Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

کسانوں کی حمایت میں مالیگاؤں مسلم راشٹریہ مورچہ کا راستہ روکو آندولن مسلم اکثریتی شہر مودی مخالف نعروں سے گونج اٹھا, کالے قوانین واپس لینے کا مطالبہ

Published

on

مالیگاؤں (خیال اثر)
آج پورا ملک کسانوں کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہوا ہے. نئے زرعی قوانین کسانوں کے حق میں مضر رساں ہیں. مہینوں سے کسان طبقہ اپنی حقوق کی بحالی کے لئے احتجاج پر آمادہ ہے. کسان اور جوان دونوں طبقہ ہی ہندوستان کے لئے فائدہ مند ثابت ہوا ہے. فوجی جوان سرحدوں پر تعینات رہتے ہوئے ملک کی حفاظت کے لئے اپنی جان دیتے جارہے ہیں اسی طرح کسان طبقہ بھی ہر موسم کی سختی جھیلتے ہوئے کروڑوں افراد کو اجناس کی فراہمی میں معاون و مدگار ثابت ہوتا رہا ہے اور شاید اسی سے متاثر ہو کر لال بہادر شاشتری نے “جئے جوان جئے کسان” کا نعرہ دیا تھا. آج کسان طبقہ اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے احتجاج کا راستہ اپنا کر جان دینے پر آمادہ ہے جبکہ دہلی پولیس جو مرکز کے زیر انتظامیہ ہے نے کسانوں کے احتجاج کو ختم کرنے کے لئے شاہراؤں پر کیلیں بچھا رکھی ہیں. موسم کی سختی برداشت کرتے ہوئے کسان طبقہ مع اہل عیال احتجاج پر ڈٹے ہوا ہے. احتجاج کی شدت دیکھنے کے باوجود مودی حکومت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں. کسان لیڈران کو یکے بعد دیگرے مختلف مقدمات میں ملوث کیا جارہا ہے. آج سبھی مکتب فکر کے افراد خصوصاً بامسیف کے روح رواں وامن مشیرام کی ایماء پر ملک کے پانچ سو سے زائد مقامات پر احتجاج کا لائحہ عمل ترتیب دیا گیا تھا. مالیگاؤں شہر کی مصروف ترین قومی شاہراہ “آگرہ روڈ ” نیو بس اسٹیشن کے عین سامنے راشٹریہ مسلم مورچہ کے ذمہ داران نے اپنے فلک شگاف نعروں اور زبردست احتجاج کے ذریعے کسانوں کی حمایت کرتے ہوئے مودی سرکار کے خلاف اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا. اس راستہ روکو اندولن کی وجہ سے دیر تک ٹریفک نظام درہم برہم رہا وہیں پولیس محمکہ بھی بڑی تعداد کے ساتھ حالات کو کنٹرول کرنے میں مسلسل مصروف رہا. راشٹریہ مسلم مورچہ کے ذمہ داران کی جانب سے ضلع کلکٹر کے نام ایک تحریری مکتوب سٹی پولیس اسٹیشن کے پی آئے کو دیا گیا. طے شدہ پروگرام کے مطابق وقت مقررہ پر بھیڑ کا عالم یہ تھا کہ مذکورہ راستہ روکو اندولن کسانوں کے لئے نہیں بلکہ مقامی مسائل کی یکسوئی کے لئے ہو. کسانوں کی تائید و حمایت میں راشٹریہ مسلم مورچہ کے روح رواں وامن مشیرام کی ایماء پر ضلعی و مقامی ذمہ داران کا یہ احتجاج ثابت کرتا ہے کہ کسان طبقہ کے حقوق کی بحالی کے لئے سارا ملک آٹھ کھڑا ہوا ہے. ہو سکتا ہے کہ راشٹریہ مسلم مورچہ اور وامن مشیرام کا کھل کر میدان میں آنا مودی حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو اور مودی حکومت زبردستی تھوپے گئے زرعی قوانین کو موخر کرنے پر مجبور ہو جائے. اس موقع پر الحاج یوسف الیاس, سیٹھ اکبر اشرفی, نور العین صابری, فاروق فردوسی, عارف نوری, ڈاکٹر ارشد یوسف, کارپورٹیر تنویر ذولفقار,الطاف کرانہ والا, عبدالخالق صدیقی, مقیم مینا نگری, جاوید انور سمیت بڑی تعداد میں عوامی ہجوم اکٹھا تھا.

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان