Connect with us
Tuesday,16-June-2026

تفریح

اداکار نواز الدین صدیقی کے ہاتھوں نندیتا داس کی کتاب ’’منٹو اور مَیں‘‘ کی رونمائی

Published

on

ممبئی: ’’یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے سعادت حسن منٹو کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ بطور اداکار مَیں نے کئی کردار نبھانے اور اسٹیج ڈراموں کیلئے اردو اور ہندی ادب پڑھا ہے لیکن منٹو کو پڑھنے کے بعد کہہ سکتا ہوں کہ وہ عظیم لکھنے والوں میں سے ایک ہیں۔ منٹو کا کردار میری زندگی پر اثر انداز ہوا ہے۔ منٹو کے ذریعہ مَیں نے اپنے دل کی بات کہی ہے۔‘‘ اِن خیالات کا اظہار بہ روز اتوار ۱۶/فروری کی شام ممبئی کے جی فائیو اے تھیٹر میں منعقدہ تقریب میں فلم ساز، اداکارہ نندیتا داس کی کتاب ’’منٹو اور مَیں‘‘ کی رسمِ رونمائی کے موقع پر مقبول و معروف اداکار نواز الدین صدیقی نے کیا۔ واضح رہے کہ ہند و پاک کے شہرہ آفاق افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی زندگی پر مبنی نندیتا داس کی ہدایت میں بننے والی فلم ’منٹو‘ ستمبر ۲۰۱۸ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ اِس فلم میں نواز الدین صدیقی کے ساتھ رشی کپور، جاوید اختر، رَسیکا دُگل، طاہر راج بھسین، پریش راول، رنویر شورے، راج شری اور دِویا دتہ اہم کردار میں نظر آئے تھے۔ چونکہ محض دو سے ڈھائی گھنٹے کی بائیوپک کے ذریعہ کسی کی پوری زندگی کو پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔ نندیتا داس نے محسوس کیا کہ منٹو کی بہت ساری کہانیاں تھیں جن کو بتانا چاہئے تھا۔ اِس لئے اُنہوں نے یہ کتاب تحریر کی ہے۔
گذشتہ برسوں میں متعدد کامیاب فلموں میں نظر آئے نواز الدین صدیقی نے اِس موقع پر اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا، ’’فلم ’منٹو‘ کی شوٹنگ کے دوران مَیں نے بارہا محسوس کیا کہ آپ کا خیال بھی عموماً وہی ہوتا ہے جو منٹو کا ہوتا ہے۔ عموماً بہت سارے لوگوں کا ہوتا ہے کیونکہ ہر آدمی زندگی میں سچ بولنا چاہتا ہے۔ اُس کو سننے والے بہت کم ہیں، ایسا مجھے کبھی کبھی لگتا ہے۔ یعنی کہ اگر واقعی سننے والے مل جائیں تو ہر آدمی پوری زندگی کا سچ اُنڈیل دے۔ مَیں نے بہت جگہوں پر دیکھا ہے لوگ سچ بولنا چاہتے ہیں۔ فلم ’منٹو‘ کی شوٹنگ کے دوران کئی بار ہوتا تھا کہ میرا خیال بالکل وہی ہے جو منٹو کا تھا۔ شوٹنگ کے وقت مَیں نے محسوس کیا کہ اگر کسی سین (منظر) کے ذریعہ مَیں نے خود کا سچ بول دیا تو لگتا تھا کہ ایمانداری آ گئی اِس سین میں اور یہ کہیں نہ کہیں آپ کو ناظرین سے جوڑتا ہے۔‘‘ نواز الدین صدیقی نے بتایا، ’’اُس وقت ’منٹو‘ کی شوٹنگ کے دوران یہ جدوجہد چل رہی تھی کہ مجھے یہاں ذرا بھی اداکاری نہیں کرنا ہے۔ جہاں اداکاری کا زور لگایا، اداکاری کرنے کی کوشش کی، وہاں کام کے ﺗﺌﻴﮟ آپ کی خود کی ایمانداری چلی جائے گی۔‘‘

فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ میں ایک پاکستانی رپورٹر سے متاثر ہو کر لکھا گیا کردار ہو، سعادت حسن منٹو اور شیوسینا سربراہ آنجہانی بال ٹھاکرے کا کردار ہو یا بیوی کی محبت میں پہاڑ کا سینہ چیر کر راستہ بنانے والے دشرتھ مانجھی کا کردار ہو نواز الدین صدیقی نے ہر طرح کے کرداروں کو بخوبی نبھایا ہے۔ مختلف کرداروں کے درمیان توازن قائم رکھنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر اُنہوں نے جواب دیا، ’’جتنی ایمانداری سے مَیں نے منٹو کا کردار نبھانے کی کوشش کی بطور اداکار میرا فرض تھا کہ اُتنی ہی شدت سے مَیں ٹھاکرے کا کردار نبھاؤں۔ میرے لئے یہ کردار ہیں۔ ممکن ہے مَیں غلط ہوں پر یہ میرا خیال ہے کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ آپ کے خیالات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ زندگی میں آپ صرف اُدھار کے خیالات پر چل رہے ہوتے ہیں۔ جب تک مَیں منٹو کرتا رہا، اُس وقت منٹو میرا خیال تھا۔ مَیں منٹو کی طرح منٹو کے نظریہ سے پوری دنیا کو دیکھتا تھا۔ اُس کے بعد فلم ’منٹو‘ پوری ہونے کے ساتھ وہ ختم ہوا۔ پھر دوسرے نظریہ سے دنیا کو دیکھنے لگا تو اِس طرح تبدیلیاں آتی چلی گئیں۔‘‘
اُنہوں نے مزید کہا، ’’اداکار کی ایک زندگی نہیں ہوتی ہے۔ اُسے بہت سی زندگیوں کو جینا پڑتا ہے۔ بطور اداکار اگر مَیں کسی ایک کردار کے نظریہ سے زندگی کو دیکھوں تو بہت سارے کردار ہیں جو رہ جائیں گے۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں نواز الدین صدیقی نے کہا، ’’کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو آپ کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جو آپ کہنا چاہتے ہیں اور نہیں کہہ پاتے وہ کردار کہہ دیتے ہیں۔ جیسے اپنی زندگی میں بہت ساری باتیں میں نہیں کہہ پاتا، مَیں نے منٹو کے ذریعہ وہ کہا ہے۔ مجھے ایک قسم کا سکون ملتا ہے۔ مَیں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے اِس طرح کے کردار نبھانے کا موقع ملتا ہے جہاں پر مَیں ڈر کے کچھ نہ کہوں تو میرے کردار وہ کہہ دیتے ہیں۔‘‘ سامعین کے اصرار پر نواز الدین صدیقی نے اِسی فلم کا ایک اثر انگیز مکالمہ سنایا، ’’ہندوستان زندہ باد پاکستان زندہ باد۔ اِن چیختے چلاتے نعروں کے بیچ میں کئی سوال ہیں۔ مَیں کسے اپنا ملک کہوں، لوگ دھڑا دھڑ کیوں مر رہے تھے؟ اِن سب سوالات کے مختلف جواب تھے، ایک ہندوستانی جواب ایک پاکستانی جواب۔ ایک ہندو جواب ایک مسلم جواب۔ کوئی اِسے ۱۸۵۷ء کے کھنڈر میں تلاش کرتا ہے تو کوئی اِسے مغلیہ سلطنت کے ملبے میں۔ سب پیچھے دیکھ رہے ہیں لیکن آج کے قاتل لہو اور لوہے سے تاریخ بنا رہے ہیں۔‘‘
کتاب ’’منٹو اور مَیں‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے فلم ’منٹو‘ کی ڈائریکٹر اور معروف اداکارہ نندیتا داس نے کہا، ’’جب مَیں نے ۲۰۰۸ء میں اپنی ہدایتکاری کی پہلی فلم ’فراق‘ مکمل کی تو اُس پر ایک کتاب لکھنا چاہتی تھی۔ پردے کے پیچھے بہت ساری کہانیاں تھیں جو مَیں نے کبھی شیئر نہیں کیں۔ اب ایک دہائی کے بعد مَیں نے اِس بات کو یقینی بنانا چاہا کہ فلم ’منٹو‘ بنانے کا سفر اور منٹو سے میرا رشتہ ختم نہ ہو۔ اِس کتاب کی صورت میں وہ یادیں ہمیشہ ساتھ رہیں گی۔ مجھے یقین ہے ایک ساتھ تصاویر اور الفاظ آپ کو ایک ایسی کہانی سنائیں گے جو آپ نے اسکرین پر نہیں دیکھی ہوگی۔‘‘ منٹو کے تعلق سے نندیتا کہتی ہیں، ’’وہ صرف ترغیب نہیں رونگٹے کھڑی کر دینے والی کہانیاں لکھتے تھے جو صرف وہی لکھ سکتے تھے۔ اُن کا لکھا موجودہ حالات پر اُتنا ہی درست ہے جتنا اُس وقت تھا۔ ایسا لگتا ہے جیسے آج ہی اُس آدمی نے یہ لکھا ہو۔‘‘ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نندیتا نے فلم ’منٹو‘ کی کاسٹ، کریو اور ناظرین کے علاوہ پاکستان کے سینئر صحافی، ڈرامہ نگار اور فلم ’منٹو‘ کے ریسرچ اسکالر سعید احمد کا بھی شکریہ ادا کیا۔ تقریب کی میزبانی جی فائیو اے کی بانی انورادھا پاریکھ نے کی جبکہ نظامت کے فرائض نَمیتا نے بحسن و خوبی ادا کئے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بالی ووڈ

کنال کیمو 26 جون کو “الائنس” کے ساتھ ریئلٹی شو کی میزبانی کا آغاز کریں گے

Published

on

ممبئی، بالی ووڈ اداکار کنال کیمو جلد ہی ریئلٹی شو کے میزبان کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے ہیں۔ وہ نئی سیریز “الائنس” کی میزبانی کریں گے، جو 26 جون سے پرائم ویڈیو پر نشر ہوگی۔

“الائنس” عالمی سطح پر سراہی جانے والے ڈچ فارمیٹ کا پہلا بین الاقوامی موافقت ہے جسے جان ڈی مول نے تخلیق کیا ہے اور تالپا اسٹوڈیوز نے تیار کیا ہے۔ ہندی ریئلٹی شو کو بنجے ایشیا نے پروڈیوس کیا ہے۔

16 مدمقابل ابتدائی طور پر اتحادیوں کے طور پر اس رئیلٹی شو میں داخل ہوں گے، لیکن وفاداریاں بدلنا، باہمی فریب کاری، اور حکمت عملی سے ہر ایک اتحاد کو حتمی انعام (جیتنے والی ٹرافی) کی دوڑ میں امتحان میں ڈالیں گے۔

بنجے ایشیا کے بانی اور گروپ سی ای او دیپک دھر نے ایک بیان میں کہا، “شو کے نام کو دیکھتے ہوئے، یہ کہنا محفوظ ہے کہ ہم اس پروجیکٹ پر پرائم ویڈیو کے ساتھ شراکت کے لیے بہت پرجوش ہیں۔ جس چیز نے ہمیں اس فارمیٹ کی طرف راغب کیا وہ اس کا سراسر پیمانہ تھا۔ گیمز بڑے اور سنیما ہیں، اور اس کے برعکس جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔”

انہوں نے مزید کہا، “صرف ظاہری شکل ہی کسی فارمیٹ کو شاندار نہیں بناتی۔ جو چیز ‘اتحاد’ کو خاص بناتی ہے وہ حکمت عملی اور کارکردگی کے درمیان مسلسل تعامل ہے۔ مقابلہ کرنے والوں کو جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر چیلنج کیا جاتا ہے، ہر چیلنج کے ساتھ نئے مواقع اور چیلنجز سامنے آتے ہیں۔ یہ تیز، غیر متوقع، اور ناقابل یقین حد تک متحرک ہے۔”

پرائم ویڈیو انڈیا کے ڈائریکٹر اور ہیڈ آف اوریجنل نکھل مدھوک نے کہا، “ہم ملک بھر کے سامعین کے لیے ‘اتحاد’ لانے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔ ہندوستان کے لیے اپنی نوعیت کے پہلے فارمیٹ میں، ‘الائنس’ حکمت عملی، وفاداریاں بدلنے، اور مسلسل ترقی پذیر گیم پلے کو یکجا کرے گا۔ یہ ناظرین کو ہر دن شروع کرنے سے لے کر اختتام پذیر ہونے تک ایک عمیق تجربہ فراہم کرے گا۔”

انہوں نے مزید کہا، “…کاجول اور ٹوئنکل کھنہ کے ساتھ ‘دی ٹریٹرز انڈیا’ اور ‘ٹو مچ’ جیسے ہمارے غیر اسکرپٹڈ شوز کی کامیابی منفرد اور جدید حقیقت پسندانہ مواد کی بڑھتی ہوئی مانگ کو ظاہر کرتی ہے۔”

جہاں تک اداکار کا تعلق ہے، وہ پریتی زنٹا کے ساتھ اپنی آنے والی فلم “وائب” کی ریلیز کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہائی اسٹیک ایکشن کامیڈی “وائب” 18 ستمبر کو ریلیز ہوگی۔

ڈرنگو فلمز کے بینر تلے کنال کیمو اور چراغ نہلانی کی پروڈیوس کردہ، “وائب” دو قریبی دوستوں کی کہانی ہے جن کی عام زندگی اچانک ایک سنسنی خیز اور دلچسپ مہم جوئی میں بدل جاتی ہے جو ان کی جان بچانے کے لیے ان کی ہمت اور دوستی کا امتحان لیتی ہے۔

Continue Reading

بالی ووڈ

راجکمار ہیرانی کے ساتھ کام کرنا اعزاز کی بات ہے: ارشد وارثی

Published

on

ممبئی : بالی ووڈ اداکار ارشد وارثی اور فلمساز راجکمار ہیرانی ایک ساتھ کئی ہٹ فلمیں دے چکے ہیں۔ اب، وہ ایک نئے پروجیکٹ کے لیے دوبارہ ٹیم بنا رہے ہیں۔ ہیرانی اپنی پہلی سیریز، “پریتم اینڈ پیڈرو” کے ساتھ او ٹی ٹیکی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں، جس میں ارشد وارثی ایک اہم کردار میں ہیں۔ ایک انٹرویو میں ہیرانی نے سیریز پر کام کرنے کے اپنے تجربات کا اشتراک کیا۔

سے بات کرتے ہوئے ارشد وارثی نے کہا، “ہر اداکار کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے راج کمار ہیرانی جیسے ہدایت کار کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے۔ ان کی فلموں اور کہانیوں کی اپنی الگ پہچان ہے، اس لیے ان کے ساتھ کام کرنا کسی کامیابی سے کم نہیں سمجھا جاتا۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے ہیرانی کے ساتھ دو بار کام کرنے کا موقع ملا، اور اب تیسری بار ان کے ساتھ کام کر رہا ہوں۔” یہ میرے لیے خوشی اور فخر کی بات ہے کہ ہیرانی نے مسلسل مجھ پر بھروسہ کیا ہے۔”

ارشد نے کہا، “راج کمار ہیرانی نے ہمیشہ مجھے مختلف کردار ادا کرنے کا موقع دیا ہے۔ ایک اداکار کے لیے سب سے بڑی خوشی صرف ایک ہی قسم کے کرداروں تک محدود نہیں ہے، وہ ہمیشہ مجھے کچھ نیا اور چیلنج کرنے کی کوشش کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ مجھے ان کے ہر نئے پروجیکٹ میں اپنی اداکاری کی صلاحیتوں کا ایک نیا پہلو دکھانے کا موقع ملا ہے۔ میں ایسے بہت سے کرداروں کے ساتھ کام کرنے سے لطف اندوز ہوتا ہوں جو آگے بڑھ کر کام کرتا ہوں۔” منصوبوں.”

ارشد وارثی نے مزید کہا، “راج کمار ہیرانی وہ شخص ہیں جنہوں نے میرے کیریئر کے اہم مراحل میں میرا ساتھ دیا، انہوں نے مجھے بہت سے شاندار مواقع فراہم کیے اور متعدد مواقع پر میرا ساتھ دیا جب میرے کیریئر کو ایک نئی سمت کی ضرورت تھی۔” سیریز کے بارے میں بات کریں تو اسے اویناش ارون نے ڈائریکٹ کیا ہے۔ راجکمار ہیرانی نے اس سیریز کو تخلیق اور پروڈیوس کیا ہے۔ فلم میں ارشد وارثی کے علاوہ ویر ہیرانی، وکرانت میسی، بومن ایرانی اور مونا سنگھ بھی نظر آئیں گے۔ ‘پریتم اینڈ پیڈرو’ 3 جولائی سے جیو ہاٹ اسٹارپر نشر ہوگا۔

Continue Reading

بالی ووڈ

ٹی وی اداکارہ سنچیتا اوگلے نے ممبئی میں خودکشی کر لی۔ پولیس نے تفتیش شروع کر دی۔

Published

on

ممبئی: ٹی وی اداکارہ سانچیتا اوگلے کی موت کی خبر نے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے مبینہ طور پر 22 سال کی عمر میں خودکشی کر لی تھی۔ یہ واقعہ 14 جون کی شام کو نالاسوپارا ایسٹ کے اچولے گاؤں میں سائی سنتوشی بلڈنگ میں اس کے بیڈروم میں پیش آیا۔ سانچیتا نے اندر سے دروازہ بند کر لیا اور چھت کے پنکھے سے اپنی ساڑھی سے لٹک کر خودکشی کر لی۔

واقعہ کی اطلاع ملنے پر اہل خانہ اور پڑوسیوں نے اسے فوری طور پر وسائی ویرار میونسپل اسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ اچولے تھانے کے اے ایس آئی ونود باغ نے بتایا کہ سنچیتا نے یہ قدم شام 7 بجے سے 7:30 بجے کے درمیان اٹھایا۔ اطلاع ملنے پر پولیس کی ایک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور پنچنامہ (انکوائری رپورٹ) تیار کیا۔ اس کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔

پولیس نے معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ متوفی کے والد، مچندا اوگلے کی شکایت کی بنیاد پر، انڈین سول سروسز کوڈ (بی این ایس ایس) کی دفعہ 194 کے تحت 15 جون کو اچولے پولیس اسٹیشن میں حادثاتی موت (اے ڈی آر) کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خودکشی کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ تمام ممکنہ زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی تفصیلی معلومات سامنے آئیں گی۔

سنچیتا اوگلے آہستہ آہستہ ٹی وی انڈسٹری میں خود کو قائم کر رہی تھیں۔ انہوں نے زی ٹی وی کے مشہور سیریل “کمکم بھاگیہ” میں دیا ٹنڈن کے کردار سے پہچان حاصل کی۔ اس سیریل میں کام کرنا ان کے کیریئر کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ سنچیتا نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ اس شو نے نہ صرف انہیں شہرت دی بلکہ ان کے خاندان کی مکمل حمایت بھی حاصل کی۔

“کمکم بھاگیہ” کے علاوہ، سانچیتا نے “واگلے کی دنیا” میں روچیتا جیٹلی کا کردار ادا کیا۔ بعد میں وہ دنگل کے ٹی وی شو “دلوالی دلہ لے جائیں گے” میں سکون کے مرکزی کردار میں نظر آئیں۔

سنچیتا اوگلے نے ٹیلی ویژن، فلموں اور او ٹی ٹی پروجیکٹس میں کام کیا ہے۔ اس نے وکی کوشل کی فلم “چاوا” میں تارا رانی کے چھوٹے ورژن کا کردار ادا کیا۔ اس نے منوج باجپائی کی “سائلنس 2: دی نائٹ اول بار شوٹ آؤٹ” میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان