Connect with us
Sunday,06-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

پیٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کی بڑھتی قیمتوں پر مودی سرکار کے خلاف مالیگاؤں کانگریس کا بیل گاڑی مورچہ

Published

on

malrgaon-bail-gadi-morcha

مالیگاؤں : (نامہ نگار )
ملک بھر پیٹرول ڈیزل کے بڑھتے داموں پر ہاہاکار مچی ہوئی ہے ۔دام آسمانوں کو چھو رہے ہیں ۔پیٹرول سو روپے کے قریب پہنچ گیا ہے اور ڈیزل 78 کے پار ہوا ہے ۔اسی طرح رسوئی گیس اور میٹھے تیل کا دام بھی بڑھتا جارہا ہے ۔جبکہ مودی سرکار نے کہا تھا کہ اب عوام کو دھواں کرنے کی نوبت نہیں آئے گی انہیں ہم گیس فراہم کررہے ہیں لیکن گیس کے دام بھی بڑھ رہے ہیں ۔اسکے علاوہ کسان قانون سے ملک میں افراتفری پیدا ہوگئی ہے ۔مودی سرکار تانا شاہی کررہی ہے ۔عوام کی کوئی بات سن نہیں رہی ہے ۔مودی سرکار کو کسان مخالف کالا قانون واپس لینا چاہیے ۔پیٹرول اور ڈیزل کے داموں کو کم کرنے کے لئے حکومت کو مثبت فیصلہ لینا چاہئے ۔جب کانگریس کی سرکار تھی تو گیس، پیٹرولیم مصنوعات کو سستے داموں عوام تک پہنچانے کا کام ہماری کانگریس سرکار نے کیا ہے ۔اسطرح کے تفصیلی جملوں کا اظہار آج سابق میئر شیخ رشید نے کانگریس رابطہ آفس ہزار کھولی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا ۔انہوں نے مرکزی سرکار کی مذمت کی ۔اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ بڑتھے داموں کو کم کرے ۔اسکے لئے مودی سرکار کے خلاف 25 فروری جمعرات کو ساڑھے تین بجے قانون کے دائرے میں کورونا کی تمام احتیاطی تدابیر میں ماسک، سوشل ڈسٹنسنگ کے ساتھ یہ بیل گاڑی پر مورچہ نکالا جائے گا ۔جس کی قیادت شیخ رشید و طاہرہ شیخ کریں گے ۔بیل گاڑی پر موٹر سائیکل، گیس کا چولہا ساتھ لیکر احتجاج کریں گے ۔یہ احتجاجی جلوس مالیگاؤں کانگریس کمیٹی قدوائی روڈ سے نکل کر پرانت آفس تک پہنچ کر اپنا میمورنڈم پیش کریں گا ۔اس مورچے میں صرف ہم پانچ افراد شامل ہونگے ۔بیل گاڑی پر شیخ رشید اور میئر طاہرہ شیخ سوار ہونگے جبکہ بقیہ تین لوگ سائیکل پر ہونگے ۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ پولس والے اتنی ہمت نہیں کرسکتے کہ وہ آمدار کے سامنے ایک کارپوریٹر پر ہاتھ اٹھائیں ۔یہ ہوسکتا ہے کہ اس معاملے میں خود آمدار کی مرضی شامل ہو ۔اس پریس کانفرنس میں مزید ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ مہا گٹھ بندھن کے کارپوریٹر تنویر ذوالفقار پر جس طرح پولس نے ایم ایل اے کی موجودگی میں طمانچہ رسید کیاوہ افسوس ناک ہے ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولس اور ایم ایل اے ملے ہوئے ہیں اور کیا پتہ خود ایم ایل اے نے کارپوریٹر پر ہاتھ اٹھانے پولس سے کہا ہوگا ۔یا ایم ایل اے میں قیادت کا فقدان ہے ۔شیخ رشید نے کہا کہ ہمارا ان سے اختلاف ضرور ہے ۔لیکن یہ انکا نجی معاملہ ہے ۔مہا گٹھ بندھن میں ہمیشہ لڑائی، ہجت تکرار ہوتے رہتی ہیں پھر بعد میں سب مل جاتے ہیں۔شیخ رشید نے کہا کہ متحدہ محاذ پانی کا ایک بلبلہ ہے ۔انہوں نے ایم ایل اے کی کارکردگی پر پوچھے گئے سوال پر کہا کہ انہیں کام کرنا آتا ہی نہیں ہے ۔انکے ماننے والے لوگ ہمارے پاس آکر ہم سے کام کرواتے ہیں جب ہم انہیں کہتے ہیں کہ آپ لوگ ایم ایل اے کو بولو تو وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ صاحب ایم ایل اے کو کام کرنا نہیں آتا ۔شیخ رشید نے کہا کہ جب انہیں کام کرنا نہیں آتا تو پھر ووٹ دیکر انہیں منتخب کیوں کرتے ہیں؟ موصوف نے کہا کہ ہم کام کرنے والے لوگ ہیں۔ہمارے سامنے اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعت ایک ساتھ مل کر الیکشن لڑے گی لیکن ہم عوام کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے والے ہیں کیونکہ ہمارا کام زمین پر نظر آرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتہ آگرہ روڈ کی تعمیر کے لئے ورک آرڈر جاری ہوگا اور شہر دیکھے گا کہ کام کرنے والے کون لوگ ہیں ۔موصوف نے کہا کہ NULM مرکزی سرکار کی اسکیم سے سول اسپتال کے پاس بچوں اور عورتوں کے لئے جو چالیس کروڑ روپے اسپتال کیلئے منظور ہے وہ ہمارے دور کا کام ہے ۔اسوقت اس اسکیم کو سابق ایم ایل اے آصف شیخ اور کانگریس پارٹی کے اقتدار میں کیا گیا ہے ۔ شہر کا موجودہ ایم ایل اے صرف عوام کو گمراہ کررہا ہے ۔ شیخ آصف کے پارٹی چھوڑنے پر شیخ رشید نے کہا کہ میں نے شیخ آصف کو سمجھایا لیکن وہ نہیں مانا ۔موصوف نے کہا کہ ہمارا گھر ایک ہے، خاندان ایک ہے ہم سب مل جل کر ساتھ میں ایک چھت کے نیچے رہ رہے ہیں ۔ہمارا سیاسی نظریہ الگ ہوا ہے لیکن خاندان ایکساتھ ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

سیاست

شیو سینا یو بی ٹی غیر مراٹھی لوگوں کو مراٹھی سکھانے کی مہم شروع کرے گی، زبان کے نام پر ایم این ایس پر تشدد کی مذمت، بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام۔

Published

on

UBT-Anand-Dubey

ممبئی : مہاراشٹر میں ‘زبان’ کا تنازع ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں کے ذریعہ غیر مراٹھی لوگوں کی مسلسل پٹائی کے معاملے پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کارکنوں سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ اس لیے اب شیو سینا (یو بی ٹی) لوگوں کو مراٹھی سکھائے گی۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ خبریں آرہی ہیں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن غیر مراٹھی بولنے والوں پر حملہ کررہے ہیں۔ وہ اس کی توہین کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسے مراٹھی نہیں آتی۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہاں روزگار کی تلاش میں آئے ہوں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مراٹھی کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے سیکھیں گے؟ انہیں کون سکھائے گا؟ پھر ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ہم انہیں پڑھائیں گے۔ اس کے لیے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو لوگوں کو مراٹھی زبان سکھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے مہاراشٹر میں لوگوں کو مراٹھی سکھانے کا نعرہ بھی دیا گیا ہے۔ ایم این ایس والے لوگوں کی توہین کریں گے اور مار پیٹ کریں گے۔ لیکن ہم انہیں پیار سے مراٹھی زبان سکھائیں گے۔ یہی فرق ہے ان کی اور ہماری ثقافت میں۔ اس مہم کے تحت ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ آنند دوبے نے مراٹھی پڑھانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مراٹھی بولنے والوں کو مراٹھی سکھانے کے فیصلے کو ووٹ بینک کی سیاست کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی غریب کو زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے انہیں مراٹھی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ میں مہاراشٹر نو نرمان سینا سے بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے مراٹھی سکھانے پر توجہ دیں۔

انہوں نے بی جے پی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو مارتی ہے اور پھر ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور ان کے ووٹ لیتی ہے۔ یوپی، بہار اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور یہاں اگر کوئی غیر مراٹھی مارا پیٹا جائے تو یہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے۔

Continue Reading

سیاست

وقف ترمیمی بل پر بہار میں ہنگامہ۔ اورنگ آباد میں جے ڈی یو سے سات مسلم لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا۔

Published

on

JDU-leaders

اورنگ آباد : وقف بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کو بہار میں مسلسل دھچکے لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جے ڈی یو کو اورنگ آباد میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بل سے ناراض ہو کر اورنگ آباد جے ڈی یو کے سات مسلم لیڈروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کی بنیادی رکنیت اور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں جے ڈی (یو) کے ضلع نائب صدر ظہیر احسن آزاد، قانون جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ اطہر حسین اور منٹو شامل ہیں، جو سمتا پارٹی کے قیام کے بعد سے 27 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔

اس کے علاوہ پارٹی کے بیس نکاتی رکن محمد۔ الیاس خان، محمد فاروق انصاری، سابق وارڈ کونسلر سید انور حسین، وارڈ کونسلر خورشید احمد، پارٹی لیڈر فخر عالم، جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ضلع نائب صدر مظفر امام قریشی سمیت درجنوں حامیوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کی اور جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کی حمایت کرنے والے نتیش کمار اب سیکولر نہیں رہے۔ اس کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار اپاہج ہو گئے ہیں۔

ان لیڈروں نے کہا کہ جس طرح جے ڈی یو کے مرکزی وزیر للن سنگھ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پر اپنا رخ پیش کر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے بی جے پی کا کوئی وزیر بول رہا ہو۔ وقف ترمیمی بل کو لے کر جمعیۃ العلماء ہند، مسلم پرسنل لا، امارت شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وقف ترمیمی بل پر کچھ کہا۔ انہوں نے وہپ جاری کیا اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کی حمایت حاصل کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب جے ڈی یو کو مسلم لیڈروں، کارکنوں اور مسلم ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں ضلع جنرل سکریٹری ظہیر احسن آزاد نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں سمتا پارٹی کے آغاز سے ہی پارٹی کے سپاہی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ جب جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں 12 ایم پیز کے ساتھ جنتا دل جارج کی تشکیل ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب سمتا پارٹی بنی تو مجھے ضلع کا خزانچی بنایا گیا۔ اس کے بعد جب جنتا دل یونائیٹڈ کا قیام عمل میں آیا تو میں ضلع خزانچی تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بہار اسٹیٹ جے ڈی یو اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھی مجھے ضلعی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے میں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا تھا لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ جے ڈی یو اب سیکولر نہیں ہے۔ للن سنگھ اور سنجے جھا نے بی جے پی میں شامل ہو کر پارٹی کو برباد کر دیا۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پورا بھروسہ تھا کہ جے ڈی یو وقف بل کے خلاف جائے گی لیکن جے ڈی یو نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑا اور خیانت کی اور وقف بل کی حمایت کی۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرا استعفیٰ منظور کر لیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com