Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

پیاز کی برآمد پر پابندی سے ناراض مہاراشٹر حکومت، پابندی کو ختم کرنے کے لئے مرکز کو خط لکھیں گے ادھو

Published

on

مرکزی حکومت کی جانب سے پیاز کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کرنے کو لے کر بدھ کے روز مہاراشٹر میں مظاہرے کیے گئے۔ وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے برآمدات پر عائد پابندی ختم کرنے کے لئے مرکز کو خط لکھنے کی بات کہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مہاراشٹر حکومت میں اتحادی جماعتیں کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس نے مرکز کے اس اقدام کو ‘کسان مخالف’ اور ‘مہاپاپ’ اور ‘ناانصافی بھرا قدم ‘ قرار دیا ہے۔ ریاستی وزیر اعلی کے دفتر میں ایک سرکاری بیان میں بدھ کے روز کہا، ” ریاستی وزراء کے ذریعہ مرکزی حکومت کے پیاز کی برآمد پر پابندی عائد کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے کابینہ کے اجلاس میں مرکزی حکومت کو اس بارے میں خط لکھنے کی بات کہی۔”
ریاست کی مخلوط حکومت میں اتحادی پارٹی کے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے لیڈر اور نائب وزیر اعلی اجیت پوار، نے مرکز کے فیصلے کو ‘کسان مخالف’ اور ان پر دباؤ بنانے کے لئے ‘مہاپاپ ‘ قرار دیا۔ این سی پی ہیڈکوارٹر ایک میٹنگ میں، پوار نے کہا، ‘مرکزی حکومت نے ایسے وقت میں پیاز کی برآمد پر پابندی عائد کردی ہے جب کسانوں کو اچھی قیمت مل رہی تھی۔ یہ سراسر غلط ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ مرکزی حکومت کسان مخالف رویہ اپنارہی ہے۔ انہوں نے کہا، “پیاز کے کاشت کار پہلے ہی کوویڈ ۔19 کا سامنا کر رہے ہیں اور اب مرکزی حکومت نے پیاز کی برآمد پر پابندی لگا کر ان پر مزید دباؤ ڈالنے کا “مہاپاپ” کیا ہے۔”
ریاست کی مخلوط حکومت کی ایک اور اتحادی کانگریس نے مرکز کے فیصلے پر ریاست بھر میں مظاہرے کیے۔ پردیش کانگریس کے صدر اور مہاراشٹر کابینہ کے بالاصاحب تھورات نے کہا کہ برآمدات پر پابندی کے باعث پیاز کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کسانوں کو اس ‘ناانصافی’ سے نکالنے کے لئے لڑائی لڑے گی۔ پارٹی کا احتجاج مرکزی حکومت فیصلے کو واپس لینے تک
تک جاری رہے گا. تھورات نے کہا کہ مرکزی حکومت کے اس فیصلے کی وجہ سے پیاز کی قیمتیں 700 سے 800 روپے فی کوئنٹل گر چکی ہیں۔ ریاست میں کسانوں کو سیلاب اور طوفان کی وجہ سے بہت زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ریاستی حکومت ان کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔ لیکن مرکزی حکومت کسی طرح کا تعاون نہیں کررہی ہے۔
مہاراشٹر پیاز کی پیداوار کے لئے ایک بڑی ریاست ہے۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلے کا اثر یہاں کے کسانوں کو بہت زیادہ پڑے گا۔ ریاستی پرنسپل سکریٹری انوپ کمار نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ 2018-19 میں ریاست سے 21.83 لاکھ ٹن پیاز برآمد کیا گیا تھا۔ جبکہ 2019-20 میں یہ تعداد 18.50 لاکھ ٹن رہی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com