Connect with us
Tuesday,16-June-2026

(جنرل (عام

مالی ووڈ کے سینئر آرٹسٹ اور مقبول ڈرامہ نگار فروغ علی جعفری کا انتقال

Published

on

(خیال اثر )
زندگی… ۔…ادب…….. آرٹ وہ متحرک سمتیں ہیں جن کی دشائیں ہمیشہ رخ بدلتی رہتی ہیں اور وہی فنکار فنون لطیفہ کی اصناف پر عبور حاصل کرتا ہے جو اپنے پائے استقلال میں کبھی بھی جنبش نہیں ہونے دیتا ہے اور خود کو مصروف سفر رکھتے ہوئے جوانمردی سے تمام طوفانوں کا مقابلہ کرتے رہتا ہے. فروغ علی جعفری ایک ایسے ہی فنکار کا نام تھا جو کل تک کسی نا کسی موڑ پر رخ بدلتے ہوئے نئ سمتوں کی جانب گامزن رہتا تھا اور آج یہ مصروف سفر رہنے والا مسافر آبلہ پا تھک کر مٹی کی تہوں کے نیچے ابدی نیند سو گیا ہے. شاید یہ کہتے ہوئے کہ
تم نہ کر پاؤ گے اندزاہ تباہی کا میری
تم نے دیکھا ہی نہیں کوئی کھنڈر شام کے بعد
لیکن ہم یہاں یہ کہنے پر حق بجانب ہیں کہ یہ کھنڈر کبھی ایک حیسن و جمیل عمارت تھی. مالیگاؤں شہر کے معمر و کہنہ مشق صحافی اور شیعہ جماعت سے منسلک عبدالطیف جعفری کے جواں سال صاحبزادے فروغ علی جعفری کل دوپہر 12بجے اچانک انتقال کر گئے.
مرحوم فنون لطیفہ کی ہر صنف سے واقفیت رکھتے تھے. شاعری, ڈرامہ نگاری, صحافت کے علاوہ مالیگاؤں میں تیار ہونے والی فلموں کے لئے بھی وہ ہمشیہ متحرک رہا کرتے تھے.مالیگاؤں شہر میں جس وقت فلم نگری یعنی “مالی ووڈ “کا قیام عمل میں آیا تو اسے استحکام عطا کرنے میں بھی ان کا مخلصانہ تعاون شامل رہا. مالی ووڈ کی جانب سے بنائی جانے والی فلموں کو فروغ دینے کے لئے بھی فروغ علی جعفری کی کوششیں شامل حال رہی ہیں. فروغ علی جعفری کے انتقال کر جانے سے ان کے والد متحرم عبدالطیف جعفری کو جو صدمہ عظیم پہنچا ہے وہ کسی قیامت صغری سے کم نہیں. بہرحال ہر نفس کو ایک نہ ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے اور یہی قانون قدرت بھی ہے اس لئے مالیگاؤں کی صحافتی و فلمی شخصیات نے فروغ علی جعفری کے انتقال پر ملال پر ان کے اہل خانہ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے دعائے خیر کا اظہار کیا ہے.
فروغ علی جعفری ایک بلند حوصلہ شخصیت کا نام تھا. والدہ کے انتقال کے بعد انھیں اپنی جواں سال دختر کے انتقال سے بے حد صدمہ ہوا تھا لیکن انھوں نے ان سارے غموں سے نبردآزما رہتے ہوئے زندگی کرنے کی کوشش میں خود کو مصروف سفر رکھا تھا. بلاآخر ان کا یہ سفر مسلسل موت کی تیز و تند آندھیوں نے مسدود کردیا اور اس طرح فنون لطیفہ سے جڑا ہوا ایک زمینی فنکار پیوند زمین ہوکر اپنی عزیز و اقرباء کو بحر اشک میں غرقاب کر گیا. فروغ علی جعفری کے انتقال پر ملال پر مالی ووڈ نے اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے ممبئی میں رہتے ہوئے روز نامہ صحافت میں اپنی صحافتی خدمات انجام دی تھیں. بالی ووڈ کے فنکاروں سے بھی ان کے قریبی روابط تھے.کچھ عرصہ پہلے قومی کونسل برائے فروغ اردو کے مالی تعاون سے بچوں کے لئے ان کا ایک ناول بھی منظرعام پر آیا تھا جو ان کی قلمی خدمات کا اعتراف نامہ تھا. ہزارہا افراد کی موجودگی میں مرحوم جسد خاکی بعد نماز عصر شیعہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : اندھیری ۶۰ لاکھ سے زائد کے زیورات چوری کا ڈرامہ تیار کرنے والے دو ملزمین گرفتار

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس دو ایسے شاطر ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے, جنہوں نے چوری اور سڑک حادثہ کی من گھڑت کہانی بنا کر ۶۰ لاکھ کے زیورات چوری ہونے کا ڈرامہ تیار کیا تھا, لیکن پولس کی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا کہ سونے کے زیورات کی ڈیلیوری کرنے والا ہی چور ہے اور اس نے اپنے ساتھی دوست کے ساتھ مل کر یہ چوری کی تھی۔ ایم آئی ڈی سی پولس نے گولڈ اسٹار کمپنی کے کنچن پوار کی شکایت پر چوری کا کیس درج کر لیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ نے اپنے ملازم اویناش گنگادھر کدم ۲۶ سالہ کو سونے کے زیورات ڈیلیوری کے لئے بھیجا تھا۔ اسی دوران اس نے بتایا کہ اس کی موٹر سائیکل ایکٹیوا کو حادثہ پیش آیا ہے اور اسی دوران سونے کے زیورات و بیگ بھی چوری ہو گئے۔ اس نے بلا کسی چوٹ اور زخم کے اسپتال میں داخلہ کےلئے ڈرامہ کیا, اس دوران پولس نے متعدد سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور یہ انکشاف ہوا کہ اس مشتبہ شخص حادثہ سے قبل یہاں مشتبہ حالت میں گشت کر رہا تھا۔ جس کا نام منوج ہیمنت جوگڈنڈ ۴۱ سالہ ہے۔ اس سے تفتیش میں پولس کو یہ معلوم ہوا کہ ان دونوں نے ہی چوری کا ڈرامہ کیا تھا اور اس واقعہ کو حادثہ بتا کر لوٹ مار کی منصوبہ بندی تیار کی تھی۔ اس کے بعد پولس نے اویناش کو بھی زیر حراست لیا اس معاملہ میں پولس نے دونوں ملزمین کو گرفتار کر کے معمہ کو حل کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : بی ایم سی نے مانسون سے پہلے ہیلپ لائن ‘مائی بی ایم سی مارگ سسٹم’ شروع کی، گڑھے بھرنے پر توجہ مرکوز کی

Published

on

ممبئی ممبئی میں گڑھوں کو بھرنے کےلئے بی ایم سی نے خصوصی ہیلپ لائن جاری کیا ہے شہریوں کی شکایات کا فوری اور مؤثر طریقے سے ازالہ کرنے کے مقصد کے ساتھ، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اس سال ایک مربوط شکایتی انتظامی نظام‘مائی بی ایم سی مارگ’ (شکایات کے انتظام اور ازالے کانظام) نافذ کیا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے شہری میونسپل کارپوریشن سے متعلق 114 مختلف قسم کی شکایات کو ایک ہی درخواست کے ذریعے درج کر سکیں گے اور وہ ان کی پیروی بھی کر سکیں گے۔ اس کے تحت ‘مائی بی ایم سی مارگ’ سسٹم پر سڑکوں پر گڑھوں کی شکایات درج کرنے کی سہولت شہریوں کو فراہم کی گئی ہے۔

مانسون کے موسم میں سڑکوں پر بعض اوقات گڑھے بن جاتے ہیں۔ اس تناظر میں میونسپل کارپوریشن شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا فوری نوٹس لینے اور ضروری اصلاحی کارروائی کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ شہریوں کے لیے گڑھوں کی شکایات کے اندراج کے عمل کو آسان اور موثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ پچھلے سال، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے سڑکوں پر گڑھوں کے بارے میں شکایات درج کرنے کے لیے ایک الگ موبائل ایپلیکیشن ‘گڑھے فوری درست کریں’ شروع کی تھی۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے شہری معلومات، تصاویر اور سڑکوں پر گڑھوں کی جگہ کے ساتھ شکایات درج کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کو شہریوں کی جانب سے اچھا رسپانس ملا۔اس دوران شہریوں کو میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں سے متعلق شکایات کے لیے مختلف سسٹم استعمال کرنا پڑا۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے شہریوں کو مزید جامع اور آسان خدمات فراہم کرنے کے لیے اس سال سے ایک جامع نظام ‘مائی بی ایم سی مارگ’ شروع کیا ہے۔ موبائل ایپلیکیشن ‘گڑھے فوری درست کریں’ کو اس سسٹم میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں بشمول گڑھے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سیوریج کے مسائل، پانی کی فراہمی، سڑک کی دیکھ بھال، پارکس، صحت عامہ، پیسٹ کنٹرول، تجاوزات، لائٹنگ سے متعلق کل 114 قسم کی شکایات درج کرنے کی سہولت ’مائی بی ایم سی مارگ‘ پر دستیاب ہے۔

‘مائی بی ایم سی مارگ’سسٹم خصوصیت یہ ہے کہ شہریوں کےلیے ایک پلیٹ فارم سے شکایات کا اندراج کرنا، متعلقہ تصاویر اپ لوڈ کرنا، شکایت کی موجودہ صورتحال کی جانچ کرنا، متعلقہ محکمے کی طرف سے کی گئی کارروائی کا پتہ لگانا اور شکایت کے حل ہونے کے بعد اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ممکن ہے۔ اس لیے شکایت کے اندراج سے لے کر ازالے تک کا پورا عمل زیادہ شفاف اور شہریوں پر مبنی ہو گیا ہے۔ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اس اقدام نے شکایت کے اندراج کے عمل کو آسان، شفاف اور موثر بنا دیا ہے اور شہریوں کو شکایات کے ازالے پر عمل کرنے کے لیے ایک واحد جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔خاص طور پر جب شہری سڑکوں پر گڑھوں کی شکایات درج کراتے ہیں تو متعلقہ محکمے کے لیے فوری کارروائی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس سے گڑھے کی مرمت کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اینڈرائیڈ صارفین اپنے اسمارٹ فونز پر مائی بی ایم سی مارگ ایپلیکیشن کو مائی بی ایم سی مارگ – گوگل پلے پر ایپس کا استعمال کرکے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں اور آئی فون کے صارفین مائی بی ایم سی مارگ ایپ – ایپ اسٹور کو ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ ممبئی کے لوگ میونسپل کارپوریشن سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ سڑکوں پر گڑھوں سے متعلق تمام شکایات ‘مائی بی ایم سی مارگ سسٹم پر درج کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ڈاکٹر سیجل پوار متنازع بیان و تبصرہ کے سبب رخصتی پر روانہ، جانچ سے قبل ہی کے ای ایم اسپتال کی سخت کارروائی

Published

on

ممبئي ممبئي کی ایک مزاحیہ تقریب میں طالب علم سیجل، پولار کو ڈاکٹر کو ویڈیو اور بیان کے طور پر سیج کے ساتھ ۱۵ تاریخ کی چھٹی دے دی گئی اور انکوائری کا آغاز کیا گیا اس کی رپورٹ کے بعد ہی مزید کارروائی ہوگی۔ ڈاکٹر سیجل پور سے متعلقہ ادارے میں کارروائی کی جاتی ہے۔

سیٹھ جی ایس میڈیکل کالج اور کے ای ایم ہاسپٹل نے ایک مزاحیہ پروگرام کے دوران ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر کی طالبہ سیجل پوار کے ریمارکس اور اس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعلقہ ویڈیو مواد کی گردش سے پیدا ہونے والی عوامی تشویش کا مناسب ادراک کیا ہے۔

شکایات کی وصولی کے فوراً بعد، انسٹی ٹیوٹ نے حقائق کی تلاش کا ایک ابتدائی عمل شروع کیا۔ متعلقہ طالب علم کو بلایا گیا، اس کی وضاحت/معافی ریکارڈ پر لی گئی، اور متعلقہ مواد کا جائزہ لیا گیا۔ ابتدائی نتائج، معاملے کی حساسیت، اور متوفی افراد، جسم کے عطیہ دہندگان کے وقار کو برقرار رکھنے کی ضرورت اور میڈیکل طلباء سے متوقع پیشہ ورانہ معیارات کے پیش نظر پوار پر آج ایک عبوری تادیبی/انتظامی حکم جاری کیا گیا ہے۔

اس کے مطابق، پوار کو 15 دن کی مدت کے لیے لازمی چھٹی پر رکھا گیا ہے، جس کا اثر ۱۳ مئی سے ہے، تفصیلی انکوائری اور مزید احکامات زیر التواء ہیں۔ آج صبح 10:30 بجے، اسے مذکورہ مدت کے دوران اس کے والدین/سرپرستوں کی دیکھ بھال اور نگرانی سونپی گئی تھی۔ انہیں یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ادارہ جاتی انکوائری میں مکمل تعاون کریں اور جب بھی انکوائری کمیٹی کے ذریعہ بلایا جائے،ازخود یا آن لائن موڈ کے ذریعے دستیاب رہیں۔

ایک جامع پانچ رکنی انکوائری کمیٹی کی تشکیل کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے جس میں سینئر فیکلٹی، ایک بیرونی/نان فیکلٹی ممبر اور مناسب ادارہ جاتی نمائندگی شامل ہے۔ کمیٹی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حقائق، سیاق و سباق، اثرات اور متعلقہ ریکارڈز بشمول سوشل میڈیا کی گردش کے پہلو کا جائزہ لے گی اور مزید کارروائی کے لیے اپنی معقول سفارشات پیش کرے گی۔انسٹی ٹیوٹ اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ مریضوں، فوت شدہ افراد، جسم کے عطیہ دہندگان اور ان کے اہل خانہ کا احترام طبی تعلیم کی بنیادی قدر ہے۔ معاملے کو سنجیدگی، حساسیت اور طریقہ کار کے ساتھ انصاف کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ تفصیلی انکوائری رپورٹ کی وصولی کے بعد قابل اطلاق این ایم سی ایم یو ایچ ایس ، بی ایم سی اور ادارہ جاتی اصولوں کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔اس مرحلے پر کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس وقت جامع انکوائری کا عمل جاری ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان