Connect with us
Friday,28-August-2026

سیاست

مالیگاؤں میونسپل کمشنر دیپک کاسار پر عدم اعتماد کی لٹکتی تلوار کیاگل کھلائے گی, کون ثابت ہوگا مقدر کا سکندر ,آج جنرل بورڈ میٹنگ میں ہوگا فیصلہ

Published

on

malegaon-muncipal

مالیگاؤں (خیال اثر)
آج فیصلہ ہوگا کہ میونسپل کمشنر پر لائی گئی عدم اعتماد تجویز منظور ہوتی ہے یا ایک بار پھر معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوجائے گا . بے شمار الزامات میں گھرے ہوئے مالیگاؤں میونسپل کمشنر دیپک کاسار ان دنوں دوبارہ عدم اعتماد کی زد میں آئے ہوئے ہیں. ارباب اقتدار نے بے شمار الزامات میں گھرے ہوئے کمشنر کے خلاف اپنی بلی کو تھیلے سے باہر نکال دیا ہے. کانگریس اور اس کی حلیف جماعتوں نے کمشنر کے خلاف محاذ کھول دیا ہے حالانکہ ماضی میں بھی اولین میئر نے کمشنر ڈی جے فلپ کے خلاف محاذ آرائی کرتے ہوئے اسے عوام کا نوکر ثابت کردیا تھا. یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی کمشنر کے خلاف محاذ آرائی کی گئی ہو. انتہائی سخت گیر خاتون کمشنر سنگیتا دھائگڑے کے خلاف بھی ہنگامہ برپا کرتے ہوئے انھیں خود سے تبادلہ کروانے پر مجبور کردیا تھا بلکہ ان سے پہلے ان کمشنر کا تو منہ کالا کرتے ہوئے مالیگاؤں سے بھاگ جانے پر مجبور کردیا گیا تھا. مذکورہ تینوں کمشنر میونسپل ایکٹ پر سختی سے عمل پیرا رہے تھے ان کے برعکس حالیہ کمشنر کی نااہلی اور لاپرواہی روز روشن کی طرح عیاں ہے. تعمیری اقدامات کی تجاویز کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دینا موجودہ کمشنر کا وطیرہ رہا ہے ساتھ ہی روز بروز رخصت لینا بھی کمشنر کے خلاف محاذ کھڑا ہونا ایک اہم جزو رہا ہے. بے شمار تعمیری اقدامات کمشنر کی عدم شمولیت کی وجہ سے دھول کھا رہے ہیں. عنقریب میونسپل الیکشن کی آمد آمد ہے اور اسی کے تناظر میں عوامی نمائندگان چاہتے ہیں کہ ان کی منظور شدہ تمام تعمیری تجاویز عملی شکل میں ان کے ووٹران کے سامنے آ جائیں اور ان کے منظور شدہ کام زمین پر دکھائی دے جائیں. ٹھیکے داروں کی پھنسی ہوئی رقومات کی نکاسی نہ ہونا بھی کمشنر کی غیر ذمہ دارانہ حرکت پر دلالت کررہی ہے کیونکہ ٹھیکے دار حضرات جس علاقہ میں تعمیری کام انجام دیئے ہیں اور ان کا خطیر سرمایہ پھنس کر انھیں مالی دشواریوں میں مبتلا کرگیا ہے ایسے ٹھیکےدار اپنی رقومات کی واپسی کے لئے ان علاقوں کے عوامی نمائندگان کی ناک میں دم کر رکھا ہے. بے شمار شکایات کے درمیان ارباب اقتدار نے کمشنر کے خلاف عدم اعتماد کی تجاویز کے لئے خصوصی جنرل بورڈ میٹنگ کا ایجنڈا جاری کردیا ہے. کانگریس پارٹی کے 28 ,شیوسینا کے 13اور بی جے پی کے 9 عوامی نمائندگان کو ملاتے ہوئے 50 ووٹیں ارباب اقتدار نے مجتمع کر لی ہیں جبکہ عدم اعتماد کے لئے 53 کا جادوئی عدد درکار ہے. عدم اعتماد کی تجاویز پر ایجنڈا جاری ہوتے ہی حزب اختلاف بھی کھل کر میدان میں آ گئی ہیں. اپوزیشن ارباب اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے تو ارباب اقتدار نے متحدہ محاذ کو توڑتے ہوئے این سی پی کے چار نمائندگان کو ہموار کرتے ہوئے عدم اعتماد کی کاروائی کو استحکام عطا کر لیا ہے. اب یہ عدم اعتماد کی تجاویز کتنی کامیاب ہوتی ہے اس کا پتہ تو آج ہونے والی خصوصی جنرل بورڈ میٹنگ میں کھل کر سامنے آ جائے گا کہ کون کمشنر کے خلاف اور کون حمایت میی ہے . بہرحال جو بھی ہے یہ کسی نامزد کردہ کمشنر کے حق میں انتہائی شرمناک اور ذلالت آمیز فعل ہے کہ جس شہر میں اسے ریاستی حکومت نے نامزد کیا ہے اسی شہر میں اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کھڑی کرتے ہوئے اسے برطرف کرنے کی کوشش کی جائے حالانکہ ماضی میں ریاستی وزیر دادا بھسے نے ارباب اقتدار کو منا لیا تھا کہ وہ کمشنر کے خلاف ایسی کوئی کاروائی سے گریز کریں ورنہ ریاستی ذمہ داران یہ سمجھ بیٹھیں گے کہ موجودہ کمشنر ان کی باتیں بھی خاطر میں نہیں لاتا. آج وہ بھی کمشنر کی غلط پالیسوں سے نالاں ہو کر ان کی اپنی پارٹی سے کامیاب ہونے والے عوامی نمائندگان کو کمشنر کے خلاف لائی گئی تجویز عدم اعتماد میں معاونت کرنے کا عندیہ ظاہر کردیا ہے.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بین الاقوامی خبریں

تین جاپانی لڑاکا طیارے ویر گارڈین مشق میں حصہ لینے کے لیے پہلی بار ہندوستان آ رہے ہیں۔ ایف – 2اے جنگجو پاکستان کی سرحد پر گرجیں گے۔

Published

on

Japani F-2A

ٹوکیو : چینی ڈریگن کے چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے بھارت اور جاپان کے فوجی تعلقات اب نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ اس اقدام کے ایک حصے کے طور پر، جاپانی لڑاکا طیارے پہلی بار ہندوستانی سرزمین پر قدم رکھیں گے۔ جاپانی فضائی سیلف ڈیفنس فورس کے ایف – 2اے لڑاکا طیارے ستمبر میں ہندوستان پہنچ رہے ہیں۔ یہ جاپانی طیارے ہندوستانی فضائیہ کے ساتھ ویر گارڈین 26 فوجی مشق میں حصہ لیں گے۔ یہ ہندوستان اور جاپان کے درمیان دو طرفہ فضائی مشق ہے۔ جاپانی میڈیا کے مطابق تین جاپانی ایف – 2اے لڑاکا طیارے اوکیناوا، تھائی لینڈ کے راستے بھارت کے لیے روانہ ہوں گے اور پھر امریکی فضائیہ کے ایندھن کے ٹینکرز ان طیاروں کو درمیانی ہوا میں ایندھن بھریں گے، جس سے وہ اتنی لمبی دوری آسانی سے طے کر سکیں گے۔ ویر گارڈین مشق 9 سے 21 ستمبر تک راجستھان کے جودھ پور میں ہوگی۔ جاپانی طیارہ یکم ستمبر کو فوکوکا پریفیکچر کے ایک ایئربیس سے اس مشق کے لیے روانہ ہوگا۔ ان کے ساتھ جاپانی فضائیہ کے 110 اہلکار بھی ہندوستان پہنچ رہے ہیں۔ اس دوران دونوں ممالک کی فضائیہ فضائی جنگی مشقیں کریں گی۔ اس سے پہلے، ویر گارڈین مشق 2023 میں شروع ہوئی تھی۔ ہندوستان نے چار سخوئی-30، دو سی-17 گلوب ماسٹر ٹرانسپورٹ طیاروں، اور ایک آئی ایل-78 آئل ٹینکر کے ساتھ حصہ لیا تھا۔

2023 میں، جاپان نے ہیروک گارڈین مشق کے لیے چار ایف-2 اور چار ایف-15 لڑاکا طیارے تعینات کیے تھے۔ اب جاپان اپنے تین لڑاکا طیارے ہندوستان بھیج رہا ہے۔ امریکی فضائیہ اس انتہائی طویل سفر کے دوران درمیانی فضائی ایندھن فراہم کرے گی۔ جاپان نے یہ نہیں بتایا کہ یہ طیارے تھائی لینڈ کے کس اڈے پر اتریں گے۔ جودھ پور اور جاپان کے ایئربیس کے درمیان ایک سیدھی لائن میں فاصلہ 5,600 کلومیٹر ہے۔ اس لیے ہندوستان کو لڑاکا طیارے بھیجنا جاپان کے لیے ایک اہم چیلنج ہوگا۔ جاپانی فضائیہ کے چیف آف اسٹاف جنرل موریتا تاکے ہیرو نے اتنی طویل تعیناتی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران نہ صرف پرواز انتہائی اہم ہے بلکہ طیارے کی مرمت اور نظام کی مکمل مرمت بھی ضروری ہے۔ مزید برآں، جاپانی فضائیہ کو موسمی حالات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ اس سے قبل، 2025 میں، جاپان نے پہلی بار اپنے لڑاکا طیارے یورپ میں تعینات کیے تھے۔ جاپان کے چار ایف-15 لڑاکا طیارے امریکہ اور کینیڈا کے راستے برطانیہ اور جرمنی پہنچ گئے۔

چین کے حملے کے خطرے سے دوچار جاپان یہ لڑاکا طیارے بھیج کر دوست ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کر رہا ہے۔ ادھر بھارت بھی چین کی غنڈہ گردی سے پریشان ہے۔ چینی فوج مشرقی بحیرہ چین سے لے کر ہمالیہ تک خود کو مضبوط کر رہی ہے۔ چین نے ہندوستانی سرحد پر پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ جے-20 بھی تعینات کر دیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ مشق چین کو ذہن میں رکھ کر کی جا رہی ہے تو جاپانی فضائیہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ یہ کسی خاص ملک کو ذہن میں رکھ کر نہیں کی جا رہی ہے۔

Continue Reading

سیاست

مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کانگریس پر آپریشن سندھور سے ‘حسد’ کا الزام لگایا

Published

on

تعلیم، امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم اور نئی اور قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے جمعہ کو الزام لگایا کہ کانگریس نریندر مودی حکومت کے کامیاب آپریشن سندھور سے جلتی ہے۔ پرہلاد جوشی نے یہ بھی الزام لگایا کہ جب بھی ہندوستان پڑوسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کرتا ہے تو پارٹی “پاکستان کے خیر خواہ” کی طرح برتاؤ کرتی ہے۔ ہبلی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے جوشی نے الزام لگایا کہ کانگریس ہندوستانی مسلح افواج کی صلاحیتوں اور بہادری اور وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے فراہم کردہ سیاسی رہنمائی پر خاموش رہی جب تک آپریشن سندھ کامیاب نہیں ہو جاتا۔

جوشی نے دعویٰ کیا کہ جب تک آپریشن سندھ کامیاب نہیں ہوا، کانگریس کے پاس ہندوستانی فوج کی صلاحیتوں اور بہادری یا وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی سمت کے بارے میں کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ جب کونڈولیزا رائس نے یہاں آکر کانگریس حکومت کو پاکستان پر حملہ نہ کرنے کا کہا تو انہوں نے اپنی دکانیں بند کر دیں اور خاموش رہے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ نریندر مودی حکومت کے کامیاب طرز عمل کے بعد کانگریس صرف تنقید کا نشانہ بنی۔ جوشی نے الزام لگایا کہ آپریشن سندھ کامیابی سے کیا گیا، وہ غیرت مند ہو گئے ہیں۔

جوشی نے آر ایس ایس کے روٹ مارچ میں مبینہ طور پر حصہ لینے کے الزام میں دو سرکاری اسکول اساتذہ کی معطلی پر کرناٹک حکومت پر بھی تنقید کی۔ کارروائی کو سیاسی طور پر حوصلہ افزائی قرار دیتے ہوئے، جوشی نے الزام لگایا کہ معطلی “نفرت” اور سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے۔ “ریاستی حکومت نفرت سے کام کر رہی ہے۔ 1970 کی دہائی سے آر ایس ایس کے خلاف مقدمات میں حصہ لینے والے لوگوں نے عدالتوں میں اس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔ عدالت میں کھڑے نہیں ہوں گے اور حکومت اپنی ساکھ کھو دے گی۔

جوشی نے کہا کہ آر ایس ایس ایک آزاد تنظیم ہے اور دعویٰ کیا کہ عدالتوں نے پہلے آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر سرکاری ملازمین کے خلاف کی گئی اسی طرح کی تادیبی کارروائی کو منسوخ کردیا تھا۔ “یہ حکومت کی طرف سے انتقامی اور بزدلانہ کارروائی ہے،” انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں اساتذہ کے خلاف معطلی کے احکامات کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ یادگیر میں محکمہ تعلیم نے اکتوبر 2025 میں منعقدہ آر ایس ایس کے روٹ مارچ میں مبینہ طور پر حصہ لینے کے الزام میں دو سرکاری اسکول اساتذہ کو معطل کر دیا تھا۔ یہ کارروائی اس شکایت کے بعد کی گئی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اساتذہ نے سرکاری ملازمین کے طور پر پروگرام میں حصہ لیا تھا۔

اس معاملے نے کرناٹک میں ایک سیاسی بحث کو جنم دیا ہے، بی جے پی نے کانگریس حکومت پر آر ایس ایس کے ہمدردوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے، جب کہ ریاستی حکومت نے محکمہ تعلیم کے قابل اطلاق سروس رولز کی بنیاد پر تادیبی کارروائی شروع کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مکوکا مقدمے میں گزشتہ چھ ماہ سے مفرور اروند سوڈا گینگ کے رکن اشفاق گرفتار

Published

on

ممبئی مانخورد پولس نے مکوکا کیس میں مطلوب مفرور ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے مانخورد پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 308(5)، 351(3)، 329(3)، 333 اور مہاراشٹر منظم جرائم کنٹرول ایکٹ 1999 (مکوکا) کی دفعات 3(1)، 3(2)، 3(4) کے مقدمے میں مطلوب ملزم اشفاق اےشمس الدین خان عرف ببّو، عمر 39 سال، مقدمہ درج ہونے کے بعد سے فرار تھااسے باقاعدہ گرفتار کیا گیا ۔مذکورہ ملزم گزشتہ چھ ماہ سے گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش تھا ۔ ملزم کے موبائل نمبر کے سی ڈی آر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا تکنیکی تجزیہ کیا جا رہا تھا، جبکہ اس کے رابطے میں موجود افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرکے بھی اس کی تلاش جاری تھی۔ اس کے علاوہ خفیہ مخبروں کو بھی ملزم کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور اس کا سراغ لگانے کی ہدایت دی گئی تھی۔خفیہ مخبر کے ذریعے اطلاع موصول ہوئی کہ مذکورہ ملزم کلیان کے علاقے میں اپنی شناخت چھپا کر رہ رہا ہے۔ اس اطلاع کی بنیاد

پر تکنیکی تجزیے اور مقامی مخبروں کے ذریعے مزید معلومات حاصل کرکے اس کی موجودگی اور رہائش کی جگہ کی تصدیق کی گئی۔پولیس نے اس علاقے میں نگرانی رکھی اور ملزم کو فرار ہونے یا گاڑی کے ذریعے نکل جانے کا موقع نہ دیتے ہوئے پولیس ٹیم نے حکمتِ عملی سے اسے حراست میں لے لیا۔ اسے گرفتار کرکے خصوصی سیشن عدالت، مکوکا کورٹ، ممبئی میں پیش کیا گیا، جہاں معزز عدالت نے 8 دن کی پولیس کسٹڈی ریمانڈ منظور کی ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔یہ قابلِ ذکر کارروائی پولیس کمشنردیوین بھارتی، پولیس جوائنٹ کمشنر منوج کمار شرما، ایڈیشنل پولیس کمشنر (مشرقی علاقائی ڈویژن)دھننجے کلکرنی، ڈپٹی پولیس کمشنر (ایسٹرن ریجن) 01 سمیر کی رہنمائی میں انجام دی گئی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان