Connect with us
Wednesday,28-October-2026

سیاست

مالیگاؤں میونسپل کمشنر دیپک کاسار پر عدم اعتماد کی لٹکتی تلوار کیاگل کھلائے گی, کون ثابت ہوگا مقدر کا سکندر ,آج جنرل بورڈ میٹنگ میں ہوگا فیصلہ

Published

on

malegaon-muncipal

مالیگاؤں (خیال اثر)
آج فیصلہ ہوگا کہ میونسپل کمشنر پر لائی گئی عدم اعتماد تجویز منظور ہوتی ہے یا ایک بار پھر معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوجائے گا . بے شمار الزامات میں گھرے ہوئے مالیگاؤں میونسپل کمشنر دیپک کاسار ان دنوں دوبارہ عدم اعتماد کی زد میں آئے ہوئے ہیں. ارباب اقتدار نے بے شمار الزامات میں گھرے ہوئے کمشنر کے خلاف اپنی بلی کو تھیلے سے باہر نکال دیا ہے. کانگریس اور اس کی حلیف جماعتوں نے کمشنر کے خلاف محاذ کھول دیا ہے حالانکہ ماضی میں بھی اولین میئر نے کمشنر ڈی جے فلپ کے خلاف محاذ آرائی کرتے ہوئے اسے عوام کا نوکر ثابت کردیا تھا. یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی کمشنر کے خلاف محاذ آرائی کی گئی ہو. انتہائی سخت گیر خاتون کمشنر سنگیتا دھائگڑے کے خلاف بھی ہنگامہ برپا کرتے ہوئے انھیں خود سے تبادلہ کروانے پر مجبور کردیا تھا بلکہ ان سے پہلے ان کمشنر کا تو منہ کالا کرتے ہوئے مالیگاؤں سے بھاگ جانے پر مجبور کردیا گیا تھا. مذکورہ تینوں کمشنر میونسپل ایکٹ پر سختی سے عمل پیرا رہے تھے ان کے برعکس حالیہ کمشنر کی نااہلی اور لاپرواہی روز روشن کی طرح عیاں ہے. تعمیری اقدامات کی تجاویز کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دینا موجودہ کمشنر کا وطیرہ رہا ہے ساتھ ہی روز بروز رخصت لینا بھی کمشنر کے خلاف محاذ کھڑا ہونا ایک اہم جزو رہا ہے. بے شمار تعمیری اقدامات کمشنر کی عدم شمولیت کی وجہ سے دھول کھا رہے ہیں. عنقریب میونسپل الیکشن کی آمد آمد ہے اور اسی کے تناظر میں عوامی نمائندگان چاہتے ہیں کہ ان کی منظور شدہ تمام تعمیری تجاویز عملی شکل میں ان کے ووٹران کے سامنے آ جائیں اور ان کے منظور شدہ کام زمین پر دکھائی دے جائیں. ٹھیکے داروں کی پھنسی ہوئی رقومات کی نکاسی نہ ہونا بھی کمشنر کی غیر ذمہ دارانہ حرکت پر دلالت کررہی ہے کیونکہ ٹھیکے دار حضرات جس علاقہ میں تعمیری کام انجام دیئے ہیں اور ان کا خطیر سرمایہ پھنس کر انھیں مالی دشواریوں میں مبتلا کرگیا ہے ایسے ٹھیکےدار اپنی رقومات کی واپسی کے لئے ان علاقوں کے عوامی نمائندگان کی ناک میں دم کر رکھا ہے. بے شمار شکایات کے درمیان ارباب اقتدار نے کمشنر کے خلاف عدم اعتماد کی تجاویز کے لئے خصوصی جنرل بورڈ میٹنگ کا ایجنڈا جاری کردیا ہے. کانگریس پارٹی کے 28 ,شیوسینا کے 13اور بی جے پی کے 9 عوامی نمائندگان کو ملاتے ہوئے 50 ووٹیں ارباب اقتدار نے مجتمع کر لی ہیں جبکہ عدم اعتماد کے لئے 53 کا جادوئی عدد درکار ہے. عدم اعتماد کی تجاویز پر ایجنڈا جاری ہوتے ہی حزب اختلاف بھی کھل کر میدان میں آ گئی ہیں. اپوزیشن ارباب اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے تو ارباب اقتدار نے متحدہ محاذ کو توڑتے ہوئے این سی پی کے چار نمائندگان کو ہموار کرتے ہوئے عدم اعتماد کی کاروائی کو استحکام عطا کر لیا ہے. اب یہ عدم اعتماد کی تجاویز کتنی کامیاب ہوتی ہے اس کا پتہ تو آج ہونے والی خصوصی جنرل بورڈ میٹنگ میں کھل کر سامنے آ جائے گا کہ کون کمشنر کے خلاف اور کون حمایت میی ہے . بہرحال جو بھی ہے یہ کسی نامزد کردہ کمشنر کے حق میں انتہائی شرمناک اور ذلالت آمیز فعل ہے کہ جس شہر میں اسے ریاستی حکومت نے نامزد کیا ہے اسی شہر میں اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کھڑی کرتے ہوئے اسے برطرف کرنے کی کوشش کی جائے حالانکہ ماضی میں ریاستی وزیر دادا بھسے نے ارباب اقتدار کو منا لیا تھا کہ وہ کمشنر کے خلاف ایسی کوئی کاروائی سے گریز کریں ورنہ ریاستی ذمہ داران یہ سمجھ بیٹھیں گے کہ موجودہ کمشنر ان کی باتیں بھی خاطر میں نہیں لاتا. آج وہ بھی کمشنر کی غلط پالیسوں سے نالاں ہو کر ان کی اپنی پارٹی سے کامیاب ہونے والے عوامی نمائندگان کو کمشنر کے خلاف لائی گئی تجویز عدم اعتماد میں معاونت کرنے کا عندیہ ظاہر کردیا ہے.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سیاست

بی جے پی بنگال میں اقلیتی ووٹروں کا اعتماد حاصل کر رہی ہے، سی ایم ادھیکاری کہتے ہیں۔

Published

on

کولکتہ : مغربی بنگال کے وزیر اعلی سویندو ادھیکاری نے بدھ کے روز دعوی کیا کہ بی جے پی نے ریاست میں اقلیتی رائے دہندگان کا اعتماد حاصل کرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ لوگوں نے محسوس کیا ہے کہ ان کی حکومت مذہبی تحفظات کی بجائے عوامی فلاح و بہبود کی بنیاد پر ترقی کی پیروی کرتی ہے۔ ادھیکاری نے یہ تبصرہ بدھ کو مغربی بنگال اسمبلی کے فلور سے خطاب کرتے ہوئے کیا جب حسیرانی رتھ اور سخارو سرکار نے حال ہی میں مشرقی مدنا پور ضلع کے نندی گرام اسمبلی حلقہ اور مرشد آباد ضلع کے ریجی نگر حلقہ کے لئے حال ہی میں ختم ہونے والے ضمنی انتخابات میں اپنی جیت کے بعد حلف لیا۔ مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر رتیندرا بوس نے دونوں کو عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ وزیر اعلیٰ اور ایوان میں قائد حزب اختلاف رتبرتا بنرجی نے انہیں ایوان کے نئے ارکان کے طور پر مبارکباد دی۔ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے وضاحت کی کہ کیوں بی جے پی نے ریاست میں اقلیتی ووٹروں کا اعتماد حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔

“پہلے، بہت سے لوگوں نے بی جے پی کو فرقہ وارانہ پارٹی بتا کر سیاست کی تھی۔ اب میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ریجی نگر میں 70,000 خواتین اناپورنا یوجنا سے مستفید ہو رہی ہیں، جن میں سے 35,000 اقلیتی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ہم روایتی ہندو ہیں اور ہمارے ماتھے پر کھیل کا تلک ہے، لیکن بی جے پی انتظامیہ کی بے بسی سے چل رہی ہے۔” ریجی نگر میں 300 بوتھ، 200 اقلیتی اکثریت والے بی جے پی امیدوار سخارو سرکار نے ریجی نگر میں 75,000 کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت کے پہلے چھ مہینوں میں حاصل ہونے والی کامیابیاں صرف شروعات تھیں، انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی کارکردگی “صبح کی چائے اور ناشتہ” کے مترادف تھی، جس میں “دوپہر اور رات کا کھانا” ابھی آنا باقی ہے۔ اس سال کے اسمبلی انتخابات میں بھبانی پور اور نندیگرام دونوں جیتنے کے بعد بھبانی پور اسمبلی سیٹ برقرار رکھنے کے اپنے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ انہوں نے سابق چیف کے طور پر نانڈی گرام کے خلاف ایک موقع پیدا نہیں کیا۔ وزیر ممتا بنرجی، جنہیں انہوں نے بھبانی پور میں شکست دی تھی، اس حلقے سے ضمنی انتخاب لڑنے کے لیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنرجی کو الیکشن لڑنا جاری رکھنے کے بجائے اب آرام کرنا چاہئے۔

Continue Reading

سیاست

یوپی کے نائب وزرائے اعلیٰ پاٹھک اور موریہ نے ووٹ چوری کے کانگریس کے الزامات پر بی جے پی کا دفاع کیا۔

Published

on

لکھنؤ : اتر پردیش کے نائب وزرائے اعلیٰ برجیش پاٹھک اور کیشو پرساد موریہ نے بدھ کے روز انتخابی بدانتظامی کے الزامات کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی بہتر تیاریوں اور شفافیت اور ایمانداری کے عزم کی وجہ سے انتخابات جیت رہی ہے۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے پاٹھک نے الزام لگایا کہ سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور دیگر ہندوستانی بلاک اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات ہارنے کے بعد چہرہ بچانے کے لیے انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے۔ نائب وزیر اعلیٰ موریہ نے کہا کہ بی جے پی نے اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات میں اپنی سابقہ ​​کارکردگی کو دہرایا تھا لیکن اسے زیادہ سیٹیں جیتنے کی امید تھی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نتائج کا جائزہ لے گی، خاص طور پر ان حلقوں میں جہاں ایس پی بی جے پی کی توقعات کے باوجود جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے، اور مستقبل کے انتخابات میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کرے گی۔

“بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی پچھلی کارکردگی کو دہرایا ہے۔ ہم زیادہ سیٹیں جیتنے کی امید کر رہے تھے، لیکن ہم اتنی سیٹیں حاصل نہیں کر سکے جتنی توقع تھی،” موریہ نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی نتائج کا تجزیہ کرے گی اور ان حلقوں کا جائزہ لے گی جہاں ایس پی نے اپنا کھاتہ کھولا تھا۔ موریہ نے یہ بھی کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 30 اکتوبر 2026 کو اتر پردیش کا دورہ کرنے والے تھے۔ اسی دوران کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے بی جے پی پر قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دوران انتخابی چوری، دھاندلی اور سرکاری مشینری کے غلط استعمال کا الزام لگایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی نے پیسے اور طاقت کا سہارا لیا ہے جب وہ عوامی حمایت سے انتخابات نہیں جیت سکی۔ راجپوت نے الزام لگایا کہ جس طرح سے بی جے پی انتخابی چوری، دھاندلی اور دیگر بدعنوانیوں میں ملوث ہے وہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں واضح تھا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ہندوستانی بلاک اور ایس پی کے امیدواروں کو کمزور کرنے کے لیے پولیس اور انتظامی مشینری کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ راجپوت نے بی جے پی اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے درمیان ملی بھگت کا بھی الزام لگایا، انتباہ دیا کہ عوام اس کا جواب دیں گے جسے انہوں نے انتخابی بدانتظامی قرار دیا۔

سیاسی تبادلہ آگرہ میں اساتذہ اور گریجویٹ حلقوں کے لئے اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کے نتائج سے پہلے آیا، جہاں ایس پی اور بی جے پی نے اعزازات کا اشتراک کیا۔ آگرہ ڈویژن کے ٹیچرس حلقہ میں ایس پی امیدوار آکاش اگروال نے لگاتار دوسری بار کامیابی حاصل کی۔ ریٹرننگ آفیسر نریندر پرتاپ نے بدھ کو انہیں جیت کا سرٹیفکیٹ دیا۔ تاہم انتظامیہ نے ووٹوں کی حتمی گنتی کو فوری طور پر جاری نہیں کیا تھا۔ اپنی جیت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے، اگروال نے کہا کہ نتیجہ پورے ڈویژن کے اساتذہ کے ذریعہ ان پر رکھے گئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ “یہ نتیجہ تمام 12 اضلاع کے اساتذہ کے ووٹوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے دوسرے امیدواروں کے مقابلے میں مجھ پر بھروسہ کیا، اس یقین کے ساتھ کہ میں ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کروں گا،” انہوں نے کہا۔ آگرہ ڈویژن کے گریجویٹ حلقہ میں، بی جے پی امیدوار مانویندر پرتاپ سنگھ، جو گروجی کے نام سے مشہور ہیں، نے ایس پی امیدوار ششانک یادو کو شکست دے کر اپنی سیٹ برقرار رکھی۔ سنگھ نے اپنی جیت کا سہرا پارٹی کے نچلی سطح کے کارکنوں کی محنت اور حکومت کی کارکردگی کو قرار دیا۔

Continue Reading

سیاست

آزاد رکنِ اسمبلی امیش کمار کا اتراکھنڈ اسمبلی سے استعفیٰ، اپوزیشن کی حمایت نہ ملنے کا حوالہ دیا

Published

on

گیرسین : اتراکھنڈ اسمبلی میں خانپور حلقہ کی نمائندگی کرنے والے آزاد ایم ایل اے امیش کمار نے بدھ کو اپوزیشن کے طرز عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے ایوان سے استعفیٰ دے دیا اور اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ انہوں نے اہم عوامی مسائل پر حزب اختلاف کے ارکان کی حمایت کی کمی بتائی ہے۔ کمار نے کہا کہ پچھلے چار سالوں میں، انہوں نے بار بار اپوزیشن سے توقع کی تھی کہ وہ کسانوں اور وسیع تر عوامی مفاد سے متعلق مسائل پر ان کے ساتھ تعاون کرے گی۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی توقعات کو کئی مواقع پر مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپوزیشن کے احتجاج کے دوران مسلسل اس کی حمایت کی تھی، لیکن جب اس نے اپنے حلقے اور عوام کو متاثر کرنے والے معاملات پر ان کی حمایت مانگی تو اس کے ارکان جواب دینے میں ناکام رہے۔

نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کمار نے کہا، “میں نے ایوان سے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے، اور میں اپوزیشن کے رویے سے ناراض ہوں، میں نے ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا… یہاں تک کہ جب اپوزیشن ایوان میں رات بھر سوتی تھی، میں ان کے ساتھ فرش پر سوتا تھا۔” “تاہم، جب بھی میں نے ہریدوار، کسانوں، کسان کریڈٹ کارڈز پر سود کی شرح، آفات سے نجات، کسانوں کے لیے شوگر مل، ہریدوار کے رہائشیوں کے لیے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ، یا آنگن واڑی اور آشا ورکرز کے حوالے سے مسائل اٹھائے، میں ان سے یہ توقع کرتا رہا کہ وہ میرے ساتھ کھڑے ہوں گے، لیکن انھوں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔”

دریں اثنا، کانگریس پارٹی نے گیرسین میں منگل کو شروع ہونے والے دو روزہ اسمبلی اجلاس کے دوران بدھ کو مسلسل دوسرے دن بھی اپنا احتجاج جاری رکھا۔ کانگریس ایم ایل اے نے اتراکھنڈ اسمبلی کے احاطے میں احتجاجی مظاہرہ کیا، جاری اجلاس کی مختصر مدت کی مخالفت کی اور سڑکوں، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور بدعنوانی سمیت مختلف حلقوں کو متاثر کرنے والے مسائل پر بحث کرنے کے لیے توسیع کا مطالبہ کیا، جبکہ عوامی شکایات کو بھی اٹھایا۔ مظاہرین نے انکیتا بھنڈاری قتل کیس پر بھی روشنی ڈالی اور اس معاملے پر حکمران جماعت کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان