Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

نئے زرعی قوانین کسانوں کے لئے سود مند:مودی

Published

on

وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو نئے زرعی قوانین پر کسانوں کے احتجاج کے پیش پشت کارفرما اپوزیشن سیاسی پارٹیوں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ نئے زرعی قوانین کسانوں کے فائدے کے لئے لائے گئے ہیں لیکن کچھ پارٹیاں ان قوانین کے سلسلے میں کسانوں کو گمراہ کررہی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر ہماری پالیسیوں یا نئے زرعی قوانین پر تعمیر ی تنقید کے بجائے یہ کہا جارہا ہے کہ کچھ چیزیں مستقبل کے لئے تشویش کا باعث ہیں۔اور ایسی چیزیں کسانوں کو گمراہ کرنے اور ان کو مشکلات میں ڈالنے کے لئے کی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب ایک نیا ٹرینڈ چلا ہے اس سے قبل حکومت کے فیصلوں کی مخالفت کی جاتی تھی مگر اب پروپیگنڈہ و افواہ اپوزیشن کی بنیاد بن چکے ہیں۔اب یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ اگرچہ یہ فیصلہ صحیح ہے لیکن اس سے دوسرے خدشات مستقبل میں پیدا ہوسکتے ہیں۔یہی بات زرعی قوانین کے سلسلے میں بھی ہے اور یہ چیزیں ان افراد کے ذریعہ انجام دی جارہی ہیں جو ہمیشہ سے کسانوں کی مخالف رہی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میں پوری وثوق کے ساتھ آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ مستقبل میں اس کے دور رس نتائج دیکھنے کو ملیں گے اور یہ قانون کسانوں کے لئے سود مند ثابت ہوگا۔نئے زرعی قوانین کسانوں کے نئے متبادل اور لیگل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ حکومت کسانوں سے بات کرنے اور ان کے سوالات و تحفظات کا تشفی بخش جواب دینے کو تیار ہے۔اگر کسان پرانے طریقے سے اپنی پیدوار کو فروخت کرنا چاہ رہے ہیں تو انہیں کون روک رہا ہے؟۔ہم نے نئے قوانین میں ان کو پرانے قانون پر عمل کرنے سے نہیں روکا ہے۔
کھجری میدان میں منعقد ایک پروگرام میں وارانسی۔پریاگ راج ہائی وے کا افتتاح کرنے کے بعد وزیرا عظم زور دیا کہ ‘نئے زرعی قوانین کسی کو بھی پرانے طریقے سے اپنی پیداوار کو فروخت کرنے سے منع نہیں کرتا۔اس سے پہلے منڈی کے باہر اپنے پیداوار کو فروخت کرنا غیر قانونی سمجھا جاتا تھا۔اور چھوٹے کسانوںکے ساتھ دھوکہ دہی ہوتی تھی۔کیونکہ وہ منڈیوں تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔اس نئے قانون میں کسانوں کو اس دھوکہ اور فریب سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ ریاستوں نے ہمارے نئے قوانین اور یہاں تک کہ کسان سمان ندھی جیسے کسانوں کے لئے نفع بخش اسکیمات کو بھی نافذ کرنے سے انکار کردیا۔ریاستوں کا یہ رویہ کسانوں کو ان کے حقوق اور فائد کے حصول میں مانع ہے۔ہم ان چیزوں کو ان ریاستوں میں اقتدار میں آنے کے بعد نافذ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو بڑے بازار تک رسائی دے کر انہیں باختیار بنانے کی کوشش کی ہے۔کسانوں کے مفاد میں ہی اصلاحات کی گئی ہیں۔جو ان کو زیادہ سے زیادہ متبادل فراہم کرے گا۔انہوں سے سوال کیا کہ’کیا کسانوں کو یہ آزادی نہیں چاہئے کہ جو ان کے پیداوار کی اچھی قیمت اور سہولت دے انہیں وہ اپنی پیداوار فروخت کرسکیں۔
مسٹر مودی نے دعوی کیا کہ ہماری حکومت نے سوامی ناتھ کمیشن کے مطابق کسانو ں کو ایم ایس پی کا ڈیڑھ گنا دینے کا وعدہ پورا کیا ہے۔یہ وعدہ نہ صرف کاغذات پر پورا ہو اہےبلکہ کسانوں کے بینک اکاونٹ میں بھی پہنچا ہے۔سابقہ حکومتوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ‘ صرف قرض معافی کے اعلانات کئے جاتے تھے اور لیکن ان اسکیمات کا فائدہ کبھی بھی کسانوں کو نہیں پہنچتا تھا۔وہ خود بھی اس بات کو قبول کرتے تھے کہ اگر ایک روپیہ گاؤں کو بھیجا جاتا تھا تو وہاں تک صرف15پیسے ہی پہنچتے تھے۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے دعوی کیا کہ ان کی حکومت نے ایم ایس پی کی بنیاد پر اناج اور دلال 2014سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ خریدے ہیں۔ہم نے ایم ایس پی کے ذریعہ 49ہزار کروڑ کی دالیں خرید ہیں۔جبکہ اس سے پہلے یہ صڑف 650کروڑ تھا۔اسی طرح سے پہلے جو دھان 2لاکھ کروڑ تھی ہم نے گذشتہ پانچ سالوں میں 5لاکھ کروڑ خرید ے ہیں اسی طرح سے پہلے کے 1.5لاکھ کروڑ کے مقابلے میں ہم نے 3لاکھ کروڑ دھان کی خریداری کی ہے۔

سیاست

شیو سینا یو بی ٹی غیر مراٹھی لوگوں کو مراٹھی سکھانے کی مہم شروع کرے گی، زبان کے نام پر ایم این ایس پر تشدد کی مذمت، بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام۔

Published

on

UBT-Anand-Dubey

ممبئی : مہاراشٹر میں ‘زبان’ کا تنازع ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں کے ذریعہ غیر مراٹھی لوگوں کی مسلسل پٹائی کے معاملے پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کارکنوں سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ اس لیے اب شیو سینا (یو بی ٹی) لوگوں کو مراٹھی سکھائے گی۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ خبریں آرہی ہیں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن غیر مراٹھی بولنے والوں پر حملہ کررہے ہیں۔ وہ اس کی توہین کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسے مراٹھی نہیں آتی۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہاں روزگار کی تلاش میں آئے ہوں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مراٹھی کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے سیکھیں گے؟ انہیں کون سکھائے گا؟ پھر ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ہم انہیں پڑھائیں گے۔ اس کے لیے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو لوگوں کو مراٹھی زبان سکھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے مہاراشٹر میں لوگوں کو مراٹھی سکھانے کا نعرہ بھی دیا گیا ہے۔ ایم این ایس والے لوگوں کی توہین کریں گے اور مار پیٹ کریں گے۔ لیکن ہم انہیں پیار سے مراٹھی زبان سکھائیں گے۔ یہی فرق ہے ان کی اور ہماری ثقافت میں۔ اس مہم کے تحت ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ آنند دوبے نے مراٹھی پڑھانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مراٹھی بولنے والوں کو مراٹھی سکھانے کے فیصلے کو ووٹ بینک کی سیاست کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی غریب کو زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے انہیں مراٹھی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ میں مہاراشٹر نو نرمان سینا سے بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے مراٹھی سکھانے پر توجہ دیں۔

انہوں نے بی جے پی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو مارتی ہے اور پھر ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور ان کے ووٹ لیتی ہے۔ یوپی، بہار اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور یہاں اگر کوئی غیر مراٹھی مارا پیٹا جائے تو یہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے۔

Continue Reading

سیاست

وقف ترمیمی بل پر بہار میں ہنگامہ۔ اورنگ آباد میں جے ڈی یو سے سات مسلم لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا۔

Published

on

JDU-leaders

اورنگ آباد : وقف بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کو بہار میں مسلسل دھچکے لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جے ڈی یو کو اورنگ آباد میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بل سے ناراض ہو کر اورنگ آباد جے ڈی یو کے سات مسلم لیڈروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کی بنیادی رکنیت اور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں جے ڈی (یو) کے ضلع نائب صدر ظہیر احسن آزاد، قانون جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ اطہر حسین اور منٹو شامل ہیں، جو سمتا پارٹی کے قیام کے بعد سے 27 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔

اس کے علاوہ پارٹی کے بیس نکاتی رکن محمد۔ الیاس خان، محمد فاروق انصاری، سابق وارڈ کونسلر سید انور حسین، وارڈ کونسلر خورشید احمد، پارٹی لیڈر فخر عالم، جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ضلع نائب صدر مظفر امام قریشی سمیت درجنوں حامیوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کی اور جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کی حمایت کرنے والے نتیش کمار اب سیکولر نہیں رہے۔ اس کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار اپاہج ہو گئے ہیں۔

ان لیڈروں نے کہا کہ جس طرح جے ڈی یو کے مرکزی وزیر للن سنگھ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پر اپنا رخ پیش کر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے بی جے پی کا کوئی وزیر بول رہا ہو۔ وقف ترمیمی بل کو لے کر جمعیۃ العلماء ہند، مسلم پرسنل لا، امارت شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وقف ترمیمی بل پر کچھ کہا۔ انہوں نے وہپ جاری کیا اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کی حمایت حاصل کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب جے ڈی یو کو مسلم لیڈروں، کارکنوں اور مسلم ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں ضلع جنرل سکریٹری ظہیر احسن آزاد نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں سمتا پارٹی کے آغاز سے ہی پارٹی کے سپاہی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ جب جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں 12 ایم پیز کے ساتھ جنتا دل جارج کی تشکیل ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب سمتا پارٹی بنی تو مجھے ضلع کا خزانچی بنایا گیا۔ اس کے بعد جب جنتا دل یونائیٹڈ کا قیام عمل میں آیا تو میں ضلع خزانچی تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بہار اسٹیٹ جے ڈی یو اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھی مجھے ضلعی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے میں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا تھا لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ جے ڈی یو اب سیکولر نہیں ہے۔ للن سنگھ اور سنجے جھا نے بی جے پی میں شامل ہو کر پارٹی کو برباد کر دیا۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پورا بھروسہ تھا کہ جے ڈی یو وقف بل کے خلاف جائے گی لیکن جے ڈی یو نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑا اور خیانت کی اور وقف بل کی حمایت کی۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرا استعفیٰ منظور کر لیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com