سیاست
کشمیر محفوظ اور امن کی جگہ ہے، ایرانی سفارت خانے کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی کا بیان
شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے پٹن کے گنڈ خواجہ قاسم میں جموں وکشمیر پیپلز جسٹس فرنٹ کی جانب سے ایران اور بھارت کے مابین تہذیبی و وراثتی مشترکہ تعلقات کے عنوان سے ایک کانفرنس کا اہتمام کیاگیا۔ منعقدہ کانفرنس میں دہلی میں قائم ایرانی سفارت خانے کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس کانفرنس میں وادی کشمیر اورہندوستان کے دیگر علماء نے بھی شرکت کی۔ پیپلز جسٹس فرنٹ کے چیئرمین آغا سید عباس رضوی بھی موجود رہے۔ کانفرنس میں علماء نے بھارت اور ایران کے درمیان تہذیبی و وراثتی مشترکہ تعلقات پر روشنی ڈالی۔
ایرانی سفارت خانے کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قدیم دور سے ہی ایران اورہندوستان کے درمیان ہمیشہ بہتر تعلقات رہے ہیں اور مستقبل میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات رہیں گے۔ ان روابط اور تعلقات میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اپنے خطاب میں ربانی نے کہا،”ہندوستان میں رہ کر مجھے یہ محسوس ہوا کہ یہاں اہل تشیع محفوظ ہیں جیسا کہ کچھ ممالک میں انسان دشمنی کی تصویریں سامنے آتی ہیں تاہم اس کے برعکس ہندوستان کی انسان دوستی کا واضح ثبوت ہوتاہے۔ ہندوستان میں ہندؤں اور برہمن بھی شعیوں کے ساتھ عزاداری میں حصہ لیتے ہیں یہ مذہبی ہم آہنگی کی عمدہ مثال دنیا کے سامنے نظر آتی ہے”کشمیر سے متعلق ربانی نےکہاکہ یہاں آکر مجھے واقعی لگاکہ یہ محفوظ اور امن کی جگہ ہے یہاں دنیا کے مختلف کے لوگوں کو دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی جو یہاں کی قدرتی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں۔
انہوں نے ایران کے لوگوں کو کشمیر آنے کی گزارش کی تاکہ وہ بھی یہاں کی مہمان نوازی، قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوسکیں۔ ربانی نے کہا،” خدا نے مجھے یہ بہت بڑی توفیق عطا کی کہ ہم سر زمین کشمیر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ لوگوں کی محبت نصیب ہوئی میں رضوی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے کشمیر آنے کی دعوت دی جیسا کہ یہاں کا رسم ورواج ،تمدن و ثقافت ایران کے ساتھ ملتی ہے”اپنے خطاب میں ربانی نے کہاکہ دوسرے ممالک میں انسان ،زبان اور مذہبی دشمنی کے کچھ معاملات رونما ہوتے ہیں جبکہ ہندوستان میں ایسا نہیں دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے کہا،” آپ دیکھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے رشتے پائے جاتے ہیں مگر ہر لحاظ سے جو مضبوط رشتہ ایران اور ہندوستان کے درمیان رہاہے تمدن اور فرہنگ کے لحاظ سے اس کی مثال دوسرے ممالک میں نہیں ملتی ہے۔ ہم نے جواج تک پڑھا ہے اس میں امتیاز کا درس نہیں دیا جاتا تھا کہ یہ شیعہ ہے یہ سنی ہے، سکھ ہے ،ہندو ہے بلکہ باہم رہ کر یہ درس دیاجاتا تھا”تعلیمی روابط سے متعلق ڈاکٹر ربانی نے اپنے خطاب میں ہندوستان کے علمی کمالات کی بھی ذکر کی انہوں نے کہا،” قبل از اسلام نیشاپور کے دانش گاہوں میں طب، نجوم ،فلسفہ اور دوسری تعلیم دی جاتی تھی اس میں ہندوستان سے ہی ماہرین وہاں کے لوگوں کو تعلیم کے نور سے منور کرتے تھے۔بعد از اسلام جن چار چیزوں پر توجہ مرکوز کی گئی ان میں عقل، عرفان ،خطبہ اہل بیت اور ادب واحترام جو ہندوستان اور کشمیر میں خاص پایا جاتاہے۔
“کانفرنس میں آغا سید عباس رضوی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم کشمیری خوش قسمت ہیں کہ ہم ہندوستان میں رہ رہے ہیں جہاں مذہبی، مسلکی آزادی ہے جبکہ ہمسایہ ملک میں یہ آزادی نہیں ہے۔انہوں نے ایران اور ہندوستان کے باہمی تعلقات پر بھی روشنی ڈالی کہاکہ ہندوستان اور ایران ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ خوشی اور غم بلکہ ہر لحاظ سے پیش پیش رہیں۔ اس کے علاؤہ کانفرنس میں دیگر شخصیات نے بھی خطابات دئیے۔ ادھر سمینار سے قبل ڈاکٹر محمد علی ربانی نے سرینگر کے مضافات میں واقع ایچ ایم ٹی میں قائم جموں وکشمیر پیپلز جسٹس فرنٹ کے صدر دفتر کا افتتاح کیا اس موقع پر ڈاکٹر ربانی نے خوشی کا اظہار کیا اور آغا سید عباس رضوی کو مبارکباد پیش کی۔گنڈ خواجہ قاسم میں اس منعقدہ کانفرنس میں کافی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔
۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر
نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔
بین الاقوامی خبریں
اسرائیل نے جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی لبنان پر حملہ کر کے 5 افراد کو ہلاک کر دیا۔

بیروت، جنوبی لبنان: اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ تازہ ترین حملے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے عمل میں آنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد جنوبی لبنان کے شہر سجاد کے قریب جبل الرافی کے علاقے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
جنگ بندی پر ایک روز قبل اتفاق ہوا تھا۔ ژنہوا کے مطابق، جنگ بندی شام 4:00 بجے نافذ ہوئی۔ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق۔
دریں اثناء حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعے کے روز کہا کہ اگر تنظیم پر حملہ ہوا تو وہ ہتھیاروں کی طاقت سے اسرائیل کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں اس کے ارکان کو نہیں روکیں گی۔
المنار ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں قاسم نے کہا کہ “حزب اللہ کو ختم کرنے اور قبضے کو برقرار رکھنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور اسرائیل ہماری زمین کے ہر آخری انچ سے پیچھے ہٹ جائے گا۔”
انہوں نے کہا کہ لبنان کو اس وقت “انتہائی خطرناک دور” کا سامنا ہے اور ملک کے مستقبل کو نشانہ بنانے والی “امریکی اسرائیلی مہم” کا سامنا ہے۔ قاسم نے الزام لگایا کہ اسرائیل لبنان کی سیاسی طاقت کے خلاف ایک نئی تحریک کھڑا کرنا چاہتا ہے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں بھی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔
قاسم نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کے ہتھیار صرف اسرائیل کے خلاف استعمال کے لیے ہیں اور اسرائیل سے اپیل کی کہ وہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔
ان کے تبصرے جمعہ کو جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد جبل الرافی کے علاقے کو اسرائیلی فضائی حملوں نے نشانہ بنایا۔
قبل ازیں، حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک “مزاحمت سے وفاداری” کے رکن ابراہیم الموسوی نے کہا کہ اگر اسرائیل بھی اپنی شرائط پر عمل کرتا ہے تو حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کا احترام جاری رکھے گی۔
دریں اثنا، لبنان کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے اطلاع دی ہے کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کل 3,980 افراد ہلاک اور 12,001 زخمی ہو چکے ہیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
