ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی مراٹھا مورچہ ممبئی بے حال حالات بدتر، مظاہرین کی ریلوے اسٹیشنوں پر بھیڑ، ریلوے بھی الرٹ، بی ایم سی کی مظاہرین کو خصوصی سہولیات
ممبئی : ممبئی مراٹھا مورچہ کے سبب ممبئی میں سڑکوں پر ٹریفک نظام درہم برہم ہے اور یہاں ریلوے اسٹیشنوں پر مظاہرین کی بھیڑ ہونے کے سبب عام مسافروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا ہے ممبئی میں مراٹھا ریزرویشن کو لے کر تحریک پر ریلوے نے بھی خصوصی انتظامات کئے ہیں. ریلوے پولس کمشنر ایم راکیش نے کہا کہ مراٹھا مورچہ کے سبب ریلوے اسٹیشن اور سی ایس ٹی پر خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں, اتنا ہی نہیں ریلوے اسٹیشن پر سیکورٹی بھی سخت کردی گئی ہے اور مراٹھا مورچہ کے مظاہرین سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کو آمدورفت کے لیے جگہ فراہم کرے تاکہ عام مسافروں کو کوئی دشواری نہ ہو۔
ممبئی آزاد میدان و اطرافی علاقے میں 1000 سے زائد صفائی کارکن کام بی ایم سی نے تعینات کئے ہیں۔ جیٹنگ، سکشن پلانٹس 400 بیت الخلا صاف کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، 1500 پلاسٹک بیگز کی تقسیمبیت ,ہزاروں احتجاجیوں نے طبی سہولیات سے فائدہ اٹھایا ہے۔
ممبئی میونسپل کارپوریشن آزاد میدان کے علاقے میں احتجاج کرنے والے بھائیوں کو بلاتعطل شہری خدمات فراہم کرتی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے آزاد میدان اور علاقے میں جاری احتجاج میں حصہ لینے والے کارکنوں کو بلاتعطل شہری خدمات جیسے پینے کا پانی، صفائی، طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے واٹر سپلائی، سینی ٹیشن، فائر بریگیڈ اور صحت کے محکموں کی افرادی قوت کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا ہے۔ صفائی کے لیے، میونسپل کارپوریشن کے ہر شعبہ (وارڈ) سے کم از کم 30 ملازمین اور سپروائزر آج (1 ستمبر 2025) آزاد میدان اور آس پاس کے علاقے میں کام کر رہے ہیں۔
تمام ملازمین احتجاج کی جگہ اور پورے علاقے کی مسلسل صفائی کر رہے ہیں۔ علاقے میں صفائی برقرار رکھنے کے لیے مظاہرین کو 1500 صفائی کے تھیلے (ڈسٹ بن بیگ) بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ ان صفائی کے تھیلوں میں کچرا پھینکنے کی مسلسل اپیل ہے۔ احتجاجیوں کی سہولت کے لیے بڑی تعداد میں بیت الخلاء کا انتظام کیا گیا ہے۔ بیت الخلاء کی تعداد بھی بڑھا کر 400 کردی گئی ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کی جانب سے تمام بیت الخلاء کی مسلسل صفائی کی جارہی ہے۔ احتجاجی مقام پر 350 موبائل (پورٹ ایبل) اور 50 بیت الخلاء کو صاف کرنے کے لیے 5 سکشن اور جیٹنگ پلانٹس کام کر رہے ہیں۔ انتظامیہ احتجاج میں شریک بھائیوں سے بھی اپیل کر رہی ہے کہ وہ ان بیت الخلاء کو صاف ستھرا اور دوسروں کے استعمال کے لیے موزوں رکھنے میں تعاون کریں۔
احتجاج میں حصہ لینے والے کارکنوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر میونسپل کارپوریشن علاقے کے انتظامی محکموں (وارڈوں) اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے صفائی کارکنان کو صفائی مہم کے لیے احتجاج کے علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔ 29 اگست 2025 سے، ایک ہزار سے زائد ملازمین نے احتجاجی مقام اور علاقے میں صفائی کی خدمت میں حصہ لیا۔ کیڑوں اور مچھروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے گراؤنڈ ایریا میں مسلسل فیومیگیشن کی جا رہی ہے۔ اس کے لیے کل 6 ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد میدان اور قریبی علاقوں میں جراثیم کش پاؤڈر (آئیزول پاؤڈر) کا اسپرے کیا گیا ہے۔
احتجاج کے مقام پر بڑی تعداد میں موجود مظاہرین کی سہولت کے لیے آزاد میدان کے علاقے میں 24 گھنٹے طبی امداد کا کمرہ کام کر رہا ہے۔ ہزاروں مظاہرین اس سروس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ کل 31 اگست 2025 کو 577 مریضوں نے طبی سہولیات سے فائدہ اٹھایا۔ کچھ مریضوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر مزید طبی علاج کے لیے قریبی اسپتال بھی بھیجا گیا۔ اس کے علاوہ میڈیکل ایڈ روم کے لیے ادویات کا وافر ذخیرہ بھی دستیاب کرایا گیا ہے۔ موجودہ بارش کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ احتجاجیوں سے درخواست کر رہی ہے کہ وہ کسی بھی علامت کو نظر انداز کیے بغیر فوری طبی امداد حاصل کریں۔
میونسپل کارپوریشن نے مظاہرین کے استعمال کے لیے پینے کے پانی کے لیے 25 ٹینکرز دستیاب کرائے ہیں۔ قریبی فلنگ سٹیشن سے ٹینکرز بھر کر فوری اور انتھک پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کو دیکھتے ہوئے آزاد میدان میں اب تک پانچ ٹرک بجری ڈالی جا چکی ہے تاکہ زمین پر کیچڑ نہ بن سکے اور سڑک کو ہموار کیا جا سکے۔ ممبئی آزاد میدان میں احتجاجی مظاہرہ کے پیش نظر جے جے جنکشن سے بیسٹ کے روٹ کو تبدیل کر دیا گیا ہے جے جے بریج اور نیچے سے بیسٹ کا گزر دشوار گزار تھا اس لیے بیسٹ خدمات پوری طرح سے صبح سے بند تھی۔ سڑکیں جام ہے اور مظاہرین سڑکوں کو بند کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بھی نظر آئے ہیں ممبئی میں مظاہرین کے سبب عام شہری زندگی مفلوج ہو کررہ گئی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مسلم طلبا گورنمنٹ کی اسکیموں سے محروم… ڈرون پائلٹ’ ٹریننگ اسکیم کے لیے صرف ہندو امیدواروں سے درخواستیں قبول کی جاتی ہیں : رئیس شیخ

ممبئی : حکومت کے ‘امرت ‘ انسٹی ٹیوٹ اسکیموں سے مسلم نوجوانوں و طلباکو محروم ہونے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کے دیگر پسماندہ بہوجن بہبود کے محکمے کے تحت چلائے جانے والے انسٹی ٹیوٹ کے ڈرون پائلٹ ٹریننگ پروگرام کے لیے درخواستیں قبول کی جا رہی ہیں، جب کہ مسلمان امیدواروں کی آن لائن درخواستیں قبول نہیں کی جا رہی ہیں۔وزیر اتل سیو اور مہاراشٹر ریسرچ، ایڈوانسمنٹ اینڈ ٹریننگ (امروت) انسٹی ٹیوٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو لکھے اپنے خط میں، ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ امرت انسٹی ٹیوٹ نے 30 جون تک درخواستیں طلب کی ہیں ڈرون پائلٹ ٹریننگ کے لیے جس کا مقصد اوپن کیٹیگری کے معاشی طور پر کمزور طبقوں (ای ڈبلیو ایس) کے امیدواروں کے لیے ہے۔ “تاہم، جب درخواست دہندگان آن لائن فارم کو بھرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو انہیں اپنے مذہب اور ذات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پورٹل صرف ہندو برادریوں کے لیے ذات کے اختیارات پیش کرتا ہے، جس سے مسلمان درخواست دہندگان کو کامیابی سے اپنی درخواستیں جمع کرانے سے روکتا ہے۔شیخ نے بتایا کہ انہیں اس مسئلے کے حوالے سے متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ امرت انسٹی ٹیوٹ کا مقصد اوپن کیٹیگری میں معاشی طور پر کمزور طبقات کی خدمت کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک خود مختار سرکاری ادارے کے طور پر، امرت کی بانی حکومتی قرارداد (22 اگست 2019) میں کسی مخصوص مذہب کا ذکر نہیں ہے۔ اس کا مقصد اوپن کیٹیگری میں مختلف کمیونٹیز کے لیے کام کرنا ہے۔ لہذا، اس طرح سے درخواستوں پر پابندی لگانا قواعد کے منافی ہے، انہوں نے دعویٰ کیا۔مہاراشٹر حکومت نے مختلف سماجی گروہوں کے لیے کئی ادارے قائم کیے ہیں، جن میں بارتی، آرتی، سارتھی، مہاجیوتی، مارتی، اور امرت شامل ہیں۔ اگرچہ ہر ادارہ کسی خاص ہدف والے گروپ پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے، لیکن وہ کسی حد تک تربیت کے مواقع اور دیگر کمیونٹیز کو فوائد بھی فراہم کرتے ہیں۔شیخ نے مزید کہا کہ بے روزگاری اس وقت ریاست بھر میں تمام ذاتوں اور مذاہب کے نوجوانوں کے لیے ایک بڑی تشویش ہے۔ انہوں نے کہا، “امرت کو اصولوں کی اس طرح تشریح نہیں کرنی چاہئے جس سے مسلم نوجوانوں کو ہنر مندی کے مواقع سے محروم کر دیا جائے۔ وزیر اتل سیو جی، جو دیگر پسماندہ بہوجن بہبود کے محکمے کے سربراہ ہیں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسلم نوجوانوں کو ان تربیتی پروگراموں سے خارج نہ کیا جائے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹرا فریڈم آف ریلیجن بل 2026 : آئینی حقوق اور اقلیتی خدشات پر ممبئی میں اہم سیمینار، جسٹس ابھے تھپسے اور ماہرینِ قانون کا اظہارِ خیال

ممبئی : “آئینِ ہند ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا مکمل حق دیتا ہے، لیکن حکومت کی یہ روایت بن چکی ہے کہ وہ ‘بتاتی کچھ ہے اور کرتی کچھ اور ہے’۔ ‘مہاراشٹرا فریڈم آف ریلیجن بل 2026’ کا نام بظاہر ‘مذہبی آزادی’ رکھا گیا ہے، لیکن اس کا اصل مقصد مذہب پر سخت پابندیاں عائد کرنا اور اقلیتوں کو دبانا ہے۔ جب قانون کی زبان مبہم ہو جائے تو وہ تحفظ کے بجائے تشویش کا سبب بن جاتی ہے، اور یہی ابہام سماجی تانے بانے اور باہمی رواداری کو نقصان پہنچاتا ہے۔” ان خیالات کا اظہار بمبئی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھے تھپسے نے اندھیری ویسٹ کے میئر ہال میں ‘یونائیٹڈ اگینسٹ انجسٹس اینڈ ڈسکریمینیشن’ (یو آئی ڈی اے آئی) اور ‘ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس’ (اے پی سی آر) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک اہم سیمینار میں بطور صدرِ مجلس خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سماج کے مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے 250 سے زائد دانشوروں، قانون دانوں اور سماجی کارکنان نے شرکت کی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے معروف قانون دان ایڈووکیٹ لارا جیسانی نے بل کی دفعات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ ملک میں ہیٹ کرائم کو منظم طریقے سے فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس قانون کی شقیں اتنی مبہم ہیں کہ ‘ترغیب’ (رغبت) کی آڑ لے کر تعلیم، شادی، چیریٹی، روزگار اور بالخصوص اقلیتی اسکولوں کی امدادی سرگرمیوں کو بھی جرم کے زمرے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قانون کے تحت شادی کے نام پر یا لالچ دے کر تبدیلیِ مذہب پر 10 سال تک کی سزا اور 5 لاکھ روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔ مزید برآں، کوئی بھی تیسرا شخص یا پولیس خود اپنی مرضی سے ایف آئی آر درج کر سکتی ہے، اور سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ بے گناہی کا ثبوت دینے کی ذمہ داری ملزم پر ڈال دی گئی ہے، جو شہریوں کو سالوں تک بغیر جرم ثابت ہوئے جیلوں میں رکھنے کی ایک سنگین آئینی سازش ہے۔
‘پولیس ریفارمز واچ’ کے ڈولفی ڈی سوزا نے انکشاف کیا کہ اس حساس بل کا مسودہ محض 72 گھنٹوں کے اندر، بنا کسی عوامی مشاورت کے خفیہ طور پر تیار کیا گیا، اس لیے اکثریت اور اقلیت سب کو مل کر اس ‘ڈیوائڈ اینڈ رول’ (تقسیم کرو اور حکومت کرو) کی سیاست کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔ جماعت اسلامی ہند کے مرکزی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹر سلیم خان نے کہا کہ ایمان اور آستھا دل کا معاملہ ہے جسے قوانین کے ذریعے بدلا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے مولانا عمر گوتم اور مولانا کلیم صدیقی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی عوام دشمن اور غیر جمہوری پالیسیوں پر سخت تنقید کی اور اسے سیاسی ناکامی کا مظہر قرار دیا۔
اس سے قبل، اے پی سی آر مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری شاکر شیخ نے پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے ملکی صورتحال، بلڈوزر کارروائیوں، ماب لنچنگ اور یو سی سی جیسے تلخ تجربات کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ مسودہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ معروف دانشور عرفان انجینئر نے واضح کیا کہ یہ قانون صرف مسلم یا کرسچن مخالف نہیں، بلکہ پسماندہ طبقات کو دبانے والا ایک ‘اینٹی ہندو’ قانون بھی ہے جو سیکولرزم کے خاتمے کے لیے لایا گیا ہے۔ سیمینار کے اختتام پر جماعت اسلامی ہند ممبئی کے پی آر سیکریٹری سید شریف یونس نے تمام مہمانان اور شرکاء کا رسمِ شکریہ ادا کیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : اندھیری ۶۰ لاکھ سے زائد کے زیورات چوری کا ڈرامہ تیار کرنے والے دو ملزمین گرفتار

ممبئی : ممبئی پولس دو ایسے شاطر ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے, جنہوں نے چوری اور سڑک حادثہ کی من گھڑت کہانی بنا کر ۶۰ لاکھ کے زیورات چوری ہونے کا ڈرامہ تیار کیا تھا, لیکن پولس کی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا کہ سونے کے زیورات کی ڈیلیوری کرنے والا ہی چور ہے اور اس نے اپنے ساتھی دوست کے ساتھ مل کر یہ چوری کی تھی۔ ایم آئی ڈی سی پولس نے گولڈ اسٹار کمپنی کے کنچن پوار کی شکایت پر چوری کا کیس درج کر لیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ نے اپنے ملازم اویناش گنگادھر کدم ۲۶ سالہ کو سونے کے زیورات ڈیلیوری کے لئے بھیجا تھا۔ اسی دوران اس نے بتایا کہ اس کی موٹر سائیکل ایکٹیوا کو حادثہ پیش آیا ہے اور اسی دوران سونے کے زیورات و بیگ بھی چوری ہو گئے۔ اس نے بلا کسی چوٹ اور زخم کے اسپتال میں داخلہ کےلئے ڈرامہ کیا, اس دوران پولس نے متعدد سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور یہ انکشاف ہوا کہ اس مشتبہ شخص حادثہ سے قبل یہاں مشتبہ حالت میں گشت کر رہا تھا۔ جس کا نام منوج ہیمنت جوگڈنڈ ۴۱ سالہ ہے۔ اس سے تفتیش میں پولس کو یہ معلوم ہوا کہ ان دونوں نے ہی چوری کا ڈرامہ کیا تھا اور اس واقعہ کو حادثہ بتا کر لوٹ مار کی منصوبہ بندی تیار کی تھی۔ اس کے بعد پولس نے اویناش کو بھی زیر حراست لیا اس معاملہ میں پولس نے دونوں ملزمین کو گرفتار کر کے معمہ کو حل کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
