Connect with us
Saturday,25-July-2026

(جنرل (عام

مولانا ارشد مدنی مسلسل ساتویں مرتبہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر منتخب

Published

on

maulana-arshad-madni

ملک کے موجودہ حالات، قانون و انتظام کی بد تر صورتحال اور مسلمانوں کی تعلیمی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے جمعیۃ کے تعلیمی وظائف کی رقم پچاس لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی۔ یہ اعلان انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کے مجلس عاملہ کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

جمعیۃ کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق مرکزی مجلس عاملہ نے ریاستی جمعیتوں کی مجلس عاملہ کی سفارشات کی بنیاد پر آئندہ میعاد کی صدارت کے لئے مولانا ارشد مدنی کے نام کا اعلان کر دیا۔
مجلس عاملہ سے خطاب میں مولانا ارشد مدنی نے ملک کے موجودہ حالات میں قانون و انتظام کی بد تر صورتحال اور مسلمانوں کی تعلیمی تناسب پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس کے لئے وظائف کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہماری اس ادنیٰ سی کوشش سے بہت سے ایسے ذہین اور محنتی بچوں کا مستقبل کسی حد تک سنور سکتا ہے، جنہیں اپنی مالی پریشانیوں کی وجہ سے اپنے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں جس طرح کی مذہبی اور نظریاتی محاذ آرائی اب شروع ہوئی ہے اس کا مقابلہ کسی ہتھیار یاٹکنالوجی سے نہیں کیا جاسکتا اس سے مقابلہ کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے مزین کر کے اس لائق بنا دیں کہ وہ اپنے علم اور شعور کے ہتھیار سے اس نظریاتی جنگ میں مخالفین کو شکست سے دو چار کر کے کامیابی اور کامرانی کی وہ منزلیں سر کرلیں جن تک ہماری رسائی سیاسی طور پر محدود اور مشکل سے مشکل تر بنا دی گئی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ آزادی کے بعد آنے والی تمام سرکاروں نے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم کے میدان سے باہر کر دیا، سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مسلمان تعلیم میں دلتوں سے بھی پیچھے ہیں، مولانا مدنی نے سوال کیا کہ یہ افسوسناک صورتحال کیوں پیدا ہوئی، اور اس کے کیا اسباب ہوسکتے ہیں؟ اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے خود جان بوجھ کر تعلیم سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی، کیونکہ اگر انہیں تعلیم سے رغبت نہ ہوتی تووہ مدارس کیوں قائم کرتے۔ افسوسناک سچائی یہ ہے کہ آزادی کے بعد اقتدار میں آنے والی تمام سرکاروں نے مسلمانوں کو تعلیمی پسماندگی کا شکار بنائے رکھا انہوں نے شاید یہ بات محسوس کرلی تھی کہ اگر مسلمان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھے تو اپنی صلاحیتوں اور لیاقت سے وہ تمام اہم اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جائیں گے، چنانچہ تمام طرح کے حیلوں اور روکاوٹوں کے ذریعہ مسلمانوں کو تعلیم کے قومی دھارے سے الگ تھلگ کر دینے کی کوششیں ہوتی رہیں، جس کے نتیجہ میں مسلمان تعلیم میں دلتوں سے بھی پیچھے ہوگئے۔

مولانا مدنی نے کہاکہ ہم ایک بارپھراپنی یہ بات دہرانا چاہیں گے کہ مسلمان پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں، اور کارزارحیات میں کامیابی کیلئے ہماری نوجوان نسل تعلیم کواپنا اصل ہتھیاربنالے۔ ہمیں ایسے اسکولوں اورکالجوں کی اشدضرورت ہے جن میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے اعلیٰ دنیا وی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیاز کے بغیر حاصل کرسکیں۔ انہوں نے قوم کے بااثرافرادسے یہ اپیل بھی کی کہ جن کو اللہ نے دولت دی ہے وہ ایسے اسکول قائم کریں، جہاں بچے اپنی مذہبی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے آسانی سے اچھی تعلیم حاصل کرسکیں، ہر شہر میں چند مسلمان مل کر کالج قائم کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ بد قسمتی یہ ہے کہ جو ہمارے لئے اس وقت انتہائی اہم ہے، اس جانب ہندوستانی مسلمان توجہ نہیں دے رہے ہیں، آج مسلمانوں کو دوسری چیزوں پر خرچ کرنے میں تو دلچسپی ہے، لیکن تعلیم کی طرف ان کی توجہ نہیں ہے، یہ ہمیں اچھی طرح سمجھنا ہوگا کہ ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ صرف اور صرف تعلیم سے ہی کیا جاسکتا ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا دائرہ کار بہت وسیع ہے اور وہ ہر محاذ پر کامیابی سے کام کر رہی ہے، چنانچہ ایک طرف جہاں یہ مکاتیب ومدارس قائم کر رہی ہے وہیں اب اس نے ایسی تعلیم پر بھی زور دینا شروع کر دیا ہے جو روزگار فراہم کرتا ہے، روزگار فراہم کرنے والی تعلیم سے مراد تکنیکی اور مسابقتی تعلیم ہے تاکہ جو بچے اس طرح کی تعلیم حاصل کر کے باہر نکلیں انہیں فورا روزگار اور ملازمت مل سکے، اور وہ خود کو احساس کمتری سے بھی محفوظ رکھ سکیں۔ تعلیم کے تعلق سے جمعیۃ علماء ہند آزادی کے بعد سے ہی انتہائی حساس رہی ہے چنانچہ اس کے اکابرین نے 1954 میں ایک دینی تعلیمی بورڈ قائم کیا تھا جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں میں تعلیمی بیداری لانا اور ملک کے طول وعرض میں مکاتب و مدارس قائم کرنا تھا چنانچہ یہ جو ہم پورے ملک میں مکاتب و مدارس کا بچھا ہوا جال دیکھ رہے ہیں یہ انہیں کوششوں کا نتیجہ ہے لیکن اب اس سلسلے میں ہمیں نئے سرے سے مہم شروع کرنی ہوگی، اسی لئے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعیۃ علماء ہند اپنے پلیٹ فارم سے مسلمانوں میں تعلیم کو عام کرنے کی غرض سے ملک گیر سطح پر ایک مؤثر مہم شروع کرے گی اور جہاں کہیں بھی ضرورت محسوس ہوئی تعلیمی ادارے بھی قائم کرے گی اورقوم کے تمام ذمہ اداران کو اس طرف راغب کرانے کی ہر ممکن کوشش بھی اس لئے کہ آج کے حالات میں ہمیں اچھے مدرسوں کی بھی ضرورت ہے اور اچھے اعلیٰ دنیاوی تعلیمی اداروں کی بھی جن میں قوم کے ان غریب مگر ذہین بچوں کو بھی تعلیم کے یکساں مواقع فراہم ہوسکیں۔ جن کے والدین تعلیم کا خرچ اٹھا پانے سے قاصرہیں انہوں نے آگے کہاکہ قوموں کی زندگی میں گھر بیٹھے انقلاب نہیں آتے، بلکہ اس کے لئے عملی طورپر کوشش کی جاتی ہے اور قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔

اخیر میں مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات اقلیتوں خاص طور پر مسلم اقلیت اور دلتوں کے لئے انتہائی خطرناک ہوچکے ہیں، ایک طرف جہاں آئین اور قانون کی بالادستی کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے وہیں عدل وانصاف کی روشن روایت کو ختم کر دینے کی خطرناک روش اختیار کی جا رہی ہے۔

ہندوستان صدیوں سے اپنی مذہبی غیر جانب داری اور روا داری کے لئے مشہور ہے، سیکولرزم اور رواداری نہ صرف ہندوستان کی شناخت ہے بلکہ یہی اس کے آئین کی روح بھی ہے۔ کثیر المذاہب ملک میں کسی ایک خاص مذہب اور خاص سوچ کی حکمرانی نہیں چل سکتی۔ آج ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ملک کسی خاص نظریے کی بنیاد پر چلے گا یا قومیت کی بنیادپر یا سیکولرزم کے اصولوں پر؟ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ ملک سب کا ہے، ہندوستان ہمیشہ سے گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ہاہے، اسی راہ پر چل کر ہی ملک کی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے اخیر میں تمام مسلمانوں سے خاص طور پر یہ اپیل کی کہ وہ جہاں بھی ہوں محبت، امن واتحاد کے پیغامبر بن جائیں،نفرت سے نفرت کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتایادرکھیں نفرت کو صرف محبت سے ہی شکست دی جاسکتی ہے، ورکنگ کمیٹی نے ریاستی، ضلعی اور مقامی یونٹوں کو متوجہ کیا کہ وہ جمعیۃ علماء ہند کے تعمیری پروگرام خصوصا اصلاح معاشرہ کے پروگرام کو بطور تحریک چلائیں جس سے معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کا سد باب ہوسکے۔

جمعیۃ علماء ہند کی توجہ روز اول ہی سے رہی ہے، مکاتب ومدارس کا قیام کے ساتھ ساتھ عصری و ٹیکنیکل تعلیم حاصل کرنے والے غریب اور ضرورت مند طلبہ کے لئے تعلیمی وظائف دینے کا مسلسل کام جاری ہے، اور اس کے بہتر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اس تسلسل کو باقی رکھتے ہوئے اس سال پچاس لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپئے کی رقم تعلیمی وظائف کے لئے مختص کی گئی تھی، جس کے لئے پورے ملک سے تقریبا 600 طلبہ منتخب کئے گئے ہیں، جن میں سے اب تک تقریبا 500 طلبہ کو وظیفہ جاری کر دیا گیا ہے، تا ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ ہر دو سال میں جمعیۃ کی ممبر سازی ہوتی ہے، پچھلے ٹرم میں جمعیۃ کے ممبران کی تعداد تقریبا ایک کڑوڑ پندرہ لاکھ تھی جبکہ اس سال اس تعداد میں اضافے کے قوی امکانات ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ نے آج سے 31/ جولائی تک اس ٹرم کی ممبر سازی کا اعلان کیا ہے۔ شرکاء اجلاس میں صدر محترم مدظلہٗ کے علاوہ مفتی سید معصوم ثاقب ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند، مولانا حبیب الرحمن قاسمی، مولانا سید اسجد مدنی، مولانا اشہد رشیدی، مولانا مشتاق عنفر، مفتی غیاث الدین، مولانا عبداللہ ناصر، حاجی حسن احمد قادری، حاجی سلامت اللہ، وغیرہ اور مدعوئیین خصوصی بھی شریک ہوئے۔

(جنرل (عام

فرانس اور سپین کے جنگلات میں لگی آگ نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا۔

Published

on

Forest fires

پیرس : فرانس اور اسپین کے جنگلات میں لگی آگ نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ جنوب مغربی فرانس میں حالات خراب ہونے پر حکام نے ہفتے کے روز بورڈو شہر کے آس پاس کے علاقوں سے ہزاروں افراد کو نکال لیا۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے “قومی جنگل کی آگ ایمرجنسی” کا اعلان کیا۔ فرانس کے لا نوویل-اکیٹائن اور گیرونڈے علاقوں کی مقامی انتظامیہ کی سربراہ سوفی بروکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ لی ہیلان، ایگین اور میرگناک کے علاقوں کو خالی کیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو نے کہا کہ اب تک 141,000 سے زائد افراد کو بورڈو کے قریب گروندے اور لوئر کے علاقوں سے نکالا جا چکا ہے جہاں اس ہفتے کے شروع میں جنگل میں آگ لگی تھی۔ وزیر اعظم لیکورنو نے ٹوئٹر پر لکھا، “آگ اب تک کی سنگین ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ آگ پر قابو پانے کے لیے فرانسیسی فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ فرانسیسی حکومت نے جنوب مغربی علاقے میں پھیلنے والی آگ سے نمٹنے کے لیے اضافی فوجی دستے تعینات کیے ہیں۔ مزید برآں، 15 لاکھ ماسک گیرونڈے علاقے کے رہائشیوں اور امدادی کارکنوں کے لیے بھیجے گئے ہیں تاکہ انہیں دھوئیں سے بچایا جا سکے۔” گیرونڈے انتظامیہ نے شہر کے ہوائی اڈے کے علاقے سمیت بورڈو کے مغربی مضافاتی علاقوں کے کچھ حصوں کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ شہر کے مغرب میں کئی دوسرے قصبوں اور دیہاتوں کو بھی خالی کرایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم لیکورنو کے مطابق فائر فائٹرز کی مدد کے لیے 500 سے زائد فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور ضرورت کے مطابق مزید بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماسک زمینی کارکنوں اور دھوئیں سے متاثر ہونے والوں کی حفاظت کے لیے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ ادھر سپین میں میڈرڈ کے ارد گرد جنگلات میں لگی آگ کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال بدستور “پیچیدہ” ہے۔ ایل پیس میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق، انہوں نے مزید کہا کہ درجہ حرارت میں کمی کے باوجود ہوا کے پیٹرن صورتحال کو متاثر کر سکتے ہیں۔ سانچیز نے ایک بار پھر موسمیاتی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ صورت حال کی روشنی میں، انہوں نے قومی وائلڈ فائر ایمرجنسی کا اعلان کیا۔

سانچیز نے کہا کہ لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جنگل کی آگ زیادہ شدید اور تباہ کن ہوتی جا رہی ہے، بہت سے معاملات میں سائنسی اندازوں سے بھی زیادہ۔ ان کے مطابق، “جنوری سے، اسپین میں لگ بھگ 130,000 ہیکٹر (تقریباً 321,000 ایکڑ) رقبہ آگ کی لپیٹ میں آچکا ہے، جو گزشتہ دہائی کے دوران سالانہ اوسط 100,000 ہیکٹر سے زیادہ ہے۔” گزشتہ سال سانچیز نے موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے 10 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایک قومی شہری تحفظ ایجنسی کی تشکیل، ملک بھر میں موسمیاتی پناہ گاہوں کے نیٹ ورک کی تشکیل، اور جنگلات کے انتظام اور زمین کے استعمال کی پالیسیوں میں تبدیلی جیسی تجاویز شامل تھیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شیواجی پارک ترنگا مارچ : اعلی افسران کی پولیس کمشنر کے ہمراہ اہم میٹنگ، پولیس کا حفاظتی انتظامات سخت، ضروری ہدایات جاری

Published

on

police-chased-people

ممبئی : ممبئی کے شیواجی پارک میں ترنگا ریلی کو لے کر پولیس بھی مستعد ہے دلی جنتر منتر میں طلباء کے احتجاج سے اظہار ہمدردی کے لئے ٹھاکرے برادر نے ترنگا مارچ کا انعقاد کیا ہے۔ جس میں لاکھوں مظاہرین کے شریک ہونے کی توقع ہے۔ ایسے میں پولیس نے علاقہ میں سخت حفاظتی انتظامات کرنے کا بھی دعوی کیا ہے۔ ترنگا مارچ کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقععہ پیش نہ آئے اس لئے پولیس محتاط ہے اور حالات پر نظر رکھی جارہی ہے۔ ترنگا مارچ کیلئے روٹ پر نگرانی کے ساتھ آج ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں ایڈیشنل پولیس کمشنر سمیت اعلی افسران کی میٹنگ بھی منعقد کی گئی تھی۔ جس میں نظم و نسق اور احتجاجی مظاہرہ سے متعلق حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ ممبئی شہر میں شیواجی پارک میں احتجاجات کا سلسلہ دراز ہے۔

ممبئی شہر و مضافات میں ترنگا مارچ کے دوران کہاں کہاں سے مظاہرین شیواجی پارک میں جمع ہوسکتے ہیں, اسکی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست بھر میں احتجاجات شروع ہے۔ نیٹ امتحانی پرچہ لیک کے معاملہ میں طلباء نے وزیر تعلیم دھریندر پردھان کا استعفی طلب کیا ہے اور طلباء اپنے موقف پر قائم ہے۔ ممبئی شہر و مضافاتی علاقوں میں ترنگا مارچ کے سبب پولیس بھی الرٹ ہے۔ شیواجی پارک میں احتجاجی مظاہرہ کے دوران ٹریفک روٹ پر بھی پولیس کی تعیناتی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ضروری احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں۔ ممبئی اور ریاست میں طلباء کے احتجاجات کے سبب پولیس نے ضروری اقدامات کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کے اعلی افسران کو اس متعلق ضروری ہدایت بھی جاری کی گئی ہیں۔ ممبئی کے مضافاتی علاقے کرلا, چمبور, بائیکلہ, اندھیری, ملاڈ مالونی, جوگیشوری سمیت دیگر علاقوں سے بھی احتجاج میں طلباء کے شریک ہونے کا اندازہ ہے۔ ترنگا مارچ کے دوران گڑ بڑی کی کوشش یا بدامنی قابل برداشت ہے اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کو جواب دیا جائے گا۔ یہ انتباہ ایم این ایس سر براہ راج ٹھاکرے نے دیا ہے اور کہا ہے کہ دلی کے طرز پر اگر ممبئی میں حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو اسی قطعی برداشت نہیں کیا جائے۔ ممبئی میں احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے ایسے میں پولیس بھی مستعد ہے۔

Continue Reading

بالی ووڈ

راکھی ساونت کی سوشل میڈیا پوسٹ پر بحث چھڑ گئی

Published

on

Rakhi-Sawant

ممبئی : اداکارہ اور ٹیلی ویژن شخصیت راکھی ساونت کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد ملک بھر میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ پوسٹ حالیہ طلبہ احتجاج سے جوڑ کر دیکھی جا رہی ہے۔ پوسٹ میں سرخ رنگ کے سینیٹری پیڈ کی علامتی تصویر شیئر کی گئی تھی، جسے متعدد صارفین نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر دیکھا۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور اس پر مختلف آراء سامنے آئیں۔

کچھ افراد نے اسے اظہارِ رائے کی آزادی اور طلبہ کے ساتھ ہمدردی کی علامت قرار دیا، جبکہ بعض نے اس علامتی انداز پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر مناسب اور متنازع قرار دیا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی شخصیات کے سماجی اور عوامی معاملات پر اظہارِ خیال، آزادیِ اظہار اور عوامی ذمہ داری کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

تاحال راکھی ساونت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے حوالے سے کسی بھی سرکاری قانونی کارروائی کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ معاملہ اب بھی سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں زیرِ بحث ہے اور مختلف طبقات اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان