ممبئی پریس خصوصی خبر
ناگپاڑہ ری ڈیولپمنٹ معاملہ : عدالت کا ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور فوجداری مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ
ممبئی : برسوں سے التوا کے شکار ری ڈیولپمنٹ اور کرایہ داروں کی مسلسل پریشانیوں کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ناگپاڑہ کی تین خستہ حال عمارتوں—تاوُمباوالا بلڈنگ، دیوجی دارسی بلڈنگ اور زہرہ مینشن—کا جبری حصول منظور کر لیا ہے۔ حکومت نے ساتھ ہی ناکام ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ 28 نومبر 2025 کو جاری کردہ سرکاری قرارداد کے ذریعے لیا گیا، جو مہادّا ایکٹ 1976 میں کی گئی ترامیم اور بمبئی ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
چھوتھی پیر خان اسٹریٹ پر واقع یہ عمارتیں سی ایس نمبر 1458، 1459 اور 1460 کے تحت آتی ہیں۔ ان کے ساتھ متعدد دیگر ڈھانچے بھی منصوبے میں شامل تھے، جن میں بلڈنگ نمبر 13–13A، 13B، 15، 17، 19، 21–23، 31–33 اور 35–37 شامل ہیں۔
ڈیولپر نے مجوزہ گراؤنڈ + 20 منزلہ ٹاور کا اسٹرکچر تو مکمل کر لیا تھا، لیکن تقریباً دس سال سے پورا پروجیکٹ رکا ہوا ہے۔ تاخیر کی اہم وجوہات یہ رہیں۔
- کرایہ داروں کو مستقل مکان نہ دینا
- گزشتہ تین سال سے ٹرانزٹ کرایہ ادا نہ کرنا
- اندرونی تعمیراتی کاموں کی انتہائی سست رفتار
- کرایہ داروں اور رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی شکایات
ان حالات سے تنگ آکر کرایہ داروں نے بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی، جس کے بعد 1 اکتوبر 2025 کو عدالت نے ریاستی حکومت کو مہادّا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔
عدالتی ہدایت کے بعد مہادّا نے زمین کے حصول کی تجویز حکومت کو پیش کی، جسے منظور کرتے ہوئے 1,532.63 مربع میٹر رقبے کے جبری حصول کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب مہادّا اس منصوبے کا کنٹرول سنبھال کر ری ڈیولپمنٹ مکمل کرے گی اور متاثرہ خاندانوں کا بحالی عمل آگے بڑھائے گی۔
حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ کچھ بنیادی شرائط بھی عائد کی ہیں :
ڈیولپر کو درج ذیل کی مکمل تفصیلات پیش کرنا ہوں گی—
- تھرڈ پارٹی حقوق
- بینکوں یا مالی اداروں سے لیے گئے قرضے
- دیگر تمام مالی ذمہ داریاں
ان دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی حتمی منظوری دی جائے گی۔
حکومت نے ہدایت دی ہے—
- ڈیولپر کو فوراً بلیک لسٹ کیا جائے
- اس کی غفلت پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے
- بی ایم سی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کیا جائے۔
مہادّا اور ممبئی بلڈنگ ریپئر اینڈ ریکنسٹرکشن بورڈ کو 22 اگست 2023 کے رہنما اصولوں کے مطابق تمام اضافی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ سرکار نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ فوری قانونی و انتظامی کارروائی کر کے مقام کا قبضہ لیا جائے اور تعمیر نو کا کام تیزی سے شروع کیا جائے۔
ممبئی کی پرانی اور خطرناک عمارتوں کا ری ڈیولپمنٹ برسوں سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ مہادّا ایکٹ میں کی گئی نئی ترامیم کو مضبوط بناتا ہے، جن کے تحت غیر محفوظ اور رکے ہوئے پروجیکٹ اب سرکاری نگرانی میں مکمل کیے جا سکیں گے۔
جبری حصول کی منظوری کے بعد مہادّا زہرہ مینشن، تاوُمباوالا بلڈنگ اور دیوجی دارسی بلڈنگ کے برسوں سے بے گھر رہنے والے مکینوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات شروع کرے گی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : کرلا میں غیرقانونی ہاکروں اور ہوٹلوں پر کارروائی ہو گی، ہاکروں پر ایف آئی آر درج کرنے کا بی ایم سی کا انتباہ، موثر کارروائی کےلیے پولس مستعد

ممبئی : کرلا علاقہ میں ایک مرتبہ پھر غیرقانونی ہاکروں کے خلاف کارروائی پر ہندوسکل سماج نے سخت کارروائی کامطالبہ کر تے ہو ئے احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے بعد بی ایم سی اب ایسے ہاکروں کےخلاف کیس درج کرے گی جو بارہا راستہ اور فٹ پاتھ پر قبضہ کرتے ہوئے پائے گئے ہیں یا پھر کارروائی میں مداخلت کی ہے ہاکروں پر کارروائی مزید موثر بنانے کےلیے پولس اور بی ایم سی ایل وار ڈ مشترکہ کارروائی کرے ہاکروں کے سبب اہلیان کرلا کو کافی پریشانیوں کا سامنا ہے جس کے بعد ایل وار ڈ میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈی ایم سی سرشاگر نے یہ واضح کیاہے کہ کرلا کو ہاکرس سے پاک کرنے کے ساتھ غیر قانونی قبضہ جات پر کارروائی ہوگی۔
اسسٹنٹ میونسپل کمشنر دھناجی ہیرلیکر نے کہا کہ ایل وار ڈ کرلا کی حدود میں جو کارروائی جنوری میں جاری تھی اس میں مزید پیش رفت کرنے کے ساتھ موثر انداز میں کارروائی کےلیے اب ایف آئی آر کا اندراج ہوگا بی ایم سی کی شکایت پر پولس اب اس معاملہ میں کیس درج کرے گی اس میٹنگ میں کرلا سنئیر پولس انسپکٹروکاس مہمکر نے کاروائی میں ہر طرح سے تعاون کا یقین دلایا ہے اس سے قبل سکل ہندو سماج نے پھیری والوں اور ہاکروں کو فرقہ وارانہ اور مذہبی رنگ دینے کی بھی کوشش کی اس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں غیرقانونی افطار پارٹی اور سڑک پر بلا اجازت افطار پارٹی پر بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اتناہی نہیں مارکیٹ میں عارضی نماز کی کے شیڈ کو بھی ہٹانے کا مطالبہ ہے اس پر بی ایم سی افسران نے ضروری کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔
کرلا میں غیرقانونی فٹ پاتھ پر قبضہ کو لے کر بی ایم سی اب حرکت میں آگئی ہے اس لئے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر دھناجی ہیرلیکر نے یہ واضح کیا ہے کہ سڑکوں اور فٹ پاتھ پر جن ہوٹلوں نے قبضہ کیا ہے اس پر بھی کارروائی کی جائے گی یہ کارروائی ٹریفک پولس اور پولس عملہ کے ساتھ مل کر انجام دی جائے گی بی ایم سی کی یقین دہانی کے بعد سرکل ہندو سماج نے اپنا مورچہ ختم کر دیا۔ بی جے پی لیڈر روپیش پوار نے کہا ہے کہ کرلا سہارا ہوٹل سے لے کر ایل بی ایس مارگ تک ہوٹلوں نے فٹ پاتھ پر قبضہ کر رکھا ہے یہاں ٹریفک مسئلہ ہے اسی مقام پر پانچ اسپتال ہے اگر کوئی مریض انتہائی تشویشناک حالت میں رہا تو اس کو اسپتال تک پہنچانا مشکل ہوتا ہے اس میں کئی مریض کی جان بھی فوت ہو گئی ہے اس لئے ان ہوٹلوں پر بھی کارروائی ضروری ہے جو فٹ پاتھ پر کاروبار کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کرلا کے شہری فٹ پاتھ کےلیے پریشان ہے اور بی ایم سی اگر اس پر کارروائی میں تساہلی کرتی ہے تو اس متعلق احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی بی ایم سی کو ہندسکل نے انتباہ دیا ہے کہ اگر غیر قانونی کاروبار اور پھیری والوں پر کارروائی نہیں کی گئی تو احتجاج میں مزید شدت ہوگی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر میں گیس کا بحران! لیکن عوام کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، ایوان میں چھگن بھجبل کا دعویٰ… مٹی کے تیل کی فراہمی بھی ممکن

ممبئی : مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں بھی ایندھن اور گیس سلنڈروں کی کالا بازار ی اور قلت کی گونج اب عام ہو گئی ہے ایران اسرائیل امریکہ جنگ کے سبب ایندھن کی بحرانی کیفیات سے عوام پریشان ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں وزیر رسد وخوراک شہری چھگن بھجبل نے یہ واضح ہے کہ گیس کے بحران و فقدان سے متعلق فکر مندہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مرکزی سرکار نے دعویٰ کیا ہے کہ گیس اور ایندھن کا ذخیرہ اس کے پاس دستیاب ہے اس لیے کسی کو بھی قطار لگانے یا بلیک مارکیٹنگ سے ایندھن کیا گیس خریدنے کی ضرورت نہیں ہے گیس کی کالا بازاری پر سرکار سخت ہے اور کاروائی بھی جاری ہے۔ ریاست اس وقت ایندھن کی قلت کا شکار ہے، سلنڈر کی کمی ہے۔ اس پس منظر میں بات کرتے ہوئے خوراک اور شہری رسد وزیر چھگن بھجبل نے مقننہ میں اہم معلومات دی ہیں۔ گیس کی فراہمی ایک مرکزی موضوع ہے، اور مرکز نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایل پی جی اور پی این جی کا کافی ذخیرہ ہے۔ اس لیے پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس لیے متفکر ہونے کی کوئی وجہ نہیں، کہیں بھی قطاریں نہ لگائیں اور گیس کی بلیک مارکیٹنگ نہ ہو۔ ہر ضلع کلکٹر، ایس پی اور دیگر افسران کی کمیٹیاں مقرر کی ہیں۔ اس کے ذریعے اب تک 2129 چیک کیے ہیں۔ ان کارروائیوں کے ذریعے اب تک ایک ہزار دو سو آٹھ گیس سلنڈر قبضے میں کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 33 لاکھ 66 ہزار 411 روپے کا سامان ضبط کیا جا چکا ہے۔ اس معاملے میں کل 23 مقدمات درج کیے ہیں اور 18 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔بھجبل نے کہا کہ پچھلے مہینے گیس سلنڈر کی قیمت 852.50 روپے تھی۔ اب یہ بڑھ کر 912.50 روپے ہو گیا ہے۔ کمرشل سلنڈر 1720.50 روپے سے بڑھ کر 1835 روپے ہو گئے ہیں۔ آج صبح میں نے بڑی گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، ڈی پی سی ایل، ایچ پی سی ایل، آئی او سی ایل کے نمائندوں سے بات کی، جن میں سے کچھ بڑی کمپنیاں ہیں۔ انہوں بتایا کہ ایل پی جی کی یومیہ پیداوار 9 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھا کر 11 ہزار میٹرک ٹن کر دی گئی ہے۔ اگر کوئی مسئلہ تو ان کو دور کرنے کے لیے بھی کام جاری ہے۔ کمپنیوں کو مرکزی حکومت کے احکامات ہیں، اور بعض اداروں کو گیس کی فراہمی کے لیے ترجیح دی گئی ہے، جس میں اسپتالوں کو سو فیصد ترجیح دی گئی ہے۔ اس میں تعلیمی اداروں ،عوامی خدمات کوبھی صد فیصدی ترجیحات دی گئی ہے۔ بھجبل نے کہا ہے کہ ریلوے، ہوا بازی اور دفاعی شعبوں سے متعلق گفٹ شاپس کو 70 فیصد ترجیح دی گئی ہے، اور اگر اس میں سے گیس باقی رہ جاتی ہے تو 50 فیصد گیس فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو اور 50 فیصد سیڈ پروسیسنگ کو فراہم کی جائے گی۔
دریں اثنا، ریاست اس وقت گیس کی قلت کا سامنا کر رہی ہے اس کے ازالہ کا بھی راستہ اب سرکار نے طے کر لیا ہے ۔ گیس سلنڈر اور ایندھن کے نعم البدل کے طور پر بھجبل نے کہا کہ ایک راستہ مٹی کا تیل ہے۔ ہمارے پاس مٹی کے تیل کا ذخیرہ دستیاب ہے ۔ کچھ سال پہلے ناگپور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اگر آپ کے پاس اجولا گیس اسکیم ہے تو آپ کو مٹی کے تیل کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس لیے مٹی کا تیل ہونے کے باوجود ہم اسے فراہم نہیں کر رہے تھے۔ لیکن اب ہم نے ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ موجودہ صورتحال مشکل ہے، اس لیے عوام کواستعمال کے لیے مٹی کا تیل فراہم کرنا ضروری ہے یہ مٹی کا تیل اب مٹی کے تیل کے ڈیلرز کو تقسیم کے لیے فراہم کیا جائے گا۔ ہمآئی او سی ایل، بی پی سی ایل، ایچ پی سی ایل کمپنیوں کے پمپوں پر مٹی کا تیل بھی فراہم کریں گے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : ایس آئی آر سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو بھی پریشان ہے، ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو کا یوپی سرکار اور الیکشن کمیشن پر تنقید

ممبئی: سماجوادی پارٹی قومی صدر رکن پارلیمان اکھلیش یادو نے یہ واضح کیا ہے کہ آئی ایس آر سے صرف مسلمانوں کو ہی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ اترپردیش میں ہندوبھی قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ہندوؤں کو بھی ایس آئی آر سے پریشانی کا سامنا ہے وزیر اعلیٰ بھی اس سے گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ۴ کروڑ ووٹ ہمارا کٹ کیا جو لوگ مسلمانوں کے کاغذ ڈھونڈ رہے تھےاب سب ہندو بھائیو کو انہوں نے لائن میں لگادیا۔ ہندو بھائی کاغذ ڈھونڈ رہے ہیں یوپی میں ایس آئی آر سے پریشان اپوزیشن نہیں بلکہ برسراقتدار جماعتیں پریشان ہے۔ فرضی ووٹ ڈالے گئے تھے الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں خاموش تھا اس کی غیر جانبداری اور ایمانداری پر بھی سوال اٹھا اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر سے اپوزیشن کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ یہاں ممبئی میں ایک سمٹ سے خطا ب کررہے تھے انہوں نے مغربی بنگال میں ایک مرتبہ پھر ممتا بنرجی کی واپسی کی بھی پیشگوئی اور دعویٰ کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹرسماجوادی پارٹی ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی بھی موجود تھے۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن اور یوپی سرکار پر بھی جم کر تنقید کی اور سرکار کے طریقہ کار اور فرقہ پرستی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں7 years agoعبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا
