Connect with us
Saturday,14-March-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی لارنس بشنوئی گینگ کے نام پر جوہری سے تاوان کی طلبی, گینگ ممبر کوکرلا سے ۲۰۰ میٹر تعاقب کے بعد کیاگرفتار، دفاعی وکلا نے الزامات کو کیا خارج

Published

on

ممبئی: میں لارنس بشنوئی گینگ کے نام پراب تاوان اور ہفتہ طلبی کے کیس بھی بڑھ گئے ہیں اس لئے پولس نے اسے انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولس نے لارنس بشنوئی گینگ کا ممبر ظاہر کرنے والے ملزمین کو دھر دبوچا۔ ممبئی پولس نے واٹس ایپ کے ذریعے “لارنس بشنوئی گینگ” کا ممبر ظاہر کرتے ہوئے ولے پارلے کے ایک جوہری سے 20 لاکھ روپے تاوان طلبی معاملے میں چار ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کے وکیل آشیش رائے اور پنکج مشرا، پراچی پانڈے اس کیس میں ملزمین کی پیروی کررہے ہیں اس کیس کے تیسرے ملزم کو 21 فروری کو دوبارہ پولیس ریمانڈ کے تحت اندھیری کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ملزمین کو لوک مانیہ تلک ٹرمینس (کرلا) سے 5 لاکھ روپے نقد کے ساتھ گرفتار کیا گیا ۔پولس کے مطابق شکایت کنندہ اجیت سوہن لال جین (46) جو ویل پارلے ایسٹ میں زیورات کی دکان چلاتا ہے اسے 12 فروری 2026 سے واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغامات موصول ہو رہے تھے۔ گفت و شنید کے بعد 5 لاکھ روپے میں معاملہ طے پایا۔ 15 اور 16 فروری کو مسلسل کالز اور میسجز کے ذریعے ملزمان نے رقم تیار رکھنے کو کہا۔ 16 فروری کو دوپہر 2 بجے کرلا ٹرمینس پر رقم پہنچانے کی ہدایات دی گئیں۔ تاجر نے اپنے دو ملازمین منیش پریہار (30) اور اشوک ترویدی (32) کو 5 لاکھ روپے کا بیگ دیا اور انہیں لوک مانیہ تلک ٹرمینس کے پارکنگ ایریا میں واقع ہلدیرام ریسٹورنٹ کے قریب کھڑے ہونے کو کہا۔ ‘لالپاری’ کوڈ ورڈ تھا۔ 4:30 بجے کے قریب، فون کرنے والے نے کہا کہ اس کا آدمی کوڈ ورڈ “لالپاری” بتائے گا۔ کچھ دیر بعد چار مشکوک نوجوان وہاں پہنچے۔ پہلی جاسوسی کے بعد، دو نوجوانوں نے کوڈ ورڈ “لالپاری” بولا اور ملازمین سے پیسوں سے بھرا بیگ چھین لیا۔ 200 میٹر تعاقب کے بعددھردبوچا ، سادہ لباس میں تعینات پولیس ٹیم نے تقریباً 200 میٹر تک ملزمان کا پیچھا کیا اور آٹو میں بیٹھ کر فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں پکڑ لیا۔ تلاشی کے دوران 5 لاکھ نقدی اور متعدد موبائل فون برآمد ہوئے۔
گرفتار ملزمان ، پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت اس طرح ہوئی ہے۔
دیپک نریندر ڈنگول (19) پونے کے رہنے والے
ماجد ساجد خان (21) ساکن گوونڈی، ممبئی
فیضان فیروز خان (27) ساکن پونے
ساحل الیاز شیخ (20) ساکن گوونڈی، ممبئی ایک ملزم کے قبضے سے موبائل فون بھی برآمد ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے امتیاز اوروشیر نامی افراد کے کہنے پر رقم لی۔ مزید تفتیش جاری ہے۔ ملزم کے خلاف تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس اب موبائل ڈیٹا، کال کی تفصیلات اور بین ریاستی رابطوں کی جانچ کر رہی ہے۔ دریں اثناء مرکزی سازش کاروں کی تلاش جاری ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر بجٹ میں اقلیتیں نظر انداز : منوج جامستکر

Published

on

ممبئی: ممبئی مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں شیوسینا لیڈر اور رکن اسمبلی منوج جامستکر نے بجٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے اسے ٹھیکیداروں کا بجٹ قرار دیا اور کہا کہ جس طرح سے بڑے پروجیکٹ کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے اس سے یہ شبہ ہے کہ یہ بجٹ عام عوام کی بجائے ٹھیکیداروں کا بجٹ ہے کسانوں کے قرض معافی پر بھی شبہات برقرار ہے دو لاکھ روپے کی قرض معافی کا اعلان تو کیا گیا ہے اس کے نفاذ پر اب بھی شبہ ہے ریاستی سرکار نے کسانوں سے متعلق جو اسکیمات کا نفاذ کی ہے اس کا استفادہ اس کو ہو گا یا نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اقلیتوں کو پوری طرح سے نظر انداز کیا گیا ان کے لیے کوئی بھی نئی اسکیمات کو متعارف نہیں کروایا گیا ہے بجٹ میں نندوربار میں کسانوں کے مسائل پر بھی کوئی تذکرہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ تیزی سے ترقی یافتہ مہاراشٹرمیں بڑے بجٹ کو منظوری دی گئی ہے صحت سمیت دیگر عوامی مسائل پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے اس لیے اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرور ت ہے اور اقلیتوں کو بجٹ میں حصہ داری دینے کا مطالبہ بھی جامستکر نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

تبدیلی مذہب مخالف، مذہبی آزادی بل ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے, بل پر عوامی سماعت کی جانی چاہیے : رئیس شیخ

Published

on

ممبئی : ریاستی حکومت کی طرف سے جمعہ کو قانون ساز اسمبلی میں تبدیلی مذہب مخالف مذہبی آزادی بل 2026 پیش کیے جانے کے ایک دن بعد، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے قانون ساز رئیس شیخ نے مطالبہ کیا کہ بل کو ریاستی مقننہ کی مشترکہ سلیکٹ کمیٹی کو نظرثانی کے لیے بھیجا جائےانہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی سماعت کی جائے تاکہ اس بل کے خلاف اعتراضات اٹھائے جا سکیں جو کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ عام لوگوں کو اس وقت گیس میسر نہیں ، ہوٹل بند ہو رہے ہیں، اور بہت سے لوگوں کی نوکریاں چلی گئی ہیں۔ ان مسائل پر بحث کرنے کے بجائے، مقننہ آزادی مذہب بل جیسے بل پر بحث کر رہی ہے، جس سے معاشرے میں تقسیم پیدا ہو گی۔ موجودہ قوانین پہلے ہی جبری مذہب کی تبدیلی پر توجہ دیتے ہیں، اور یہ بل اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے پیش کیا گیا ہے،” ایم ایل اے رئیس شیخ نے ریمارکس دیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے مزید کہا کہ بل کو بغیر بحث کے پاس نہیں کیا جانا چاہئے اور اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہےلہذا، اس بل کو دونوں ایوانوں کے اراکین کے ساتھ ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہیے۔ اقلیتی برادریوں کے نمائندوں کو کمیٹی میں شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ بل کو منظور کرنے سے پہلے مکمل بحث ضروری ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ مقننہ میں اقلیتوں کی نمائندگی ناکافی ہے، ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ سول سوسائٹی گروپس اور اقلیتی تنظیموں کو بل پر اپنے خیالات پیش کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا،اس مقصد کے لیے، ایک عوامی سماعت ہونی چاہیے۔ حکومت کو اعتراضات اور تجاویز کو مدعو کرتے ہوئے ایک عوامی نوٹس جاری کرنا چاہیے اور ان پر سماعت کرنی چاہیے،ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ پیر کو اس بارے میں قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کو خط لکھیں گے۔ ریاست کی کل 35 سول اور اقلیتی تنظیموں نے بل کی مخالفت کی ہے۔ سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رازداری، مذہب کی آزادی اور بنیادی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کہا کہ مذہبی آزادی کے حق میں تبدیلی کا حق بھی شامل ہےگزشتہ سال اس بل کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس رشمی شکلا کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ مجوزہ قانون کے مطابق مذہب کی تبدیلی سے قبل 60 دن کا نوٹس لازمی ہوگا جس کے دوران اعتراضات اٹھائے جاسکتے ہیں اور پولیس انکوائری بھی کی جاسکتی ہے۔ مذہب کی تبدیلی کے مقصد سے کی جانے والی شادیاں غیر قانونی تصور کی جائیں گی۔ اس بل میں غیر قانونی تبدیلی مذہب میں ملوث اداروں یا افراد کے لیے سات سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : مینارہ مسجد کی ۷۶ لاکھ کی پراپرٹی ٹیکس کی نوٹس واپس لی جائے, یہ کوئی کمرشل ادارہ نہیں ہے : اعظمی

Published

on

یہ مسجد میں مدرسہ ہے یہاں بچے دینی تعلیم سے بہرور ہوتے ہیں اس لئے اس ٹیکس نوٹس کو واپس لیا جائے کیونکہ اتنی خطیر رقم ادائیگی مشکل ہے اور مسجد کو اتنی بڑی رقم کی نوٹس ارسال کرنا درست نہیں ہے ۔ سماجی انصاف میں اقلیتوں کے بجٹ میں ناانصافی ، سماجی انصاف بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایوان میں رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے کہاکہ پہلے محکہ کا بجٹ ۶ سو دو کروڑ روپیہ تھا بعد میں اس میں تخفیف ہو گئی اور ۲۰۲۴۔۲۵ میں بجٹ میں صرف ۲۸ ہزار طلبا کو تعلیمی وظائف ملے ہیں لیکن اب اس میں مزید تخفیف ہو کر صرف ۷ ہزار طلبا کو ہی تعلیمی وظائف کی فراہمی کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ یہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے اس لئے اقلیتوں کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور اتنا ہی نہیں اقلیتوں کے سہولیات کے مطابق بجٹ فراہم ہو انہوں نے ایوان میں اپنی بات اس شعر پر ختم کی۔ کبھی روزی کبھی آشیانہ چھین لیتا ہے جہاں ملتا ہے موقع آب و دانا چھین لیتا ہے، ہمیں اپنی تباہی کی خبر ہو ہی نہیں پاتی سب یہ خوشیاں ہماری غائبانہ چھین لیتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان