Connect with us
Monday,28-September-2026

(جنرل (عام

مرزا غالب کا 225واں یوم پیدائش: اردو کے عظیم شاعر اب بھی اپنے پڑھنے والوں کے دلوں میں زندہ

Published

on

Mirza Ghalib

آج مرزا غالب کا 225واں یوم پیدائش ہے۔ اردو کے عظیم شاعروں میں سے ایک مرزا اسد اللہ بیگ خان غالب کو مغل دور کا آخری عظیم اور بااثر شاعر سمجھا جاتا ہے۔ غالب کی شاعری کے علاوہ ان کے خطاط اب بھی شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ وہ 27 دسمبر 1797 کو پیدا ہوئے۔ ان کا اصل تخلص (قلمی نام) اسد تھا، جو ان کے دیے گئے نام اسد اللہ خان سے اخذ کیا گیا تھا۔

اپنے شاعرانہ دور کے اوائل میں کسی موقع پرانہوں نے غالب کا قلمی نام بھی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کا مطلب فاتح، اعلیٰ، بہترین اور برتر کے ہے۔ غالب کا کلام آج سرحدوں سے بھی ماور ہے۔

مشہور غزل ’دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے‘

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے

ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے

شکن زلف عنبریں کیوں ہے
نگہ چشم سرمہ سا کیا ہے

سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے

جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے

میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے

مرزا غالب کے مشہور ’اشعار‘

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

غالب کی اشعار اپنے پڑھنے والوں کو نہ صرف گہرے جذبات عطا کرتے ہیں، بلکہ ایک نیا کیف و سرور بھی عطا کرتے ہیں۔ اردو زبان کے بے مثال اور لا ثانی شاعر مرزا غالب کا انتقال 15 فروری 1869 کو دہلی میں ہوا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایم آئی ڈی سی کی منشیات کے خلاف بڑی کارروائی، بین الاقوامی اسمگلنگ کے گروہ کا پردہ فاش، 37 کروڑ روپے مالیت کی کیٹامائن کے ساتھ دو ارکان گرفتار

Published

on

ممبئی : ایم آئی ڈی سی پولیس کے اینٹی نارکوٹکس اسکواڈ نے منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے ایک بین الاقوامی گروہ کے دو ارکان کو گرفتار کر کے 12 کلو 390 گرام کیٹامائن برآمد کر لی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس برآمد شدہ منشیات کی مالیت کا تخمینہ 37 کروڑ 97 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔پولیس کے مطابق، 24 ستمبر 2026 کی رات 11 بجے، اندھیری کرلا روڈ پر ایئرپورٹ میٹرو اسٹیشن کے قریب فٹ پاتھ پر دو مشکوک افراد ٹرالی/سامان والے بیگ اٹھائے ‘ساکئ ناکہ’کی جانب جاتے ہوئے دیکھے گئے۔ اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر (اے پی آئی) کھولم اور ان کی ٹیم کو ان پر شک ہوا۔ جب پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو دونوں افراد نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن انہیں موقع پر ہی پکڑ لیا گیا۔ابتدا میں انہوں نے پوچھ گچھ کے دوران ٹال مٹول والے جواب دئیے، لیکن سخت تفتیش کے بعد انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے بیگ میں منشیات موجود ہیں۔ تلاشی لینے پر سفید رنگ کا قلمی (کرسٹل نما) پاؤڈر برآمد ہوا، جس کی شناخت کیٹامائن کے طور پر کی گئی۔

گرفتار ملزمین 1) عدنان احمد نیاز احمد صدیقی (35 سال) – گھوڑا پیڈیو، مزگاؤں (مشرقی) 2) سعود مشتاق منیار (29 سال) – گرگاؤں، ممبئی یہ ملزمین کیٹامائن کو کھانے پینے کی اشیاء میں چھپا کر ہوائی راستے سے ممبئی سے تھائی لینڈ، انڈونیشیا، میانمار اور ملائیشیا جیسے ممالک میں اسمگل کیا کرتے تھے۔ این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 کی دفعات 8(سی)، 22(سی) اور 29 کے تحت ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ (کیس نمبر 9075/2026) درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ کمشنر منوج کمار شرما، ایڈیشنل کمشنر ابھیناو دیشمکھ، ڈپٹی کمشنر دتہ نلاوڑےاور اسسٹنٹ کمشنر یوگیش شنڈے کی رہنمائی میں عمل میں لائی گئی۔ اس ٹیم میں سینئر انسپکٹر گھنشیام نائر، انسپکٹر سنیل کارانڈے اور یوگیش ٹانڈلے، نیز اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر الہاس کھولام شامل تھے۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔یہ اطلاع آج یہا ں پریس کانفرنس میں ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے انہوں نے بتایا کہ یہ ڈرگس کے خلاف پولس کی بڑی کارروائی ہے اور مزید تفتیش بھی جاری ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان