Connect with us
Sunday,02-August-2026

تفریح

اداکار نواز الدین صدیقی کے ہاتھوں نندیتا داس کی کتاب ’’منٹو اور مَیں‘‘ کی رونمائی

Published

on

ممبئی: ’’یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے سعادت حسن منٹو کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ بطور اداکار مَیں نے کئی کردار نبھانے اور اسٹیج ڈراموں کیلئے اردو اور ہندی ادب پڑھا ہے لیکن منٹو کو پڑھنے کے بعد کہہ سکتا ہوں کہ وہ عظیم لکھنے والوں میں سے ایک ہیں۔ منٹو کا کردار میری زندگی پر اثر انداز ہوا ہے۔ منٹو کے ذریعہ مَیں نے اپنے دل کی بات کہی ہے۔‘‘ اِن خیالات کا اظہار بہ روز اتوار ۱۶/فروری کی شام ممبئی کے جی فائیو اے تھیٹر میں منعقدہ تقریب میں فلم ساز، اداکارہ نندیتا داس کی کتاب ’’منٹو اور مَیں‘‘ کی رسمِ رونمائی کے موقع پر مقبول و معروف اداکار نواز الدین صدیقی نے کیا۔ واضح رہے کہ ہند و پاک کے شہرہ آفاق افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی زندگی پر مبنی نندیتا داس کی ہدایت میں بننے والی فلم ’منٹو‘ ستمبر ۲۰۱۸ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ اِس فلم میں نواز الدین صدیقی کے ساتھ رشی کپور، جاوید اختر، رَسیکا دُگل، طاہر راج بھسین، پریش راول، رنویر شورے، راج شری اور دِویا دتہ اہم کردار میں نظر آئے تھے۔ چونکہ محض دو سے ڈھائی گھنٹے کی بائیوپک کے ذریعہ کسی کی پوری زندگی کو پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔ نندیتا داس نے محسوس کیا کہ منٹو کی بہت ساری کہانیاں تھیں جن کو بتانا چاہئے تھا۔ اِس لئے اُنہوں نے یہ کتاب تحریر کی ہے۔
گذشتہ برسوں میں متعدد کامیاب فلموں میں نظر آئے نواز الدین صدیقی نے اِس موقع پر اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا، ’’فلم ’منٹو‘ کی شوٹنگ کے دوران مَیں نے بارہا محسوس کیا کہ آپ کا خیال بھی عموماً وہی ہوتا ہے جو منٹو کا ہوتا ہے۔ عموماً بہت سارے لوگوں کا ہوتا ہے کیونکہ ہر آدمی زندگی میں سچ بولنا چاہتا ہے۔ اُس کو سننے والے بہت کم ہیں، ایسا مجھے کبھی کبھی لگتا ہے۔ یعنی کہ اگر واقعی سننے والے مل جائیں تو ہر آدمی پوری زندگی کا سچ اُنڈیل دے۔ مَیں نے بہت جگہوں پر دیکھا ہے لوگ سچ بولنا چاہتے ہیں۔ فلم ’منٹو‘ کی شوٹنگ کے دوران کئی بار ہوتا تھا کہ میرا خیال بالکل وہی ہے جو منٹو کا تھا۔ شوٹنگ کے وقت مَیں نے محسوس کیا کہ اگر کسی سین (منظر) کے ذریعہ مَیں نے خود کا سچ بول دیا تو لگتا تھا کہ ایمانداری آ گئی اِس سین میں اور یہ کہیں نہ کہیں آپ کو ناظرین سے جوڑتا ہے۔‘‘ نواز الدین صدیقی نے بتایا، ’’اُس وقت ’منٹو‘ کی شوٹنگ کے دوران یہ جدوجہد چل رہی تھی کہ مجھے یہاں ذرا بھی اداکاری نہیں کرنا ہے۔ جہاں اداکاری کا زور لگایا، اداکاری کرنے کی کوشش کی، وہاں کام کے ﺗﺌﻴﮟ آپ کی خود کی ایمانداری چلی جائے گی۔‘‘

فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ میں ایک پاکستانی رپورٹر سے متاثر ہو کر لکھا گیا کردار ہو، سعادت حسن منٹو اور شیوسینا سربراہ آنجہانی بال ٹھاکرے کا کردار ہو یا بیوی کی محبت میں پہاڑ کا سینہ چیر کر راستہ بنانے والے دشرتھ مانجھی کا کردار ہو نواز الدین صدیقی نے ہر طرح کے کرداروں کو بخوبی نبھایا ہے۔ مختلف کرداروں کے درمیان توازن قائم رکھنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر اُنہوں نے جواب دیا، ’’جتنی ایمانداری سے مَیں نے منٹو کا کردار نبھانے کی کوشش کی بطور اداکار میرا فرض تھا کہ اُتنی ہی شدت سے مَیں ٹھاکرے کا کردار نبھاؤں۔ میرے لئے یہ کردار ہیں۔ ممکن ہے مَیں غلط ہوں پر یہ میرا خیال ہے کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ آپ کے خیالات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ زندگی میں آپ صرف اُدھار کے خیالات پر چل رہے ہوتے ہیں۔ جب تک مَیں منٹو کرتا رہا، اُس وقت منٹو میرا خیال تھا۔ مَیں منٹو کی طرح منٹو کے نظریہ سے پوری دنیا کو دیکھتا تھا۔ اُس کے بعد فلم ’منٹو‘ پوری ہونے کے ساتھ وہ ختم ہوا۔ پھر دوسرے نظریہ سے دنیا کو دیکھنے لگا تو اِس طرح تبدیلیاں آتی چلی گئیں۔‘‘
اُنہوں نے مزید کہا، ’’اداکار کی ایک زندگی نہیں ہوتی ہے۔ اُسے بہت سی زندگیوں کو جینا پڑتا ہے۔ بطور اداکار اگر مَیں کسی ایک کردار کے نظریہ سے زندگی کو دیکھوں تو بہت سارے کردار ہیں جو رہ جائیں گے۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں نواز الدین صدیقی نے کہا، ’’کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو آپ کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جو آپ کہنا چاہتے ہیں اور نہیں کہہ پاتے وہ کردار کہہ دیتے ہیں۔ جیسے اپنی زندگی میں بہت ساری باتیں میں نہیں کہہ پاتا، مَیں نے منٹو کے ذریعہ وہ کہا ہے۔ مجھے ایک قسم کا سکون ملتا ہے۔ مَیں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے اِس طرح کے کردار نبھانے کا موقع ملتا ہے جہاں پر مَیں ڈر کے کچھ نہ کہوں تو میرے کردار وہ کہہ دیتے ہیں۔‘‘ سامعین کے اصرار پر نواز الدین صدیقی نے اِسی فلم کا ایک اثر انگیز مکالمہ سنایا، ’’ہندوستان زندہ باد پاکستان زندہ باد۔ اِن چیختے چلاتے نعروں کے بیچ میں کئی سوال ہیں۔ مَیں کسے اپنا ملک کہوں، لوگ دھڑا دھڑ کیوں مر رہے تھے؟ اِن سب سوالات کے مختلف جواب تھے، ایک ہندوستانی جواب ایک پاکستانی جواب۔ ایک ہندو جواب ایک مسلم جواب۔ کوئی اِسے ۱۸۵۷ء کے کھنڈر میں تلاش کرتا ہے تو کوئی اِسے مغلیہ سلطنت کے ملبے میں۔ سب پیچھے دیکھ رہے ہیں لیکن آج کے قاتل لہو اور لوہے سے تاریخ بنا رہے ہیں۔‘‘
کتاب ’’منٹو اور مَیں‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے فلم ’منٹو‘ کی ڈائریکٹر اور معروف اداکارہ نندیتا داس نے کہا، ’’جب مَیں نے ۲۰۰۸ء میں اپنی ہدایتکاری کی پہلی فلم ’فراق‘ مکمل کی تو اُس پر ایک کتاب لکھنا چاہتی تھی۔ پردے کے پیچھے بہت ساری کہانیاں تھیں جو مَیں نے کبھی شیئر نہیں کیں۔ اب ایک دہائی کے بعد مَیں نے اِس بات کو یقینی بنانا چاہا کہ فلم ’منٹو‘ بنانے کا سفر اور منٹو سے میرا رشتہ ختم نہ ہو۔ اِس کتاب کی صورت میں وہ یادیں ہمیشہ ساتھ رہیں گی۔ مجھے یقین ہے ایک ساتھ تصاویر اور الفاظ آپ کو ایک ایسی کہانی سنائیں گے جو آپ نے اسکرین پر نہیں دیکھی ہوگی۔‘‘ منٹو کے تعلق سے نندیتا کہتی ہیں، ’’وہ صرف ترغیب نہیں رونگٹے کھڑی کر دینے والی کہانیاں لکھتے تھے جو صرف وہی لکھ سکتے تھے۔ اُن کا لکھا موجودہ حالات پر اُتنا ہی درست ہے جتنا اُس وقت تھا۔ ایسا لگتا ہے جیسے آج ہی اُس آدمی نے یہ لکھا ہو۔‘‘ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نندیتا نے فلم ’منٹو‘ کی کاسٹ، کریو اور ناظرین کے علاوہ پاکستان کے سینئر صحافی، ڈرامہ نگار اور فلم ’منٹو‘ کے ریسرچ اسکالر سعید احمد کا بھی شکریہ ادا کیا۔ تقریب کی میزبانی جی فائیو اے کی بانی انورادھا پاریکھ نے کی جبکہ نظامت کے فرائض نَمیتا نے بحسن و خوبی ادا کئے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

(Lifestyle) طرز زندگی

فرح خان نے ‘لاک اپ’ کو اپنا ڈریم جاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اب تک کا بہترین ریئلٹی شو ہے۔

Published

on

Farah-Khan

ممبئی : فلمساز اور کوریوگرافر فرح خان اس وقت ریئلٹی شو “لاک اپ: سچ یٰسزا” کی شریک میزبانی کر رہی ہیں۔ انہوں نے شو میں اپنے سفر کو یادگار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شو کی میزبانی کرنا ان کے لیے ایک بہت ہی خاص تجربہ تھا اور اسے خوابیدہ کام قرار دیا۔ اس شو کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرح خان نے کہا، “ہر کوئی جانتا ہے کہ میں ریئلٹی ٹی وی کے بارے میں کتنی پرجوش ہوں، اس لیے جب میں کہتی ہوں کہ ‘لاک اپ’ میں نے کبھی دیکھا ہے تو سب سے بہترین رئیلٹی شو ہے، میں واقعی اس پر یقین رکھتی ہوں۔ یہ صرف اس وجہ سے نہیں ہے کہ میں اس کی میزبانی کرتی ہوں، بلکہ ایک ناظر کے طور پر بھی مجھے یہ پسند ہے۔”

اس نے مزید کہا، “شو کے بارے میں زبردست جوش و خروش ہے۔ میں جہاں بھی جاتی ہوں، لوگ مجھ سے ‘لاک اپ’ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ چاہے وہ انڈسٹری کے دوست ہوں، وہ لوگ جن سے میں ہوائی اڈے پر ملتا ہوں، وہ لوگ جن سے میں فلم بندی کے دوران ملتا ہوں، یا مداح، ہر کوئی شو سے جڑا ہوا محسوس کرتا ہے۔” یہ شو اب صرف ایک رئیلٹی شو نہیں رہا بلکہ یہ پاپ کلچر کا ایک بڑا رجحان بن گیا ہے۔ فرح نے وضاحت کی، “شو کے پروڈیوسر ایکتا کپور اور نیٹ فلکس نے مجھے اور اداکار رتیش دیش مکھ کو ایک تجربے کا حصہ بننے کا موقع دیا جہاں ہم نے مقابلہ کرنے والوں کی زندگی کے بہت سے ان دیکھے پہلوؤں کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ شو صرف لڑائیوں اور بحثوں کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ لوگوں کی تبدیلی کو بھی دکھایا گیا ہے اور بعض اوقات یہ خود کو دوسروں کے ساتھ جوڑتا ہے اور خود کو دریافت کرتا ہے۔ اپنی غلطیوں سے آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کریں۔”

فرح نے نیٹ فلکس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، “‘لاک اپ’ کی میزبانی میرے لیے ایک خوابیدہ تجربہ رہا ہے۔” شو کے دوسرے میزبان رتیش دیش مکھ نے بھی اس کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “شو پر ناظرین کا ردعمل زبردست رہا ہے، اور تین ہفتوں میں 50 ملین ویوز کو عبور کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ شو کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے ہیں۔” اس سفر نے مجھے سکھایا کہ ہر شخص کے اندر ایک کہانی ہوتی ہے جسے پہلی نظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’شو کے دوران مقابلہ کرنے والوں کو ان کے خوف، کمزوریوں اور چھپے ہوئے جذبات کا سامنا کرتے ہوئے دیکھنا ایک گہرا متحرک تجربہ رہا ہے۔ ‘لاک اپ’ نے ان مسائل کے بارے میں بات چیت کو جنم دیا ہے جن کے بارے میں لوگ اکثر کھل کر بات نہیں کرتے ہیں۔ آپ جذبات کو اسکرپٹ نہیں کر سکتے ہیں، اور شاید اسی وجہ سے شو بہت سارے لوگوں کے ساتھ گونج رہا ہے۔”

Continue Reading

بالی ووڈ

راکھی ساونت کی سوشل میڈیا پوسٹ پر بحث چھڑ گئی

Published

on

Rakhi-Sawant

ممبئی : اداکارہ اور ٹیلی ویژن شخصیت راکھی ساونت کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد ملک بھر میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ پوسٹ حالیہ طلبہ احتجاج سے جوڑ کر دیکھی جا رہی ہے۔ پوسٹ میں سرخ رنگ کے سینیٹری پیڈ کی علامتی تصویر شیئر کی گئی تھی، جسے متعدد صارفین نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر دیکھا۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور اس پر مختلف آراء سامنے آئیں۔

کچھ افراد نے اسے اظہارِ رائے کی آزادی اور طلبہ کے ساتھ ہمدردی کی علامت قرار دیا، جبکہ بعض نے اس علامتی انداز پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر مناسب اور متنازع قرار دیا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی شخصیات کے سماجی اور عوامی معاملات پر اظہارِ خیال، آزادیِ اظہار اور عوامی ذمہ داری کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

تاحال راکھی ساونت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے حوالے سے کسی بھی سرکاری قانونی کارروائی کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ معاملہ اب بھی سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں زیرِ بحث ہے اور مختلف طبقات اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

Continue Reading

(Lifestyle) طرز زندگی

سلمان خان صحت اور نظر پر بحث کے درمیان اپنے سویگ کو برقرار رکھتے ہوئے کہتے ہیں، ‘آپ سب کیسے ہیں؟’

Published

on

Salman-Khan

ممبئی : بالی ووڈ کے دبنگ اداکار سلمان خان نے سوشل میڈیا پر اپنی صحت اور ظاہری شکل کے حوالے سے ہونے والی بحث کا جواب اپنی خصوصیت اور ذہانت سے دیا ہے۔ تنقید کا براہ راست جواب دینے کے بجائے، سپر اسٹار نے اپنی تازہ ترین تصاویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیں اور لوگوں کے سوال کو پلٹ دیا۔ سلمان نے اپنی کچھ بلیک اینڈ وائٹ تصاویر شیئر کیں، جس میں وہ گہرے کپڑوں اور کاؤ بوائے کیپ میں نظر آ رہے ہیں۔ پوسٹ کے ساتھ مخصوص کیپشن بھی تھا، “آپ سب کیسے ہیں؟” یہ پوسٹ اس کے فوراً بعد سامنے آئی جب اداکار کو سلم ری ہیبلیٹیشن اتھارٹی (ایس آر اے) کے دفتر میں دیکھا گیا، جس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

اس تقریب کی ویڈیو کو آن لائن طرح طرح کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے لوگوں نے 60 سالہ اداکار کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا، جب کہ دوسروں نے ان کی ظاہری شکل کا مذاق بھی اڑایا، اور یہ تجویز کیا کہ وہ عمر کے آثار دکھا رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، “سلمان خان بوڑھے ہو رہے ہیں، وہ 60 سال کے ہو گئے ہیں۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، کوئی کتنا ہی بڑا اسٹار کیوں نہ ہو، وقت کے اثرات نظر آتے ہیں۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، “یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا، اس کی آنکھوں میں صاف نظر آرہا ہے کہ وہ کتنا تھکا ہوا اور غیر صحت مند دکھائی دے رہا ہے۔” ایک اور صارف نے پوچھا کہ دوستو، سلمان خان کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ ذرا ان کا چہرہ دیکھو۔

ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، “90 کی دہائی کے تمام اداکاروں میں، سلمان خان نے سب سے زیادہ عمر بڑھنے کے اثرات دکھائے ہیں۔ یہ شارٹ کٹس اور سٹیرائڈز لینے کا نتیجہ ہے۔ بچے، فٹ رہیں، صحت مند کھائیں، اور قدرتی جسم بنائیں۔ یہ آدمی اپنی آنے والی فلموں میں اپنے مداحوں کے ساتھ جو سب سے بڑا دھوکہ کرے گا وہ یہ ہے کہ وہ اپنے جسم کو چھپانے کے لیے بھاری وی ایف ایکس کا استعمال کرے گا”۔ حقیقی۔” سپر اسٹار کو اپنے مداحوں کی جانب سے بھی پذیرائی ملی، جن میں سے بہت سے لوگوں نے ان کی عمر کے بارے میں ہونے والے لطیفوں پر تنقید کی۔ ایک صارف نے لکھا، “سلمان خان کو کچھ نہیں ہوا، وہ بغیر میک اپ کے 60 سال سے زیادہ عمر کے عام آدمی ہیں۔” کام کے محاذ پر، سلمان اپوروا لاکھیا کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم “مترھومی” کی ریلیز کی تیاری کر رہے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان