Connect with us
Friday,17-April-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں مولانا عمرین رحمانی کی قیادت میں کالے قانون کے خلاف دستخطی مہم کا آغاز

Published

on

(وفا ناہید)
شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی بھس کی وہ چنگاری ہے. جس سے پورا ملک جل رہا ہے. اس کالے قانون کو رد کرنے کے لئے ملک گیر پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے. اس کالے قانون کی منسوخی کے لئے خواتین بھی سڑکوں پر اتر آئی ہیں مگر مرکز کی بی جے پی کی قیادت والی مودی سرکار نے کالے قانون این پی آر ،، این آر سی اور سی اے اے کو رد نہیں کرنا چاہتی ہیں. اس کالے قانون کے خلاف احتجاج پر تشدد بھی ہوگیا. حکومت وردی دھاری غنڈے جو عوام کی حفاظت کے لئے ہوتے ہیں انہوں نے جامعہ کے طلبہ و طالبات کے ساتھ وہ مارپیٹ , توڑ پھوڑ اور پبلک پراپرٹی کو آگ لگانے جیسے قبیح فعل میں ملوث تھے. یونیورسٹی کی وہ بچیاں جو احتجاج کی صورت میں اپنا جمہوری حق استعمال کررہی تھی. انہیں بھی بیدردی سے پیٹا گیا . آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور فائرنگ کی گئی. پولس کے اس تشدد کے بعد یہ تحریک پورے ملک میں زور پکڑتی گئی. آج ملک کے کونے کونے سے احتجاج درج کیا جارہا ہے اس کالے قانون کو لیکر ملک میں سب سے پہلے کالجیس کے طلبہ و طالبات نے محاذ سنبھالاتھا . اس تحریک کی چنگاری تحریکی شہر مالیگاوں میں بھی وارد ہوئی ۔ یہاں بھی مردوں کے بعد خواتین نے اپنا تاریخی درج کراکر حکومت کو بتایا کہ خواتین کسی بھی معاملے میں مردوں سے کم نہیں ہیں. آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے دستور ہند بچاؤ کمیٹی کے زیر اہتمام حجاج کرایا تھا. اپنی اس تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا عمرین محفوظ رحمانی کی قیادت میں آج مورخہ 10 جنوری 2020 کو نماز جمعہ کے بعد شہر بھر کے الگ الگ مقامات پر مرکزی حکومت کے کالے قانون کے خلاف دستخطی مہم کا آغاز کردیا ہے ۔ اس دستخطی مہم میں شہریان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ دستخطی مہم میں مقامی جمیعت العلما کے فعال رکن مولانا عبد القیوم قاسمی نے بھی سرگرمی سے حصہ لیا ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ڈھونگی بابا ڈنڈوشی سے گرفتار، گھریلو اور زندگی مسائل حل کی آڑ میں بابا کرشماتی شبیہ بنا کر لوگوں کو بے وقوف

Published

on

arrested-

ممبئی سے ایک حیرت انگیزمعاملہ سامنے آیا ہے جہاں توہم پرستی اور تانترک رسومات کے نام پر لوگوں کو متاثر کرنے والے ایک نام نہاد ’بابا‘ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ ممبئی کے ڈنڈوشی پولیس اسٹیشن نے ردھم پنچال (37) نامی ایک شخص کو گرفتار کیا ہے، جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک کرشماتی کارکن ہے اور وہ لوگوں کے مسائل حل کرسکتا ہے۔
یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس بابا نے شمشان کی راکھ، بکرے کا جگر، لیموں، اگربتی اور کمکم (سندور) کا استعمال کرتے ہوئے عجیب اور خوفناک تانترک رسومات ادا کیں۔ وہ لوگوں کے لیے ایک پراسرار ماحول پیدا کرتا تھا۔ پوجا کے بعد، وہ ان سے تمام سامان کو سرخ کپڑے میں باندھ کر ایک ویران چوراہے پر رکھنے کو کہتا، جس سے لوگوں میں خوف اور یقین دونوں پیدا ہوتا تھا۔
سب سے زیادہ متعجب بات یہ ہے کہ پوجا کے دوران بابا ایک “دیوی” کے نمودار ہونے کا دعویٰ کرتا تھا ۔ اس مبینہ حالت میں، وہ لوگوں کے مسائل کا حل پیش کرتا، دھیرے دھیرے ایک “کرشماتی شبیہ ” تیار کرتا، اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے مسائل لے کر اس سے رابطہ کرنے لگی۔تقریباً چھ ماہ تک یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن بابا کی حرکتیں محلے والوں کو پریشان کرنے لگیں۔ رات کے وقت مشتبہ سرگرمیاں، عجیب و غریب چیزیں، اور بڑھتے ہوئے ہجوم نے مقامی باشندوں کو پریشان کر دیا۔ آخرکار پڑوسیوں نے ہمت کی اور پولیس میں شکایت درج کرائی شکایت ملنے پر ممبئی پولیس حرکت میں آگئی اور تحقیقات شروع کردی۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ بابا توہم پرستی پھیلا نے کے لیے لوگوں کے جذبات اور مسائل کا استحصال کر رہا تھا۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے 19 اپریل تک پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔ پولیس اب اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ اس پورے معاملے میں اور کون کون ملوث ہے اور اس نام نہاد بابا نے کتنے لوگوں کو پھنسا رکھا ہےیہ کیس ایک بار پھر معاشرے میں توہم پرستی کے فروغ اور اس کے خطرناک اثرات کو منظر عام پر لاتا ہے۔ جہاں لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے سائنس اور قانون کی بجائے جھوٹے کرشمات پر انحصار کرتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : روہیت شیٹی فائرنگ کیس میں ۱۵ویں گرفتاری نشاندہی کرنے والا شوٹر گرفتار، مزید گرفتاریوں کا امکان

Published

on

ممبئی: جوہو میں فلم ساز روہیت شیٹی کی رہائش گاہ کے باہر فائرنگ کے واقعے میں ایک اہم پیش رفت میں، ممبئی پولیس نے اس معاملے میں 15 ویں ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم کی شناخت پردیپ کمار کے نام سے ہوئی ہے، فلمساز روہت شیٹی کی رہائش گاہ کے باہر فائرنگ کے سلسلے میں مطلوب ملزم و ماسٹر مائنڈ شوبھم لونکر گینگ سے وابستہ شوٹر ہے۔ اسے اتر پردیش اسپیشل ٹاسک فورس (یو پی ایس ٹی ایف ) اور ممبئی کرائم برانچ کے مشترکہ آپریشن میں آگرہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔تفتیش کاروں کے مطابق، حال ہی میں گرفتار ملزم گولو پنڈت، جس نے مبینہ طور پر شوٹروں کو بھرتی کیا تھا، نے غیر قانونی حوالا نیٹ ورک کے ذریعے فنڈز حاصل کیے تھے۔ مبینہ طور پر یہ رقم نیپال، دہلی اور اتر پردیش کے راستے اس جرم کو انجام دینے میں استعمال ہونے سے پہلے بھیجی گئی تھی۔پردیپ کمار کی گرفتاری کی تصدیق ممبئی کرائم برانچ نے کی ہے اس نے ہی روہیت شیٹی فائرنگ کے دیگر شوٹر وں کی مدد کی تھی اور جائے وقوع کی نشاندہی کی تھی یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم لکمی گوتم اور ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے یہ کیس کی تفتیش انسداد ہفتہ وصولی دستہ کر رہا ہے بشنوئی گینگ کے اب تک ۱۵ ملزمین کو گرفتار کیا جاچکا ہے یہ تمام شوبھم لونکر کے رابطہ میں تھے اور اس سے ہی ہدایت حاصل کرتے تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

عید الاضحی سے قبل دیونار سلاٹر ہاؤس میں سہولیات اور سیکورٹی کا ابوعاصم اعظمی کا مطالبہ

Published

on

Abu-Asim-Azim

ممبئی : عید الاضحی کے پیش نظر سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے دیونار سلاٹر ہاؤس کے جنرل منیجر ڈاکٹر کلیم پاشا پٹھان سے ملاقات کی اور شہریوں اور تاجروں کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے ایک میمورنڈم پیش کیا۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ عیدالاضحی سے قبل بروقت واضح پالیسی کا اعلان کیا جائے اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے۔ اعظمی نے مطالبہ کیا کہ قربانی کا گوشت لے جانے والے شہریوں کو پولیس چوکیوں پر غیر ضروری طور پر ہراساں نہ کیا جائے اور اس کو یقینی بنانے کے لیے سخت ہدایات جاری کی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جانوروں کی انٹری فیس معاف کی جائے اور پارکنگ فیس معاف کی جائے۔ انہوں نے مانسون کے پیش نظر 24/7 ویٹرنری ٹیم، پینے کے صاف پانی، صفائی کے اضافی عملے، ٹرالیوں کی تعداد میں اضافے اور نکاسی آب کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ مطالبات میں تاجروں سے ہفتہ وصولی روکنے کے لیے پولیس کی تعیناتی، 10 سال سے کم عمر بچوں کے داخلے پر پابندی اور تعطل کا شکار جدید کاری کے منصوبوں کو فوری طور پر دوبارہ شروع کرنا شامل تھا۔ تجاویز میں شدید گرمی اور بارش سے بچاؤ کے لیے شیڈز میں پانی کے چھڑکاؤ اور مناسب روشنی کی تنصیب شامل تھی۔ اعظمی نے واضح کیا کہ سالانہ انتظامی تاخیر سے عوام میں الجھن پیدا ہوتی ہے، جسے اس سال بروقت حل کیا جانا چاہیے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان