختتام پر، بی ایس ای کا 30 حصص والا سینسیکس 852.49 پوائنٹس یا 1.09 فیصد گر کر 77,664 پر ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ این ایس ای نفٹی 50 205.05 (0.84 فیصد) پوائنٹس گر کر 24,173.05 پر آ گیا۔ سینسیکس 77,983.66 پر کھلا اور 823 پوائنٹس یا 1 فیصد سے زیادہ گر کر اپنے دن کی کم ترین سطح 77,574.18 تک پہنچ گیا۔ دریں اثنا، نفٹی 24,202.35 پر کھلا اور 243 پوائنٹس یا تقریباً 1 فیصد گر کر 24,134.80 پر ایک دن کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اس طرح، صرف دو سیشنوں میں، سینسیکس تقریباً 1,600 پوائنٹس یعنی 2 فیصد گر گیا ہے، جب کہ نفٹی 50 میں بھی تقریباً 2 فیصد کی کمی آئی ہے۔ سیشن کے دوران وسیع مارکیٹ انڈیکس میں بھی کمی آئی، جبکہ وسیع مارکیٹ انڈیکس پچھلے سیشن کی کمی کے باوجود سبز رنگ میں بند ہوئے تھے۔ نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس میں 0.67 فیصد کی کمی آئی، جبکہ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس میں 0.41 فیصد کی کمی ہوئی۔ سیکٹری طور پر، نفٹی فارما (2.36 فیصد) اور نفٹی میڈیا (0.90 فیصد) کے علاوہ تمام شعبوں میں کمی ہوئی۔ نفٹی آٹو سب سے زیادہ گرا، 2.35 فیصد، نفٹی پی ایس یو بینک 2.19 فیصد، نفٹی ریئلٹی 1.83 فیصد، نفٹی فائنانشل سروسز 1.38 فیصد، نفٹی پرائیویٹ بینک 1.31 فیصد، اور نفٹی آئی ٹی 1.22 فیصد۔ نفٹی 50 پیک میں، ڈاکٹر ریڈی کی لیبارٹریز، سیپلا، اڈانی انٹرپرائزز، کول انڈیا، اپولو ہاسپٹلس، اڈانی پورٹس، او این جی سی، اور نیسلے انڈیا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے تھے، جب کہ ٹرینٹ، شری رام فائنانس، ٹیک مہندرا، بجاج فنسرو، انفوسس، ایس بی آئی لائف، ٹی ایم پی وی، اور ایم اینڈ ایس سب سے زیادہ نقصان میں تھے۔ آبنائے ہرمز کی مسلسل ناکہ بندی کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا، جس کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں خطرے کے خلاف رجحان پیدا ہوا۔ امریکہ ایران مذاکرات کے دوران خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر رہنے کی وجہ سے مارکیٹ کا جذبہ مزید اداس ہو گیا۔ دریں اثنا، ہندوستانی روپیہ مسلسل چوتھے سیشن میں کمزور ہوا اور ایک ماہ میں دوسری بار 94 کے نشان کو توڑا۔ مارکیٹ کے خدشات کے درمیان برینٹ کروڈ 1.1 فیصد بڑھ کر تقریباً 103 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جس نے مسلسل چوتھے دن فائدہ اٹھایا۔ اس سال اب تک بینچ مارک میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، زیادہ تر فوائد مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں اضافے کے بعد حاصل ہوئے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان