جرم
اردو، ہندی اور انگریزی کے معروف صحافی ریاض عظیم آبادی کا حرکت قبل کے سبب انتقال
اردو، ہندی اور انگریزی کے معروف صحافی اور منفرد شناخت رکھنے والے ریاض عظیم آبادی کا کل دیر رات دل کا دورہ پڑنے کے سبب ان کی رہائش گاہ پر انتقال ہوگیا۔ان کی عمر تقریباً 70 سال تھی۔ پسماندگان میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ان کی نماز جنازہ آج بعد نمازعصر سڈنی گراؤنڈ میں ادا اور چھوٹی متھنی قبرستان میں تدفین عمل میں آئے گی۔
خاندانی ذرائع کے مطابق تقریباً نصف صدی سے بہار کی ہندی، انگریزی اور اردو صحافت میں ایک منفرد حیثیت سے جانے اور پہچانے جانے والے مشہور و معروف صحافی ریاض عظیم آبادی کا کل رات ساڑھے نو بجے ان کی رہائش گاہ پر حرکت قلب بند ہوجانے کے سبب انتقال ہوگیا۔۔ مرحوم ریاض عظیم آبادی نے پٹنہ یونیورسیٹی سے گریجویشن، لائگریجویٹ اور جرنلزم میں ڈپلوما حاصل کیا تھا۔ انہوں نے ہفتہ وار مسائل سے اپنے صحافتی کیرئیر کی شروعات کی تھی وہ اس میں بطور رپورٹر اور مینجنگ ایڈیٹر 1968 سے 1974 تک منسلک رہے۔ بعد میں یہ ہفتہ وار کمیونسٹ پارٹی کا اخبار بن گیا۔ 1974 سے 1977 تک سیکولر ڈیموکریسی، نئی دہلی کے علاقائی نمائندہ رہے۔
مسٹر ریاض عظیم آبادی نے 1977 سے 1986 تک شہرہ آفاق ہفتہ وار بلٹز کے بہار کے نمائندہ کی حیثیت سے اپنی خاص پہچان بنائی۔ 1991 سے 2000 تک دینک جاگرن کے بیورو چیف کی حیثیت سے خدمت انجام دیا۔ 2001 سے 2002 تک انڈین نیشن اورآریہ ورت سے جڑے رہے۔ 2002 سے 2005 تک سرس کرائم رپورٹر کے ایڈیٹر رہے۔ 2007 میں انہوں نے اپنا پندرہ روزہ سیکولر محاذ نکالا۔ سال 1994 میں ٹائمس فیلو شپ سے نوازہ گیا۔ ان کا موضوع تھا. Impact of Urdu Journalism on Muslim psyche اور Communal Riot in Bihar (under proses) تھا۔ وہ کئی سماجی و ملی اداروں سے بھی وابستہ تھے۔ کئی سالوں تک وہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (بہار چیپٹر) کے جنرل سکریٹری بھی رہے۔ 2016 میں بہار اردو اکادمی نے انہیں غلام سرور صحافتی ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔
ان کے سانحہ ارتحال پرسیاسی، سماجی، مذہبی اور صحافی برادری کے سرکردہ شخصیات کے علاوہ اظہار تعزیت کرنے والوں میں جمعیتہ علماء بہار کے ناظم اعلیٰ الحاج حسن احمد قادری، جماعت اسلامی ہند بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی، امارت شرعیہ بہار کے قائم مقام ناظم مولانا شبلی القاسمی، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر و سابق وزیر شمائل نبی وسکریٹری جنرل ڈاکٹر انوار الہدیٰ، اردو کونسل ہند کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر اسلم جاوداں، اردو کارواں کے صدر ڈاکٹر اعجاز علی ارشد، نائب صدر پروفیسر صفدر امام قادری، مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی، معروف افسانہ نگار مشتاق احمد نوری و ڈاکٹر مشتاق احمد، اردو مشاورتی کمیٹی کے سابق چیرمین شفیع مشہدی، کانگریسی لیڈر ڈاکٹر شکیل الزماں انصاری، باری اعظمی، کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر اختر الایمان ایم ایل اے، ذیشان کلیم، شکیل احمد خاں ایم ایل اے، اور ڈاکٹر اظہار احمد سابق ایم ایل اے وغیرہ کے نام شامل ہیں۔
جرم
ممبئی : آگری پاڑہ ہائی پروفائل رہائش گاہ میں بڑے پیمانے پر ایم ڈی ڈرگس ریکیٹ کا پردہ فاش، ملزمین کی تفتیش مبینہ بنگلہ دیشی کا بھی شبہ، 51 کروڑ کی ایم ڈی ضبط

ممبئی : ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل ششی کانت جگدالے کی قیادت میں کاندیوالی اے این سی یونٹ نے منشیات سازی کے ایک بڑے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا۔ ملزمین مبینہ طور پر آگری پاڑہ میں ایک ہائی پروفائل رہائشی عمارت کے ایک کمرے میں ایم ڈی ڈرگس تیار کر رہے تھے۔آپریشن کے دوران، پولیس نے تقریباً 51 کروڑ روپے مالیت کا 14 کلو گرام ایم ڈی اور مائع ایم ڈی ضبط کیا۔ پولیس نے ملزمان سے ایک پستول اور 19 زندہ کارتوس بھی برآمد کرلیں۔ اس معاملے میں کل تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔ ان ملزمین میں سے ایک کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ ممبئی شہر میں یہ ملزمین ایم ڈی سازی کیا کرتے تھے۔ ایک ملزم کے پاس سے پستول کی برآمدگی بھی ہوئی ہے۔ اس نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے دستاویزات کی بھی جانچ جاری ہے اور یہ بھی معلوم کیا جارہا ہے کہ آیا یہ مبینہ بنگلہ دیشی تو نہیں ہے۔ ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کہا کہ پولس ہر پہلو پر اس معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔ جبکہ پولس کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ جس میں 51 کروڑ مالیت کی ایم ڈی اور مائع ایم ڈی برآمد کر لی گئی ہے۔ اس نیٹ ورک میں کتنے افراد ملوث ہے, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر اے این سی کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔ جن ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے, ان کی شناخت محمد شعیب شوکت علی منصوری ۳۱ سالہ (یاسمین ٹاور)، سفیان سلیم منصوری ۲۸ سالہ اور رینا اختر دختر اشرف الاسیکدار ۲۲ سالہ کے طور پر ہوئی ہے۔
(جنرل (عام
مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔
سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔
جرم
مغربی بنگال فائرنگ اور بم دھماکہ میں ملوث تین مفرور ملزمین ممبئی سے گرفتار

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ۷ مئی کو مغربی بنگال ہاوڑا میں فائرنگ اور بم دھماکہ میں مطلوب تین ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, مغربی بنگال کے شیبوپور پولس اسٹیشن کی حدود میں فائرنگ کی واردات انجام دی گئی تھی, اس میں مطلوب ملزمین ممبئی کے دیونار ایس آر اے کی بلڈنگ میں روپوش ہے اس بنیاد پر ۲۱ مئی کو کرائم برانچ نے یہاں چھاپہ مار کر تین مفرور ملزمین شمیم احمد عبدالرشید ۴۰ سال، جمیل اختر علی ۴۳ سالہ، آفتاب انور خورشید ۴۴ سالہ کو ممبئی میں گرفتار کر لیا۔ ان مفرور ملزمین پر شیبو پور پولس اسٹیشن میں کئی تقریبا ۵ معاملات بھی درج ہیں, یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
(جنرل (عام10 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
