ممبئی پریس خصوصی خبر
مجلس کے متعلق مفتی محمد اسماعیل قاسمی پہلے جھوٹ بول رہے تھے یا اب؟
مالیگاؤں کی سیاست میں گندگی کو دور کرنے کے لیے ایک دور اندیش، صاف شفاف، تعلیم یافتہ قیادت کی سخت ضرورت تھی تاکہ بدعنوانی پر لگام لگا کر عوام کے حق میں امانتداری سے کام کیا جاسکے۔ حکومت کی طرف سے عہدیدار کو ترقیاتی کاموں کے لیے ملنے والا فنڈ امت کی مجموعی امانت ہوتی ہے، امانت میں خیانت کرنے والے شخص کا حشر مومنین اچھی طرح جانتے ہیں۔ سیاست عہدہ حاصل کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک ذمہ داری کا بوجھ ہے جسے میدان محشر میں حقوق العباد کی عدالت میں پورے حلقہ کا حساب پیش کرنا پڑے گا۔ شہر مالیگاؤں میں سیاست کے نظام میں درستی پیدا کرنے کے لیے ۳۱ افراد پر مشتمل پارلیمنٹری بورڈ کی تشکیل 2007 میں عمل میں لائی گئی تھی۔ باڈی کے سابق نائب صدر ڈاکٹر محی الدین نے کہا ہے کہ ہمارے شہر کو مثالی شہر بنانے کے لیے ہم نے صدر مفتی اسماعیل قاسمی کو صدر بنایا تھا، پارلمینٹری بورڈ کا میں خود نائب صدر تھا۔ ہم نے کمیٹی تشکیل دینے سے قبل چند عہدوپیمان لیا تھا کہ ہمارا کچھ مقصد ہونا چاہیے اور کچھ مقاصد کے تحت ہم نے کمیٹی کو بنایا تھا، جس میں پہلا مقصد تھاکہ سیاست میں اصلاح پیدا کرنا، عوام کو سیاست کے متعلق سمجھانا کہ کیا صحیح ہے کیا غلط ہے۔ اس ضمن میں مفتی محمد اسماعیل قاسمی کا بڑا بڑا اصلاحی جلسہ بھی لیا گیا، عوام کی طرف سے مثبت رد عمل ملنے لگا۔ دوسرا مقصد تھا کہ سیاست سے بدعنوانی کا خاتمہ کرنا۔ ٹھیکیداری کا نظام ختم کرنا کیونکہ مالیگاؤں شہر میں 1960 میں بنی ہوئی سڑک اب بھی اپنی مضبوطی کے ساتھ موجود ہے۔ لیکن بدعنوانی اور ٹھیکیداری سسٹم کے تحت سال دو سال کے اندر سڑکیں خراب ہوجاتی ہیں۔ بیت المال کی حفاظت کرنا ہمارا تیسرا مقصد تھا، کارپوریشن کے خزانے کا نام بیت المال دیا گیا تھا کہ بیت المال میں بدعنوانی کا ایک روپیہ بھی نہیں آنا چاہیے، بیت المال کی حفاظت میں مقصد یہ تھا کہ فضول جگہوں پر بیت المال کا روپیہ نہیں لگنا چاہیے، عوامی سہولیات کے لیے بیت المال بنایا گیا تھا۔ ہم نے عہد کیا تھا کہ کارپوریشن میں چوری کا راستہ کارپوریٹرس جانتے ہیں اس لیے ہم نئے کارپوریٹرس کو ہر پانچ سال میں ایک بار موقع دیں گے تاکہ کوئی بھی بدعنوانی کا خیال اپنے دل میں نہ لاسکے۔ سیاست کی نگری میں قدم رکھنے کے بعد حریف و رقیب کو بھی اپنا مداح بنالینا کامیاب سیاستداں کا طرز عمل ہوتا ہے۔ جائز وعدوں کو پورا کرنا، عوامی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا، صحت و تعلیم کا معیار بلند کرنا، روزگار بڑھانے کی فکر میں دانشوران ملت کا قیمتی مشورہ لے کر قانونی چارہ جوئی پر عمل درآمد کرنا۔ عوام کا بھروسہ جیتنا، ترقیاتی کاموں کا منصوبہ بناکر شہر کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا، شہر میں امن وامان کی فضاء قائم رکھنا، غنڈہ گردی سے حلقہ کو مکمل آزادی دینا، اپنے حلقہ کے تمام مذاہب کے تہواروں کو کھلی آزادی کے ساتھ قوانین کے دائرے میں منانے کا حکم جاری کرنا وغیرہ یہ تمام چیزیں ایک رکن اسمبلی کے ذمہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2007 میں مالیگاؤں شہر میں کارپویشن کا الیکشن ہوا، ہمارے پاس انتخابی میدان میں اترنے کے لیے فنڈز نہیں تھے۔ ہم نے عوام کو سمجھایا انہیں مقاصد بتاکر بات چیت کی تو انہوں نے کچھ نہ کچھ روپئے سے ہماری مدد کی۔ اس طرح ایک دن میں ایک لاکھ اسّی ہزار روپئے عوام نے دیئے۔ ہم نے ایک لاکھ اسّی ہزار میں 28 سیٹیں چن کر کارپوریشن میں ہماری کامیابی کا جھنڈا بلند کردیا تھا۔ 27 سیٹیں تیسرا محاذ کی تھی جبکہ نریندر سونونے کی ایک سیٹ بھی ہمارے ساتھ شریک ہوکر 28 کی تعداد میں ہوگئے ۔ مفتی محمد اسماعیل قاسمی نے وہاں سے غلطیاں شروع کی پارلیمنٹری باڈی کے بنائے گئے قوانین کے خلاف کام کرنا شروع کیا۔ ٹکٹ کے معاملہ میں انہوں نے کارپوریٹر بسم اللہ بی، اعجاز عمر، قریشی وغیرہ سٹنگ کارپوریٹر کو ٹکٹ دے کر غلط فیصلہ کیا اور جواز پیش کیا کہ کارپوریشن میں تجربہ کار کارپوریٹرس کی موجودگی ضروری ہے ورنہ ہم کام کیسے کریں گے؟ انہیں سمجھایا گیا کہ دو چار مہینوں میں سب کام سمجھ میں آجائے گا، لیکن انہوں نے نہیں مانا۔ آئس پلازہ ہوٹل میں پارلیمنٹری بورڈ کے عہدیداران کی اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا تھا، اس میٹنگ میں ایک ایسے شخص کو مدعو کیا گیا تھا جس سے بورڈ کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ مولانا زہد ندوی نے بھی اس شخص کے متعلق ناراضگی کا اظہار کیا میں اس میٹنگ سے واک آؤٹ کر کے گھر آگیا۔ میرے پیچھے مولانا زاہد ندوی بھی میٹنگ سے نکل کر آگئے۔ چونکہ میں نائب صدر تھا اس لیے کچھ دیر بعد مفتی محمد اسماعیل قاسمی بورڈ کے کچھ ذمہ دارن کے ساتھ میرے گھر آگئے مجھے منانے کی کوشش کرنے لگے۔ میں نے کہا کہ اصول جو بنائے ہو اصول پر کام کرو، ورنہ میں بورڈ چھوڑ دوں گا۔ ویسا ہی ہوا کارپوریشن میں سیٹیں آنے کے بعد نیت ارادے اصول کے خلاف چلنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنا مئیر بیٹھائے گے۔ جبکہ ہمارے اصول میں شامل تھا کہ نے کہا تھاکہ ہم جنتا دل اور کانگریس سے برابر کی دوری بناکر رکھے گے۔ سیٹیں آنے کے بعد انہوں نے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر مئیر بنانے کا فیصلہ کیا اس کے لیے کانگریس کی حمایت حاصل کرنا تھی ہم نے انکار کردیا کہ ہم کانگریس اور جنتادل سے برابر کی دوری بنانے کا عزم کرچکے ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ پاور میں رہیں گے تو ہی کام کرسکوں گے میں نے کہا کہ اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی کام کیا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے بورڈ کے افراد کی باتوں کو نظر انداز کردیا، وہ اپنے خلاف کسی سے ایک لفظ سننا نہیں چاہتے تھے۔ان کو یہ محسوس ہوتا تھا کہ میں رتبے والا شخص ہوں کوئی مجھ سے سوال نہیں پوچھ سکتا ہے۔ یہی وجہ رہی کے بورڈ کو ختم کر دیا گیا اور ہم سب ایک اچھے مقصد کے ساتھ مفتی اسماعیل کی قیادت چھوڑ کے الگ سے سماجی کام کرنے لگے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
گنپتی وسرجن کے لیے بی ایم سی کی جانب سے 383 سے زائد مصنوعی جھیلیں دستیاب

ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی انتظامیہ مہاراشٹر کے ریاستی تہوار گنیش اتسو کو ماحول دوست انداز میں منانے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جس میں وسرجن کے جلوس کے لیے مختلف سہولیات اور انتظامات شامل ہیں۔ ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق، بی ایم سی نے اس سال چھ فٹ تک اونچی مورتیوں کے وسرجن کے لیے 383 سے زائد مصنوعی جھیلیں تعمیر کی ہیں۔ اس کے علاوہ، چھ فٹ سے زیادہ اونچی مورتیوں کے وسرجن کے لیے 67 قدرتی مقامات پر مختلف سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ عوام میں ماحولیاتی تحفظ کا پیغام وسیع پیمانے پر پہنچانے کے مقصد سے، اس سال ’ایک گنپتی، ایک درخت‘ (ایک گنپتی، ایک درخت) کا اقدام شروع کیا گیا ہے، جس کا تصور میئر ریتو ٹاوڈے نے پیش کیا تھا۔ بی ایم سی نے ممبئی میں وسرجن کی جانے والی گنیش کی مورتیوں کی کل تعداد کے برابر درخت لگانے کا عہد کیا ہے۔ ’ایک گنپتی، ایک درخت‘ کے تصور کے تحت، بھگوان گنیش کی آمد سے لے کر وسرجن تک پھیلے اس تہوار کو ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ مزید برآں، مورتی وسرجن کی تقریب کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لیے 25,000 سے زائد افسران اور ملازمین پر مشتمل عملے کے ساتھ جامع اور مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔
اس سال، گنیش اتسو کا تہوار 14 ستمبر 2026 کو شروع ہوا۔ ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے، ڈپٹی میئر سنجے گھاڑی، میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھاکنے کی رہنمائی میں،ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے پورے ممبئی، اور خاص طور پر وسرجن کے مقامات پر تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ وسرجن کے راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے، سڑکوں کے گڑھوں اور نکاسی آب کے ڈھکنوں کی مرمت، اور درختوں کی کانٹ چھانٹ جیسے کام مکمل کر لیے گئے ہیں۔ سمندری ساحلوں اور قدرتی و مصنوعی وسرجن مقامات پر مختلف سہولیات اور خدمات—جن میں اسٹیل کی پلیٹس، رافٹس (تیرنے والے تختے)، کرینیں، ایمبولینسیں، لائف گارڈز، ‘نرمالیہ’ (پوجا کے بعد بچ جانے والے پھول اور دیگر اشیاء) جمع کرنے کے ڈبے، کنٹرول رومز، مشاہداتی ٹاورز، روشنی کا انتظام، عارضی بیت الخلاء اور ضروری افرادی قوت شامل ہیں—فراہم کی گئی ہیں۔
ایک گنپتی، ایک درخت گنپتی عقیدت، ایمان اور سماجی ہم آہنگی کا تہوار ہے۔ اس تہوار کے ذریعے عوام میں ماحولیاتی تحفظ کا پیغام وسیع پیمانے پر پہنچانے کے مقصد سے، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اس سال وسرجن کی جانے والی گنیش کی مورتیوں کی تعداد کے برابر درخت لگانے کا عہد کیا ہے۔ ‘ایک گنپتی – ایک درخت’ (ایک گنپتی، ایک درخت) کے اقدام کا تصور مئیر ریتو ٹاوڈے نے پیش کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بھگوان گنیش کی آمد سے لے کر وسرجن تک کے تہوار کے دوران ماحولیاتی تحفظ کو شامل کرنا ہے، جس کے تحت ہر وسرجن کی جانے والی مورتی کے بدلے ایک درخت لگایا جائے گا اور اس طرح ممبئی کے سرسبز مستقبل میں اپنا حصہ ڈالا جائے گا۔ گنیش اتسو تہوار کے ذریعے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے عوامی شرکت سے ممبئی کو سرسبز، خوبصورت اور ماحول دوست بنانے کا عزم کیا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ شجرکاری، درختوں کے تحفظ اور ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا بھی ارادہ کیا ہے۔ اس سال بھگوان گنیش کے بتوں کے وسرجن کے لیے، قدرتی وسرجن کے 67 مقامات (جن میں 44 ساحل/جیٹیز اور 23 قدرتی جھیلیں شامل ہیں) اور 383 مصنوعی وسرجن مقامات دستیاب کیے گئے ہیں۔ ان مقامات پر درج ذیل انتظامات کیے گئے ہیں: 1,194 اسٹیل پلیٹس، 23 جرمن رافٹس (rafts)، 34 کرینیں، 85 ایمبولینسیں، 10 موٹر بوٹس، 498 ‘نرمالیہ’ (پوجا کی نذر/سامان) جمع کرنے والے برتن، 326 ‘نرمالیہ’ ڈمپرز، 261 استقبالیہ مراکز، 228 کنٹرول رومز، 75 مشاہداتی ٹاورز، 1,132 لائف گارڈز، 6,052 فلڈ لائٹس/سرچ لائٹس اور 489 عارضی بیت الخلاء۔ مزید برآں، میونسپل کارپوریشن کے تقریباً 25,000 اہلکار اور مختلف رضاکار تنظیمیں ڈیوٹی پر مامور ہوں گی۔
چھ فٹ سے کم اونچائی والے بتوں کا مصنوعی جھیلوں میں وسرجن ہائی کورٹ کی 20 اگست 2026 کی ہدایات کے مطابق، عوامی مفاد کی عرضداشت (پی آئی ایل) پر حتمی فیصلہ ہونے تک 24 جولائی 2025 کے حکم کی تعمیل لازمی ہے۔ لہٰذا، 6 فٹ تک اونچائی والے بھگوان گنیش کے بتوں کو مصنوعی جھیلوں میں وسرجن کرنا لازمی ہے اور میونسپل کارپوریشن نے اس کے لیے ضروری انتظامات کیے ہیں۔ اس اقدام کے حوالے سے عوامی بیداری کی مناسب مہم بھی چلائی گئی ہے۔ ممبئی میں 278 مقامات پر 383 سے زائد مصنوعی تالاب ماحول دوست ‘گنیش اتسو’ کو فروغ دینے اور مصنوعی تالابوں میں بتوں کے وسرجن کی حوصلہ افزائی کے لیے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے 278 مقامات پر 383 سے زائد مصنوعی تالاب قائم کیے ہیں۔ مزید برآں، میونسپل انتظامیہ 6 فٹ سے زیادہ اونچے بتوں کے لیے قدرتی وسرجن کے 67 مقامات پر ضروری سہولیات فراہم کرے گی۔ سوراجیہ بھومی (گرگاؤں چوپاٹی) میں 12 مصنوعی تالاب سوراجیہ بھومی جو عام طور پر ‘گرگاؤں چوپاٹی’ کے نام سے مشہور ہےممبئی میں گنیش کے بتوں کے وسرجن کی سب سے بڑی تعداد کا مرکز ہے۔ شہر بھر میں عوامی ’منڈلوں‘ اور گھروں سے مورتیاں وسرجن (جل پرواہ) کے لیے یہاں لائی جاتی ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی قانونی پیروی، 65/ سالہ ضعیف شخص ضمانت منظور ہونے کے باجود جیل میں مقید

ممبئی : دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ایک 65 سالہ ضعیف شخص ابتک بامبے ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کرنے کے باجود جیل سے رہا نہیں ہوسکا ہے کیونکہ بامبے ہائی کورٹ نے اسے بطور ضامن کسی مقامی شخص کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ ملزم کفیل احمد کی گذشتہ سال بامبے ہائی کورٹ نے طویل قید اور مقدمہ کی سماعت میں ہونے والی تاخیر کی بنیاد پر ضمانت منظور کی تھی۔ بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس آر آر بھونسلے نے کفیل احمد کی ضمانت منظور کرتے ہو ئے اسے مقامی ضامندار پیش کرنے کی شرط پر جیل سے رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا تھا۔ بامبے ہائی کورٹ میں کفیل احمد کے مقدمہ کی پیروی ایڈوکیٹ مبین سولکر نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے توسط سے کی تھی۔ ملزم کفیل احمد کا تعلق بہار سے ہے اور اس کی ضمانت لینے کے لیئے مہاراشٹر میں کوئی موجود نہیں ہے لہذا آج بامبے ہائی کورٹ میں ضمانت کی شرط میں تبدیلی کی عرضداشت صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ متین شیخ نے داخل کی ہے۔ گذشتہ ہفتہ ملزم کفیل احمد کے لڑکے نے مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ملاقات کرکے اس کے ضعیف والد کی جیل سے رہائی کی درخواست کی تھی جس کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی۔ ملزم کفیل احمد کے خلاف دہلی میں بھی ایک مقدمہ زیر سماعت ہے جہاں اسے ضمانت مل چکی ہے اور دہلی کی عدالت نے کفیل احمد کو کسی بھی صوبے سے تعلق رکھنے والے شخص کو بطور ضمانتدار پیش کرنے کی اجازت دی تھی۔ ایڈوکیٹ متین شیخ کی جانب سے داخل پٹیشن میں تحریرہے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے ایک سال قبل ضمانت منظور ہو جانے کے باوجود ملزم کی ابتک جیل سے رہائی نہیں ہوسکی ہے کیونکہ مقامی ضامن دار کی جو شرط عدالت نے تجویز کی ہے ملزم اسے پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے کیونکہ ملزم کا تعلق صوبہ بہار سے ہے اور مہاراشٹر میں اس کا کوئی جاننے والا نہیں ہے جو اس کی ضمانت لے سکے۔ عرضداشت میں مزید تحریر ہے کہ جس طرح سے دہلی کورٹ نے ملزم کو بیرون ریاست سے تعلق رکھنے والے ضامندار کو پیش کرنے کی اجازت دی ہے بامبے ہائی کورٹ بھی ملزم کو ایسی سہولت دے تاکہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ملزم کی رہائی عمل میں آسکے۔ ملزم کفیل احمد کی عرضداشت پر اگلے ہفتے کسی دن سماعت متوقع ہے۔
واضح رہے کہ ملزم کفیل احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ملزم کفیل احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B ,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک، کفیل احمد محمد ایوب انصاری،، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔ سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : شہزاد بھٹی نیٹ ورک بھی دہشت گرد تنظیم میں شامل، نوجوانوں سے اس نیٹ ورک سے دور رہنے کی اے ٹی ایس ذرائع کی اپیل

ممبئی : شہزاد بھٹی گینگ و نیٹ ورک کو اب مرکزی وزارت داخلہ نے دہشت گرد نیٹ ورک قرار دیا ہے جس کے بعد اب شہزاد بھٹی سے وابستگان کے خلاف کارروائی میں تفتیشی ایجنسیوں کو راحت میسر ہوئی ہے سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ورغلانے اور اسلحہ جات کی فراہمی کے عمل میں بھی شہزاد بھٹی نیٹ ورک ملوث پایا گیا ہے اس کے خلاف مختلف ۹ ایف آئی آر درج کی گئی ہے ملک میں دہشت گردی سرگرمیوں اور بدامنی پھیلانے کی سازش میں شہزاد بھٹی گینگ نے کئی ایسے نوجوانوں کو بھی ملوث کیا تھا جو نابالغ بھی تھے .مہاراشٹراے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی گینگ کے خلاف آپریشن انجام دیا تھا جس میں کئی نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر اس سے رابطہ رکھنے کے الزام میں بازپرس کے لیے طلب کیا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں رہا بھی کیا گیا تھا لیکن سرکار نے شہزاد بھٹی گینگ پر ہی یو اے پی اے ایکٹ کا اطلاق کیا ہے اگر کوئی بھی اس گینگ یا نیٹ ورک سے وابستہ پایا جاتا ہے تو اس کی گرفتاری بھی یو اے پی اے کے تحت ہی ہو سکتی ہے اے ٹی ایس کے معتبر ذرائع نے بتایا کہ پہلے شہزاد بھٹی نیٹ ورک کو ٹھوس اقدام کرنے یا کارروائی کے لئے کوئی ایسی دفعہ نہیں تھی لیکن اب اس تنظیم گینگ اور نیٹ ورک کو ہی دہشت گرد قرار دیدیا گیا ہے اگر کوئی بھی اس نیٹ ورک سے وابستہ ہوتا ہے تو کارروائی بھی اسی مناسبت سے ہو گی یعنی ان کے خلاف بھی یو اے پی اے ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی اے ٹی ایس نے اس سے قبل شہزاد بھٹی سے تعلق رکھنے والے کئی نوجوانوں کو زیر حراست لیا تھا ان سے باز پرس کی اور انہیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اے ٹی ایس کی کارروائی کے سبب شہزاد بھٹی سے زبرداست جھٹکا لگا ہے دبئی میں مقیم پاکستانی ڈان ہندوستان کے خلاف تشدد کی سازش میں ملوث ہے اور اس کو انجام دینے کےلیے وہ سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ورغلاتا ہے اس کے وہاٹس ایپ گروپ سے لے کر فیس بک سمیت انسٹاگرام اور ٹیلیگرام گروپ بھی ہے جس پر وہ غیر قانونی سرگرمی کو انجام دینے کےلیے نوجوانوں کی تقرری کرتا ہے.
ایسے میں دلی اسپیشل سیل اور اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی پر کارروائی کی ہے ملک میں ۲۰۰ سے زائد شہزاد بھٹی اراکین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے شہزاد بھٹی پنجابی زبان بولتا ہے اور اسی طرح وہ سوشل میڈیا پر نوجوان کو اپنی طرف مائل کرتا ہے اے ٹی ایس ذرائع نے اپیل کی ہے شہزاد بھٹی نیٹ ورک سے سوشل میڈیا پر نوجوان دور رہیں کیونکہ اگر کوئی بھی اس نیٹ ورک سے وابستہ ہوتا ہے تو اس پر کاروائی یقینی ہے اس لئے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتنا چاہئے اور کسی بھی انجان شخص سے رابطہ نہ رکھیں کیونکہ ایسے انجان رابطہ کاروں کے سبب ہی انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ شہزاد بھٹی سے وابستگان پر بھی اب یو اے پی اے ایکٹ اور ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں کارروائی یقینی ہے اس لئے اس گروہ نیٹ ورک سے دور رہنے کی اپیل اے ٹی ایس ذرائع نے کی ہے ۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
