Connect with us
Thursday,01-October-2026
تازہ خبریں

جرم

کانپورمیں توڑپھوڑ پتھرائو کے بعد علماء وائمہ مساجد کی میٹنگ، ہندو مسلم اتحاد ملک کی طاقت ہے

Published

on

(عطاء الرحمٰن)
سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہو رہے مظاہرے میں توڑپھوڑ اور پتھراؤ کے بعد کانپور کے علماء اور ائمہ مساجد نے شہر کے لوگوں سے اپیل کی کہ ہم سب ہندوستان کے پر امن شہری ہیں اور رہیں گے۔ ملک ہندوستان سیکولر ملک اور سیکولر رہے گا۔ ہم مذہب کے نام تفریق کرنے والے سی اے اے کو ملک کے سیکولرزم اور آئین ہند کی روح کے خلاف سمجھتے ہیں اور فوراً واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کوئی بھی احتجاج پرامن ہو، تشدداور توڑ پھوڑ ملک کے قانون کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ شریعت کے بھی خلاف ہے۔ بھائی چارہ، امن و ایکتا اور ہندو مسلم اتحاد ملک کی طاقت ہے، ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ واضح ہو کہ ملک کے بگڑتے حالات کے مد نظر شہرکے علماء کرام اورائمہ مساجد کی ایک اہم میٹنگ قاضی شہر کانپور مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی صدر جمعیۃ علماء اترپردیش کی صدارت میں جمعیۃ بلڈنگ رجبی روڈ کانپور میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں 60سے زیادہ مساجد کے ائمہ نے شرکت کی۔ میٹنگ میں تمام علماء اور ائمہ مساجد سے بات کرتے ہوئے مولانا اسامہ قاسمی نے کہاکہ آئین بنانے والوں نے جب یہاں کا آئین و دستور بنایا تو یہ واضح کر دیا کہ حکومت کسی مذہب خاص کی نہیں ہوگی بلکہ سب کی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ 1955میں سے سب سے پہلے شہریت قانون بنا، اس کے بعد کئی مرتبہ اس میں ترمیم ہوئیں، لیکن اس مرتبہ حکومت نے صاف طور پر کہ تین ممالک اور دیگر مذاہب کا نام لے کر اس میں ترمیم کیا ہے۔ مولانا تمام علماء اور ائمہ سے کہا کہ یہ قانون جمہوریت اور دستور کی روح کے خلاف ہے، ہمیں پریشانی اس بات کی نہیں کہ آپ نے دیگر مذاب کا نام لے اس میں ان کو جگہ دیا بلکہ ہمارا یہ کہنا ہے کہ آپ نے مسلمانوں کو اس میں کیوں نہیں رکھا؟ ہمارے ہندوستان کا دل بہت بڑا ہے، یہاں ہر پریشان حال کو ضابطہ کے مطابق آنے کی اجازت ہونی چاہئے، مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ فرق نہیں ہونا چاہئے۔ این آر سی کے حوالے سے کہا کہ پہلے مودی جی خود اپنے کاغذ ات ملک کو دکھائیں۔ موجود علماء اور ائمہ نے کہا کہ ہم ملک کے وفادار ہیں،کسی حکومت کے نہیں حکومت اگر قانون کے خلاف اور غلط کام کرے گی تو اس کو بھی ٹوکیں گے۔تمام ائمہ مساجد ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں، یہ ہندوستان کے تمام شہریوں کا آئینی حق اور ذمہ داری ہے لیکن اس کا پورا خیال رکھیں کہ ظلم کی مخالفت میں ملک کی مخالفت نہ ہو نے پائے۔ تشدد، پتھراؤ اور آتشزدگی کی اجازت نہ قانون دیتا ہے اور نہ ہی اسلامی شریعت۔ تشدد کے سبب ہمارا نقصان ہوتا ہے، اس سے ہماری بات دب جاتی ہے۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ظلم کس پر ہو رہا ہے، اس لئے احتجاج اور پر امن ریلیوں کاسلسلہ جاری رکھیں اور سرکار تک اپنی بات پہنچاتے رہیں۔ آپ خود بھی افواہوں سے بچیں اور عوام کو بھی بچائیں، باقاعدہ تحقیق کے بعد ہی کوئی بات آگے بڑھائیں۔ امام حضرات اپنی ذمہ داریوں کے مد نظر مسئلہ کو سمجھیں اور عوام کو سمجھائیں کہ تشدد کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ یکطرفہ معاملہ نہ کریں اس بات کو بھی سمجھیں کہ پولیس و انتظامیہ میں سب ہی خراب نہیں ہیں، آپ اس کو نظر انداز نہ کریں کہ گذشتہ جمعہ والے دن ہی لاکھوں لوگوں کا جلوس نکلا اور انہیں افسران اور پولیس والوں نے اس میں پورا ساتھ دیا۔ شہر کے افسران نے بھی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمیں لوگوں کے جذبہ کو سرد کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کی قدر کرتے ہوئے انہیں محبت کے ساتھ سمجھائیں اور جذبہ کو صحیح سمت دیں۔ انہیں بتائیں کہ یہ ہندومسلم کا مسئلہ نہیں بلکہ سیکولرزم بنام ہندوراشٹر کا مسئلہ ہے۔ روس اور اندلس کی تاریخ پڑھیں وہاں پہلے علماء کو بدنام کرکے عوام سے کاٹ دیا گیا پھر اس کے بعد پوری قوم تباہ کر دی گئی، اس کی نزاکت کو بھی سمجھیں کہ کون لوگ علماء کے خلاف بے بنیاد باتیں کر رہے ہیں، ان کی کیا منشاء ہے؟ آخر میں تمام لوگوں کے سامنے شہر قاضی مولانا اسامہ نے اتحاد کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کی قیادت میں چلنے کیلئے تیار ہیں، مگر قیادت میں سیاست نہیں چاہتے۔ موجودہ شہریت قانون کے خلاف ہم سب ساتھ ساتھ ہیں اور آخر تک ساتھ رہیں گے۔ نہ ہمیں کسی سے ڈرنے اور خوفزدہ ہونے کی ضرورت ہے اور نہ جذبہ کو ٹھنڈا کرنے کی بلکہ یہ وقت عقلمندی اور ہوشمندی کا ثبوت دینے کا ہے۔ تمام علماء نے ایک رائے ہو کر کہا ہم عوام سے ہر طرح کے تشدد سے بچنے کی اپیل کرتے ہیں۔ میٹنگ میں قاضی شہر مولانا اسامہ قاسمی، مولانامحمد شفیع مظاہری، مفتی اقبال احمد قاسمی، مفتی عبد الرشید قاسمی، مولانا محمد اکرم جامعی، مولانامحمد انعام اللہ قاسمی، مولانا محمد انیس خاں قاسمی، مولانا آفتاب عالم قاسمی، مولانا رئیس قاسمی، مولانا سبحان الٰہی،مولانا کلیم احمد جامعی، مولانا محمد کوثر جامعی، مفتی عزیز الرحمن قاسمی، مولانا انیس الرحمن قاسمی،مولانا عبد الحنان جامعی، مولانا محمد عقیل جامعی، مولاناعبد الاول جامعی، مولانا محمد سعید خاں قاسمی، مولانا شکیل احمد، قاری مجیب اللہ عرفانی، مولاناعزیز الحسن قاسمی، مولانا سمیع اللہ جامعی، مفتی سعد نور قاسمی، قاری عبد المعید چودھری، مولانا محمد شمیم مظاہری، مفتی مفتاح قاسمی،مولانا عبدا لقادر خاں قاسمی،مولانا محمد ارشد قاسمی،مولانا محمد عالم،مولانا شکیل احمد قاسمی،مولانا ابوبکر قاسمی، مولانا محمد سلمان ثاقبی،حافظ نصیر احمد،مولانا رضاء اللہ،مولانا محمد ذاکر قاسمی، مولانا محمد طاہر قاسمی، مولانا امیر اللہ قاسمی، مولانا شکیل احمد مظاہری، حافظ شفیق جامعی، حافظ اخلاق انصاری، حافظ برکت اللہ، مولانا محمد بن یامین، حافظ کلیم احمد، مفتی اسعد الدین قاسمی، مفتی سعود مرشد قاسمی، مولانا محمد یٰسین جامعی مولانا ایاز ثاقبی، مفتی عبد الرحمن مظاہری، مفتی محمد فرقان مظاہری، مولانا محمد جاوید قاسمی کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء کرام اور ائمہ مساجد موجود رہے۔

جرم

ای ڈی نے 734 کروڑ کے جی ایس ٹی فراڈ کیس میں جھارکھنڈ کے تاجر اور اس کے بیٹے کو گرفتار کر لیا

Published

on

رانچی : انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جمشید پور کے تاجر گیان چند جیسوال عرف ببلو جیسوال اور ان کے بیٹے راج جیسوال کو تقریباً 734 کروڑ روپے کے جی ایس ٹی دھوکہ دہی کے معاملے میں گرفتار کیا ہے، حکام نے جمعرات کو بتایا۔ ای ڈی نے بدھ کی رات دیر گئے کولکتہ، آدتیہ پور، آدتیہ پور اور جمشید پور کے کئی مقامات پر چھاپے مار کر دونوں کو گرفتار کیا۔ طبی معائنے کرنے کے بعد، ای ڈی کی ٹیم انہیں رانچی لے آئی۔ حکام کے مطابق، انہیں دن کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ای ڈی نے کہا کہ اس معاملے میں ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) حاصل کرنے کے لیے جعلی رسیدوں کا بغیر کسی حقیقی خرید و فروخت کے مبینہ استعمال شامل ہے۔ ایجنسی شیل کمپنیوں اور اس سے منسلک رقم کے بہاؤ کے ذریعے ہونے والے لین دین کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ بدھ کی کارروائی کے دوران، ای ڈی نے گیان چند جیسوال سے منسلک احاطے کے ساتھ ساتھ ان کے آڈیٹر سنجے پاریکھ اور دیگر افراد کے احاطے کی تلاشی لی، حکام نے مزید بتایا کہ تفتیشی ٹیم نے کاروباری دستاویزات، جی ایس ٹی سے متعلق ریکارڈ، بینکنگ اور مالیاتی لین دین کے دستاویزات، اور الیکٹرانک آلات کی جانچ کی۔

ای ڈی کی یہ کارروائی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت کی گئی، حکام نے کہا۔ تحقیقاتی ایجنسی کو شبہ ہے کہ آئی ٹی سی کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال مبینہ طور پر شیل کمپنیوں اور کاغذی لین دین کے ذریعے کیا گیا تھا۔ اس کیس کی ابتدائی تحقیقات ڈائریکٹوریٹ جنرل آف جی ایس ٹی انٹیلی جنس (ڈی جی جی آئی)، جمشید پور نے کی تھی۔ تحقیقات میں شیل کمپنیوں اور جعلی رسیدوں کے ذریعے آئی ٹی سی کے غلط استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے 2024 کے حکم کے مطابق، گیان چند جیسوال کو جون 2024 میں ایک کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور جی ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ای ڈی کی تحقیقات نے مبینہ طور پر اس نیٹ ورک سے جڑی کئی کمپنیوں اور دھوکہ دہی کے لین دین کا پردہ فاش کیا ہے۔ ایجنسی نے 2025 میں اس معاملے کے سلسلے میں جمشید پور اور کولکتہ کے کئی دوسرے تاجروں کے خلاف بھی کارروائی کی تھی۔ ای ڈی اب دو گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ مبینہ طور پر جی ایس ٹی لین دین اور اس سے منسلک رقم کے بہاؤ کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا سکے۔

Continue Reading

جرم

چکبالا پور کے رہائشی اسکول میں 15 سالہ طالبہ کا مبینہ طور پر جنسی استحصال؛ پرنسپل بک گیا۔

Published

on

چکبالا پور (کرناٹک) : کرناٹک کے چکبالاپور ضلع میں ایک سرکاری چلائے جانے والے مورارجی دیسائی ماڈل ریزیڈنشیل اسکول کی 15 سالہ کلاس 9 کی طالبہ کو اسکول کے پرنسپل ایشورا ریڈی نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، بدھ کو پولس میں درج کرائی گئی شکایت کے مطابق۔ واقعہ کے سلسلے میں اسکول کے قریب واقع ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ شیدلاگھٹہ تعلقہ کے گورلمناہلی گاؤں میں میل۔ طالب علم کے بیان کے مطابق، یہ واقعہ مبینہ طور پر تقریباً 2.30 بجے دوپہر پیش آیا۔ 26 ستمبر کو اسکول کے میڈیسن روم میں۔ لڑکی نے بتایا کہ وہ کلاس 6 کی ایک بیمار طالبہ کو دوا دینے گئی تھی جب پرنسپل نے مبینہ طور پر اسے کمرے میں بلایا، نامناسب سلوک کیا اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس نے اسے کسی کو بھی واقعہ بتانے کی دھمکی دی تھی۔

طالبہ نے مبینہ طور پر اس واقعے کے بارے میں اپنے ہم جماعتوں کو آگاہ کیا، جس کے بعد یہ اطلاع اساتذہ اور اس کے والدین تک پہنچی۔ ایف آئی آر کے مطابق، لڑکی کے والدین نے 27 ستمبر کو اسکول کا دورہ کیا، مبینہ واقعے کے بارے میں معلوم کیا اور اس کے بعد پولیس سے رجوع کیا۔ 28 ستمبر کو چکبالا پور میں چائلڈ ویلفیئر کے اہلکاروں کی موجودگی میں لڑکی کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ شدلاگھٹہ تعلقہ کی ڈبوراہلی پولیس نے ایک کیس درج کر کے مبینہ جنسی زیادتی کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ اپنی شکایت میں، 15 سالہ متاثرہ لڑکی نے کہا: “میں سری مورارجی ڈیسائی 5 کے رہائشی سکول میں 9ویں جماعت کی طالبہ ہوں۔ اسکول کے پرنسپل نے ہفتہ (26 ستمبر) کو میرے ساتھ بدتمیزی کی اور اس ہفتے پھر اس نے مجھے چوما، میری کمر پر ہاتھ رکھا اور میرے منہ کو بھی چھوا۔ اس پس منظر میں، کسی کو میرے تجربے سے نہیں گزرنا چاہیے۔ کسی کو بھی اس ناانصافی کا سامنا نہیں کرنا چاہئے جس کا مجھے سامنا کرنا پڑا۔ برائے مہربانی مجھے انصاف دلانے میں مدد کریں۔”

کیس کے حوالے سے مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

امریکا سے واپسی پر چھوٹے بھائی نے جائیداد کے لیے بڑے بھائی کو قتل کردیا۔

Published

on

جے پور : جے پور میں دو بھائیوں کے درمیان جائیداد کا تنازعہ منگل کو اس وقت جان لیوا ہو گیا، جب بنی پارک علاقے میں جھگڑے کے دوران ایک 58 سالہ شخص نے مبینہ طور پر اپنے بڑے بھائی کو چاقو مار دیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ واقعہ سنت کنور رام پارک کے پیچھے سندھی کالونی میں بھائیوں کی رہائش گاہ سے تقریباً 300 میٹر کے فاصلے پر رام پارک کے قریب پیش آیا۔ ایس ایچ او سریش یادو کے مطابق 65 سالہ شیام بگانی اپنے گھر سے سکوٹر پر مندر جانے کے لیے نکلے تھے کہ ان کے چھوٹے بھائی مرلی بگانی نے مبینہ طور پر رام پارک کے قریب ان پر حملہ کر دیا۔ ایک چھڑی کے ساتھ شیام. اس کے بعد اس نے مبینہ طور پر چاقو نکالا اور اپنے بڑے بھائی پر وار کیا۔ شیام شدید زخمی ہو گیا اور اسے ایس ایم ایس ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ پولیس اور فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور شواہد اکٹھے کئے۔ ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں دونوں بھائیوں کے درمیان آبائی جائیداد پر جاری تنازع کا اشارہ ملتا ہے۔ پولیس اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا جائیداد کی تقسیم کا تنازعہ حملہ کا سبب بنا۔

خاندان میں تین بھائی تھے۔ ان کے سب سے بڑے بھائی پرکاش بگانی کا 2014 میں امریکہ میں انتقال ہو گیا تھا۔ شیام بگانی دوسرے سب سے بڑے جبکہ مرلی بگانی سب سے چھوٹے تھے۔ واقعہ کے وقت شیام خاندان کے گھر میں رہ رہا تھا۔ اس کا بیٹا چراغ بگانی آن لائن کام کرتا ہے۔ پولیس کے مطابق مرلی بگانی تقریباً 24 سال سے بیرون ملک مقیم تھا اور وسطی امریکہ کے بیلیز سٹی میں چرچ اسٹریٹ پر مقیم تھا۔ اس کی بیوی اور بچے اس وقت امریکہ میں رہ رہے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ مرلی تقریباً 11 ماہ قبل کاروبار میں نقصان اٹھانے کے بعد جے پور واپس آیا تھا۔ تب سے وہ سیکر روڈ پر شیخاوتی نگر میں رہ رہے ہیں۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ بیرون ملک جانے سے پہلے مرلی کے خلاف جے پور کے مہیلا نارتھ پولس اسٹیشن میں جہیز کے لیے ہراسانی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اسے اس کیس میں 6 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق رہائی کے بعد مرلی اور شیام کے درمیان آبائی جائیداد کی تقسیم کو لے کر دوبارہ تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔ پولیس منگل کے حملے تک کے حالات کی تحقیقات کر رہی ہے، جس میں مبینہ جائیداد کا تنازع اور چھرا گھونپنے سے فوراً پہلے کے واقعات شامل ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان