Connect with us
Monday,28-September-2026

سیاست

کشمیر محفوظ اور امن کی جگہ ہے، ایرانی سفارت خانے کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی کا بیان

Published

on

Dr.-Mohammad-Ali-Rabbani

شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے پٹن کے گنڈ خواجہ قاسم میں جموں وکشمیر پیپلز جسٹس فرنٹ کی جانب سے ایران اور بھارت کے مابین تہذیبی و وراثتی مشترکہ تعلقات کے عنوان سے ایک کانفرنس کا اہتمام کیاگیا۔ منعقدہ کانفرنس میں دہلی میں قائم ایرانی سفارت خانے کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس کانفرنس میں وادی کشمیر اورہندوستان کے دیگر علماء نے بھی شرکت کی۔ پیپلز جسٹس فرنٹ کے چیئرمین آغا سید عباس رضوی بھی موجود رہے۔ کانفرنس میں علماء نے بھارت اور ایران کے درمیان تہذیبی و وراثتی مشترکہ تعلقات پر روشنی ڈالی۔

ایرانی سفارت خانے کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قدیم دور سے ہی ایران اورہندوستان کے درمیان ہمیشہ بہتر تعلقات رہے ہیں اور مستقبل میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات رہیں گے۔ ان روابط اور تعلقات میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اپنے خطاب میں ربانی نے کہا،”ہندوستان میں رہ کر مجھے یہ محسوس ہوا کہ یہاں اہل تشیع محفوظ ہیں جیسا کہ کچھ ممالک میں انسان دشمنی کی تصویریں سامنے آتی ہیں تاہم اس کے برعکس ہندوستان کی انسان دوستی کا واضح ثبوت ہوتاہے۔ ہندوستان میں ہندؤں اور برہمن بھی شعیوں کے ساتھ عزاداری میں حصہ لیتے ہیں یہ مذہبی ہم آہنگی کی عمدہ مثال دنیا کے سامنے نظر آتی ہے”کشمیر سے متعلق ربانی نےکہاکہ یہاں آکر مجھے واقعی لگاکہ یہ محفوظ اور امن کی جگہ ہے یہاں دنیا کے مختلف کے لوگوں کو دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی جو یہاں کی قدرتی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں۔

انہوں نے ایران کے لوگوں کو کشمیر آنے کی گزارش کی تاکہ وہ بھی یہاں کی مہمان نوازی، قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوسکیں۔ ربانی نے کہا،” خدا نے مجھے یہ بہت بڑی توفیق عطا کی کہ ہم سر زمین کشمیر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ لوگوں کی محبت نصیب ہوئی میں رضوی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے کشمیر آنے کی دعوت دی جیسا کہ یہاں کا رسم ورواج ،تمدن و ثقافت ایران کے ساتھ ملتی ہے”اپنے خطاب میں ربانی نے کہاکہ دوسرے ممالک میں انسان ،زبان اور مذہبی دشمنی کے کچھ معاملات رونما ہوتے ہیں جبکہ ہندوستان میں ایسا نہیں دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے کہا،” آپ دیکھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے رشتے پائے جاتے ہیں مگر ہر لحاظ سے جو مضبوط رشتہ ایران اور ہندوستان کے درمیان رہاہے تمدن اور فرہنگ کے لحاظ سے اس کی مثال دوسرے ممالک میں نہیں ملتی ہے۔ ہم نے جواج تک پڑھا ہے اس میں امتیاز کا درس نہیں دیا جاتا تھا کہ یہ شیعہ ہے یہ سنی ہے، سکھ ہے ،ہندو ہے بلکہ باہم رہ کر یہ درس دیاجاتا تھا”تعلیمی روابط سے متعلق ڈاکٹر ربانی نے اپنے خطاب میں ہندوستان کے علمی کمالات کی بھی ذکر کی انہوں نے کہا،” قبل از اسلام نیشاپور کے دانش گاہوں میں طب، نجوم ،فلسفہ اور دوسری تعلیم دی جاتی تھی اس میں ہندوستان سے ہی ماہرین وہاں کے لوگوں کو تعلیم کے نور سے منور کرتے تھے۔بعد از اسلام جن چار چیزوں پر توجہ مرکوز کی گئی ان میں عقل، عرفان ،خطبہ اہل بیت اور ادب واحترام جو ہندوستان اور کشمیر میں خاص پایا جاتاہے۔

“کانفرنس میں آغا سید عباس رضوی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم کشمیری خوش قسمت ہیں کہ ہم ہندوستان میں رہ رہے ہیں جہاں مذہبی، مسلکی آزادی ہے جبکہ ہمسایہ ملک میں یہ آزادی نہیں ہے۔انہوں نے ایران اور ہندوستان کے باہمی تعلقات پر بھی روشنی ڈالی کہاکہ ہندوستان اور ایران ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ خوشی اور غم بلکہ ہر لحاظ سے پیش پیش رہیں۔ اس کے علاؤہ کانفرنس میں دیگر شخصیات نے بھی خطابات دئیے۔ ادھر سمینار سے قبل ڈاکٹر محمد علی ربانی نے سرینگر کے مضافات میں واقع ایچ ایم ٹی میں قائم جموں وکشمیر پیپلز جسٹس فرنٹ کے صدر دفتر کا افتتاح کیا اس موقع پر ڈاکٹر ربانی نے خوشی کا اظہار کیا اور آغا سید عباس رضوی کو مبارکباد پیش کی۔گنڈ خواجہ قاسم میں اس منعقدہ کانفرنس میں کافی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایم آئی ڈی سی کی منشیات کے خلاف بڑی کارروائی، بین الاقوامی اسمگلنگ کے گروہ کا پردہ فاش، 37 کروڑ روپے مالیت کی کیٹامائن کے ساتھ دو ارکان گرفتار

Published

on

ممبئی : ایم آئی ڈی سی پولیس کے اینٹی نارکوٹکس اسکواڈ نے منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے ایک بین الاقوامی گروہ کے دو ارکان کو گرفتار کر کے 12 کلو 390 گرام کیٹامائن برآمد کر لی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس برآمد شدہ منشیات کی مالیت کا تخمینہ 37 کروڑ 97 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔پولیس کے مطابق، 24 ستمبر 2026 کی رات 11 بجے، اندھیری کرلا روڈ پر ایئرپورٹ میٹرو اسٹیشن کے قریب فٹ پاتھ پر دو مشکوک افراد ٹرالی/سامان والے بیگ اٹھائے ‘ساکئ ناکہ’کی جانب جاتے ہوئے دیکھے گئے۔ اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر (اے پی آئی) کھولم اور ان کی ٹیم کو ان پر شک ہوا۔ جب پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو دونوں افراد نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن انہیں موقع پر ہی پکڑ لیا گیا۔ابتدا میں انہوں نے پوچھ گچھ کے دوران ٹال مٹول والے جواب دئیے، لیکن سخت تفتیش کے بعد انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے بیگ میں منشیات موجود ہیں۔ تلاشی لینے پر سفید رنگ کا قلمی (کرسٹل نما) پاؤڈر برآمد ہوا، جس کی شناخت کیٹامائن کے طور پر کی گئی۔

گرفتار ملزمین 1) عدنان احمد نیاز احمد صدیقی (35 سال) – گھوڑا پیڈیو، مزگاؤں (مشرقی) 2) سعود مشتاق منیار (29 سال) – گرگاؤں، ممبئی یہ ملزمین کیٹامائن کو کھانے پینے کی اشیاء میں چھپا کر ہوائی راستے سے ممبئی سے تھائی لینڈ، انڈونیشیا، میانمار اور ملائیشیا جیسے ممالک میں اسمگل کیا کرتے تھے۔ این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 کی دفعات 8(سی)، 22(سی) اور 29 کے تحت ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ (کیس نمبر 9075/2026) درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ کمشنر منوج کمار شرما، ایڈیشنل کمشنر ابھیناو دیشمکھ، ڈپٹی کمشنر دتہ نلاوڑےاور اسسٹنٹ کمشنر یوگیش شنڈے کی رہنمائی میں عمل میں لائی گئی۔ اس ٹیم میں سینئر انسپکٹر گھنشیام نائر، انسپکٹر سنیل کارانڈے اور یوگیش ٹانڈلے، نیز اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر الہاس کھولام شامل تھے۔ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔یہ اطلاع آج یہا ں پریس کانفرنس میں ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے انہوں نے بتایا کہ یہ ڈرگس کے خلاف پولس کی بڑی کارروائی ہے اور مزید تفتیش بھی جاری ہے۔

Continue Reading

سیاست

سی ای سی گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے لیے کانگریس کارکنوں نے پنجاب میں احتجاج کیا۔

Published

on

فیروز پور : ہزاروں کانگریس کارکنوں نے پیر کو پنجاب کے فیروز پور میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حکم پر ملک میں جمہوریت کو سبوتاژ کرنے اور سبوتاژ کرنے کے الزام میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے وزیر اعظم اور چیف الیکشن کمشنر امریندر سنگھ کے پتلے بھی جلائے۔ کہ سی ای سی گیانیش کمار نے انتخابی عمل کو “تباہ کیا اور سبوتاژ” کیا اور نوٹ کیا کہ 13.8 کروڑ ووٹروں کو ووٹر لسٹوں سے حذف کرنے کے ذریعے “ایک ہاتھ سے حق رائے دہی سے محروم” کیا گیا تھا۔ انہوں نے بہار، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور ہریانہ کی ریاستوں کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ریاستوں میں انتخابی فہرستوں میں سے 13.8 کروڑ رائے دہندگان کو شکست دی گئی۔ حقائق اور عوام کا تاثر۔

انہوں نے الزام لگایا کہ گیانیش کمار کی قیادت میں الیکشن کمیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ساتھ ملی بھگت کر رہا ہے اور ان ووٹروں کے ناموں کو حذف کر رہا ہے جنہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف ہیں۔ وویک جوشی) نے اعتراف کیا تھا کہ راہول گاندھی پچھلے تین سالوں سے کیا کہہ رہے ہیں۔ پارٹی کے ریاستی صدر وارنگ نے پنجاب میں کانگریس کارکنوں کو ووٹر لسٹوں سے ووٹوں کو حذف کرنے کے خلاف ہوشیار رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کرنا الیکشن کمیشن کا معیاری عمل ہے کہ پنجاب میں بی جے پی کے ووٹوں کو حذف کرنے اور 2 لاکھ ووٹوں کو حذف کرنے میں مدد ملی۔ پنجاب کی انتخابی فہرستوں سے اب تک ووٹ حذف ہو چکے ہیں اور یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

وارنگ نے ریاست میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اے اے پی اور بی جے پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے اس بات کی مثالیں پیش کیں کہ کس طرح اے اے پی نے پنجاب میں میونسپل کمیٹیوں کے نتائج کو خراب کیا۔ وارنگ نے کہا کہ اے اے پی حکومت پنجاب میں سیاست کو مجرمانہ شکل دے رہی ہے۔ انہوں نے اس وقت پکڑا جب مجرم بھگوان اور بھگوان کی طرح کا وقت نہیں تھا۔ گرپریت سیکھون، جن کے خلاف درجنوں سنگین مجرمانہ مقدمات درج ہیں، الیکشن لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی بھگونت مان اور اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل دونوں ریاست میں غنڈہ کلچر کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ وارنگ نے سی ایم مان کو دہلی کے لیڈروں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر بھی طنز کیا اور بتایا کہ کس طرح 10 وزارتی بنگلے اور راجدھانی دہلی کے تمام لوگوں کو راجستھان میں منتقل کیا گیا۔ ان بنگلوں پر باہر کے لوگ قابض تھے وزراء کو گیسٹ ہاؤسز میں رہنے پر مجبور کیا گیا۔

Continue Reading

سیاست

مہا کانگریس نے گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا۔

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی (ایم پی سی سی) نے پیر کو تمام ضلع کلکٹریٹس میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع کیے، چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کی برطرفی اور گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے ان پر جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے ووٹر فہرستوں میں ہیرا پھیری کرنے کا الزام لگایا۔ ضلع کلکٹر کو شکایات مظاہروں میں اختلاف رائے کی تخلیقی شکلیں نمایاں تھیں: امراوتی میں، مظاہرین نے گدھے پر سی ای سی کے مجسمے کو تباہ کرنے سے پہلے پریڈ کی۔ تھانے میں، مظاہرین نے سزا کے طور پر دھرنا (اٹھک-بیٹھک) کرنے پر مجبور کیا۔ پونے، کولہاپور، سولاپور، ناسک، ناگپور، چھترپتی سمبھاجی نگر، چندر پور، ناندیڑ، لاتور، بیڈ، اور کونکن اور شمالی مہاراشٹر کے علاقوں میں بھی بڑی ریلیاں نکالی گئیں۔

کانگریس کے سینئر لیڈروں نے کئی اضلاع میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی: کولہاپور میں ستیج پاٹل، سولاپور میں پرنیتی شندے، امراوتی میں یشومتی ٹھاکر اور بلونت وانکھیڑے، چھترپتی سمبھاجی نگر میں کلیان کالے، چندر پور میں پرتیبھا دھنورکر، ناندیڑ میں رویندر چوہان، شیواجی کلگے اور لاڈریس میں کدرنگ، شیواجی اور کدرنگ۔ کانگریس نے اس سے قبل لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف (ایل او پی) راہول گاندھی کے ذریعہ “ووٹ چوری” کے بارے میں لگائے گئے الزامات کو دہرایا۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر میں 13 کروڑ سے زیادہ ووٹرز، بشمول مہاراشٹر کے 3 کروڑ سے زیادہ، کو اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مشق کے تحت انتخابی فہرستوں سے من مانی طور پر ہٹا دیا گیا تھا۔ اس نے مزید الزام لگایا کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات سے قبل مہاراشٹر کی فہرستوں میں 47 لاکھ ناقابل شناخت ووٹروں کو شامل کیا گیا تھا۔ سی ای سی کی طرف سے انحراف، یہ کہتے ہوئے کہ اس نے ان کے تعصب کے الزامات کی توثیق کی۔ قائدین نے انتباہ دیا کہ اگر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو یہ تحریک قومی تحریک میں بدل جائے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان