Connect with us
Monday,03-August-2026

(جنرل (عام

بھارت کاروبار بند کے دوران بازاروں میں کام کاج نہیں ہوا

Published

on

Shutdown

گڈس اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) اور ای کامرس پالیسی کے کچھ التزامات کے خلاف آل انڈیا مرچنٹ کنفیڈریشن کے ’بھارت ویاپار بند‘ میں تقریباً چالیس ہزار سے زیادہ تجارتی تنظیموں کے آٹھ کروڑ سے زیادہ تاجر شامل ہوئے، جس کی وجہ سے بازاروں میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا۔

کنفیڈریشن نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ پورے ملک کے بازاروں میں ویرانی چھائی رہی اور مشرق سے مغرب اور شمال سے لیکر جنوبی ہندستان تک تمام ریاستوں کے تاجروں نے اپنے کاروبار بند رکھ کر مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں اور جی ایس ٹی کونسل کو سخت پیغام دیا۔ پورے ملک میں تاجر سے تاجر اور تاجر سے صارف تک مکمل کاروبار بند رہا۔ دہلی کی تجارتی تنظیموں نے حالانکہ تجارت بند میں حصہ نہیں لیا۔

بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ پورے ملک میں تقریباً آٹھ کروڑ تاجروں، ایک کروڑ ٹرانسپورٹروں، تین کروڑ ہاکروں اور تقریباً 75 لاکھ چھوٹی صنعتوں نے اپنا کاروبار بند رکھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونہ : نظم گانے والے نوجوانوں کو کلین چٹ, ویڈیو میں اشتعال انگیزی یا کنبہ سے کوئی ہراسائی یا دھمکی کا رویہ اختیار نہیں کیا گیا, ویڈیو جانچ میں پولیس کا انکشاف

Published

on

Police

ممبئی : پونہ جنیر گھاٹی میں مسلم کنبہ کی سیاحت کے دوران ہراسائی کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے تفتیش کے بعد نظم پڑھنے والے نوجوانوں کو کلین چٹ دیدی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو اب بھی گردش کر رہا ہے, جس پر تبصرہ بھی جاری ہے اور تبصرے میں اس ویڈیو کو ہندو مسلم رنگ دے کر ماحول خراب کرنے کی کوشش بھی شروع ہے, لیکن پولیس نے جب اس کا بغور معائنہ کیا تو پایا کہ ویڈیو میں جو نوجوان نظم پڑھ رہے ہیں, ان کا مقصد یا ارادہ مسلم کنبہ کو ہراساں یا پریشان کرنا نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے ان کے ساتھ کوئی اشتعال انگیزی کی ہے۔ ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ کچھ نوجوان گھاٹ پر نظم گونج اٹھی ہے ہلدی گھاٹی گھوڑوں کے ان ٹاپوں سے ویروں کی یہ سینا لیکر رانا لڑتا مغلوں سے یہ نظم معروف شاعر شیام نارائن پانڈے کی مشہور الوطبی گیت پر مبنی ہے, جو مہارانا پرتاپ اور ان کے چیتک گھوڑے کی بہادری پر مبنی ہے اسی طرح چھترپتی شیواجی مہاراج اور چھترپتی سنبھاجی مہاراج کی داستان بھی نظم میں بیان کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی افضل خان, شائستہ خان اور اورنگ زیب کی شکست کو بھی بیان کیا گیا ہے روایتی لوک گیت کے طور پر کئی برسوں سے عوامی طور پر یہ مقبول ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہا ہے جس میں سیاحوں کے ایک گروپ کو بتایا گیا ہے جو مانسون میں سیاحت کی غرض سے جنیر تعلقہ کے علاقہ میں موجبودج ہے مذکورہ بالا گیت گانے میں مشغول ہے نانا گھاٹی علاقہ میں یہ ویڈیو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ویڈیو کے نیچے کچھ تبصروں میں الزام لگایا ہے کہ مسلم خاندان کو دیکھ کر ہراسائی کرنے کی نوجوانوں کی یہ کوشش ہے۔ ویڈیو کا بغور معائنہ کے بعد جانچ میں پولیس نے بتایا کہ مسلم خاندان کے ساتھ ہراسائی یا دھمکی دینے بدتمیزی کا کوئی عمل نظر نہیں آتا یہ گروپ صرف گیت گانے میں مشغول ہے اس میں کوئی قابل اعتراض عمل نہیں ہے اور نہ ہی اشتعال انگیزی پائی گئی ہے۔ سیاحتی مقام پر پولیس نے اس واقعہ اور ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سخت حفاظتی انتظامات کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کی سیکورٹی میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ امن وامان برقرار رہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایس آر اے اسکیم کے تحت فلیٹ دلانے کے نام پر کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی, سرکاری دستاویزات سمیت دیگر فرضی لیٹر تیار کرنے کا بھی الزام

Published

on

fraud

ممبئی : ممبئی پولیس نے رکن پارلیمان کانگریس کی سنیئرلیڈر ورشا گائیکواڑ اور یو بی ٹی شیوسینا کے رکن اسمبلی سنجے پوتنیس ذاتی اسسٹنٹ پی اے سمیت چار افراد پردھوکہ دہی سمیت دیگر دفعات کے تحت کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ممبئی کے نرمل نگر پولیس اسٹیشن میں ایس آر اے کے نام پر گھر دلانے کے نام پر کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کے بعد یہ معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ملزمین میں ورشا گائیکواڑ کا پی اے وشوناتھ جادھو, روپیش بالیکر, ابھیشیک گجر, شلیش کوکنے شامل ہیں۔ ان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 318(4),336(2),336(3),338,340(2 ) ,3(5) کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ شکایت کنندہ آکاش رادھے شیام شونی 42 سالہ واکولہ کے ساکن نے یہ شکایت درج کی ہے۔ 2017 ء سے ایس آر اے بازآبادکاری پروجیکٹ میں گھر دلانے نام پر 50 سے زائد افراد کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب 2023 ء میں شکایت کنندہ نے ایس آر اے دفتر میں جاکر بازآبادکاری پروجیکٹ سے متعلق تفصیلات بتائی اور الاٹمنٹ لیٹر, تابع لیٹر اور گھر کی چابی تک وہاں ظاہر کی جس کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ انہیں اعتماد میں لے کر ان کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی ہے۔ اس معاملہ میں بعد ازاں کیس درج کر لیا گیا ہے۔ اندھیری, سانتا کروز واکولہ, باندرہ۔ ماٹونگا میں بازآبادکاری پروجیکٹ میں مکان دلانے کے نام پر ملزمین نے دھوکہ دہی کی تھی اور بتایا تھا کہ ان کے ایس آر اے میں افسران سے بہتر تعلقات ہے متعدد علاقوں کی 20 لاکھ سے 28 لاکھ تک مکان کی قیمت طے کی گئی تھی اور شیلش کوکنے 5لاکھ روپے ٹوکن پیشگی رقم بھی وصول کیا کرتا تھا اب تک ان ملزمین نے تقریبا 5 کروڑ 57 لاکھ روپے وصول کئے ہیں۔ اس معاملہ میں ایف آئی آر تو درج کر لی گئی ہے, لیکن اب تک کسی کی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ڈی آر سی میں ایبولا کا پھیلاؤ قابو سے باہر : تاریخ کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا وبا، ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

Published

on

Ebola

کنشاسا : ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کی وبا اب تک کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی وبا بن گئی ہے۔ انفیکشن کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نے ملک کے مشرقی حصے میں لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اب تک 3,442 افراد کے ایبولا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 1,521 کی موت ہو چکی ہے، جو کہ شرح اموات تقریباً 45 فیصد ہے۔ ڈی آر سی کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، یہ وبا اب مشرقی کانگو کے پانچ صوبوں تک پھیل چکی ہے، جہاں کئی سالوں سے جاری تشدد اور عدم تحفظ کی وجہ سے صحت کی خدمات پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

کانگو کی حکومت نے 15 مئی کو باضابطہ طور پر اس وباء کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تب سے، وائرس کا بنڈی بوگیو تناؤ ملک میں ایبولا کے پچھلے تمام 16 پھیلنے سے زیادہ تیزی سے پھیل چکا ہے۔ انفیکشن کی تعداد اب 2018-20 کے بڑے پھیلنے کے اعداد و شمار کے قریب پہنچ گئی ہے، جب 3,470 لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اموات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کیسز کی تعداد ہر 20 دن میں دوگنی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ اس صورتحال سے نمٹنے میں مدد کر رہا ہے لیکن اس نے خبردار کیا ہے کہ یہ وبا پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید بگاڑ رہی ہے۔

وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے، حکومت نے نگرانی کو مضبوط بنایا ہے، ایبولا کے علاج کے 20 سے زیادہ مراکز قائم کیے ہیں، اور مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی ہیں۔ لوگوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ ایبولا کی معمولی علامات کا بھی تجربہ کریں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں تاکہ ٹرانسمیشن کا سلسلہ روکا جا سکے۔ اس کے باوجود، بونیا اور روامپارا جیسے صحت کے علاقوں میں ہر ہفتے 100 سے 150 نئے انفیکشن دیکھے جا رہے ہیں۔ بنڈی بوگیو سٹرین کے خلاف تیار کردہ ایک نئی ویکسین کے لیے جولائی کے اوائل میں کلینیکل ٹرائلز شروع ہوئے۔ فی الحال، اس تناؤ کا کوئی معیاری علاج دستیاب نہیں ہے۔ 15 جولائی تک، تقریباً 20 رضاکاروں کو اس مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، اور سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اسے مکمل ہونے میں تقریباً چار ماہ لگیں گے۔

دریں اثنا، یوگنڈا، جس نے حال ہی میں ایبولا کی وباء کو ختم کرنے کا اعلان کیا، نے بھی کانگو کی مدد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی ہے۔ یہ ماہرین کانگو کے صحت کے حکام کے ساتھ مل کر اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں، خاص طور پر ٹچومیا اور کیسینی کے سرحدی علاقوں میں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ وباء کانگو کی تاریخ کا بدترین ایبولا بحران بن سکتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان