Connect with us
Monday,03-August-2026

(جنرل (عام

کورونا کو شکست دینے میں منصورہ میڈیکل کالج کا ‘جوشاندہ’ کارگرثابت ہو رہا ہیں

Published

on

ممبئی : کورونا وائرس نے اچھے اچھوں سپر پاور ممالک کو نانی یاد دلاری ہے. اس کوروناوائرس کے قہر سے شاہد ہی کوئی ملک بچا ہے، کورونا کے علاج کے لیے دنیا بھر کے طبی ماہرین اور سائنسداں ویکسین کی تیاری اور نئی دواؤں کی کھوج میں مصروف ہیں، لیکن ابھی تک کسی کو بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی ہاتھ نہیں لگی ہے۔ لیکن اسی بیچ کورونا کے خلاف قوتِ مدافعت بڑھانے اور اس مرض سے شفا دلانے کے لیے مہاراشٹر کے ضلع ناسک کے تعلقہ مالیگاؤں میں قدیم طب یونانی طریق علاج کے نسخے مریضوں کیلئے تیر بہدف ثابت ہو رہے ہیں۔ اس ضمن میں دستیاب اطلاعات کے مطابق یہاں اب تک ہزاروں کی تعداد میں کوویڈ-19 کےمریض ان یونانی نسخوں سے استفادہ حاصل کر کے شفایاب ہو چکے ہیں۔
طبیہ کالج منصورہ کا تیار کردہ ’جوشاندہ، اور مشہور حکیم عمران کا کشیدکردہ مشروب نہ صرف مالیگاؤں بلکہ اطراف واکناف کے شہروں میں کافی مقبول ہو چکا ہے اور لوگ کورونا وائرس کے خلاف اسے بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت مہاراشٹر نے بھی کوویڈ ٓ19 سے متاثرہ افراد کیلئے طبیہ کالج منصورہ کا تیار کردہ یونانی نسخہ ’جوشاندہ‘ کی شہرت سے متاثر ہو کر اس طرف توجہ کی ہے اور اس ضمن میں معلومات حاصل کی ہیں۔ کووڈ ٓ19 سے متاثرہ افراد کیلئے طبیہ کالج منصورہ کی جانب سے طب یونانی کے قدیم نسخوں اور قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیار ہوئے اس “جوشاندہ ” کے ہزاروں پیکٹ مالیگاؤں کے علاوہ اطراف واکناف کے شہروں میں مفت تقسیم ہوچکے ہیں۔ طبیہ کالج کے علاوہ مالیگائوں کے مشہور طبیب عمران حکیم کا کشیدکردہ مشروب بھی کورونا کے مریضوں کیلئے شفا کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ ارشد مختار ندوی، رئیس الجامعہ محمدیہ منصورہ، طبیہ کالج مالیگاؤں، نے اس ضمن میں بتایا کہ ’’قدیم طب یونانی میں متعدد ایسے نسخے ہیں جو وبائی مرض کے تدارک میں معاون ثابت ہوتے رہے ہیں۔ طبیہ کالج نے ہمیشہ اس میدان میں کامیاب تحقیق کی ہے۔ عام انسانوں اور خاص طور سے وبائی مرض میں مبتلا مریضوں کے قوت مدافعت کے نظام کو مزید مستحکم بنانے میں طبیہ کالج کا تیار کردہ جوشاندہ کارآمد ثابت ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’مختلف سرکاری شعبوں کے وہ افسران و ملازمین جنہوں نے لاک ڈائون کے دوران کورونا زدہ علاقوں میں فرائض انجام دئے انہیں طبیہ کالج کی جانب سے مفت میں جوشاندہ پیکٹ تقسیم کئے گئے۔ مالیگائوں کے علاوہ کئی اضلاع اورنگ آباد، جلگاؤں، دھولیہ، ناسک اور بھیونڈی کے علاقوں دیگر شہروں میں جوشاندہ روانہ کیاگیا۔‘‘
عمران حکیم بے اس تعلق سے کہا کہ ’’مارچ کے ابتدائی ایام میں مشروب (کاڑھا)بنایا گیا تھا ۔ اپریل اور مئی کے دوران جب مالیگاؤں میں وبائی مرض شدت اختیار کرچکا تھا اُس دوران مشروب کے استعمال سے سینکڑوں مریض صحت یاب ہوئے۔ دھولیہ، جلگائوں اور ناسک سے روزانہ سینکڑوں افراد مالیگاؤں آکر مشروب لیجاتے ہیں۔ اسے تیار کرنے کیلئے لگنے والی اشیاء بیرون ریاست سے منگوانی پڑتی ہے جس کے سبب تاخیر بھی ہورہی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’یہ کاروبار کرنے کا نہیں بلکہ وبائی مرض سے جوجھ رہے انسانوں کی خدمت اورانکی صحت یابی کیلئے جدوجہد کرنے اور سمجھداری کا مظاہرہ کرنے کا وقت ہے۔” انھوں نے واضح کیا کہ ان یونانی نسخوں سے بلا لحاظ مذہب و ملت سینکڑوں مریضوں نے اس مشروب سے استفادہ حاصل کیا ہے ۔ جو غیر مسلم ، مسلم علاقے میں آنے سے ڈرتے تھے ان کا ڈر ختم ہوا ، اور سینکڑوں برادران وطن طب یونانی کے اس کارآمد مشروب سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔
کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے رکن اسمبلی مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی نے کہا کہ ” گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ کے دفتر سے کال موصول ہوئی ۔ مالیگاؤں میں طبیہ منصورہ کالج اور عمران حکیم کے تیار کردہ مدافعتی نسخے سے متعلق تفصیلات مانگی گئی ۔ریاستی حکومت کوطبیہ کالج اور عمران حکیم کے نسخے سے کووڈ-19 کے مریضوں کو شفایابی ملنے کی اطلاع ہے۔اس سلسلے میں حکومتی سطح پرکام کاج بھی جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ “مالیگاؤں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہونے سے چہار سُو استعجاب کا عالم ہے۔ جہاں مریضوں کی تعداد دیڑھ ہزار سے اوپر جاچکی تھی وہاں اب انگلیوں پر متاثرین شمار کئے جارہے ہیں۔اس معاملے میں طب یونانی اور قدیم قدرتی طریقہ علاج کا کلیدی کردار شامل ہے۔‘ واضح رہیکہ اِن دنوں بھیونڈی اور جلگاؤں میں کورنا کے باعث حالات ابتر ہیں۔مالیگائوں میں طب یونانی کے جوشاندہ اور مشروب کے ہزاروں نسخے روزانہ انہی شہروں میں روانہ کئے جارہے ہیں۔ مالیگائوں کے متعدد اسپتالوں میں اطراف واکناف سے آنے والے متاثرین کا علاج ومعالجہ بھی جاری ہے۔
اورنگ آباد میں بھی اس ضمن میں ڈاکڑ اشفاق، پرنسپل یونانی کالج کنڑ نے کہا کہ اورنگ آباد میں بھی ان نسخوں کی تیاری اور تقسیم کا کا م کیا جائے گا۔ اںھوں نے بتایا کہ ارشد مختار ندوی ، رئیس الجامعہ محمدیہ منصورہ،طبیہ کالج مالیگاؤں سے ربط قائم کر کے جلد ہی یہ نسخہ اورنگ آباد میں بھی ضرورتمندوں کو دیا جائے گا۔
کورونا وائرس سے بچنے کے لیے ممبئی کے مدن پورہ علاقے میں سناء مکی کے قہوے سے بھی لوگ استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ کورونا سے متاثریں اس سناء کے پتوں کا قہوہ تیار کرکے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے لیے مقامی حکیموں کی دوکانوں سے لوگ بڑے پیمانے پر اس دوا کو خرید کر لیجا رہے ہیں۔

(جنرل (عام

ڈی آر سی میں ایبولا کا پھیلاؤ قابو سے باہر : تاریخ کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا وبا، ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

Published

on

Ebola

کنشاسا : ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کی وبا اب تک کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی وبا بن گئی ہے۔ انفیکشن کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نے ملک کے مشرقی حصے میں لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اب تک 3,442 افراد کے ایبولا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 1,521 کی موت ہو چکی ہے، جو کہ شرح اموات تقریباً 45 فیصد ہے۔ ڈی آر سی کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، یہ وبا اب مشرقی کانگو کے پانچ صوبوں تک پھیل چکی ہے، جہاں کئی سالوں سے جاری تشدد اور عدم تحفظ کی وجہ سے صحت کی خدمات پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

کانگو کی حکومت نے 15 مئی کو باضابطہ طور پر اس وباء کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تب سے، وائرس کا بنڈی بوگیو تناؤ ملک میں ایبولا کے پچھلے تمام 16 پھیلنے سے زیادہ تیزی سے پھیل چکا ہے۔ انفیکشن کی تعداد اب 2018-20 کے بڑے پھیلنے کے اعداد و شمار کے قریب پہنچ گئی ہے، جب 3,470 لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اموات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کیسز کی تعداد ہر 20 دن میں دوگنی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ اس صورتحال سے نمٹنے میں مدد کر رہا ہے لیکن اس نے خبردار کیا ہے کہ یہ وبا پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید بگاڑ رہی ہے۔

وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے، حکومت نے نگرانی کو مضبوط بنایا ہے، ایبولا کے علاج کے 20 سے زیادہ مراکز قائم کیے ہیں، اور مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی ہیں۔ لوگوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ ایبولا کی معمولی علامات کا بھی تجربہ کریں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں تاکہ ٹرانسمیشن کا سلسلہ روکا جا سکے۔ اس کے باوجود، بونیا اور روامپارا جیسے صحت کے علاقوں میں ہر ہفتے 100 سے 150 نئے انفیکشن دیکھے جا رہے ہیں۔ بنڈی بوگیو سٹرین کے خلاف تیار کردہ ایک نئی ویکسین کے لیے جولائی کے اوائل میں کلینیکل ٹرائلز شروع ہوئے۔ فی الحال، اس تناؤ کا کوئی معیاری علاج دستیاب نہیں ہے۔ 15 جولائی تک، تقریباً 20 رضاکاروں کو اس مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، اور سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اسے مکمل ہونے میں تقریباً چار ماہ لگیں گے۔

دریں اثنا، یوگنڈا، جس نے حال ہی میں ایبولا کی وباء کو ختم کرنے کا اعلان کیا، نے بھی کانگو کی مدد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی ہے۔ یہ ماہرین کانگو کے صحت کے حکام کے ساتھ مل کر اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں، خاص طور پر ٹچومیا اور کیسینی کے سرحدی علاقوں میں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ وباء کانگو کی تاریخ کا بدترین ایبولا بحران بن سکتا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان