(جنرل (عام
مولانا ارشد مدنی کا ہندی ترجمہ ’قرآن شریف‘ قرآن فہمی کا بہترین ذریعہ
قرآن کریم کا اعجاز یہ ہے کہ رہتی دنیا تک اس کی تشریح، توضیح اور تفسیر لکھی جاتی رہے گی، اور پھر بھی قرآن کریم کا حق کما حقہ ادا نہیں ہوگا۔ قرآن کریم کی تفسیر کا سلسلہ صحابہ کرام سے شروع ہوا، اور اب تک جاری ہے اور دنیا کی تقریباً تمام زبان میں قران کریم کا ترجمہ ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ اور ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ قرآن کریم کی توضیح و تشریح کرے۔ لیکن یہ نعمت غیر مترقبہ ہر کسی کی قسمت کا حصہ نہیں بنتی۔ اللہ تعالی خاص بندے کو اس کے لئے منتخب کرتا ہے۔ یہ افتخار مولانا سید ارشد مدنی کو حاصل ہوا ہے۔
قرآن عربی زبان میں نازل ہوا ہے اور قرآن ہر زمان اور مکان کے لئے دستور حیات ہے چنانچہ جیسے جیسے اسلام کا آفاقی پیغام غیر عرب دنیا میں پھیلا تو اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس آفاقی پیغام کو ان کے مادری زبان میں بھی منتقل کیا جائے، لہذا پوری دنیا میں اسلام تعلیمات اور پیغام کے عام کرنے کے لئے ہر ملک کے صاحب علم و فضل اور علمائے کرام نے اپنی بساط کے مطابق قرآن کریم کا ترجمہ مقامی زبانوں میں کیا۔
ہندوستان میں بھی جب اسلام کی روشنی پھیلی اور لوگ حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے تو علماء نے قرآن کا ترجمہ فارسی میں کیا۔ لیکن جب فارسی کا چلن کم ہونے لگا، اور اردو کا فروغ ہونے لگا، تو شاہ ولی اللہؒ کے صاحبزادے اور دوسرے علماء کرام نے قرآن کا اردو ترجمہ کر کے اس کے پیغام کو ہندی مسلمانوں میں عام کیا۔ شیخ الہند اور مولانا تھانوی نے قرآن کااردو ترجمہ کر کے اس کو مزید آسان اور سہل الحصول بنایا۔آج جب کہ لوگ ارود سے بھی نابلد ہوتے جا رہے اور نئی نسل کا رجحان اردو کی طرف کم ہوتا جارہا ہے تو ضروت محسوس ہوئی کہ اس کا ترجمہ ہندی زبان میں بھی کیا جائے تاکہ اردو سے ناواقف لوگ بھی اسلام کے پیغام کو سمجھ سکیں۔ پچھلے کچھ عرصہ سے قرآن کی بعض آیات پر طرح طرح کے اعتراضات بھی ہمارے سامنے آتے رہے ہیں، ظاہر ہے کہ ایسا قرآن کے مفہوم کو اس کے سیاق وسباق میں نہیں سمجھنے کی وجہ سے ہورہا ہے، اور یہ چیز ان لوگوں کی طرف سے آئیں جو براہ راست قرآن سے استفادہ نہ کرسکتے تھے بلکہ دوسروں کے اعتراضات سے متاثر ہوکر ان کے اندر غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں۔ اس لئے ان کے لئے بھی قرآن کے ہندی ترجمہ کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔
چنانچہ اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین، جمعیۃ علمائے ہند کے صدر اور امیر الہند مولانا سید ارشد مدنی صاحب نے قرآن کریم کے پیغام کو عام مسلمان اور عام ہندوستانی تک پہنچانے کے لئے قرآن کریم کا ہندی میں ترجمہ تفسیر کے ساتھ کیا ہے۔ اگر اس ترجمہ کو ’ہندوستانی زبان‘ میں ترجمہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔
اس کی خوبی یہ ہے کہ پہلے قرآن کریم کی آیت لکھی گئی ہے، اس کے بعد اس کا ہندی میں آسان زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے، اور پھر اس کی تشریح و توضیح کی گئی ہے۔ اس سے نہ صرف ہندی داں حضرات کو قرآن کو سمجھنے میں آسانی ہوگی بلکہ اس کی تفسیر سے بھی آگاہی حاصل ہوگی۔ بہت سے غیر مسلم حضرات چاہتے ہیں کہ وہ ہندی میں قرآن پڑھیں اور اسے سمجھیں، لیکن اس کی تفسیر نہ ہونے کی وجہ سے قرآن کو سمجھنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں قرآن پاک کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں خام اور غیر مصدقہ مواد کی بھر مار ہے قرآن کے بارے میں بھی طرح طرح کی غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ اس ترجمہ اور توضیح و تشریح سے قرآن کو سمجھنے میں آسانی ہوگی، اور عام لوگوں کی رسائی بھی قرآن کریم تک ہو جائے گی۔
مولانا سید ارشد مدنی اپنے ترجمے اور تفسیر کے بارے میں لکھتے ہوئے کہتے ہیں۔ ”ہم نے پہلے ایڈیشن میں قرآن کے موضوعات کے سلسلے میں کوئی فہرست نہیں بنائی تھی، لوگوں کی خواہش تھی کہ دنیا کی دوسری کتابوں کی طرح قرآن کی تفسیر کی بھی ایک فہرست آنی چاہیے، تاکہ دیکھنے والا اپنی خواہش کے مطابق جس موضوع کو دیکھنا چاہے دیکھ سکے۔ قرآن کی تفسیر کی ایک فہرست ”معارف القرآن“ جو مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی کی تفسیر ہے، میں ہر سورت کے آغاز میں دی گئی ہے۔ مولانا عثمانی کی تفسیر میں کوئی فہرست نہیں تھی، لیکن یہ فہرست مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی کے بیٹے جناب محمد ولی رازی صاحب نے بنائی ہے، ہم کو وہ کام پسند آیا اس لیے ہم نے اسی فہرست کو قرآن کریم کے دونوں حصوں کے آغاز میں رکھا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کس سورت اور کس آیت میں کون کون سے مضامین بیان کیے گئے ہے پڑھنے والا اس کو سمجھ سکے اور مستفید ہوسکے۔ اس وقت تک ہندی زبان میں قرآن کی آیتوں کا ترجمہ بہت سے لوگ کر چکے ہیں اور وہ چھپ کر بازار میں بھی آ چکے ہیں، لیکن ہماری یہ کوشش قرآن کے ترجمہ سے آگے بڑھ کر اس کی مخصوص تفسیر پیش کرنا ہے، کیونکہ صحیح طریقے سے قرآن کا سمجھنا اس کی تفسیر کو پڑھے بنا نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ قرآن کی تفسیر سے متعلق کچھ اصول و ضوابط مختصر طور پر آپ کے سامنے رکھ دیں۔ تو اس جگہ سب سے پہلے غور کرنے کی چیز یہ ہے کہ یہ علم کی مکمل اور حیرت انگیز کتاب کس مقام پر، کس ماحول میں اور کس شخص پر نازل ہوئی؟ اور کیا وہاں کچھ ایسے علم کے ذرائع موجود تھے جن کی مدد سے ایسی مکمل کتاب تیار ہو سکے، جو اگلے پچھلے لوگوں کے علم کو جمع کرنے والی اور انسان کی ذاتی اور سماجی زندگی کے ہر جہت کے تعلق سے بہتر رہنمائی پیش کر سکے جس میں انسان کی جسمانی اور روحانی تربیت کا مکمل نظام موجود ہو اور عائلی قوانین سے لے کر ملکی نظام کا بہترین اصول بیان کیا گیا ہو۔“
اس کا ترجمہ نہایت آسان اور عام فہم زبان میں ہے۔ ہندی بہت سخت نہیں ہے کہ لوگوں کو سمجھنے میں دشواری پیش آئے۔ عام ہندوستانی زبان ہے اردو اور ہندی کی آمیزش ہے۔ اس زبان کا استعمال کیا گیا ہے جو عام ہندی داں خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم اس کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ ترجمہ اور تفسیر غیر مسلم برادر سے زیادہ مسلم نوجوانوں کو سامنے پر رکھ کر کی گئی ہے۔ کیوں کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اردو زبان سے ناآشنا ہے۔ اس لئے ان کی رسائی قرآن تک نہیں ہے کیوں کہ قرآن ایک صرف تلاوت کی کتاب نہیں ہے، بلکہ زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے، راہ ہدایت ہے، لائحہ عمل ہے، زندگی گزارنے کے قوانین ہیں، حکمرانی کے طریقے ہیں۔ مسلمان اس وقت دنیا میں اس لئے ذلیل خوار ہیں کیوں کہ انہوں نے قرآن کو صرف تلاوت یا اجر و ثواب کی کتاب سمجھ لیا ہے۔ اس ترجمے اور توضیح قرآن کو سمجھنے میں مدد ملے گی، اور قرآن سے استفادہ کر کے وہ اپنی زندگی کے لائحہ عمل کو ترتیب دے سکتے ہیں۔
علمائے کرام نے قرآن مجید کی تفاسیر کو چار ادوار پر تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہے۔ قرآنِ مجید عربی زبان میں اور لغتِ عرب کے اسلوب اور بیان کے مطابق نازل ہوا، اس لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زبان بھی عربی تھی، لیکن علم و فہم فراست کے لحاظ سب ایک جیسے نہ تھے، اس لئے جب بھی کسی لفظ یا کسی آیت کا مطلب سمجھنے میں پریشانی ہوتی تو وہ بارگاہ رسالت میں حاضری دے دیتے تھے، اور پوری بات سمجھ میں آجاتی تھی۔ یہیں سے قرآن کریم کی تفسیر کی ابتداء ہوتی ہے اور یہ پہلا دور ہے۔ دوسرا دور حضور اکرم صلی اللہ علیہ کے پردہ فرمانے کے بعد کا ہے۔ جب بڑے بڑے صحابہ کرام موجود تھے اور جنہوں نے قرآن و حدیث کے لئے اپنی زندگی وقف کردی تھی اور انہوں نے براہ راست حضور صلی اللہ علیہ سے کسب فیض کیا تھا۔ اس دور میں جب لوگوں کو قرآنی آیات کے معانی مفاہیم سمجھنے میں دشواری ہوئی تو انہوں نے صحابہ کرام سے براہ راست رابطہ کیا اور ان سے قران کے مطالب و مفاہیم سمجھے۔ صحابہ کرام کو پورے قرآن کی تفسیر کی حاجت نہیں تھی کیوں کہ وہ خود اہل زبان تھے۔ وہ قرانی اسلوب اور لغت سے واقف تھے اس لئے پورے قرآن کی تفسیر کو ان کو ضرورت نہیں تھی۔ تیسرے دور میں صحابہ کرام کے بعد تابعی اور تبع تابعین کا زمانہ آیا تھا۔اس دور میں اسلام اطراف کے ممالک میں اپنا دامن پھیلا چکا تھا۔ اس دور میں اگرچہ قرآن کا کریم کی تفسیر کا ایک ذخیرہ موجود تھا، لیکن پورے قرآن کی تفسیر نہ تھی۔ اسلام نے اپنے دامن عرب سے عجم کی طرف پھیلا چکا تھا، اب ضرورت تھی قرآن کریم کی مکمل تفسیر ہو تاکہ اسلام میں داخل ہونے والوں کوقرآنی علوم کو بہرہ ور کیا جاسکے۔ اسی دور میں مختلف فتنے اٹھے، لوگوں کی آراء میں اختلاف ہوا اور فتاوی کی کثرت ہوئی تو تابعین نے حدیث، فقہ اور قرآن مجید کے علوم کی تدوین کی طرف توجہ فرمائی تفسیر قرآن کے سلسلے میں انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے طریقے کی پیروی کی کہ سب سے پہلے قرآن مجید کی تفسیر قرآنی آیات سے بیان کی، پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علو الہ وسلم کی احادیث سے بیان کی اور مزید یہ طریقہ اختیار کیا کہ جہاں انہیں قرآن مجید کی آیات اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ الہ وسلم کی احادیث سے قرآنی آیات کی تفسیر نہ ملی وہاں قرآن مجید کی تفسیر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے آثار سے بیان کی اور جہاں انہیں تفسیر قرآن سے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے آثار نہیں ملے، وہاں انہوں نے اجتہاد و استنباط سے کام لیا، اور اسی دور میں کتب تفسیر کا ایک ذخیرہ وجود میں آیا۔
چوتھا اہم دور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور ان کے صاحبزادے کا آتا ہے۔ یہاں عربی خاص کی زبان تھی اور عام لوگ عربی سے ناواقف تھے۔ بڑا عجمی خطہ جو جہاں بیشتر لوگ اسلام کا دامن تھام چکے تھے، جس میں برصغیر کے ہمسایہ ملک ترکستان، افغانستان اور ایران وغیرہ ممالک شامل ہیں۔ یہاں کی زبان عربی نہیں تھی۔ اس وقت شاہ ولی اللہ رحم اللہ نے قرآن کی تفسیر کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے فارسی میں ’المقدّمہ فی قوانین الترجمۃ‘ لکھا۔ یہ رسالہ اصول ترجمہ پر تحریر کیا گیا ہے جو مختصر ہونے کے باوجود بڑا بصیرت افروز اور عالمانہ ہے۔ اسے ہم دوسرے لفظوں میں اصول تفسیر، پر ایک جامع رسالہ قرار دے سکتے ہیں۔ کیونکہ ترجمہ کئی لحاظ سے تفسیر ہی کی ایک قسم ہے۔ شاہ صاحب خود اس رسالہ کی ابتداء میں لکھتے ہیں: ”اللہ کرم والے کی رحمت کا فقیر ولی اللہ بن عبدالرحیم کہتا ہے کہ یہ رسالہ جس کا نام ترجمہ کے قوانین رکھا ہے، قواعدِ ترجمہ پر مشتمل ہے، کیونکہ درحقیقت قرآن کا ترجمہ اس وقت ضبطِ تحریر میں جاری ہے۔“ فتح الرحمن بترجمۃ القرآن (فارسی) محققین کے مطابق برصغیر کا پہلا فارسی ترجمہ باب الاسلام سندھ میں ہوا، اور مخدوم لطف اللہ بن مخدوم نعمت اللہ المعروف مخدوم نوح اللہ (م 998ھ/ 1589ء) ساکن ہالہ (حیدر آباد) نے یہ شرف حاصل کیا۔ (وکی پیڈیا) جو مقبولیت شاہ عبدالعزیز کے فارسی اور شاہ عبدالقادر کے اردو ترجمے کو حاصل ہوئی، وہ کسی کے حصے میں نہیں آئی۔
شاہ لی اللہ کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز نے فارسی میں اور شاہ عبدالقادر رحم اللہ نے اردو میں ترجمہ کیا۔ اس وقت ہندوستان میں انگریزوں کا قبضہ شروع ہوچکا تھا، اور مغل بادشاہ محدود سے محدود تر ہوتے جارہے تھے۔ فارسی کے ساتھ اردو زبان میں رائج ہورہی تھی بلکہ عام لوگوں کی زبان اردو تھی۔ اس لئے قرآن کریم کی افہام تفہیم کے لئے اردو میں ترجمہ ضروری تھی۔ مولانا اسحاق بھٹیؒ لکھتے ہیں: ”اس (ترجمہ) کی اولیت کا سہرا شاہ ولی اللہ کے سر ہی بندھے گا۔ وہ پہلے عالم ہیں، جن کے ترجمے نے بے پناہ قبولیت حاصل کی اور لوگوں کی وسیع تعداد نے اس سے استفادہ کیا۔ اب بھی حوالے کے لیے اس ترجمہ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شاہ صاحب ان تمام اوصاف سے متصف اور ان تمام خصوصیات سے (بدرجہ اتم) مالا مال تھے جن سے قرآن کے مترجم کو ہونا چاہیے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آج تک کسی مترجم میں وہ اوصاف جمع نہیں ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے شاہ صاحب میں جمع فرما دیے تھے۔“
اس دور کے حالات کو دیکھا جائے تو شاہ صاحب کا کارنامہ محض یہ نہیں کہ قرآن کریم کا ترجمہ کیا بلکہ اصل کارنامہ تو یہ تھا کہ قرآن فہمی کے حوالہ سے عرصے سے چلے آتے جمود کو توڑا اور لوگوں کی غلط فہمی کو دور کر کے انھیں براہ راست قرآن سے جوڑا۔ اگر آپ اس فکر کا رد نہ کرتے کہ قرآن کو کوئی بہت بڑا عالم ہی سمجھ سکتا ہے، تو شاید آپ کے ترجمہ قرآن کو اتنی قبولیت حاصل نہ ہو پاتی۔ دوسرے یہ کہ شرعی و لغوی علوم سے گہری واقفیت کی بناء پر آپ کے ترجمہ قرآن کی ایک اہم خصوصیت علمی پختگی اور رسوخ تھا۔
مولانا سید ارشد مدنی کا قرآن کے سلسلے میں یہ کارنامہ قرآن فہمی تحریک کو مہمیز دے گا، اور قران کو عربی زبان کے نہ جاننے والے بھی سمجھ کر اپنی زندگی میں اتاریں گے۔ بلاشبہ مولانا مدنی کا یہ کارنامہ ملک کے ایک بڑے طبقے کو قرآن فہمی کی طرف راغب کرے گا اور اس سے نہ صرف قرآن فہمی میں مدد ملے گی، بلکہ قرآن کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمی اور مفروضہ کو بھی دور کرنے میں مدد ملے گی۔
(جنرل (عام
پی ایم مودی نے دبئی کے حکمران کے بھائی کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا، شاہی خاندان سے تعزیت کی۔

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو دبئی کے حکمران کے بھائی شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور سماج کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔ اپنے پیغام میں پی ایم مودی نے شاہی خاندان اور دبئی کے لوگوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا، “عزت مآب شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ معاشرے کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کو آنے والی نسلیں اہمیت دیں گی۔ میں شاہی خاندان اور عوام کے تئیں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں”۔ اس سے پہلے، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی عدالت نے اعلان کیا کہ پیر کی صبح شیخ احمد بن راشد المکتوم کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 76 سال تھی۔ دبئی میں 10 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔” عدالت عالیہ شیخ محمد بن راشد المکتوم، نائب صدر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران نے آج پیر کی صبح مرحوم شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر سوگ منایا ہے۔ آدھے مستول پر، آج پیر، مؤثر،” حکومت دبئی کے میڈیا آفس نے ایکس پر پوسٹ کیا شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بھی اپنے بھائی کو ذاتی خراج تحسین پیش کیا۔
شیخ احمد بن راشد المکتوم دبئی کے آنجہانی حکمران شیخ راشد بن سعید المکتوم کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ انہوں نے دبئی پولیس اور پبلک سیکیورٹی کے نائب چیئرمین، اے. آر. ایم کے گروپ چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ہولڈنگ، اور ال وصل اسپورٹس کلب کے صدر۔ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد، شیخ احمد نے دبئی میں سنٹرل ملٹری بیس میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں الوصل اسپورٹس کلب کی ویب سائٹ کے مطابق، بیس کے کمانڈر ان چیف بن گئے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں شیخ احمد بن راشد المکتوم نے متحدہ عرب امارات میں گھڑ دوڑ کو فروغ دینے کے لیے جبل علی ریس کورس قائم کیا۔ شیخ احمد بن راشد المکتوم 60 سال سے الوصل اسپورٹس کلب کے صدر ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : فلسطینی بچوں سے اظہار ہمدردی پر پولیس کارروائی کے خلاف شکایت

ممبئی : ممبئی کے باندرہ میں ۱۵ ستمبر کو فلسطین اور غزہ کے بچوں کی حمایت واظہار یکجہتی میں پتنگ بازی کے معاملہ میں پولیس ہراسائی اور بلا کسی سمن اور نوٹس کے طلبا و سماجی کارکن کے گھر کی تلاشی لینے کے خلاف ۲۶ سالہ سماجی کارکن اور طالبہ ہرشدا بور اڈے نے پولیس کمشنر سے شکایت کی ہے اور خاطی افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے, اس شکایت کے ساتھ انہوں نے متعلق ثبوت بھی پیش کئے ہیں. شام پانچ بجے پولیس واکولہ میں واقع طالبہ کے گھر پر داخل ہوتی ہے اور ۲بجکر ۴۵ منٹ تک تلاشی مہم انجام دیتی ہے. ہرشدا نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ گھر کی تلاشی کا پولیس کے پاس کوئی بھی حکمنامہ نہیں تھا اور پولیس نے پرائیوٹ پنچنامہ کیا ہے جو سراسر غیر قانونی ہے. شکایتی مکتوب میں ہرشا نے بتایا کہ وہ ایک طالبہ ہے اور ممبئی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کے لئے باندرہ میں پتنگ بازی کی تھی جس کے بعد ۱۷ستمبر کو پولیس نے ان کے گھر پہنچ کر تلاشی لی اور انہیں اور ان کے دوستوں و دیگر طلبا کو ہراساں کیا ہے, پولیس کو تلاشی سے قبل قانونی نوٹس دینا چاہئے تھا جو ہر شہری کا حق ہے, لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا جس طرح سے پولیس نے پتنگ بازی پر یہ کارروائی کی ہے یہ دستور کی دفعہ آرٹیکل ۱۹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ آزادی اظہار رائے کا ہر شہری کو حق حاصل ہے ہرشدا نے مطالبہ کیا ہے کہ باندرہ اور واکولہ پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو اور اس معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے۔ اس پورے معاملے کی انکوائری اعلی افسران کی نگرانی میں سائبر سیل کے معرفت کروائی جائے اور جو بھی پولیس اہلکار خاطی ہے ان پر کارروائی ہو۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی کیسل روڈ پر دل دہلا دینے والے حادثے میں تین افراد ہلاک، ایک زخمی

ممبئی؛ ممبئی کی کوسٹل روڈ پر ایک بی ایم ڈبلیو کار فلمی انداز میں پل سے نیچے گر گئی۔ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والا حادثہ تھا۔ پولیس نے لاپرواہی اور تیز رفتار ڈرائیونگ سمیت الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس میں تین افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 05:03 بجے کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیوکار (رجسٹریشن نمبر ڈی ڈی 01 سی 6302) میرین ڈرائیو سے حاجی علی کے قریب پہنچی۔ جا رہی ہے کوسٹل روڈ کی شمالی طرف کی لین پر سفر کرتے ہوئے، خاص طور پر لال لاجپت رائے کالج اور لوٹس برج کے قریب، یہ گاڑی کوسٹل روڈ پل کے پاس سے گزری۔ یہ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کار پارکنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حادثے میں چار افراد شامل تھے۔ نائر ہسپتال، ممبئی کے طبی اہلکار۔ نے ان میں سے تین کو مردہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس وقت ممبئی کے نیر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی شخص کا نام: 1) آدتیہ کلپیشور اوسوال، عمر 23 سال، جب کہ مرنے والے کی عمر تین سال ہے۔ جو اموات ہوئی ہیں ان میں 1) دھریہ درشن سیٹھ، عمر 17 سال 2) آدتیہ جکاسانیہ، عمر 19 سال 3) شاہنے گجر، عمر 21 سال، تاردیو تھانہ پولیس کے افسران اور ٹیم موقع پر موجود ہے، اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ ڈی سی پی جینیٹ مینا نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
