Connect with us
Friday,17-July-2026

(جنرل (عام

مدارس کے ذمہ داران سرکار کی گائیڈ لائن کے مطابق تعلیمی سلسلے کو شروع کرسکتے ہیں، ڈی ایم سہارنپور

Published

on

(اسلامک میڈیا)
دیوبند
کروانا وائرس جیسی مہلک بیماری کی وجہ سے بند پڑے مدارس کو پھر سے کھولے جانے کیلئے آج دارالعلوم دیوبند اور مظاہرعلوم سہارنپور کے ذمہ داران کا ایک وفد ڈی ایم سہارنپور سے انکی رہائش گاہ پر ملاقات کی، دوران گفتگو دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم حضرت مولانا عبد الخالق صاحب مدراسی نے پوچھا کہ مدارس میں تعلیم شروع کر نے کے تعلق سے سر کار کی کیا گائیڈ لائن ہے، اس پر ڈی ایم صاحب نے کہا کہ ابھی اس سلسلے میں سرکار کی جانب سے مزید ہدایات آنا باقی ہے، اس وقت تک آپ لوگ اپنے یہاں کوڈ19 کے پیش نظر سرکار کی جانب سے جو ہدایات جاری کی گئی ہیں اس کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے کی تیاری کریں، مظاہرعلوم سہارنپور کی جانب سے نمائندگی کر رہے مولانا فرید مظاہری نے ڈی ایم سے معلوم کیا کہ تعلیم دینے کا طریقہ کیا رہے گا تو اس پر ڈی ایم سہارنپور نے جواب دیا کہ شوشل ڈسٹینشنگ کے مطابق انہیں تعلیم دی جائے گی اور ماسک کا استعمال کرایا جائے گا ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ اپنے یہاں تعلیمی سال کا آغاز کرسکتے ہیں، لیکن ابھی کچھ احکامات آنے باقی ہیں، پھر مولانا مدراسی صاحب نے دوران گفتگو معلوم کرنے پر ڈی ایم نے کہا کہ طلبہ اپنے والدین اور ذمہ داروں سے یقینی طور پر اجازت لے کر آئیں بغیر اس کے نہ آئیں مولانا مدراسی نے پھر معلوم کیا کہ ہم طلبہ کو بلانے کا کب اعلان کریں تو ڈی ایم نے کہا کہ اس سلسلہ میں ابھی دو چار روز اور انتظار کرلیا جائے جب تک آپ لوگ تیاری کریں ، مزید ڈی ایم اکلیش سنگھ نے یہ بھی کہا کہ دارالاقامہ میں شوشل ڈسٹینسگ کے ساتھ جتنے طلبہ کو رکھا جاسکتا ہے اتنے ہی طلبہ کو بلانے کا اعلان کیا جائے
اس وفد میں دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبد الخالق صاحب مدراسی، استاذ دارالعلوم دیوبند مولانا ذاکر ، مولانا مرتضی اور مظاہرعلوم سہارنپور سے مولانا ساجد کاشفی مولانا عبد اللہ خالد قاسمی مولانا مفتی شعیب احمد موجود تھے-

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

(جنرل (عام

آئی ایم اے نے اعلان کیا کہ 20 جولائی کو مہاراشٹر کے اسپتالوں میں او پی ڈی بند رہیں گی۔

Published

on

Doctor

ممبئی : انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) نے مہاراشٹر کے ڈومبیولی میں شاستری نگر میونسپل اسپتال میں ڈاکٹروں پر پرتشدد حملے کے خلاف احتجاج میں ایک دن کی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس مدت کے دوران معمول کی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات متاثر ہوں گی۔ آئی ایم اے نے کہا کہ ڈومبیولی کے شاستری نگر میونسپل اسپتال میں ڈاکٹروں، نرسوں اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں پر وحشیانہ اور پرتشدد حملے نے طبی برادری میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ کو جنم دیا ہے۔ اپنے فرائض سرانجام دینے والے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کے خلاف تشدد صرف افراد پر حملہ نہیں ہے بلکہ پورے صحت کے نظام پر حملہ ہے۔

اس سنگین واقعہ کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے، انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) ریاست مہاراشٹر نے ریاست بھر میں تمام معمول کی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کو 24 گھنٹے کے لیے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہڑتال 20 جولائی کی صبح 6:00 بجے سے 21 جولائی کی صبح 6:00 بجے تک جاری رہے گی۔ اس مدت کے دوران، تمام روٹین آؤٹ پیشنٹ خدمات بند رہیں گی۔ انتخابی سرجری اور معمول کی طبی خدمات معطل کر دی جائیں گی۔ ہنگامی خدمات، انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یوز)، زچگی کی خدمات، اور زندگی بچانے والے تمام علاج بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں گے۔ اس احتجاج کو ایلوپیتھک، آیورویدک، ہومیوپیتھک، اور طب کے دیگر نظاموں کے ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ مختلف طبی ایسوسی ایشنز، نرسنگ ایسوسی ایشنز، پیرا میڈیکل اسٹاف، ہیلتھ کیئر ورکرز، اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبے سے وابستہ متعدد تنظیموں کی حمایت حاصل ہوگی۔

قابل ذکر ہے کہ 8 جولائی کو ڈومبیولی کے شاسترینگر میونسپل اسپتال کے ڈاکٹروں نے ایک نوزائیدہ بچے کے اہل خانہ کو بچے کو دوسرے اسپتال لے جانے کا مشورہ دیا تھا کیونکہ نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹ میں بستر دستیاب نہیں تھے۔ اس سے ناراض ہو کر اہل خانہ نے مبینہ طور پر کارپوریٹر رمیش مہاترے سے رابطہ کیا جو اپنے حامیوں کے ساتھ اسپتال پہنچے۔ ایک وائرل ویڈیو میں کارپوریٹر کو اسپتال کے احاطے میں ایک ڈاکٹر پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس سے سیاسی تنازعہ چھڑ گیا ہے، دو ڈاکٹروں کے مستعفی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

وندے ماترم کا نعرہ لگانے والوں کا احترام کیا جانا چاہیے اور جو نہیں کرتے ان کا بھی حق ہونا چاہیے : سید عباس نقوی

Published

on

Syed Saif Abbas Naqvi

لکھنؤ : شیعہ عالم سید سیف عباس نقوی نے وندے ماترم کے قانون کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ وندے ماترم کہنے یا نہ کہنے کے کسی شخص کے حق کا احترام کیا جانا چاہئے۔ خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے شیعہ عالم سید سیف عباس نقوی نے کہا، “وندے ماترم کو ایک مسئلہ بنانا اور لوگوں کو یہ کہنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرنا ہمارے آئین کی روح کے خلاف ہے، میرے خیال میں۔ آئین تعلیم اور آزادی کی بات کرتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ وندے ماترم کہنے والوں کا احترام کیا جانا چاہئے لیکن جو نہیں مانتے ان کے حقوق کا بھی احترام کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی کو بھی قومی علامتوں کی توہین نہیں کرنی چاہیے۔

حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ملک میں بہت سے ایسے مسائل ہیں جن پر سخت قوانین اور فوری کارروائی کی ضرورت ہے، لیکن سیاسی بحثیں اکثر مذہبی مسائل کی طرف منتقل ہو جاتی ہیں، جس سے معاشرے میں تقسیم بڑھ رہی ہے۔ سید سیف عباس نقوی نے جھارکھنڈ سے ایک وائرل ویڈیو پر بھی اپنا اعتراض ظاہر کیا جس میں مولانا جرجیس انصاری نے مبینہ طور پر بھگوان کرشن کو مسلمان اور نماز ادا کرنے والا بتایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بیان اور ویڈیو دیکھی ہے اور یہ “بدقسمتی اور قابل مذمت ہے۔” کسی بھی مذہب کے عقائد اور عقائد کو ٹھیس پہنچانے والے بیانات نہیں دیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یوگا اور نماز کا موازنہ کرنا اور بھگواد گیتا کے تناظر میں اس طرح کے تبصرے کرنا نامناسب ہے۔ انہوں نے مولانا جرجیس انصاری سے اپیل کی کہ وہ اپنا بیان واپس لیں اور معافی مانگیں۔

دریں اثنا، اسلامک سینٹر کے چیئرمین مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کولکتہ ایئرپورٹ پر 136 سال پرانی بنکارہ مسجد میں داخلے پر پابندی کے معاملے پر ردعمل دیا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے کئی ممالک کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کے لیے الگ الگ نماز کے کمرے اور نماز کی سہولیات موجود ہیں۔ ہندوستان کے بہت سے ہوائی اڈوں پر بھی ایسی سہولیات موجود ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ مسافروں کو تکلیف نہ ہو اور وہ مقررہ مقامات پر مذہبی سرگرمیاں انجام دے سکیں۔ مولانا خالد رشید نے کہا کہ کولکتہ ایئرپورٹ کے احاطے میں واقع مسجد کو گرانے یا وہاں نماز پر پابندی لگانے کا مطالبہ آئین کی روح کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی مذہبی مقام کو ہٹانا یا مذہبی شناخت سے متعلق معاملات پر یکطرفہ کارروائی کرنا معاشرے میں غلط پیغام جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس طرح کے فیصلوں سے مسلمانوں کی شناخت کے بارے میں تشویش پیدا ہوتی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ہائی کورٹ نے دہلی فسادات کے ملزم شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔

Published

on

نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کو بھڑکانے کی سازش کے ملزم شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر دہلی پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔ امام کی طرف سے دائر مجرمانہ اپیل پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے دہلی پولیس کو جواب داخل کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔ اس کے بعد درخواست گزار کے پاس جواب داخل کرنے کے لیے دو ہفتے ہوں گے۔ شرجیل امام کے وکیل احمد ابراہیم نے کہا کہ عدالت نے ان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے اپنا موقف پیش کرنے کو کہا ہے۔ اگلی سماعت 27 اگست کو ہوگی۔

شرجیل امام کے وکیل نے وضاحت کی کہ ان کی ضمانت کے دلائل بنیادی طور پر دو بنیادوں پر ہیں۔ پہلی بنیاد سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے متعلق ہے جس میں ضمانت کے اصولوں اور طویل حراست کے معاملات میں راحت دینے کی دفعات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں بھی وہی اصول لاگو کیے جائیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ عدالت نے طویل عرصے سے جیل میں بند ملزمان کے ٹرائل میں تاخیر سے متعلق رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔ وکیل کے مطابق، شریک ملزم تسلیم احمد کو دہلی ہائی کورٹ نے اسی بنیاد پر عبوری ضمانت دی تھی، اور یہی اصول شرجیل امام کے کیس پر بھی لاگو ہونے چاہئیں۔

وکیل نے مقدمے کی سست رفتار کو ایک اور وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کی کارروائی کافی عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔ جنوری میں سپریم کورٹ نے ہدایت کی تھی کہ مقدمے کی سماعت ایک سال کے اندر مکمل کی جائے یا محفوظ گواہوں کی شہادتیں قلمبند کی جائیں لیکن ابھی تک اس مقدمے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان